،تصویر کا کیپشندیوارِ چین جو نام سے تو بہت سادہ لیکن در حقیقت بہت ہی معتبر ہے۔ اس کی لمبائی ساڑھے پانچ ہزار میل ہے۔ اس کا نہایت دلکش حصہ بیجنگ سے ستر میل کے فاصلے پر ہے اور عام افراد کے لیے کھلا ہے۔ اس دیوار کا زیادہ تر حصہ منگ حکمرانی (1644 سے 1368) کے دوران تعمیر کی گئی تھی لیکن اس دیوار کے مختلف حصوں پر کام 770 قبلِ مسیح سے ہوا۔ ہر سال اس دیوار کو دیکھنے نوے لاکھ لاکھ سے ایک کروڑ لوگ آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچین میں ٹیریکوٹا آرمی کے مجسمے 1974 میں دریافت کیے گئے۔ یہ سات سو مجسمے ہیں جن میں ٹیریکوٹا فوج کے جنرلز، سپاہیوں، تیر اندازوں اور رتھ بانوں کے مجسمے شامل ہیں۔ ہر ایک مجسمہ دوسرے مجسمے سے شکل و صورت، بالوں کے سٹائل اور کپڑوں میں مختلف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس طرح کے مزید مجسمے زیرِ زمین موجود ہیں۔ تاہم ان کی کھوج کے کام کو اس وقت تک روک دیا گیا ہے جب تک ان مجسموں کو کھلی ہوا میں ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھنے کا طریقہ نہ نکال لیا جائے۔ ان مجسموں کو دیکھنے کے لیے سالانہ چھتیس سے پینتالیس لاکھ افراد آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنساڑھے چار ہزار سال قبل تعمیر کیے گئے اہرامِ مصر کا شمار دنیا کے سات عجوبوں میں ہوتا ہے اور یہ مصر کی پہچان بھی ہیں۔ یہ کیسے تعمیر کیے گئے اس کے بارے میں معلومات نہیں ہیں جس کے وجہ سے ان کی کشش میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر سال چالیس لاکھ افراد اہرامِ مصر دیکھنے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپانچویں صدی قبلِ مسیح میں بارہ سو سال تک روم کا سماجی سینٹر رہنے والا یہ سات سو گز طویل چوراہا حکومت کا مرکز بھی رہا ہے اور مرکزی بازار بھی۔ اس چوراہے کے ستون اور آرائشی پٹیاں اس فورم کی شان و شوکت کا منہ بولا ثبوت ہے۔ ہر سال اس کو دیکھنے اکاون لاکھ افراد آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنروم ہی میں واقع کولوسیئم میں پچاس ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ اس جگہ لوگ ڈرامے، زمینی اور سمندری جنگوں کی کہانیاں، مجرموں کو سزا دیے جانے، انسانی لڑائیوں اور جانوروں کے ساتھ لڑائیوں کو دیکھا کرتے تھے۔ زیرِ زمین راستوں کو عام افراد کے لیے سنہ دو ہزار دس میں کھولا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک سو دس فٹ بلند بیٹھنے کی جگہ کو بھی کھولا گیا جہاں سے ’ایٹرنل سٹی‘ کا بھرپور جائزہ لے سکتے ہیں۔ کولوسیئم کو دیکھنے سالانہ انہتر لاکھ افراد آتے ہیں۔