ٹکٹ جمع کرنا صدیوں پرانا مشغلہ ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلبرگ کے بی بلاک سے گزرتے ہوئے درختوں کی شاخوں سے ایک بورڈ جھانکتا ہوا نظر آیا جِس پر انگریزی میں لکھا تھا ’’شاہوں کا مشغلہ‘‘ فوراً خیال ’چوگان‘ کی طرف گیا کیونکہ گُھڑ سواروں کا یہ کھیل بادشاہوں سے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اس مشغلے کا تجربہ حاصل کرنے کے لیئے جو پتہ بورڈ پر لکھا تھا وہ کسی میدان کا نہیں بلکہ ایک گھر کا پتہ تھا چنانچہ چوگان یا پولو کا امکان تو ردّ ہوگیا اور فوری طور پر شطرنج کا خیال آیا مگر بورڈ کو قریب جا کر غور سے پڑھا تو عُقدہ یہ کھُلا کہ شاہوں کے مشغلے سے مراد ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنا ہے۔ اب تو تجسس کی انتہا نہ رہی چنانچہ فوراً اس کوٹھی کا گیٹ کھٹکھٹایا۔ ایک انتہائی شفیق اور مہربان قسم کے بزرگ نمودار ہوئے اور تعارف کرانے پر مجھے اندر لے گئے۔ ان کا نام سید نسیم حیدر شاہ تھا۔ معلوم ہوا کہ ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنا بچپن سے اُن کا مشغلہ ہے اور اب تک وہ ٹکٹ جمع کرنے والی تمام اہم بین الاقوامی تنظیموں کی رکنیت حاصل کر چکے ہیں بلکہ اس سلسلے میں کئی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔
چالیس پچاس برس پہلے تک ڈاک ٹکٹ جمع کرنا بچّوں اور طالبعلموں کا محبوب مشغلہ ہوا کرتا تھا لیکن پھر ٹیلی ویژن، کارٹون فلموں، وڈیو گیمز اور دیگر مشاغل نے اسکی جگہ لے لی۔ سید نسیم حیدر شاہ نے بتایا کہ وہ یورپ میں قائم، ٹکٹیں جمع کرنے والی، قدیم ترین عالمی انجمن کے ایک سینئر رکن ہیں اور اُن کے پاس دنیا کے نایاب ترین ٹکٹ موجود ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی مفید مشغلہ تھا اور طالبعلم ٹکٹوں کے ذریعے مختلف ممالک کی تاریخ، جغرافیے، طرزِ حکومت اور وہاں کی مشہور شخصیتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیا کرتے تھے۔ شاہ صاحب کا خیال ہے کہ یہ مشغلہ آج بھی انتہائی معلومات افزا ہے اور اگر طالبعلموں میں اس کا ذوق پیدا کر دیا جائے تو ماضی کی طرح اب بھی ڈاک کی ٹکٹیں ایک موّثر تعلیمی ذریعہ بن سکتی ہیں۔ خود شاہ صاحب کے پاس ٹکٹوں کا جو عظیم خزانہ مو جود ہے اُس کے دروازے انہوں نے انتہائی فراخ دلی سے مجھ پر کھول دیئے۔ سب سے پہلے میری نگاہ 1947 کے ڈاک ٹکٹوں پر پڑی جن پہ جارج پنجم کی تصویر تھی اور ’انڈیا پوسٹ‘ کے الفاظ لکھے ہوئے تھے، البتہ دوہری چھپائی میں پاکستان کا لفظ بھی چھپا ہوا تھا۔
سید نسیم حیدر شاہ نے بتایا کہ قیامِ پاکستان کے وقت جس طرح ہندوستانی کرنسی نوٹوں پر پاکستان کا لفظ چھاپ کر کام چلایا گیاتھا اُسی طرح ڈاک کے ہندوستانی ٹکٹوں پر بھی پاکستان کا لفظ پرنٹ کر کے عارضی طور پر انھیں استعمال کیا گیا اور 1948 میں خود پاکستان نے اپنا علیحدہ ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ شاہ صاحب کے پاس صدر ایوب خان اور آر۔ سی۔ ڈی کے زمانے کے یادگار ٹکٹ بھی ہیں اور مشاہیرِ پاکستان کے نام پہ مختلف زمانوں میں جاری ہونے والے تمام ٹکٹ بھی محفوظ ہیں۔ عالمی سطح پر، ہر ملک کا اہم ڈاک ٹکٹ اُن کی البم میں سجا ہوا ہے۔ جِس ٹکٹ پر سید نسیم حیدر شاہ کو بجا طور سے ناز ہے وہ جارج ششم اور مادر ملکہ کی تصویر والا ٹکٹ ہے۔ اِن دونوں کی شادی 1923 میں ہوئی تھی اور یہ تاریخی ٹکٹ شادی کی سلور جوبلی کے موقع پر 1948 میں جاری کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ ٹکٹ بہت کم تعداد میں چھپے تھے اس لئے دنیا بھر میں چند ہی لوگوں کے پاس دیکھے جا سکتے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||