غزہ جنگ: اسرائیلی اقدامات پر مغربی طاقتوں کی بے چینی میں اضافہ، اسرائیلی فوجیوں نے ’ہسپتال کے قریب یرغمالی کی لاش برآمد کی‘
اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ اسے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے قریب ایک 65 سالہ خاتون کی لاش ملی ہے جنھیں حماس نے 7 اکتوبر کے حملوں کے دوران اغوا کیا تھا۔ لواحقین کے مطابق خاتون بریسٹ کینسر سے صحتیاب ہو رہی تھیں جبکہ ان کے شوہر کو حماس کے مسلح جنگجوؤں نے ہلاک کیا تھا۔
لائیو کوریج
محمد حنیف کا کالم: مغربی تہذیب کا خنجر
کیا الشفا ہسپتال سے کوئی ثبوت نہ ملنے پر اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے؟
غزہ کا ساحل جنگ سے پہلے اور بعد میں
غزہ کا ساحل کبھی ایک ایسا ساحل تھا جہاں غزہ کے باشندے سمندر کے پانی، ہوا اور دھوپ سے لطف اندوز ہونے کے لیے جاتے تھے، جیسا کہ آپ اگست 2022 میں لی جانے والی پہلی تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری اس تنازع کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے فراہم کی جانے والی تصاویر میں غزہ کے ساحل کو اسرائیلی فوج کے ایک گڑھ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پس منظر میں تباہ شدہ اور خالی کرائی گئی عمارتیں اس تصویر کے اوپری حصے میں دیکھائی دے رہی ہیں۔

غزہ: چند نوجوانوں نے جنگ کی کوریج کیسے بدل دی؟
رفح میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کے مناظر
غزہ میں رفح کے قریب عمارتوں پر اسرائیل کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا ہے جس کے بعد کی صورتحال ان تصاویر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
فلسطین کے سرکاری خبر رساں ادارے وفا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل فصائی حملے میں متعدد افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
کئی ہفتوں سے اسرائیلی فوج شہریوں کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقوں کی جانب نقل مکانی کر جائیں، رفح اب بھی غزہ کے اُن علاقوں میں شامل ہے کہ جہاں بمباری ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ انھیں غزہ میں امداد پہنچانے میں مُشکلات کا سامنا ہے
اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ میں اپنے عملے کے ساتھ رابطے میں مُشکلات کی وجہ سے انھیں امداد پہنچانے میں متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق فون لائنز اور انٹرنیٹ گزشتہ دو دن سے بند ہیں۔
فلسطینیوں کی مدد کرنے والے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے یو این آر ڈبلیو اے سے تعلق رکھنے والی جولیٹ ٹوما نے بی بی سی کے نامہ یولینڈے کنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر مواصلات اور ایندھن کی بحالی ہو جائے تو صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔‘
اس ہفتے کے اوائل میں حماس اور اسرائیل کے درمیان اکتوبر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بار ایک ٹینکر نے غزہ کو ایندھن پہنچایا، لیکن یہ پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ خوراک اور پانی کی غزہ میں فراہمی ’عملی طور پر نہ ہونے کے برابر‘ ہے اور غزہ کے باشندوں کے حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی اقدامات پر مغربی طاقتوں کی بے چینی میں اضافہ, جیمز لینڈل، نامہ نگار برائے سفارتی امور
ہر گُزرتے دن کے ساتھ اب اسرائیل کے اتحادیوں کے لہجے میں تبدیلی آتی دیکھائی دے رہے ہے۔
گزشتہ شب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل کی حماس کے خلاف جاری جنگ کی نگرانی کرنے والی کابینہ کے ایک اہم رکن بینی گینٹز کو فون کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’مغربی کنارے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے مثبت اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں تقریبا 200 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ عرب سفارت کاروں کو خدشہ ہے کہ مغربی کنارے میں تشدد کی یہ موجودہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور یہ تنازعہ سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
بلنکن نے مصر کے وزیر خارجہ کو فون کیا اور ’پورے غزہ میں فلسطینی شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی اہمیت‘ پر زور دیا۔ انھوں نے اردن میں بھی اپنے ہم منصب کو بھی فون کیا اور غزہ میں اردن کے طبی مرکز پر حملے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا۔
یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب امریکہ نے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی اُس قرارداد کو ویٹو نہ کرنے کا فیصلہ کیا جو حماس کی مذمت کرنے میں ناکام رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اور یہ سب صرف امریکہ کی ہی جانب سے دیکھنے کو نہیں مل رہا بلکہ اس ہفتے کے اوائل میں برطانوی وزیر اعظم نے ایک تقریر میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ غزہ میں بہت سے فلسطینی اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ گزشتہ روز فرانسیسی صدر نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اسرائیل کا اپنے دفاع کا حق معصوم شہریوں پر بمباری کا جواز پیش نہیں کرتا۔‘
اسرائیل کے وزیر خارجہ ایلی کوہن نے کہا ہے کہ ’اُن کے ملک کے پاس جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھنے میں ’دو یا تین ہفتے‘ کا وقت ہے۔
اسرائیل غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا: نتن یاہو

،تصویر کا ذریعہCBS
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ غزہ شہر میں حماس سے نمٹنے کے لیے دوبارہ کوئی ’ناکام حکمت عملی‘ نہیں اپنائی جائے گی۔
امریکی چینل سی بی ایس کو دیے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ پر قبضہ جمانا نہیں چاہتا بلکہ فوج کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ ’وہاں سے دوبارہ دہشتگردی نہ ابھر سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ غزہ کو غیر عسکری بنایا جائے گا تاکہ شدت پسندی روکی جاسکے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں نتن یاہو کو متنبہ کیا کہ غزہ کے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنا ’بڑی غلطی ہوگی۔‘
نتن یاہو نے ’کلچر کی تبدیلی‘ کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ ’ہم غزہ میں ایسی انتظامیہ نہیں چاہتے جو دہشتگردوں سے نہ لڑیں بلکہ دہشتگردوں کی فنڈنگ کرے۔‘
دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حماس نے یرغمالیوں کو غزہ کے الشفا ہسپتال منتقل کیا تھا۔ ’یہی وجہ ہے کہ ہم ہسپتال میں داخل ہوئے۔‘
نتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوجیوں کے پہنچنے سے پہلے یرغمالیوں کو وہاں سے کہیں اور منتقل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے پاس یرغمالیوں سے متعلق انٹیلیجنس معلومات ہے جس کے بارے میں وہ زیادہ بات نہیں کر سکتے۔
غزہ کی صورتحال تصاویر میں
غزہ کی پٹی میں کھینچی گئی نئی تصاویر جو وہاں کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنخان یونس میں غمزدہ لواحقین 
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنخان یونس کے ناصر ہسپتال میں زیرِ علاج بچی 
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنغزہ کے شمال سے نقل مکانی کرنے والا ایک مریض جو کینسر میں مبتلا ہے 
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنغزہ اور اسرائیل کے بیچ سرحدی علاقے میں دھواں اُٹھ رہا ہے 
،تصویر کا ذریعہIDF
،تصویر کا کیپشناسرائیلی دستوں کی غزہ میں کارروائیاں غزہ جنگ کے 41ویں روز کیا ہوا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ اسے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے قریب ایک 65 سالہ خاتون کی لاش ملی ہے جنھیں حماس نے 7 اکتوبر کے حملوں کے دوران اغوا کیا تھا۔ لواحقین کے مطابق خاتون بریسٹ کینسر سے صحتیاب ہو رہی تھیں جبکہ ان کے شوہر کو حماس کے مسلح جنگجوؤں نے ہلاک کیا تھا۔
- اسرائیل کا غزہ کے الشفا ہسپتال میں آپریشن جاری ہے۔ فوج نے یہاں ایک سرنگ کی نشاندہی کی ہے اور بتایا ہے کہ یہاں سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔
- اسرائیل نے حماس پر ہسپتال کے نیچے سرنگوں کے ذریعے کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک بنانے کا الزام لگایا ہے جس کی حماس تردید کرتا ہے۔
- ہسپتال کے ڈائریکٹر نے وہاں مریضوں اور طبی سامان کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں جلد پانی اور آکسیجن ختم ہوجائیں گے جبکہ ’مریض پیاس سے چِلا رہے ہیں۔‘
- غزہ کے جنوب میں خان یونس کے مقام پر اسرائیلی فورسز نے مقامی لوگوں کو گھروں سے نقل مکانی کرنے اور خیموں میں منتقل ہونے کا کہا ہے۔
- ٹیلیکام کمپنیوں کے مطابق پورے دن غزہ کی پٹی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز متاثر رہیں کیونکہ ایندھن کی قلت تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق مصر کی سرحد سے جمعے کو سامان بھیجا جائے گا۔
- اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے مغربی کنارے سے یروشلم داخلے کی ایک چیک پوسٹ پر ان تین مسلح افراد کو ہلاک کیا ہے جنھوں نے گولیاں چلائی تھیں۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کا ایک فوجی ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا ہے۔ حماس نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جمعرات کی شب جنین میں دیگر اسرائیلی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
’الشفا ہسپتال میں آپریشن کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے‘ آئی ڈی ایف

،تصویر کا کیپشن"2022 کے دوران ملٹری پولیس سروس کی کامیابیوں" کے عنوان سے ایک پمفلٹ، جس کے بارے میں اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ انھیں الشفا اسپتال کے اندر سے ملا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے بی بی سی ریڈیو فور کے ’ورلڈ ایٹ ون‘ پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) غزہ شہر میں ہسپتال کے نیچے حماس کے نیٹ ورک کو ’بے نقاب‘ کرنے کے لئے کام کر رہی ہیں، لیکن انھوں نے اشارہ دیا کہ اس میں ’چند ہفتے‘ لگ سکتے ہیں۔
تاہم حماس کی جانب سے الشفا ہسپتال سے جُڑے بیانات کو اسرائیلی الزام قرار دیا ہے۔
آئی ڈی ایف نے بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیمسن کو الشفا میں داخل ہونے کی اجازت دی اور انھیں اس دورے کے دوران وہ چیزیں دکھائیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ حماس کی ہیں جن میں ہتھیار اور دیگر کاغزات شامل ہیں۔
آئی ڈی ایف نے ابھی تک ہسپتال کے نیچے حماس کے اڈے یا سرنگوں کے ثبوت نہیں دکھائے ہیں۔
تاہم، کونریکس کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ابھی تک پورے ہسپتال کی تلاشی نہیں لی ہے۔
کسی بھی زیر زمین انفراسٹرکچر کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’ہم اس کا جائزہ لیں گے اور اُمید ہے کہ اس کی کچھ فوٹیج شیئر کریں گے۔‘
حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لڑاکا طیاروں سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر پر حملہ کیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کے تمام امور کے سربراہ ہیں۔ عام طور پر انھیں سیاسی سربراہ کہا جاتا ہے۔ انھیں سنہ 2017 میں حماس کے سیاسی شعبے کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔
وہ گذشتہ کئی برسوں سے قطر میں ہی رہ رہے ہیں۔
وہ 1980 کی دہائی میں حماس کے سرگرم رہنما تھے اور تین سال کے لیے اسرائیل نے انھیں قید بھی رکھا۔
غزہ واپس آنے سے قبل انھوں نے ایک برس باہر ہی گزارا۔ سنہ 1997 میں وہ حماس کے مذہبی شعبے کے سربراہ منتخب ہو گئے۔
اسماعیل ہنیہ سنہ 2006 میں فسلطین کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انھوں نے صدر محمود عباس کے ساتھ کام کیا۔ انھیں صرف ایک سال بعد اس عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ان کی برطرفی کی وجہ حماس کی طرف سے غزہ کی پٹی سے خونریز جھڑپوں کے بعد صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کو بے دخل کرنا بنی۔
اسماعیل ہنیہ نے اپنی برطرفی کو غیرآئینی قرار دیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت فلسطین کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔ اپنی برطرفی کے باوجود حماس غزہ پر حکومت کر رہی ہے۔
غزہ سے وزارت صحت کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال کے کچھ حصے تباہ ہو گئے ہیں

غزہ سے وزارت صحت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے الشفا ہسپتال کے ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کو تباہ کر دیا ہے، برنز اینڈ کڈنی ڈپارٹمنٹ کو دھماکے سے اڑا دیا ہے اور اب وہ غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال میں ’ڈاکٹروں، زخمیوں اور بے گھر ہونے والوں سے تفتیش‘ کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے ان دعووں کی تصدیق نہیں کر پایا ہے۔
یروشلم میں ہماری ٹیم نے آج صبح سے الشفا کے تین ڈاکٹروں کو بار بار فون کرنے یا پیغامات بھیجنے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ ان تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
تاہم اس سے قبل عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ الشفا ہسپتال میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید ۔ غزہ اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے تازہ صورت حال کے حوالے سے خبریں آپ کو یہاں ملیں گی۔
