یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
اسرائیل غزہ تنازعے پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق شہر کے وسط میں واقع الاہلی ہسپتال پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال غزہ سے ہی داغے گئے راکٹ کا نشانہ بنا۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حملے کے بعد بدھ کو امریکی صدر سے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ہے۔
اسرائیل غزہ تنازعے پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم کے سینیئر مشیر مارگ رگوف نے کہا: 'میں آپ سے محتاط رہنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ سنجیدگی سے اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں تھا۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ ’حماس یہ کہہ کر کہ اسرائیل نے معصوم شہریوں کو قتل کیا، پروپیگنڈے کی جنگ میں فتح کی خواہاں ہے‘۔
مارگ رگوف نے کہا کہ ’(حماس کے) اس دعوے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔‘ بی بی سی اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ منگل کی شب غزہ کے الاہلی ہسپتال میں کیا ہوا تھا۔
فلسطینی اسلامک جہاد نے اسرائیلی فوج کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ غزہ کا الاہلی ہسپتال تنظیم کی جانب سے داغے گئے راکٹ کا نشانہ بنا۔
اسرائیلی فوج نے الزام لگایا ہے کہ غزہ کا الاہلی ہسپتال فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کا نشانہ بنا۔
ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں آئی ڈی ایف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج کے آپریشنل نظام کے تجزیے سے اشارہ ملتا ہے کہ جب الاہلی ہسپتال نشانہ بنا اس وقت غزہ سے داغے جانے والے راکٹ اس کے قریب سے گزر رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’متعدد ذرائع سے ملنے والی معلومات سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اسلامک جہاد نے وہ راکٹ داغا جس سے غزہ کا ہسپتال نشانہ بنا۔
غزہ کے الاہلی ہسپتال پر حملے میں 500 افراد کی ہلاکت کے بعد رام اللہ میں مظاہرے ہوئے ہیں۔
شہر میں مشتعل مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
رام اللہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر واقع ہے اور اس پر محمود عباس کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اردن کے دارالحکومت عمان میں امریکی صدر جو بائیڈن سے بدھ کو ملاقات کا پروگرام منسوخ کر دیا ہے اور وہ واپس رام اللہ جا رہے ہیں۔
محمود عباس کی جانب سے ملاقات کی منسوخی کا فیصلہ غزہ میں الاہلی ہسپتال پر حملے کے بعد کیا گیا ہے۔
اس حملے میں اب تک 500 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن بدھ کو اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں اور انھوں نے اس دورے میں اردن میں فلسطین اور مصر کے صدور سے بھی ملاقات کرنا تھی۔
بی بی سی کے بین الاقوامی ایڈیٹر جیریمی بووین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کے ترجمان کے دفتر سے فون کال کے ذریعے دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال ایک انتہائی حساس عمارت ہے اور یہ اسرائیلی افواج کا ہدف نہیں۔ آئی ڈی ایف دھماکے کے ماخذ کی تحقیقات کر رہی ہے اور ہمیشہ کی طرح درست اور قابلِ بھروسہ معلومات کو ترجیح دے رہی ہے‘۔
بی بی سی نے حملے کا نشانہ بننے والے الاہلی ہسپتال میں کام کرنے والے فلسطینی نژاد برطانوی سرجن پروفیسر غسان ابوستہ سے بات کی۔
پروفیسر ابوستہ حملے کے وقت ہسپتال میں کام کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا ’ہسپتال کے کچھ حصوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ہنگامی امداد کا شعبہ ہے یا نہیں۔ لیکن وہ یقینی طور پر آپریشن تھیٹر ہے، چھت کا کچھ حصہ گر گیا ہے۔ ہر طرف شیشہ ہے‘۔
غسان ابوستہ نے تصدیق کی کہ وہ محفوظ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں بہت سے لوگ پناہ گزین تھے۔
فلسطین کے سرکاری ذرائع ابلاع کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کے الاہلی ہسپتال پر فضائی حملے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔
فلسطینی صدر نے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے۔‘
بی بی سی نے وسطی غزہ میں بمباری کی زد میں آنے والے ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر سے بات کی ہے۔ اس ڈاکٹر نے بی بی سی ورلڈ سروس کے نیوز آور پروگرام کو بتایا کہ حملے کے مقام پر مکمل تباہی ہوئی ہے اور وہاں تقریباً 4000 بےگھر افراد پناہ گزین تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور دھماکے میں سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
حماس کے میڈیا آفس نے غزہ کی پٹی میں الاہلی عرب ہسپتال پر حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال میں سینکڑوں بیماروں اور زخمیوں کو رکھا گیا تھا اور اس کے ساتھ وہاں دیگر فضائی حملوں کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد بھی پناہ گزین تھے۔‘
بیان کے مطابق حملے کے بعد ’سینکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں‘۔
بیت المقدس میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بیٹمین کا کہنا ہے کہ الاہلی عرب ہسپتال سے سامنے آنے والی تصاویر میں افراتفری کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں اور اندھیرے میں خون آلود اور اعضا سے محروم افراد کو سٹریچرز پر ڈال کر باہر نکالا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق ہسپتال کے باہر ملبے سے بھری گلی میں لاشیں اور تباہ شدہ گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق اس واقعے کی کچھ غیر مصدقہ ویڈیوز میں ایک زبردست دھماکہ دیکھا جا سکتا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے ہسپتال میں سینکڑوں بےگھر افراد نے پناہ لی ہوئی تھی۔
فلسطینی شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ اسرائیلی فضائی حملے کا نتیجہ تھا اور اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے ایک بریفنگ میں الاہلی عرب ہسپتال پر حملے کے بارے میں کہا ہے کہ ’ ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے‘۔
غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے غزہ میں واقع ایک ہسپتال پر مبینہ فضائی حملے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 500 تک پہنچ گئی ہے۔
اُدھر اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھیں واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہے اور فوج اس ضمن میں سامنے آنے والی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے۔
بی بی سی مبینہ واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کے لیے کام کر رہا ہے۔
کچھ دیر قبل حماس کی طرف سے غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے وسطی غزہ میں ’بیپٹسٹ ہسپتال‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
محکمہ صحت کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اندازے کے مطابق اس حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں واقع المغازی پناہ گزین کیمپ پر فضائی حملے کیے ہیں جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
المغازی پناہ گزین کیمپ ایک سکول کی عمارت میں قائم کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین‘ کے بیان کے مطابق اس حملے میں درجنوں پناہ گزین زخمی ہوئے ہیں جبکہ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ (حملہ) اشتعال انگیز ہے، اور یہ ایک بار پھر عام شہریوں کی زندگیوں کو واضح طور پر نظر انداز کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ غزہ میں اب کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے، یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی سہولیات (عمارتیں) بھی۔‘
اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین نے مزید کہا ہے کہ ’کم از کم 4,000 لوگوں نے اس جگہ پر پناہ لی ہوئی تھی۔
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو پاکستانی قوم کی مکمل سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت حاصل ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل، اُن کی سرزمین اور مسلمانوں کے مقدس مقامات پر غیر قانونی قبضے کے خاتمے کے لیے اپنے بھائیوں کے اصولی موقف کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل عاصم منیر نے یہ بات راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر میں کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے فلسطین، اسرائیل جنگ میں ہونے والی پیش رفت اور اسرائیل کی طرف سے طاقت کے استعمال کے باعث معصوم شہریوں کے جانی نقصان پر تشویش کااظہار کیا۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صدر جو بائیڈن کے بدھ کے روز ہونے والے اسرائیل کے دورے سے قبل بات چیت میں کہا ہے کہ صورتحال کے کسی بھی حد تک جانے پر 2,000 فوجی اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ کے لیے ہائی الرٹ پر تیاررکھا گیا ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے زور دیا ہے کہ وہ امریکی افواج کو اسرائیل تنازع میں آن گراؤنڈ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ انھیں یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ صورتحال بگڑنے پر فوری جوابی کارروائی کی جا سکے۔
دوسری جانب سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں جان کربی نے کہا کہ فوجیوں کی تعیناتی دفاع کے مقاصد کی غرض سے ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ صدر جو بائیڈن کے کل اسرائیل کے دورے کا مقصد جنگ کو مشرق وسطیٰ کے وسیع تر علاقائی تنازع کو پھیلنے سے روکنا ہے۔
اسرائیل کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے حماس کے حملوں کے باعث زخمی ہونے والے 344 افراد اب بھی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
آج صبح ایک اپ ڈیٹ میںوزارت نے بتایا کہ ان زخمیوں میں 82 افراد کی حالت نازک ہے ۔ 194 افراد کی حالی خطرے سے باہر ہے جبکہ 68 افراد رو بہ صحت ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے بعد سے مجموعی طور پر 4,229 افراد کو ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔
حماس کے مسلح ونگ نے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کےایک اہم کمانڈر ایمن نوفل کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔
حماس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیلی گرام پر لکھا ہے کہ ایمن نوفل وسطی غزہ کے علاقے میں القسام بریگیڈ کے انچارج تھے۔