،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے ادارے يونیسف کی جانب سے منعقدہ مقابلے میں افریقی ملک گھانا میں زہریلے کوڑے کے ڈھیر سے سامان چنتے ہوئے اس بچے کی تصویر کو سال کی بہترین تصویر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ گھانا ایک ایسا ملک ہے جہاں یورپ کے امیر ممالک کا کوڑا لایا جاتا ہے اور مقامی بچے انہی ڈھیروں سے قیمتی چیزیں چن کر اپنی روزی روٹی چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناسی مقابلے میں دوسرے مقام پر آنے والی تصویر گوئٹےمالا کے ان ہزاروں بچوں میں سے ایک کی ہے، جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ یہ تصویر ساڑھے چھ سالہ میريسلا کی ہے جس کا وزن تصویر لیے جانے کے وقت صرف نو کلو تھا۔
،تصویر کا کیپشنمقابلے میں تیسری پوزیشن نائجیریا کی اس تصویر کو ملی ہے جس میں وہاں پولیو کے خلاف جاری مہم کو دکھایا گیا ہے۔ اس ویکسین کے استعمال کے بعد نائجیریا میں سنہ دو ہزار نو اور دس میں پولیو کے مریضوں میں پچانوے فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے
،تصویر کا کیپشندنیا بھر میں ہو رہے’ كیٹ واك میں شامل ہونے والے خوبصورت چہرے‘ کے عنونان والی اس تصویر کو مقابلے میں حوصلہ افزائی کا انعام دیا گیا ہے. يونیسف کے مطابق مقابلے کا مقصد پوری دنیا کے بچوں اور ان کی حالات کو پیش کرنا تھا۔
،تصویر کا کیپشناس تصویر میں پوری دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے چند ممالک میں سے ایک شمالی کوریا کے یتیم خانے میں رہنے والے بچوں کو دکھایا گیا ہے۔’محرومی کی تانا شاہی‘ نام کی اس تصویر کو بھی مقابلے میں اعزازی انعام ملا۔
،تصویر کا کیپشنسال 2010 میں پاکستان میں آئے خوفناک سیلاب سے وہاں رہنے والے نوے لاکھ بچے متاثر ہوئے تھے. انہی متاثر بچوں میں سے ایک کی تصویر کھینچی تھی ليوكا توماسني نے ، جسے اس مقابلے میں حوصلہ افزائی کا انعام دیا گیا ہے.
،تصویر کا کیپشنیہ تصویر روس کے ایک روایتی اسکول کی ہے، جہاں پانچ سے لے کر گیارہ سال کی طالبات کو موسیقی اور رقص کے ساتھ ساتھ فوجی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ تصویر رومانیہ کے ایک لڑکے کی ہے۔ یورپ کے کئی ممالک میں آج بھی رومانوی نسل کے لوگوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن’صومالیہ میں پھیلا ڈپریشن‘۔ اس تصویر کا یہی موضوع ہے ۔ صومالیہ اس وقت کئی طرح کے مسائل سے نبردآزما ہے ، جن میں مؤثر حکومت کی کمی، کئی طرح کے تنازعات ، موسم میں تبدیلی اور بارش کی کمی شامل ہیں. اس وجہ سے وہاں کے ہزاروں بچے غذا کی کمی کا شکار ہیں۔