BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 September, 2004, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں

News image
آئندہ چار مہینوں میں تین انتخابات ہونگے، تین عوامی فیصلے کیے جائیں گے، اور تین نئی حکومتیں آئیں گی جن کا مسلم دنیا اور اسلامی انتہاپسندی کے خلاف جاری جنگ پر بڑا اثر پڑے گا۔

نو اکتوبر کو پہلی بار، افغانستان میں اٹھارہ سال سے زیادہ کے مرد اور خواتین کو ملک کا ایک نیا صدر چننے کا موقع ملے گا۔ امید کی جارہی ہے کہ حامد کرزئی جیت جائیں گے لیکن ان کے خلاف سترہ امیدوار ہیں اور جمہوریت کا یہ عمل کٹھن ثابت ہوگا۔

دو نومبر کو امریکی عوام یہ فیصلہ کرینگے کہ جارج بش اور ان کے ڈیموکریٹک مخالف جان کیری میں سے مریکہ کا اگلا صدر کون ہوگا۔ اس الیکشن نے امریکی عوام کو اتنے بڑے پیمانے پر بانٹ دیا ہے کہ شاید یادداشت میں دو امیدواروں کے درمیان اس سے سخت مقابلہ کبھی نہ ہوا ہو۔

جنوری میں عراقی عوام کو ایک نئی حکومت منتخب کرنا ہے جس کے نتیجے میں عراقی اقتدار اعلیٰ کی مکمل منتقلی اور امریکی اور اتحادی افوج کے لئے عراق سے واپسی کا راستہ کھل جائے گا۔ تاہم عراق میں حالیہ تشدد کی وجہ سے جنوری کے انتخابات کا منعقد ہونا غیریقینی لگتا ہے۔

ایک ایسے پڑوس میں جہاں فوجی آمروں، ملاؤں اور جابروں کا اقتدار پر قبضہ عام بات ہے، افغانستان کے انتخابات تاریخ ساز ثابت ہونگے، اور اس کے پڑوسیوں کے لئے امید کی ایک کرن اور ایک خطرہ بھی۔ وسطی ایشیا کے بیشتر حکمران جنہوں نے انیس سو اکیانوے میں سوویت یونین سے آزادی کے بعد سے کبھی بھی آزادانہ انتخابات نہیں کرائے ہیں، افغان انتخابات کو ایک خطرے کی گھڑی سمجھتے ہیں۔

لیکن وسطی ایشیا کے عوام کے لئے افغانستان میں ہونے والے انتخابات امید کی ایک کرن ہیں۔ دوسری جانب افغان انتخابات پاکستانی ملٹری کے لئے شرمندگی کا ایک موقع فراہم کرینگے۔ جنرل پرویز مشرف غیرمنتخب صدر ہیں اور حقیقی جمہوریت کوسوں دور ہے۔

افغان انتخابات اگر ساٹھ فیصد بھی کامیاب رہے تو القاعدہ اور طالبان کے لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہونگے۔ القاعدہ اور طالبان انتخابات مخالف کارروائیاں کرنے کی قسم کھائے ہوئے ہیں۔ انتخابات کی کامیابی سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ القاعدہ اور طالبان عوامی حمایت کی امید نہیں کرسکتے۔

افغانوں کے درمیان عوامی سطح پر ان انتخابات سے کافی امیدیں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ انتخابات کے بعد سماجی اور اقتصادی ترقی رفتار پکڑ لے گی۔

ادھر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوئے تو ملک کے جنگجو سرداروں کے ساتھ اتحادی حکومت کی تشکیل نہیں کرینگے۔ انہوں نے حال میں ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن کا مقصد وزیر دفاع جنرل محمد فہیم اور ہرات کے گورنر اسماعیل خان کے اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا۔

اسماعیل خان کو ہرات کے گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور حامد کرزئی نے محمد فہیم کو اپنے نائب کی حیثیت سے انتخابات میں نہیں اتارا۔

افغانستان کے انتخابات سے دنیا کے مسلمان انتہا پسندوں کو یہ واضح سبق ملے گا کہ مسلمانوں کے لئے بھی جمہوریت معنی رکھتی ہے، اور خود اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع مغربیت نہیں، بلکہ تمام انسانیت کے لئے ہے۔

ادھر امریکی انتخابات کا بھی مسلم دنیا پر بڑا اثر پڑے گا۔ عرب اور مسلم دنیا کی آمرانہ قیادت چاہتی ہے کہ جارج بش انتخابات جیت جائیں۔ اصلاحات اور جمہوریت کے بارے میں اپنی بیان بازی کے باوجود صدر بش نے ان آمروں پر اصلاحات کے لئے دباؤ نہیں بڑھایا ہے کیونکہ ان لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ان کا ساتھ دیا ہے۔

لیکن مسلم عوام کا موقف مختلف ہے۔ امریکی اور دیگر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رائے شماری سے واضح ہے کہ مسلم عوام کے دلوں میں بش انتظامیہ کے لئے اگر نفرت نہیں تو ناخوشی ضرور ہے اور بیشتر یہ چاہیں گے کہ وہ انتخابات ہار جائیں۔

تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ جان کیری مسلم دنیا میں اصلاحات کے لئے کوئی پالیسی اپنانا چاہیں گے یا ان کی بات صرف بات رہ جائےگی۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ مسلم دنیا میں ان انتخابات کا انتظار اس پیمانے پر ہورہا ہے جتنا شاید کبھی نہ ہوا ہو۔

عراق میں انتخابات ابھی بھی غیریقینی ہیں تاہم اگر یہ انتخابات منعقد ہوئے تو عرب دنیا کے لئے کافی مثبت ہونگے اور عرب شیخوں اور القاعدہ کے لئے ایک واضح خطرہ۔ اس انتخابات سے اقوام متحدہ کو اصلاحی پالیسیاں جاری کرنے کا موقع ملے گا۔ القاعدہ نے عراق میں بنیاد بنالی ہے جس کی وجہ سے عرب دنیا میں اسلامی انتہاپسندی پھیل رہی ہے۔

تاہم عراقی انتخابات سے القاعدہ کی کارروائیاں ختم نہیں ہوجائیں گی۔ عراقی حزب اختلاف جیسے قوم پرست، کمیونسٹ اور بعث پارٹی کے پیروکاروں کے لئے یہ انتخابات عوامی ترجیحات اور پالیسیوں کے بارے میں سوچنے کا موقع دینگے۔ ایسے حالات میں القاعدہ رفتہ رفتہ کمزور ہوجائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد