BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 July, 2004, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پابلو نیرودا سو سال بعد

نیرودا
نیرودا نے بارہ اکتوبر انیس سو اکہتر کو نوبل انعام لینے کے پیرس میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا
اس روز وہاں گنتی کے لوگ تھے اور سب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے انتہائی قریبی عزیز تھے اور یہی بات انہیں وہاں کھینچ لائی تھی۔ ورنہ تو گھر کے باہر جس طرح کا ماحول تھا اس میں بہت کم لوگ ایسا کرنے کی جرات کر سکتے تھے۔

جس گھر میں وہ جمع تھے وہ نہ تو بہت رئیسانہ رہائش کا مظہر تھا اور نہ ہی مفلسانہ انداز کا، لیکن گھر میں چاروں طرف پانی کھڑا تھا اور کیچڑ پھیلا ہوا تھا اور کتابیں اسی کیچڑ اور پانی میں بکھری ہوئی تھیں اور ان کے پھٹے ہوئے صفحے پھیلے ہوئے تھے۔

انہیں کتابوں اور ان کے بکھرے ہوئے صفحات کے درمیان ایک تابوت پڑا تھا جس میں ایک نعش تدفین کی منتظر تھی۔

’یہ کون ہے؟‘ وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے دبی ہوئی آواز میں پوچھا جو غالباً وہاں آنے والوں میں سے کسی کے ساتھ آیا تھا اور یہ نہیں جانتا تھا کہ جہاں وہ کھڑا ہے وہ کس کا گھر ہے۔

’نیرودا۔‘ اسے بتایا گیا۔

نیرودا؟ کون نیرودا؟ پابلو؟ پابلو نیرودا؟ اس نے جلدی جلدی بے یقینی سے سوالیہ انداز دہرایا، اس کی آنکھیں پھیلی ہوئیں اور دہانہ کھلا ہوا تھا۔

جلد ہی اسے پتہ چل گیا کہ اس کی بے یقینی درست نہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ بات اس گھر سے نکل کر آس پاس کے مکانوں اور گلیوں اور سڑکوں کو عبور کرتی ہوئی پورے ملک کے ٹیلی پرنٹروں سے گھومتی ہوئی دنیا بھر میں پھیل گیا اور سب کو پتا چل گیا کہ بیسویں صدی کا شاعر پابلو نیرودا اب مزید نظمیں دینے کے لیے باقی نہیں رہا۔

وہ بظاہر ادنیٰ سے ادنیٰ تر اشیاء کو مخاطب کرتا تھا اور انہیں بلند کر کے بینائی اور گویائی سے آشنا کر دیتا تھا۔

نیرودا
نکارا گوا کے شاعر ارنسٹو کارڈینل اور ارجنٹائن کے ادیب ارنسٹو سباتو نیرودا کے سو سالہ یوم پیدائش کی تقریب میں شرکت کے لیے اس کے آبائی شہر پرال گئے

یہ اس وقت کی بات ہے جب مغربی ملکوں کی جانب داری پر سے غیرجانبداری کا پردا ابھی آج کی طرح نہیں اٹھا تھا۔

اس وقت اگرچہ دنیا آج کی طرح ایک نہیں تھی اور سرمایہ دار اور پرولتاری آمریت کے درمیان تھوڑی سی جگہ غیر جانبداری کی اصطلاح کے لیے بھی نکالی گئی تھی لیکن اس کے باوجود بہت سوں کو پتہ تھا کہ اس وقت کی دوتہائی فوجی حکومتوں میں سے کتنی ہیں جن کے سر پر امریکہ اور اس کی ہمنوائی کرنے والوں کا ہاتھ ہے اور کتنی آمریتیں سوویت یونین کے سائے میں کھل کھیل رہی ہیں۔

پابلو نیرودا کا ملک چلی، انہیں ملکوں میں سے ایک تھا جس کے بارے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو شکایت اور تکلیف تھی کہ فوج کی ہمنوائی کے باوجود اس کی پسند کے خلاف وہاں یونائیٹڈ پاپولر کے سلواڈور آلندے کی حکومت آ گئی تھی۔

اس حکومت نے اپنے سب سے زیادہ جانے پہچانے جانے والے شہری کو فرانس میں اپنا سفیر مقرر کیا تھا۔

یہ شہری تھا نفٹالی ریکارڈو ریز عرف پابلو نیرودا، جو انیس سو چار میں چلی کے ایک دورافتادہ گاؤں پرال میں پیدا ہوا۔ جس کی ماں اس کی پیدائش کے بعد بہت جلد انتقال کر گئی اور جس کا باپ اس کے لیے ایک استاد ہونے کا خواب دیکھتا تھا۔

وہ سترہ سال کا تھا جب سانتیاگو پہنچا اس وقت تک اس کے دو مجموعے شائع ہو چکے تھے اور اسے ایک مستند شاعر کے طور تسلیم کر لیا گیا تھا۔

نیرودا
نیرودا 12 اکتوبر 1971نوبل انعام کی تقریب میں

اپنا نام بھی اس نے خود منتخب کیا۔ وہ چیکوسلواکیہ کے معروف شاعر کے نام پر نیرودا بن گیا۔ اس نے اپنے شاعر ہونے پر یقین کیا۔ اس نے اپنی پہلی نظم میں کہا:

کوئی شے میری روح حرکت کرتی
بخار یا فراموشی میں
اس آگ میں بڑھتے ہوئے
اپنا راستہ میں نے خود تلاش کیا
اپنی پہلی مبہم سطر رقم کی
مبہم، کسی مواد کے بغیر، مگر خالص
ایک ایسے آدمی کی طرح
جو کسی چیز سے واقف نہ ہو
اور میں نے دیکھا کہ آسمانوں کے در مجھ پر کھل گئے

پھر وہ وقت آیا کہ وہ اپنے ملک سے مفرور ہوا ایک جلا وطن کی زندگی گزاری، لیکن اس پورے سفر کے دوران وہ کہیں رکا نہیں۔

وہ بیسویں صدی کا واحد شاعر تھا جسے اشتراکیت اور سرمایہ داری کے متصادم نظریات بھی تقسیم نہیں کرسکے۔

گیارہ ستمبر انیس سو تہتر میں جب چلی کی بحریہ نے چلی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر صدر آلندے کو قتل کیا تو نیرودا بیماری کے باعث فرانس سے مستعفی ہو کر واپس وطن آ چکا تھا۔

اس نے اپنے ایک دوست کو لکھا ’خانہ جنگی میری لائبریری تک آ چکی ہے مجھے اس میں شریک ہونا پڑے گا۔‘

اور واقعی فوجیوں نے اس کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ جب وہ اس کے گھر میں داخل ہوئے تو نیرودا نے سب سے پہلے ان سے مشروبات اور کھانے کے بارے میں پوچھا ، لیکن انہوں نے کچھ بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

وہ اس کے گھر کی تلاشی لینا چاہتے تھے۔

میزبان پابلو نیرودا نے ان سے کہا ’اچھی طرح تلاشی لے لو، اس گھر میں تمہیں کوئی خطرناک شے نہیں ملے گی، ہاں، ایک شے ملے گی انتہائی خطرناک اور وہ ہے شاعری، جو میرے ارد گرد ہر شے میں موجود ہے اس سے بچنا۔‘

کہتے ہیں کہ پانی کی دھار ہجوم کو منتشر کرتے ہوئے غلطی سے اس گھر کی طرف مڑ گئی جو پابلو نیرودا کا تھا لیکن یہ کہنے والوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا کہ کتابوں کے سینوں کو سنگینوں سے چھلنی کر کے کیا تلاش کیا گیا تھا۔

نیرودا کو تو اس کے سو سالہ جنم دن پر چھہتر ملکوں میں ان لوگوں نے یاد کیا جو اس کے اس وجود سے محبت کرتے ہیں جو لفظوں کے ذریعے ان تک پہنچتا ہے، امریکہ کی سرپرستی سہ چلی پر مسلط رہنے والےجنرل پونیشے کو کون یاد کرے گا؟

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ شاعر اور جنرل دونوں تاریخ میں رہیں گے لیکن ان میں سے ایک زندہ ہوگا اور وہ ہو گا شاعر، لیکن یہ بات جنرلوں کو کون سمجھائے؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد