حماس کا اسرائیلی شہروں پر راکٹ حملوں کا دعویٰ: ’ جنگ طویل ہو گی جس کی بھاری قیمت چکانی ہو گی،‘ اسرائیلی وزیر دفاع
غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2700 سے بڑھ گئی ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے حملوں میں اس کے 1400 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے جبکہ 199 یرغمال بنائے گئے ہیں۔ اسرائیل کے زمینی حملے کے پیش نظر اب تک تقریباً 10 لاکھ فلسطینی شمالی غزہ سے جنوب کی جانب نقل مکانی کر چُکے ہیں۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
اسرائیل اور فلسطین حالیہ کشیدگی سے متعلق بی بی سی اردو پیج کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 17 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
اب تک کی بڑی خبریں۔۔۔

،تصویر کا ذریعہEPA
- حماس کے عسکری ونگ نے کہا ہے کہ اس نے ’شہریوں پر حملوں‘ کے جواب میں تل ابیب اور یروشلم پر راکٹ داغے ہیں
- اقوام متحدہ کے مطابق غزہ پر بمباری کے بعد وہاں قریب 10 لاکھ فلسطینیوں نے نقل مکانی کی جنھیں ’فوری مدد کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری آنکھوں کے سامنے غزہ کا نظام صحت تباہ ہو رہا ہے‘
- انسانی ہمدردی کی خاطر جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ رفع کراسنگ کھولنے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی
- غزہ اور مصر کے بیچ رفع کراسنگ کے علاقے پر فضائی حملہ ہوا ہے تاہم اب تک ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں
- اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ میں بچوں اور معمر افراد سمیت کئی لوگوں کو حماس کی جانب سے یرغمال بنایا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک 199 افراد یرغمال بنائے گئے
- برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کے مطابق اسرائیل پر حماس کے حملے میں چھ برطانوی شہری ہلاک ہوئے جبکہ دو جڑواں بہنیں لاپتہ ہیں
بریکنگ, اسرائیلی فضائیہ کا حماس کی جنرل انٹیلیجنس کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
اسرائیل نے حماس کی جنرل انٹیلیجنس کے سربراہ کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں یہ دعویٰ کہا ہے کہ اُن کی جانب سے کی گئی ایک کارروائی کے دوران حماس کی جنرل انٹیلیجنس کے سربراہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے ایکس پر سامنے آنے والے بیان میں اس مبینہ حملے کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ یہ فضائی حملہ غزہ کی پٹی کے اہم علاقے خان یونس میں کیا گیا ہے۔
بی بی سی کی جانب سے ان معلومات کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
جنگ کے دوسرے محاذوں تک پھیلنے کا امکان ہے: ایران
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا دوسرے محاذوں تک پھیلنے کا امکان ’ناگزیر مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘
ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’(اس مسئلے کے) سیاسی حل کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔‘ ساتھ ہی انھوں نے اسرائیل پر ’غزہ میں جنگی جرائم اور قتل عام‘ کا الزام عائد کیا۔
انھوں نے لکھا کہ ’ملائیشیا، پاکستان اور تیونس کے اپنے ہم منصبوں سے بات ہوئی ہے۔ غزہ میں صیہونی جرائم اور قتل و غارت کو فوری طور پر روکنے اور انسانی امداد بھیجنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔‘
بریکنگ, حماس کا اسرائیلی شہروں پر راکٹ حملوں کا دعویٰ
حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران انھوں نے اسرائیل کے شہر تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں میزائلوں کے نئے حملے کیے ہیں۔
حماس کے عسکری ونگ ’القسام بریگیڈ‘ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تازہ ترین حملے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔‘
بی بی سی کی نامہ نگار یولینڈے کنل کے مطابق بیت المقدس میں غیرمتوقع طور پر راکٹ حملوں کے انتباہی سائرن سن پر وہ محفوظ پناہ گاہ میں چلی گئیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے بی بی سی کے دفتر میں موجود لوگوں کو سائرن بجنے کی وجہ سے محفوظ کمرے میں پناہ لینی پڑی۔‘
امریکہ اسرائیل کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

امریکہ کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن عرب ریاستوں کے دورے کے بعد ایک مرتبہ پھر اسرائیل پہنچے ہیں جہاں انھوں نے اسرائیلی وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات کے بعد انھوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کے دفاع کے عزم، درحقیقت اپنے عوام کے دفاع کی ذمہ داری، کی حقیقت کو سمجھتا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کو اپنے مُلک اور قوم کے دفاع میں ہمیشہ امریکہ کی حمایت حاصل رہے گی۔‘
جنگ طویل ہو گی اور اس کی بھاری قیمت چکانی ہو گی: اسرائیلی وزیر دفاع

اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا ہے کہ ’یہ ایک طویل جنگ ہو گی، جس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی، لیکن ہم اسرائیل کے لیے، یہودی عوام کے لیے اور ان اقدار کے لیے اس جنگ میں کامیاب ہوں گے جن پر دونوں ممالک (امریکہ اور اسرائیل) یقین رکھتے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بات اسرائیل کے دورہ پر آئے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے خطاب سے قبل کی ہے۔
انھوں نے اس کشیدہ صورتحال میں حمایت پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا اور اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد مشرقی بحیرہ روم میں تعینات امریکی جنگی بیڑوں کا بھی اپنی تقریر میں ذکر کیا۔
کیا سعودی عرب غزہ کی مدد کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
بی بی سی کے ساتھ دُنیا بھر سے لوگوں کا اسرائیل اور غزہ کشیدگی پر سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی شہری لیلیٰ حیران ہیں کہ: سعودی عرب غزہ کے لوگوں کی مدد کیوں نہیں کر رہا ہے؟
بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی فرینک گارڈنر نے اس سوال پر ذیل میں اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔
میرے خیال میں سعودی عرب اس الزام (غزہ کی مدد) کی سختی سے تردید کرے گا۔
سعودی عرب نے عوامی سطح پر اسرائیل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے، بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کرنے، غزہ میں شہریوں کو نشانہ نہ بنانے اور یہاں بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ، اسرائیل تنازعے کے ابتدا کے بعد سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے جاری بات چیت کے عمل کو معطل کر دیا ہے۔ اگر آپ پوچھ رہے ہیں کہ انھوں نے (سعودی عرب) نے غزہ کو امداد کیوں نہیں بھیجی تو حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل فی الحال کسی کی جانب سے بھی غزہ میں امداد داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔
امدادی ٹرکوں کا ایک بڑا قافلہ سرحد کے مصری حصے میں رفع کے مقام پر غزہ میں داخلے کے انتظار میں ہے۔
مجھے اُمید ہے کہ غزہ کی تعمیر نو شروع ہونے کے بعد سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک اس کی مالی اعانت میں مدد کریں گے۔
غزہ، اسرائیل تنازع: کیا مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ کے رہائشی کریگ جانسن نے بی بی سی سے سوال کیا کہ ’اگر ایران اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع میں براہ راست ملوث ہو جاتا ہے تو کیا اس سے امریکہ اور اس کے اتحادی بھی براہ راست جنگ میں شامل ہو جائیں گے؟ اور کیا یہ تصادم تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں بی بی سی کے جیریمی بوون نے ذیل میں دیا گیا اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔
ایران یا اس کے لبنانی اتحادی حزب اللہ کی جانب سے غزہ، اسرائیل تنازع میں مداخلت کے امکان کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے مختصراً کہا ’ایسا نہیں ہے۔‘
امریکہ نے مشرقی بحیرہ روم میں دو طیارہ بردار جنگی بحری جہاز تعینات کر رکھے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو ایسا کرنے (تنازع میں براہ راست فریق بننا) سے باز رکھا جائے اور ایک سخت پیغام دیا جا سکے۔
امریکہ اس اقدام کے ذریعے یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ’اگر کوئی اس معاملے میں مداخلت کرتا ہے تو ان کے سامنے اس کے جواب کے لیے صرف اسرائیلی فوج ہی نہیں بلکہ امریکی فوجی طاقت بھی ہو گی۔‘
مشرق وسطیٰ میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ امریکہ، اُس کے اتحادی، اور ایران اور اُن کے اتحادی ہیں جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔
دونوں فریق خطرات سے آگاہ ہیں۔ اگر یہ کشیدگی سرد جنگ سے گرم جنگ کی جانب جاتی ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ میں عالمی اہمیت کا ماحول پیدا ہو جائے گا۔
کیا غزہ میں پانی تک رسائی ممکن ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
سیو دی چلڈرن کے جیسن لی نے مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ سے بی بی سی کو بتایا کہ غزہ میں اب پانی ختم ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’امدادی ادارے کے پاس اطلاعات تھیں کہ جنوبی غزہ کے کچھ حصوں میں پانی دوبارہ بحال کیا گیا، لیکن ایندھن یا اسے آگے آبادیوں تک پہنچانے کے لیے لگائے جانے واٹر پمپ بجلی کے بغیر یہ کام نہیں کر سکتے، یہ پانی آبادی کو دستیاب نہیں ہوگا۔‘
اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے نے پیر کے روز بی بی سی کو بتایا کہ اس کے رفح لاجسٹک بیس پر بے گھر ہونے والے 6000 افراد کو روزانہ فی کس ایک لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
ادارے کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ بھی پوسٹ کی کہ ’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک چوتھائی ملین یعنی ڈھائی لاکھ افراد ادارے کی پناہ گاہوں میں منتقل ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر انروا سکولوں میں ہیں جہاں ’صاف پانی واقعی ختم ہو گیا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے اتوار کے روز کہا کہ ’اسرائیل نے مشرقی خان یونس کے علاقے میں پانی کی فراہمی جزوی طور پر بحال کردی ہے لیکن اس فراہمی کا حجم اور اثر واضح نہیں ہے۔‘
او سی ایچ اے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ’غزہ کا آخری سمندری پانی ڈی سیلینیشن پلانٹ اتوار کو بند ہو گیا تھا اور کچھ لوگ زرعی کنوؤں سے نکالے گئے کھارے پانی کا سہارا لے رہے تھے۔‘
غزہ میں پینے کے صاف پانی کے بڑے سپلائرز اب نجی دکاندار ہیں جو چھوٹے ڈیسیلینیشن اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس چلاتے ہیں جو زیادہ تر شمسی توانائی سے چلائے جاتے ہیں۔
غزہ میں تازہ بمباری کے بعد کی صورتحال
اسرائیل نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق فلسطین میں رات گئے 100 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں کمپاؤنڈز، کمانڈ پوسٹس اور ٹینک شکن راکٹوں کی لانچنگ سائٹس شامل ہیں۔
فلسطینی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 2700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنجنوبی غزہ کی پٹی کے اہم علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملوں کے مقام پر فلسطینی جمع ہیں 
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنخان یونس میں اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے گھر کے مقام پر فلسطینی ملبے تلے دب جانے والوں کی تلاش میں ہیں 
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنامدادی ادارے غزہ میں انسانی بحران کے پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ علاقے میں خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی فراہمی معطل ہے۔ ’غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے 1000 سے زائد فلسطینی دبے ہوئے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطین کے محکمہ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں تباہ ہونے والے مکانات اور عمارتوں کے نیچے اب بھی ایک ہزار سے زائد لاپتہ شہری دبے ہوئے ہیں۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام چلنے والی وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البوزوم نے بھی 1000 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے پیر کی شام بتایا ہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 2,750 فلسطینی ہلاک اور 9,700 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق غزہ کے مغربی کنارے میں 58 ہلاک اور 1,250 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، فلسطینی صحافیوں کی تنظیم کے مطابق ان 58 افراد میں 11 فلسطینی صحافی تھے۔
مصر کے جانب سے غزہ کی پٹی میں ایندھن پہنچا دیا گیا ہے
مصر کی جانب رفح کراسنگ پر امدادی اشیا سے بھرے ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں جو غزہ میں داخلے کے لیے اجازت کے انتظار میں ہیں اور رفح کراسنگ کی دوسری جانب غزہ سے غیر ملکی پاسپورٹ تھامے ہوئے فلسطینیوں کا ایک ہجوم ہے، جو وہاں سے جانے کی اُمید آنکھوں میں لیے راہداری کے گیٹ کے کھُلنے کے منتظر ہیں۔
ان حالات کے برعکس ایک مقامی عہدیدار نے بی بی سی کی یولیندے نیل کو بتایا کہ مصر کی جانب سے غزہ میں صرف ڈیڑھ لاکھ لیٹر ایندھن منتقل کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ایک ’بڑا انسانی بحران‘ جنم لینے والا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ’ہسپتالوں میں ایک دن کے اندر ایندھن ختم ہو جائے گا جس سے ہزاروں بیمار اور زخمی افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔‘
’امداد کی فراہمی سے متعلق کوششیں جاری ہیں:‘ اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سیکریٹری جنرل مارٹن گریفتھس نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے حملوں اور ہونے والی ہلاکتوں کے بعد سے اقوام متحدہ غزہ میں ابتدائی طبی امداد پہنچانے کے لیے تاحال مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
انسانی امور کے سیکریٹری جنرل مارٹن گریفتھس کا خیال ہے کہ اسرائیل کی براہ راست درخواست کے جواب میں غزہ کے شمال سے تقریبا دس لاکھ افراد جنوب کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور حماس کی جانب سے ان کی گرفتاری ’ایک سنگین، غیر قانونی، ناقابل قبول اور غیر اخلاقی عمل‘ ہے اور ’انھیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔‘
بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مارٹن گریفتھس نے کہا کہ ’بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت یہ ضروری ہے کہ شہریوں کو امداد تک رسائی ہونی چاہیے اور انھیں شورش زدہ علاقوں سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جانا چاہیے تاہم اب تک ان سب باتوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔‘
مارٹن گریفتھس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں حفاظتی مقامات کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہے، اور ہمیں ایک ایسی راہداری کی ضرورت ہے جس پر لوگ بھروسہ کر سکیں۔‘
مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ ’ہم ان تمام معاملات پر اسرائیلی حکومت کے ساتھ تفصیلی بات چیت کر رہے ہیں۔‘
’اسرائیل غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل میں موجود بی بی سی کے جیریمی بوون کے مطابق ’اسرائیل کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جب وہ غزہ میں ہوں تو ان کی افواج کیا کریں گی اور کہاں جائیں گی، اور اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔‘
غزہ میں 24 لاکھ سے زائد افراد آباد ہیں اور اگر حماس کو نکال دیا گیا تو وہاں کون کنٹرول سنبھالے گا اور حکومت کون کرے گا؟
کچھ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ حماس کے حریف فلسطینی یعنی ’فتح‘ ایک مرتبہ پھر سامنے آسکتی ہے، لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کیونکہ یہ گروہ یا جماعت اسرائیل کے غزہ میں آپریشن کے بعد سامنے آئے گی تو یہ غزہ اور فلسطینیوں کی نظر میں اپنی ساکھ کھو بیٹھے گی۔
جیریمی کے مطابق ’اسرائیلی غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر کوئی قابل عمل متبادل نا مل سکا تو وہ کچھ وقت کے لئے ایسے کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔‘
جیریمی کہتے ہیں کہ ’ان سب باتوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو یہ جنگ آسان نہیں۔‘
خان یونس میں روٹی کے حصول کے لیے لگی لمبی قطاریں

بی بی سی کے فلسطین سے نامہ نگار رشدی ابو الوف جو اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کر کے خان یونس پہنچے، بی بی سی کو غزہ کے اہم شہر خان یونس سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا انھوں نے بتایا کہ ’آج وہ خان یونس میں ایک ایسی بیکری کے سامنے پہنچے جہاں بریڈ یا روٹی لینے والے لوگوں کی ایک طویل قطار تھی اور لوگ صرف روٹی خریدنے کا انتظار کر رہے تھے۔
اُنھں نے مزید بتایا کہ ’یہ بیکری آج صبح اس وقت کھولی گئی جب جنوبی غزہ سے گندم کی ایک چھوٹی کھیپ وہاں پہنچی۔‘
رشدی کہتے ہیں کہ ’سیکڑوں لوگ کچھ نا کچھ ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘ رشدی نے کچھ لوگوں سے بات کی تو یہ معلوم ہوا کہ اس بیکری کے سامنے جمع ہونے والے اکثر لوگوں کو اس بات کا یقین تھا کہ آج اُنھیں یہاں سے کچھ نہیں مل سکے گا۔‘
رشدی کے مطابق ’اس بیکری سے ہر فرد کو صرف پانچ روٹیاں دی جا رہیں تھیں۔‘
رشدی نے خان یونس کے ان لوگوں کی کیفیت کے بارے میں مزید کہا کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس غزہ سے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے دو، تین۔۔۔ پانچ خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔
غزہ اور اسرائیل کی اب تک کی تازہ صورتحال
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بڑے زمینی حملے سے قبل اب تقریبا 10 لاکھ فلسطینی شمالی غزہ سے جنوب کی جانب نقل مکانی کر چُکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس نے 199 افراد کو یرغمال بنا لیا ہے جو گزشتہ روز دیے گئے اعداد و شمار سے 44 زیادہ ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو اور حماس نے اس سے قبل ان خبروں کی تردید کی تھی کہ مصر کے ساتھ رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے امداد کی آمد کی اجازت دینے کے لئے جنگ بندی کی گئی ہے۔
رفح راہداری پر غزے سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی بھیڑ جمع ہے، تاہم غزہ میں خوراک، طبی سامان اور ایندھن کی اجازت کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے باوجود رفح کراسنگ بدستور بند ہے۔
امریکہی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کئی عرب مُمالک کے دورے کے بعد آج واپس تل ابیب پہنچ گئے ہیں۔
’مصری حکام مُلک میں فلسطینیوں کی ممکنہ نقل مکانی سے پریشان ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفلسطینی آج صبح رفح کراسنگ پر اس امید میں جمع ہوئے کہ اسے ان کے لیے کھول دیا جائے گا اسرائیل سے بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کے مطابق ہزاروں افراد غزہ سے نکلنے کے لیے رفح کراسنگ کے قریب جمع ہو رہے ہیں جن میں تقریبا ایک ہزار غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
لیز کے مطابق ’سرحد کے مصری حصے میں انتہائی ضروری امداد جمع ہو رہی ہے، ہر کوئی چاہتا ہے کہ امداد کی منتقلی شروع ہو جائے، لیکن ایک محفوظ راہداری کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔‘
مصر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ رفح کراسنگ کے قریب ایک فیلڈ ہسپتال بھی قائم کرے گا اور شمالی سینا میں اپنے قریبی ہسپتال میں غزہ سے آنے والے زخمیوں کو فوری طبی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔
مصری حکام کو وہاں نقل مکانی کر کے آنے والے فلسطینیوں سے یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ یہ قیام وقتی نہیں بلکہ مستقل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ غزہ کی پٹی میں آبادی ختم بھی ہو سکتی ہے۔
لیز کے مطابق ’اگرچہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن وہ شہریوں کے مصائب اور مشکالات کو کم سے کم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا چاہتا ہے۔‘
مگر لیز کا کہنا ہے کہ ’یہ مصائب اور مشکلات پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔‘
’غزہ میں ایسے زخمی بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جن کے خاندان میں کوئی اور زندہ نہیں بچا‘: ڈاکٹر غسان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشن12 سالہ محمد صوفی غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح پناہ گزین کیمپ میں اپنے گھر کے قریب اسرائیلی فضائی حملوں میں تباہ ہونے والی عمارتوں کو دیکھ رہے ہیں۔ غزہ سے ڈاکٹر غسان ابو سطہ نے ’بی بی سیز ٹوڈے‘ پروگرام میں غزہ کے ہسپتال اور وہاں آنے والے لوگوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا، اُن کا کہنا تھا کہ غزہ کے ہسپتال میں آنے والے زخمیوں میں سے تقریبا آدھے بچے ہیں، جن میں سے کچھ اپنے اہل خانہ میں سے زندہ بچ جانے والے واحد فرد ہیں۔
عام طور پر برطانیہ میں کام کرنے والے سرجن غسان ابو سطہ گزشتہ پیر کو غزہ پہنچے تھے اور وہ شمالی علاقے میں موجود ہیں اور وہاں کے ایک اسپتال میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اتوار کے روز انھوں نے بتایا کہ چار اور پانچ سال کی دو لڑکیوں کو جھلسنے اور سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر غسان کا کہنا ہے کہ ’تباہ ہونے والے گھر کے ملبے سے اس خاندان میں سے بس یہی دو لڑکیاں زندہ بچیں۔ ہر روز ہمارے پاس اس طرح کے کیسز آتے ہیں، اور صورتحال یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اُس علاقے میں رہتے ہیں جےاں غزہ کے باقی حصوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے قیام پزیر ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’پناہ گزین بننا فلسطینیوں کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے، لوگ دوبارہ اس سے گزرنا نہیں چاہتے ہیں‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں پر دیگر علاقوں کی طرح وحشیانہ بمباری کی گئی۔‘
