سنیعہ حسین انتقال کر گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماحولیات اور ترقیاتی شعبے میں کام کرنے والی معروف پاکستانی صحافی سنیعہ حسین کا برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں انتقال ہو گیا ہے۔ سنیعہ حسین کو تقریباً دو ہفتے قبل، (سات اپریل کو ) دمے کے دورے کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا تو وہ بے ہوش ہو چکی تھیں ۔ اس کے بعد وہ ہوش میں نہیں آئیں اور بدھ بیس اپریل کو انتقال کر گئیں ۔ انتقال کے وقت ان کے شوہر لوئیس اور ان کی بہن ڈاکٹر فضیلہ ان کے پاس تھیں۔ ان کی تدفین سنیچر یا اتوار کو کراچی میں ہوگی۔ ایک اہم صحافی سنیعہ حسین نے اسی کی دہائی میں پاکستانی صحافت میں کام شروع کیا تھا اور وہ اس دور میں ایک انتہائی قابل اور عمدہ ایڈیٹر مانی جاتی ہیں۔ وہ ڈان گروپ کے ایوننگر ’سٹار ‘ کے ہفتہ وار میگزین کی ایڈیٹر رہیں اور ان کے دور میں ’سٹار‘ نے سیاسی اور بلدیاتی موضوعات پر اعلی معیار کے کئی شمارے نکالے۔ اس زمانے میں ان کے ساتھ اخبار میں عمران اسلم، ظفر عباس، ادریس بختیار، مظہر عباس اور بینا سرور جیسے نامور صحافی بھی تھے۔ مشہور کار ٹونسٹ ’وائی ایل‘ یعنی یوسف لودھی بھی اس زمانے میں ’سٹار‘ سے منسلک رہے اور ان کے کارٹونز میں لمبی چوٹی والی قد آور خاتون سنیعہ پر ہی مبنی تھی۔ وہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں انسانی حقوق کے لیے اور خواتین پر تشدد کے خلاف سرگرم تھیں اور وہ انسانی حقوق کمیشن اور ویمنز ایکشن فورم کی پوری حمایت کرتی رہیں۔ ترقیاتی اور ماحولیاتی شعبے میں کام ’سٹار‘ کے بعد سنیعہ ترقیاتی اور ماحولیاتی شعبے میں اشاعت اور کمیونکیشنز کا کام کرتی رہیں۔انہوں نے ماحولیاتی ادارے آئی یو سی این میں اس وقت کام کیا جب اس تنظیم نے ملک میں ماحولیات سے متعلق کئی اہم منصوبے شروع کیے۔ اس دور میں سنیعہ نے مختلف تربیتی ورکشاپس کے ذریعے ملک کے درجنوں صحافیوں کی ٹریننگ اور حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد انہوں نے دو برس عالمی کمیشن برائے ڈیمز (ڈبل یو سی ڈی) میں کام کیا ۔اس کے بعد وہ نیپال گئیں جہاں وہ وہ ترقیاتی ادارے ’پانوس‘ کے لیے جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر رہیں۔ پچھلے ایک برس سے وہ اپنے شوہر لوئیس کے ساتھ برازیل میں رہائش پذیر تھیں۔ سنیعہ حسین ایک انتہائی خوش مزاج اور ہمدرد انسان تھیں۔ کام میں سنجیدہ، باتوں میں ہنس مکھ اور دوستیوں میں بہت مخلص۔ ان کے سوگواران میں ان کے والدین، دو بہنیں، شوہر، اور رشتے داروں کے علاوہ سینکڑوں دوست ہیں جن کو مشکل سے یقین آئے گا کہ سنیعہ کی منفرد اور دل فریب ہنسی اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||