BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 May, 2004, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاریخ کسے یاد رکھتی ہے؟

News image
یہاں برطانیہ کے ایک کثیرالاشاعت روزنامے ’مرر‘ کی انتظامیہ نے اخبار کے ایڈیٹر پیئرس مارگن کو اخبار کی ادارت سے برطرف کردیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اخبار نے برطانوی فوجیوں کی عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی سے متعلق جو تصویریں شائع کی تھیں وہ حکومت اور فوج کی تحقیقات کے مطابق جعلی نکلیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جن ملکوں میں اخبارات اور ابلاغ عامہ کے دوسرے ذرائع کو تحریر اور تصویر شائع کرنے کی کھلی آزادی ہے وہاں ان کی ذمہ داریاں بھی بہت زیادہ ہیں اس لئے کہ وہ اپنے معاشرے ، اپنے ملک ، اپنی قوم اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے قاریوں کے اعتماد کے امین تصور کیے جاتے ہیں۔

پیئرس مارگن پہلے دن سے عراق پر حملے کے مخالف تھے اور اس طرح ان کا اخبار اس جنگ کے مخالفین کا ایک بہت ہی بے باک ترجمان بن کر ابھرا تھا۔ اب ان کی برطرفی کے بعد مرر اپنی اس خصوصی حیثیت کو برقرار رکھ سکےگا یا نہیں یہ تو بعد کی بات ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پئیرس مارگن کو اخبار کی ادارت سے تو جعلی تصویر شائع کرنے کے الزام میں برطرف کیا گیا ہے لیکن وہ اگر سیاسی اور صحافتی حلقوں یا مرر کے قارئین کے درمیان یاد رکھے جائیں گے تو عراق اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی اور برطانوی پالیسی کی مخالفت کے لئے یاد رکھیں جائیں گے۔

تاریخ ہر فرد کو اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اس کی گود میں اپنے لئے ایک جگہ یا مقام بنالے، ہما شما جیسے لوگ نہیں بنا پاتے اور ’مرگئے مردود فاتحہ نہ درود‘ کے مصداق تاریخ کے کباڑ خانے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گم ہوجاتے ہیں۔ کچھ تاریخ کے اوراق پر اپنی خون آشام تلوار کی دھار پر انگلیاں پھیر کر لطف اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ بنی نوع انسان کے ایک درخشاں مستقبل کے لئے اپنا تن، من، دھن سب ہار جاتے ہیں اور یہی خصوصیت تاریخ میں ان کی شناخت بن جاتی ہے۔

امریکہ نے اپنی سوا دو سو سال کی تاریخ میں ایسی عظیم شخصیتیں پیدا کی ہیں جنہوں نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو انسان کے لئے ایک زیادہ بہتر جگہ بنانے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان میں بعض نام تو ایسے ہیں جن کی انسانی خدمات کا اعتراف پوری دنیا کو ہے مثلاً تھامس جیفرسن ، ابراہم لنکن، ووڈرو ولسن اور فرینکلین روزویلٹ وغیرہ۔

بعض ایسے بھی گزرے ہیں جن کے ایک حکم نے چشم زدن میں ہزاروں کو لقمۂ اجل بنادیا اور بستیوں کی بستیاں ویران کردیں۔

اسی طرح برطانیہ کے وزراء اعظم میں بہت سی ایس شخصیات گزری ہیں جو انسانی تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئی ہیں مثلاً چرچل اور کلیمنٹ اٹلی وغیرہ۔ لیکن ان میں انتھونی ایڈین بھی شامل ہیں جو مصر پر حملے کے لئے مشہور ہیں بلکہ بدنام ہیں اور اسی بنیاد پر انہیں اپنے عہدے سے مستعفی بھی ہونا پڑا تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ میں صدر بش اور وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی وجہ شہرت ان کا کون سا کارنامہ بنتا ہے۔

ادھر ہندوستان میں انتخابات کے نتائج نے بہت سے لوگوں کو انگشت بدنداں کردیا ہے۔ عام خیال تھا کہ جناب اٹل بہاری واجپائی کی مخلوط حکومت کی کامیاب اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے نتیجے میں ، بی جے پی قیادت میں بن نے والے اتحاد کی کامیابی یقینی ہے اور غالباً خود حکمراں اتحاد کے حامی حلقوں میں بھی یہی سوچا جارہا تھا لیکن انتخاب کے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب ہندوستان کے عوام کو اپنے ووٹوں کی طاقت کا احساس ہو گیا ہے۔ ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ وہ جن لوگوں کو بر سر اقتدار لا سکتے ہیں انہیں اس سے محروم بھی کر سکتے ہیں۔

کون ہارتا ہے کون جیتتا ہے یہ میرے نزدیک ایک ضمنی بات ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ وہاں جمہوریت کا جو پودا جد وجہد آزادی کے رہنماؤں نے لگایا تھا اب اس نے جڑ پکڑلی ہے اور اب یہ خطرہ وہاں نہیں رہا کہ کوئی طالع آزماء مذہب، قومیت یا اس طرح کے کسی نام پر بھی عوام کو ان کے اس حق سے محروم کر سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب واجپئی کا شمار ہندوستان کے کامیاب ترین سیاسی مدبرین میں ہوگا۔ انہوں نے پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے میں جس دلیری کا مظاہرہ کیا وہ بھی خراج تحسین کی مستحق ہے۔ ان کے دور حکومت میں ملک نے جو نمایاں اقتصادی ترقی کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ان کی حکومت اس ترقی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچانے میں کچھ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئی اور اپنی پارٹی میں وہ ایسے لوگوں پر قابو پانے میں بھی ناکام رہے جن پر پارٹی کے ہندو مہا سبھا دور کی چھاپ اب بھی بہت نمایاں ہے۔

مجھے یہ لگتا ہے کہ ہندوستان میں اب جو بھی برسراقتدار آئےاسے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک سیکولر اور فلاحی ریاست کے قیام میں یقین رکھتا ہے اور اس کے لئے پر خلوص کو شش بھی کرنے کے لئے تیار ہے۔ محض جذباتی نعروں اور کھوکھلے وعدوں کی بنیاد پر اب ہندوستان میں سیاست کی راہیں مسدود ہوتی جارہی ہیں۔

ادھر پاکستان سے یہ افسوسناک خبر تو سب ہی نے سن لی ہوگی کہ پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے ایک ممتاز رہنما اور سب سے بڑے صوبے پنجاب کے سابق وزیر آعلیٰ جناب شہباز شریف تین سال کی جلا وطنی کاٹ کر وطن واپس گئے تو ان کو لاہور ایئر پورٹ سے ہی ایک خصوصی طیارے میں واپس سعودی عرب بھیج دیا گیا۔

پاکستان میں یوں تو انسانی اور سیاسی حقوق کی پامالی اور آئین کشی کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی لیکن جلا وطنی کی یہ مثال اپنی نوعیت کی پہلی ہے اور وہ بھی اس شکل میں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ جناب شہباز شریف پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں پاکستان واپس آنے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن میرا خیال ہے پاکستان میں حکومت وقت اپنے کسی شہری کو بھی جس حق سے بھی چاہے محروم کر سکتی ہے۔ اگر کسی کو ملک میں حقیقی آزادی حاصل ہے تو صرف قاتلوں ڈاکوؤں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو۔ وہ پورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں کبھی کراچی میں دھماکہ کردیتے ہیں کبھی کوئٹہ میں کبھی لاہور میں ۔ اگر پاکستان کی حکومت ان کو بھی اسی چابکد ستی سے ملک بدر کر سکتی جس چابکد ستی سے اس نے میاں شہباز شریف کو کیا ہے تو یہ پاکستانی قوم پر اس کا احسان ہوتا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد