بالی ووڈ بدل رہا ہے یا ہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسا لگتا ہے کہ بالی ووڈ میں تبدیلی کی ہوا چل نکلی ہے اور باکس آفس پر ایسے ادکار کامیاب ہو رہے ہیں جو روائتی ہیرو یا ہیروئینز کی طرح نہیں لگتے۔اور نہ ہی ان کے جیسے کردار نبھاتے ہیں۔ مثلا کسی فلم میں ایک بیچارے دبلے پتلے ہیرو کا دس دس غنڈوں کو مار مار کر بکری بنانا، فضا میں بلند ہیلی کاپٹر یا کبھی کبھی جہاز سے چھلانگ لگانا اور ہیرویین کا خوبصورت کپڑوں اور میک اپ میں لندن اور سوئیزر لینڈ میں ہیرو کے ساتھ گانے گانا۔ اس تبدیلی کے بارے میں کہا یہ جا رہا ہے کہ سنیما شائقین کا ٹیسٹ بدل رہا ہے اور ان میں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔جو پیج تھری جیسی روش سے ہٹ کر چھوٹے بجٹ کی فلموں کو سراہنے لگے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اچانک سنیما شائقین کا ذوق کیسے بدل گیا۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ فلمسازوں کی نئی نسل کی سوچ اور فلم سازی کے نئے انداز کی وجہ سے ہوا ہو۔ حالیہ کچھ فلموں کی کہانی اور کہانی کا ٹریٹمنٹ بہت ہی سادے اور حقیقت پسند طریقے سے کیا گیا ہے یعنی فلم کی کہانی عام لوگوں اور زندگی کے بہت نزدیک تھی۔
اب چاہے وہ پیج تھری ہو یاپھر ’مائی برادر نکھل‘ یا پھر سدھیر مشرہ کی فلم ’ہزاروں خواہشیں ایسی‘۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک عام آدمی کی کہانی کو بہت ہی سادہ اور خوبصورت انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو بات لوگوں کے دل کو چھو جاتی ہے۔ چلئے دیکھتے ہیں کہ تبدیلی کی یہ ہوا عارضی ہے یا واقعی فلم سازی کی ایک نئی شروعات۔ خبر ملی ہے کہ کشمیرہ شاہ اپنی آنے والی فلم ’ریوتی‘ کے پروموز دیکھ کر چونک گئیں۔ کشمیرہ کا کہنا ہے کہ وہ ہدایتکار فاروق صدیقی پر بھروسہ کرکے ایک باتھ سین میں برہنہ کمر کے ساتھ شوٹ کرنے کے لئے تیار ہوئی تھیں لیکن ان کے ساتھ دھوکہ ہوا اور کیمرے نے کمر کے علاوہ بھی بہت کچھ دکھا دیا جو وہ نہیں چاہتی تھیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ کشمیرہ شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ملکہ شیراوت اور راکھی ساونت کی جیسی ہیروئینوں کے ساتھ اپنا موازنہ نہیں کرانا چاہتیں۔ کیا بات ہے کشمیرہ جی! ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ دو معصوم لڑکیاں آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بحر حال ریوتی 29 مئی کو رلیز ہونی ہے۔ دیکھئے ملکہ رلیز سے پہلے کچھ کر پاتی ہیں یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||