یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ غزہ اسرائیل جنگ کی صورت حال کے حوالے سے تازہ ترین خبروں کے لیے آپ یہاں کلک کیجیئے
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لڑاکا طیاروں سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر پر حملہ کیا ہے۔ ادھر امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ وقت سے پہلے اس متعلق کچھ بولنا نہیں چاہتے مگر امریکہ کو قطر سے بہت تعاون مل رہا ہے، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان ان یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق ڈیل پر مذاکرات کرا رہا ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ غزہ اسرائیل جنگ کی صورت حال کے حوالے سے تازہ ترین خبروں کے لیے آپ یہاں کلک کیجیئے
اب سے کچھ دیر قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے بی بی سی ریڈیو فور کے ’ورلڈ ایٹ ون‘ پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) غزہ شہر میں ہسپتال کے نیچے حماس کے نیٹ ورک کو ’بے نقاب‘ کرنے کے لئے کام کر رہی ہیں، لیکن انھوں نے اشارہ دیا کہ اس میں ’چند ہفتے‘ لگ سکتے ہیں۔
تاہم حماس کی جانب سے الشفا ہسپتال سے جُڑے بیانات کو اسرائیلی الزام قرار دیا ہے۔
آئی ڈی ایف نے بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیمسن کو الشفا میں داخل ہونے کی اجازت دی اور انھیں اس دورے کے دوران وہ چیزیں دکھائیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ حماس کی ہیں جن میں ہتھیار اور دیگر کاغزات شامل ہیں۔
آئی ڈی ایف نے ابھی تک ہسپتال کے نیچے حماس کے اڈے یا سرنگوں کے ثبوت نہیں دکھائے ہیں۔
تاہم، کونریکس کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ابھی تک پورے ہسپتال کی تلاشی نہیں لی ہے۔
کسی بھی زیر زمین انفراسٹرکچر کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’ہم اس کا جائزہ لیں گے اور اُمید ہے کہ اس کی کچھ فوٹیج شیئر کریں گے۔‘
غزہ سے وزارت صحت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے الشفا ہسپتال کے ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کو تباہ کر دیا ہے، برنز اینڈ کڈنی ڈپارٹمنٹ کو دھماکے سے اڑا دیا ہے اور اب وہ غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال میں ’ڈاکٹروں، زخمیوں اور بے گھر ہونے والوں سے تفتیش‘ کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے ان دعووں کی تصدیق نہیں کر پایا ہے۔
یروشلم میں ہماری ٹیم نے آج صبح سے الشفا کے تین ڈاکٹروں کو بار بار فون کرنے یا پیغامات بھیجنے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ ان تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
تاہم اس سے قبل عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ الشفا ہسپتال میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
غزہ سے موصول ہونے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ الشفا ہسپتال میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
الشفا ہسپتال کے اندر ایک صحافی خضر نے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف سے فون پر بات کی جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوجی ہر جگہ موجود ہیں، ہر سمت میں فائرنگ کر رہے ہیں۔‘
خضر نے بتایا ہے کہ ’اسرائیلی فوجیوں نے ہسپتال کے تمام حصوں پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں عمارت کی دیوار کا جنوبی حصہ اور درجنوں گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔‘
بی بی سی الشفا ہسپتال سے موصول ہونے والی ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوجی 36 گھنٹے قبل ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ گزشتہ رات انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس مقام پر حماس کے خلاف ’ٹارگٹڈ آپریشن‘ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد الشفا ہسپتال سے یہ بھی اطلاعات موصول ہوئیں کہ اسراییلی فوجی نوجوان فلسطینیوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔
اسرائیل میں حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپد نے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حماس کے خلاف جنگ سے نمٹنے میں حکومت کی ناقص کارکردگی اور حکمتِ عملی پر استعفیٰ دیں۔
لاپد کا کہنا ہے کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ ’قومی تعمیر نو کی حکومت‘ تشکیل دی جائے جس کی قیادت نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کر سکتی ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم چلے جائیں۔‘
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے بیانات کے بعد لاپد نے ٹویٹ کیا کہ ’7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیلی فوج اور عوام نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ’کمزور کڑی حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے آوازیں سنی ہیں کہ یہ وقت نہیں ہے۔ ہم نے 40 دن انتظار کیا، اب کوئی وقت نہیں ہے۔ اس وقت ہمیں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو سکیورٹی اور معیشت کے علاوہ کچھ نہ کرے۔‘
لاید 7 اکتوبر کے بعد تشکیل دی جانے والی اسرائیلی جنگی کابینہ میں شامل نہیں ہوئے، اس کے برعکس مرکزی حزب اختلاف کے رہنما بینی گینٹز اس میں شامل تھے۔
اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لڑاکا طیاروں سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر پر حملہ کیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کے تمام امور کے سربراہ ہیں۔ عام طور پر انھیں سیاسی سربراہ کہا جاتا ہے۔ انھیں سنہ 2017 میں حماس کے سیاسی شعبے کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔
وہ گذشتہ کئی برسوں سے قطر میں ہی رہ رہے ہیں۔
وہ 1980 کی دہائی میں حماس کے سرگرم رہنما تھے اور تین سال کے لیے اسرائیل نے انھیں قید بھی رکھا۔
غزہ واپس آنے سے قبل انھوں نے ایک برس باہر ہی گزارا۔ سنہ 1997 میں وہ حماس کے مذہبی شعبے کے سربراہ منتخب ہو گئے۔
اسماعیل ہنیہ سنہ 2006 میں فسلطین کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انھوں نے صدر محمود عباس کے ساتھ کام کیا۔ انھیں صرف ایک سال بعد اس عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ان کی برطرفی کی وجہ حماس کی طرف سے غزہ کی پٹی سے خونریز جھڑپوں کے بعد صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کو بے دخل کرنا بنی۔
اسماعیل ہنیہ نے اپنی برطرفی کو غیرآئینی قرار دیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت فلسطین کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔ اپنی برطرفی کے باوجود حماس غزہ پر حکومت کر رہی ہے۔
اسرائیلی افواج نے کہا ہے کہ انھوں نے غزہ میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر پر حملہ کیا ہے۔
ایکس پر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ انھوں بدھ کی رات کو لڑاکا طیاروں سے حماس کے سربراہ کے گھر کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا گھر دہشتگردانہ کارروائیوں کے انفراسٹرکچر کے طور پر استعمال ہو رہا تھا اور یہاں حماس کے سینیئر رہنماؤں کے اجلاس بھی ہوتے تھے۔
بی بی سی آزادانہ طور پر اسرائیلی فوج کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
غزہ میں اس وقت افراتفری والی کیفیت ہے، جہاں مرنے والوں کی درست گنتی خـاصا محنت طلب کام بن کر رہ گیا ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ کمیونیکیشن نظام کے درہم برہم ہونے کی وجہ سے اب تازہ ترین معلومات کا حصول بہت مشکل بن کر رہ گیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت ہی اس حوالے سے اہم ذریعہ ہے، جو باقاعدگی سے اس متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔
آخری بار پیر کو اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی اب تک تعداد کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ کل مرنے والوں کی تعداد 11240 ہو گئی ہے۔ ان مرنے والوں میں بچوں کی تعداد 4630 بچے بھی ہیں۔
مرنے والوں کی تعداد کی بارے میں اسرائیل اور امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے شک کا اظہار کیا ہے۔ تاہم عالمی اداروں جیسا کے عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ غزہ میں مرنے والوں کی تعداد کو نہ مانا جائے۔
وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میڈیکل کے شعبے کے ماہرین بتاتے ہیں۔ اور یہ وہ تعداد ہے جو لوگ ہسپتال تک پہنچ سکے ہیں یعنی یہ تعداد ہسپتالوں کے ریکارڈ کے عین مطابق ہے۔
ان اموات میں فوجی اور عام شہریوں کی تفریق نہیں کی جاتی ہے۔ تاہم اس میں ان لوگوں کو شمار نہیں کیا جاتا تو دھماکے کی جگہ ہی مر گئے ہوں اور ان کی لاشیں تلاش نہ کی جا سکی ہوں یا فوری طور پر تدفین نہ ہو سکی ہو۔ غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے افراد شاید گنتی میں آتے ہی نہیں ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ حماس کا غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کے نیچے ایک ’کمانڈ بیس‘ موجود ہے۔ حماس ان الزامات کی تردید کی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ’بیس‘ حماس کے انکلیو کے نیچے تعمیر کی گئیں سرنگ نظام کا حصہ ہے۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ نقشے میں دکھایا گیا ہے کہ حماس کا سرنگ سسٹم کہاں موجود ہے اور اسرائیل کے مطابق یہاں سے حماس اپنی فوجی کارروائیاں کرتا ہے۔
جاپان میں اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس نے اسرائیلی سفارتخانے کے قریب بیریئر سے اپنی گاڑی دے ماری۔ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیریئر سفارتخِانے سے محض 100 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ویڈیو میں اس شخص کو بیریئر پر گاڑی چڑھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
جاپانی سرکاری میڈیا این ایچ کے کے مطابق 50 برس سے زائد کے شخص کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق دائیں بازو کے گروپ سے ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر کیا گیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ سے اسرائیل نے دنیا بھر میں اپنے سفارتخانوں کی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی 41 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔
گذشتہ چند گھنٹوں کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انھیں کچھ امید ہے کہ حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے 200 سے زائد افراد کی رہائی سے متعلق ڈیل ہو جائے گی۔
چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو قطر سے عظیم تعاون مل رہا ہے، جو اس وقت اسرائیل اور حماس میں مذاکرات کرا رہا ہے۔
7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے متعلق انھوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیال کہ اب وہ رک جائیں گے اور کچھ نہیں کریں گے یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
اسرائیلی افواج نے حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے الشفا ہسپتال کے نیچے انھوں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بنا رکھا ہے اور ہسپتال کے نیچے سرنگ نیٹ ورک ہے۔ اس الزام کی حماس نے بار بار تردید کی ہے مگر امریکہ نے اسرائیل کی اس انٹیلیجنس معلومات کی حمایت کی ہے۔
7 اکتوبر کے بعد اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے شروع کیے۔ حماس کے اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملوں میں 1200 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔
حماس کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پانچ روز قبل اسرائیلی حملوں میں 11000 سے زائد فلسطینی مارے گئے ہیں، جن میں 4500 سے زائد بچے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے 200 سے زائد افراد کی رہائی کی ڈیل سے متعلق کسی حد تک پرامید ہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ وقت سے پہلے اس متعلق کچھ بولنا نہیں چاہتے مگر امریکہ کو قطر سے بہت تعاون مل رہا ہے، جو اسرائیل اور حماس میں ان یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات کرا رہا ہے۔
اسرائیل کے غزہ کے الشفا ہسپتال پر فوجی آپریشن نے متعلق صدر بائیڈن نے کہا کہ حماس نے اس ہسپتال کے نیچے فوجی اڈہ کر رکھ جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
اسرائیل نے کچھ ہتھیار اور دیگر آلات دکھاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اس ہسپتال کے نیچے سے یہ ہتھیار اور دیگر آلات برآمد کیے ہیں جو حماس کی ملکیت تھے۔
حماس نے اس الزام کی تردید کی ہے اس نے ہسپتال کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیل سے عام شہریوں کے تحفظ سے متعلق محتاط ہونے کا کہا ہے۔
ایک صحافی نے امریکی صدر سے غزہ سے تبصرہ کرنے سے متعلق کہا۔ امریکہ صدر جو بائیڈن نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
جوبائیڈن نے کہا کہ حماس نے غزہ میں اپنے جنگجو اور ہتھیار الشفا ہسپتال کے نیچے چھپا کر جنگی جرم کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’حماس ایک ہسپتال کے نیچے چھپی ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس وقت یہی کچھ ہو رہا ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ حماس ایک بار پھر اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اب وہ رک گئے ہیں اور وہ کچھ نہیں کریں گے یہ حقیت پر مبنی نہیں ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل بڑی احتیاط سے جنگجوؤں کا وہاں سے صفایا کرے گا اور اس بات کو یقینی بنایا گا کہ مریضوں کو خیال رکھا جائے گا۔
ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ سان فرانسسکو میں شی جن پنگ کے ساتھ اپنی چار گھنٹے کی ملاقات کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے چین سے کہا کہ وہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنے کی ترغیب دی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اہلکار نے، جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے کہا کہ چینی حکام نے ایران کے ساتھ خطے کو درپیش خطرات پر بات چیت کی ہے۔
7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد، امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدے داروں نے بار ہا ایران سے کہا ہے کہ وہ کشیدگی اور تصادم کو ہوا نہ دے۔
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرابدولیان نے 15 نومبر کو کہا کہ امریکہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے بارے میں ایران کو کم از کم دو بار پیغامات بھیجے ہیں۔
فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق انھوں نے کہا: ’پہلا محور (ان پیغامات کا) یہ ہے کہ ہم جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتے اور دوسرا محور یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران تحمل سے کام لے۔‘
امریکہ کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں ایران کی قریبی افواج نے اس عرصے کے دوران درجنوں بار امریکی افواج اور بین الاقوامی اتحاد کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد واقعات میں امریکہ کا ردعمل سامنے آیا ہے۔
اس کے علاوہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے کئی مواقع پر اسرائیل پر میزائل یا ڈرون فائر کیے ہیں۔
حوثیوں نے 9 نومبر کو یمن کے ساحل کے قریب پانیوں میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو بھی مار گرایا تھا۔
تازہ ترین پیشرفت میں، ایک امریکی اہلکار نے بدھ کے روز بتایا کہ ایک امریکی جنگی جہاز نے ایک ڈرون کو مار گرایا جو یمن سے اس جہاز کی طرف روانہ کیا گیا تھا جب وہ جنوبی بحیرہ احمر میں سفر کر رہا تھا۔
اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر گیلاڈ اردان کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد حقیقت سے دور ہے اور یوں یہ ایک بے معنی قرارداد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انھوں نے یہ بھی تنقید کی کہ اس قرارداد میں حماس کے اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے کا ذکر تک نہیں ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرینفیلڈ نے بھی کہا کہ ’یہ خوفناک ہے کہ سکیورٹی کونسل میں چند ممالک نے حماس کے دہشتگردانہ حملوں کی مذمت تک نہیں کی۔‘
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’انھیں کس چیز کا ڈر ہے؟‘
اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر لوئس چاربونو نے اس قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس قرارداد نے اسرائیل، حماس اور دوسرے مسلح گروہوں کو بہت نایاب اور خاص پیغام دیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ہے۔
سفارت کاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج ایک قرار داد کے مسودے پر ووٹنگ ہونے والی ہے جس میں غزہ کی پٹی میں ’انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی اور امداد کے لیے راہداریوں‘ کو کھولے جانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ تاکہ غزہ میں پھنسے فلسطینیوں تک فوری اور مواثر انداز میں امداد پہنچائی جا سکے۔
اب تک اسرائیل نے شمالی غزہ کے مضافاتی علاقوں میں جنگ میں مختصر وقفہ کیا ہے، ان میں سے اکثر علاقے وہ ہیں جو صلاح الدین روڈ کے ساتھ جنوب میں واقع ہیں۔
قرار داد کی منظوری کے لیے 9 وٹ درکار ہیں۔
الشفا ہسپتال کے اندر اسرائیلی افواج کا آپریشن تقریبا 15 گھنٹے گُزر جانے کے بعد بھی جاری ہے۔
بی بی سی کے غزہ سے نامہ نگار رشدی ابوالوف نے الشفا ہسپتال سے متعلق بتایا ہے کہ ’میں نے ہسپتال کے اندر موجود ایک شخص سے بات کی جس نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی اس ہسپتال میں موجود سینکڑوں افراد سے تفتیش کر رہے ہیں اور ان سے بات کر رہے ہیں۔‘
رشدی کہتے ہیں کہ ’انھوں نے مجھے بتایا کہ فوجیوں نے عربی میں لاؤڈ سپیکر پر حکم دیا تھا کہ 16 سے 40 سال کی عمر کے مرد ہسپتال کے صحن میں چلے جائیں، تاہم طبی عملے، مریضوں اور خواتین کو وہاں سے جانے کے لیے نہیں کہا گیا۔‘
رشدی کے مطابق ’انھوں نے مجھے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ہسپتال کی عمارت سے نکلنے والوں میں سے کچھ سے پوچھ گچھ سے پہلے اپنے انڈر ویئر اتارنے کو کہا، اس کے بعد تقریبا 200 لوگوں کو ہسپتال سے باہر لے جایا گیا۔‘
رشدی کے مطابق ہسپتال کے اندر موجود ایک شخص نے انھیں بتایا کہ کچھ فوجی ہسپتال کے اندر بوڑھے لوگوں کو پانی دے رہے تھے۔
ہسپتال کے اندر صورتحال اب بھی انتہائی کشیدہ ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال میں اپنے ’ٹارگٹڈ‘ آپریشن سے کن مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہیں:
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’ان کے فوجی غزہ میں لڑنے والی عسکریت پسند تنظیم حماس کے بنیادی ڈھانچے، ان کے استعمال میں رہنے والے دھماکہ خیز آلات اور اس ’عسکریت پسند تنظیم کے زیر انتظام‘ کمپلیکس کی چھان بین کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے الشفا کے لیے بھیجے گئے دستوں میں مترجمین اور طبی ٹیمیں شامل ہیں، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ’اس پیچیدہ اور حساس ماحول سے نمٹنے کے لئے مخصوص تربیت حاصل کی ہے۔‘
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ اس ارادے سے ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں کہ شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے، تاہم حماس پر ان لوگوں کو بطور ’انسانی ڈھال‘ استعمال کرنے کا الزام ہے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’اس آپریشن سے قبل الشفا سے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔‘
آئی ڈی ایف کے مطابق اس نے ہسپتال کے حکام کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت بھی جاری رکھی گئی اور انھیں کمپاؤنڈ میں اپنی افواج کے داخلے کے بارے میں وقت سے پہلے مطلع کیا۔
آئی ڈی ایف نے اپنے فوجیوں کی ایک ویڈیو شائع کی ہے جس میں وہ ہسپتال میں انکیوبیٹرز، بچوں کی خوراک اور طبی سامان سمیت طبی امداد پہنچا رہے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے غزہ میں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں تازہ ترین معلومات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ الشفا ہسپتال میں ان کا آپریشن جاری ہے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ان کے فوجی ’الشفا ہسپتال کے ایک مخصوص علاقے میں حماس کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں وہ حماس کے عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے اور ہتھیاروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔‘
ہسپتال کے اندر موجود ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی ڈی ایف کے اہلکار ہر ہر کمرے میں جا کر ہسپتال کے عملے اور مریضوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ مترجم اور طبی عملہ بھی موجود ہے۔
آئی ڈی ایف نے یہ بھی کہا کہ اس نے ہسپتال کے داخلی دروازے تک انسانی امداد پہنچا دی ہے۔ قبل ازیں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ وہ ہسپتال میں انکیوبیٹرز اور بچوں کی خوراک لانے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں درجنوں بچوں کو طبی علاج کی ضرورت ہے۔