ظالم سمندر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بستی بستی ساحل ساحل ماری مار سمندر نے لمحے بھر میں توڑے دئے ہیں کتنے خواب سمندر نے دھرتی کوکھ سے طوفان اٹھا چڑھ دوڑی سونامی فرط غم سے دھرتی کانپی آسماں بھی رویا گنتے گنتے ہاتھ ہوئے شل آنکھیں گئیں پتھرا بیکس بے بس دکھیاری ماں ڈھونڈے اپنے پھولوں کو غفلت میں جو ٹوٹ پڑی وہ قیامت صغریٰ تھی روٹی پانی کپڑے لے کر بھاگے دوڑے جائیں جن کی نسلوں کو اس نےاپنی گود میں پالا تھا جس دھرتی پہ بابا آدم سب سے پہلے اترے تھے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||