درویش کی موت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بمبئی کے ایک ہلالی میمن خاندان میں انیس سو بتیس میں ایک بچہ پیدا ہوا اور اسکا نام ابراہیم جان محمد درویش رکھا گیا۔درویش اکیس برس کی عمر میں کراچی آ گیا اور اردو اخبار نئی روشنی اور خبر رساں ایجنسی پی پی آئی سے مختصر وابستگی کے بعد روزنامہ ڈان میں سب ایڈیٹر بھرتی ہو گیا۔ سوائے دو چار ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کے اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ ویسے بھی ایک لاغر سے عینک لگائے الگ تھلگ کم گو آدم بیزار سے نظر آنے والے کو زیادہ لوگ جان بھی کیسے سکتے ہیں۔ اور پھر ابراہیم جان محمد درویش کے شوق بھی تو عجیب سے تھے۔یا تو وہ اخبار کی نوکری سے فراغت کے بعد دوسرے اخبار چاٹتا رہتا یا پھر پسندیدہ خبروں کے تراشے جمع کرتا رہتا۔ انیس سو پینسٹھ میں جب ہندوپاک جنگ چھڑی تو ایوب خانی حکومت نے اخبارات کو باقاعدہ تحریری پریس ایڈوائس دینے کا سلسلہ جاری کیا۔ یہ ایڈوائیسیں نہ صرف اس بارے میں ہوا کرتی تھیں کہ کونسی خبر کتنی کیسے اور کیوں جائے گی بلکہ کسی خاص مضمون نگار کو کتنے کالم جگہ ملے گی۔اس زمانے میں درویش نے دو کام کیے۔ایک تو یہ پریس ایڈوائیسیں جمع کرنا شروع کیں اور دوسرے ڈان چھوڑ کر بزنس ریکارڈر میں نوکری کرلی۔ انیس سو اکہتر کے کسی ایک دن درویش کے جمع کردہ اخباری تراشوں اور پریس ایڈوائسوں کا زخیرہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ کام ایک جانکار صحافی نے کیا تھا جو اب اس دنیا میں نہیں ہے۔درویش اس واقعہ سے اتنا دلبرداشتہ ہوا کہ بیمار ہو گیا اور صحافت کے پیشے کو ہی خیرباد کہنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن پھر وہی ہوا جیسا کہ کچھ دنوں بعد ہوتا ہے۔درویش نے ایک بار پھر خود کو مجتمع کیا اور نئے سرے سے حوالے، تراشے اور تازہ پریس ایڈوائیسیں جمع کرنا شروع کر دیں۔ اسی زمانے میں درویش اپنی والدہ سے ملنے بمبئی گیا اور وہاں ہندوستان کی صحافتی تاریخ اور جدوجہد پر مبنی کام اسکی نگاہ سے گزرا۔کراچی واپسی پر اس نے اپنے کئی ہم عصروں کے سامنے یہ تصور پیش کیا کہ پاکستان میں صحافت کے نشیب و فراز اور مسائیل پر کوئی سنجیدہ اور مربوط کام کرنے کی شدید ضرورت ہے۔لیکن محض زبانی علمی جہاد کے عادی لوگ اس سنجیدہ اور خشک کام کو ایک دوسرے پر رکھ کر ٹالتے رہے۔ چنانچہ لاغر درویش نے یہ بھاری پتھر خود ہی اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ انیس سو چھیاسی میں جب ضیاالحق آمریت کا طوطی بول رہا تھا درویش نے سکوت کے تالاب میں پہلا بڑا پتھر ’پریس ان چینز‘ (صحافت پابندِ سلاسل) کی شکل میں اچھال دیا۔ سینہ گزٹ کلچر سے پاک اس کتاب میں متحدہ ہندوستان میں دورِ انگریزی سے لے کر پاکستان میں جنرل ضیا الحق کے دور تک کی صحافتی سیاہ بختیوں کو مکمل دستاویزی حوالوں کے ساتھ قلمبند کیا گیا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ قلم سے کتنی خوفزدہ رہی ہے۔اسکا اندازہ کتاب کے پہلے ہی باب میں درج اس ایک واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ملک بننے سے صرف تین دن پہلے قائد اعظم نے کراچی میں دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں مملکت کے سیکولر کردار پر جو خطاب کیا تھا اسے اخبارات میں شائع کرنے سے قبل سنسر کرنے کی کوشش کی گئی۔ انیس سو نوے میں جب ابراہیم جان محمد درویش کی طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی تو انہوں نے نوکری والی صحافت ترک کرکے بزنس ریکارڈر سے سبکدوشی لے لی۔مگر درویش کے اندر کا مورخ اور توانا ہو گیا اور دو برس بعد درویش کی دوسری کتاب ’پریس انڈر سیج‘ (صحافت محاصرے میں ) اور انیس سو چورانوے میں اسی سیریز کی تیسری کتاب ’دی ویب آف سنسرشپ‘ ( سنسر شپ کا جال) شائع ہوئی۔مذکورہ دونوں کتابوں میں صحافت پر آئے ہوئے برے وقت پر حکومتی ہتھکنڈوں کے ساتھ ساتھ اخباری مالکان اور بعض عامل صحافیوں کی ریشہ دوانئیوں مصلحت کوشی اور منفی کردار کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب درویش کی ہڈیاں اور پھیپڑے اسکا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔انگلیاں ٹائپ رائٹر سے ہچکچانے لگی تھیں۔درویش سے نہ تو سیدھا بیٹھا جاتا تھا نہ ٹھیک طور سے چلا جاتا تھا۔مگر اندر کی آگ نچلا بھی تو نہیں بیٹھنے دیتی۔چنانچہ پین سے لکھنا شروع کیا اور جب یہ بھی دوبھر ہونے لگا تو حارث ( بیٹا) کی ڈیوٹی لگی کہ وہ املا لکھے۔ ان حالات میں ہی انیس سو اٹھانوے میں جنوبی ایشیا میں جوہری بموں کے تجربات کا دل پر اتنا اثر لے لیا کہ ایٹم کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنے والی نظموں اور نثر پاروں کو یکجا کرکے ’زمین کا نوحہ‘ کے نام سے ایک مرتب کتاب سن دو ہزار میں شائع کی۔ پھر ’ہاتھ ہمارے قلم ہوۓ‘ کے نام سے تحریر کے جرم میں سزا پانے کے موضوع پر اردو مضامین شائع کیے۔ادبی رسالے ارتقا کے نگراں راحت سعید نے درویش کے تیس مضامین کو یکجا کرکے ’انگلیاں فگار اپنی‘ اور درویش کے نو انٹرویوز کو یکجا کرکے ’باغبانِ صحرا‘ کے نام سے دو کتابیں شائع کیں۔ آخری دو برس کے دوران درویش دو کتابی موضوعات پر کام کر رہا تھا۔ایک موضوع عالمی تاریخ میں حکمرانوں کی جانب سے نزرِآتش کی جانے والی لائیبریریوں کا احوال تھا اور دوسرا موضوع ان کتابوں کے بارے میں تھا جو مختلف تاریخی ادوار میں راندہ درگاہ قرار پائیں۔یہ کام نامکمل اور شائع ہونے کے منتظر ہیں۔ ابراہیم جان محمد درویش کا قلم جتنا طاقتور تھا اس سے بھی زیادہ طاقتور اسکی انا تھی۔ جب بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں گورنر سندھ فخرالدین جی ابراہیم درویش سے ملنے گھر پہنچے اور چالیس ہزار روپے کا سرکاری چیک پیش کیا تو درویش نے یہ کہہ کر انکار کردیا ’فخرو میری اور اپنی دوستی میں گورنری کو مت لا‘۔انیس سو پچانوے میں صدر فاروق لغاری کی جانب سے درویش کے لئے تمغہ حسنِ کارکردگی اور پچاس ہزار روپے کا اعلان ہوا۔کچھ دنوں بعد حکومتِ سندھ نے ایک دن میں چھ اخبارات کی اشاعت معطل کردی۔ درویش نے تمغہ حسنِ کارکردگی پچاس ہزار روپے کے چیک کے ساتھ واپس لوٹا دیا۔البتہ انیس سو ستانوے میں انسانی حقوق کے کمیشن نے درویش کی خدمات کے اعتراف میں جو نثار عثمانی ایوارڈ دیا وہ درویش نے بخوشی اپنے پاس رکھا۔ آج اگر آپ درویش کے کمرے میں قدم رکھیں تو آپ کو پرانے اخبارات ، کچھ رجسٹراورلکڑی کی چند کرسیاں ملیں گی۔کتابیں کچھ زیادہ نظر نہیں آئیں گی۔ کیونکہ درویش نے دو برس قبل ہی اپنی بیشتر کتابیں اور اخباری تراشوں کا زخیرہ ڈان اخبار کی لائبریری کو عطیہ کر کے ہاتھ جھاڑ لیے تھے۔ ابراہیم جان محمد درویش گیارہ جون سن دو ہزار چار کو مر گیا اور اپنے پیچھے ایک ادارہ چھوڑ گیا۔ اس ادارے کا نام ہے ضمیر نیازی! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||