یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ۔
شمالی غزہ سے فلسطینیوں کا انخلا شروع، حزب اللہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں ’حماس کا ساتھ دینے کو تیار‘
شمالی غزہ شہر میں فلسطینی اب اسرائیلی انتظامیہ کی 24 گھنٹوں کی وارننگ کے بعد جنوب کی جانب منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے نائب رہنما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہیں۔
لائیو کوریج
امریکہ غزہ میں ’محفوظ علاقے‘ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے: انٹونی بلنکن
امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے اب سے کچھ دیر قبل قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی کے ساتھ دوحہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے۔
اس پریس کانفرنس کے اہم ترین نکات درجِ ذیل ہیں:
- امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ’ہر ممکن کوشش کریں‘ اور اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ غزہ میں متعدد خاندان متاثر ہوئے ہیں اور اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔
- انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر غزہ میں ’محفوظ علاقے‘ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
- انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے تفصیلات آنے والے دنوں میں سامنے آ جائیں گی۔
- انھوں نے کہا کہ غزہ میں امداد پہنچانا ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ حماس ’عام شہریوں کی آڑ میں چھپ کر اپنا تحفظ یقینی بناتا ہے۔‘
- ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی حکومت قطر کے ساتھ مل کر غزہ سے یرغمالیوں کو رہا کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔
کیا حماس اپنی تنصیبات کو شہری آبادی میں چھپاتا ہے؟, پال ایڈمز، ڈپلومیٹک نامہ نگار
اسرائیل نے ایک طویل عرصے سے حماس پر عام شہریوں کی آڑ لینے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حماس عام شہریوں کو اسلحہ اور بارود سٹور کر کے خطرے میں ڈالتا ہے اور اپنی اہم فوجی تنصیبات کو گنجان آباد علاقوں کے بیچ میں رکھتا ہے۔
سنہ 2021 میں جب اسرائیل نے غزہ پر آخری بڑا آپریشن کیا تھا تو اسرائیلی فوج نے ایسی ویڈیوز جاری کی گئی تھیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ حماس کے راکٹ مبینہ طور پر آبادی والے علاقوں سے فائر کیے جا رہے ہیں۔
اس وقت اسرائیل کی جانب سے 11 منزلہ عمارت الجلا ٹاور جہاں خبر رساں اداروں الجزیرہ اور اسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر ہیں پر حملہ کیا گیا تھا اور اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ یہاں حماس کے دفاتر اور آلات بھی موجود تھے۔
اسرائیل حماس کی سرنگوں کے نیٹ ورک کے بارے میں بھی بتاتا ہے اور ’دی میٹرو‘ کا نام دیتا ہے۔ ان سرنگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں کے نیچے بنائی گئی ہیں۔
اسرائیل نے سنہ 2021 کے آپریشن کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ اس نے 100 کلومیٹر کی یہ سرنگیں تباہ کی ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے ایک اور دعویٰ یہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ حماس کی تنصیبات غزہ کے مرکزی شفا ہسپتال کے تہہ خانے میں بھی موجود ہیں۔
تاہم اس دعویٰ کی تصدیق کبھی بھی نہیں کی جا سکی۔ اسی طرح آج اسرائیل کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ حماس گھروں کی چھتوں کو ڈرون حملے کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
اسرائیل کے ان دعوؤں کی تصدیق کرنا تو مشکل ہے۔ حماس کا عسکری ونگ معلومات کو انتہائی خفیہ رکھتا ہے اور عام شہری جنگجوؤں اور ان کے سازوسامان کی موجودگی کا خوف کے باعث بھی اعتراف نہیں کرتے۔
تاہم حماس اپنی تنصیبات کو واضح طور عام شہریوں میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک انتہائی گنجان آباد غزہ میں موجودگی اور انتہائی طاقتور حریف کا مقابلہ کرتے ہوئے اگر حماس ایسا نہ کرے تو شاید یہ تنظیم بہت پہلے ہی مکمل طور پر ختم ہو جاتی۔
غزہ: آسمان سے آگ، زمین پر جہنم، لوگ کیا کریں؟
سرحدی باڑ پر حملے کے بعد اسرائیلی فوج کی لبنانی علاقے کی طرف توپ خانے سے جوابی کاروائی
اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ایک دھماکے سے لبنان کے ساتھ اسرائیل کی سرحد پر واقع سکیورٹی باڑ کو ’معمولی نقصان‘ پہنچا ہے۔ آئی ڈی ایف نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی فوج کی جانب سے ’لبنانی علاقے کی طرف توپ خانے سے جوابی کاروائی کی گئی ہے۔‘
اسرائیلی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس کارروائی کے علاوہ علاقے میں دہشت گردوں کی دراندازی کے بارے میں ایک الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔‘
آئی ڈی ایف کے اہلکار فی الحال علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ اپنے فلسطینی اتحادیوں کی حمایت میں اسرائیل پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو جنگ میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔
فلسطین پر اسرائیل کی بمباری کے خلاف پاکستان میں مظاہرے اور ریلیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور سمیت اور شہروں میں بھی فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں۔
ان ریلیوں میں شامل افراد نے فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف بینرز اُٹھا رکھے تھے۔
حماس کی جانب سے اسرائیل پر گذشتہ سنیچر کے روز زمینی، فضائی اور راکٹوں کی مدد سے حملہ کیا گیا جس کے بعد سے اسرائیل اور غزہ سے حماس ایک دوسرے پر شدید بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شمالی غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کے مناظر
،ویڈیو کیپشنغزہ سے شہریوں کے منتقلی کے مناظر غزہ شہر سے بہت سی ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں جن میں لوگ اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس نقل مقانی کی وجہ اسرائیلی انتظامیہ کا وہ اعلان ہے جس میں غزہ کے لوگوں کو شمال سے جنوب کی جانب منتقل ہونے کا کہا گیا تھا۔
غزہ کتنا گنجان آباد علاقہ ہے؟

غزہ کی پٹی دنیا کے گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ تقریبا 365 مربع کلومیٹر کے علاقے میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ آباد ہیں۔
لہذا ہر مربع کلومیٹر میں تقریبا 5،700 افراد کے ساتھ، یہ لندن میں آبادی کی کے تقریباً برابر ہے۔
غزہ کے اُپر دیے گئے نقشے سے پتہ چلتا ہے، وادی غزہ کے شمال میں غزہ شہر میں، فی مربع کلومیٹر 9،000 سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع کے مطابق ’یہ غیر جانبداری کا وقت نہیں‘

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اسرائیل میں ہیں اور انھوں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یواو گیلنٹ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی۔
انھوں نے مل کر غزہ کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے جنوب کی طرف چلے جائیں:
- آسٹن نے کہا کہ ’دہشت گردی کا کبھی کوئی جواز نہیں ہے، انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ غیر جانبداری یا جھوٹی برابری کا وقت نہیں ہے۔‘
- آسٹن نے مزید کہا کہ ’پینٹاگون اسرائیل کو اضافی فوجی امداد بھیجنے کے لیے تیار ہے۔‘
- گولہ بارود، فضائی دفاعی ساز و سامان بہت جلد اسرائیل پہنچ جائے گا۔
- گیلنٹ نے کہا کہ ’اسرائیل کبھی بھی جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنائے گا اور یہی وجہ ہے کہ وہ غزہ کے لوگوں کو جنوب کی طرف جانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔‘
- انھوں نے کہا کہ ’ایران، حزب اللہ اور حماس ’برائی کی جڑ' ہیں۔‘
- گیلنٹ نے مزید کہا کہ ’حماس مہذب لوگوں کے درمیان نہیں رہ سکتی اور اسرائیل انھیں غزہ سے باہر نکلا کر چھوڑے گا۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں آج اب تک ہونے والے واقعات کی تفصیل
اسرائیل اور غزہ کی تازہ ترین پیش رفت ہے
شمالی غزہ میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں:
اسرائیل کی جانب سے 24 گھنٹوں کے اندر اپنے گھروں کو خالی کرنے کی ہدایت کے بعد لوگ غزہ کی پٹی کے جنوب کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت دونوں نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ممکنہ انسانی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ انخلا کے لیے دیے جانے والے وقت سے کچھ زیادہ لگ سکتا ہے۔ دریں اثنا حماس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس انتباہ کو نظر انداز کریں۔
اسرائیل پر راکٹ داغے گئے:
حماس کی جانب سے جمعہ کے روز غزہ سے جنوبی اسرائیل میں راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری رہا۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جمعہ کی صبح 150 راکٹ فائر کیے ہیں:
عراق، اردن اور انڈونیشیا میں ہزاروں مظاہرین پہلے ہی جمع ہو چکے ہیں اور نماز جمعہ کے بعد مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ میں بھی مظاہرے ہوئے۔ یہ حماس اور حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے ریلیوں کے انعقاد کے مطالبے کے بعد کیا گیا ہے۔
اسرائیل میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دنیا کے اکثر ممالک میں شمعیں روشن کی گئیں:
حماس کی جانب سے گزشتہ ہفتے سنیچر کے روز سے بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں لوگ اسرائیل کی حمایت میں جلوس اور ریلیاں نکال رہے ہیں۔ 1300 سے زائد افراد کی ہلاکت پر لواحقین غم سے نڈھال ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کی فلسطینی صدر سے ملاقات:
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے امریکہ کی غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بھی کہا کہ حماس کے حملوں کے جواب میں انھیں ’جنگ کے اصولوں کے مطابق کام کرنا ہوگا۔‘ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اس وقت مذاکرات کے لیے اسرائیل میں ہیں اور یورپی یونین کے سربراہان بھی اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار ہیں‘: حزب اللہ
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ہمسایہ ملک لبنان کا دورہ کیا ہے اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سے ملاقات کی۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم بلاشبہ اجتماعی ردعمل کا باعث بنیں گے۔
حال ہی میں حزب اللہ کے نائب رہنما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہیں اور بیروت کے مضافات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ’وقت آنے پر‘ مداخلت کریں گے۔
بریکنگ, اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار ہیں‘: حزب اللہ

،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ہمسایہ ملک لبنان کا دورہ کیا ہے اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سے ملاقات کی۔
انھوں نے متنبہ کیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم بلاشبہ اجتماعی ردعمل کا باعث بنیں گے۔
بی بی سی کی نامہ نگار اینا فوسٹر کے مطابق ’اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر حزب اللہ اپنے فلسطینی اتحادیوں کی حمایت میں اسرائیل پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو جنگ میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔‘
حال ہی میں حزب اللہ کے نائب رہنما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دینے کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہیں اور بیروت کے مضافات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ’وقت آنے پر‘ مداخلت کریں گے۔
غزہ میں حماس کی طرح حزب اللہ کو بھی برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ وہ لبنان میں عسکری اور سیاسی طور پر ایک طاقتور تنظیم ہے اور اسے ایران کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری، اسرائیلی اپنے پیاروں کی ہلاکت پر سوگوار

،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنخواتین حیفا سے تعلق رکھنے والی ڈینیلا ڈانا پیٹرینکو کا سوگ منا رہی ہیں جو اس وقت ہلاک ہوئیں جب حماس کے عسکریت پسندوں نے سپرنووا فیسٹیول پر دھاوا بول دیا اور وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ کی۔ 
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنایک اسرائیلی فوجی جنوبی اسرائیل کے علاقے کبوتز بیری میں ایک گھر کے قریب ذاتی سامان کا جائزہ لے رہے ہیں، جہاں حماس نے بچوں سمیت 100 سے زائد افراد کو قتل کر دیا تھا۔ 
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنغزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغے جاتے رہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے بھی جوابی کاروائی کی جاتی رہی۔ ’نظر آئے تو مارے جاؤ گے۔۔۔‘: عرب برادری جو اسرائیل اور حماس کی لڑائی کے بیچ پھنس گئی ہے
بیجنگ میں اسرائیلی سفارت خانے کے اہلکار پر حملہ
اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک اہلکار پر حملہ کیا گیا ہے۔
اس واقعے سے متعلق مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تکلیفدہ ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس کی بی بی سی نے تصدیق نہیں کر سکا ہے تاہم اس میں ایک شخص کو گلی میں چاقو سے حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو یہ حملہ سفارت خانے کے احاطے میں نہیں ہوا اور اس کے محرکات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اہلکار ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
جب بی بی سی کے رپورٹر نے غزہ کے ہسپتال میں زخمی دوستوں کو دیکھا
،ویڈیو کیپشنغزہ کے ایک ہسپتال میں بی بی سی کے عدنان البرش کو زخمیوں میں اُن کے دوست ملے۔ غزہ کے ایک ہسپتال سے صورتحال بتاتے ہوئے بی بی سی عربی کے نامہ نگار عدنان البرش کو زخمیوں میں اُن کے پڑوسی، رشتہ دار اور دوست ملے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب عدان البرش اور اُن کے ساتھی کیمرہ مین آبدیدہ ہو گئے۔
انتباہ: اس ویڈیو کے مناظر کچھ لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتے ہیں
غزہ کے رہائشی اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور
غزہ شہر میں لوگوں کی مزید تصاویر سامنے آ رہی ہیں جن میں وہ اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی جانب جانے کی کوشش میں ہیں، اس نقل مقانی کی وجہ اسرائیلی انتظامیہ کا وہ اعلان بنا کہ جس میں عزہ کے لوگوں کو جنوب کی طرف جانے کی وارننگ دی گئی۔
محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش کرنے والوں میں بچے خواتین اور بزرگ افراد کی بڑی تعداد شامل ہے۔ واضح رہے کہ غزہ کی نصف آبادی 18 سال سے کم عمر ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اردن میں امریکی وزیر خارجہ اور فلسطینی صدر کی ملاقات کے موقع پر احتجاجی مظاہرے

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن عمان میں اردن کے شاہ عبداللہ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے، تاہم اس موقع پر نماز جمعہ کے بعد غزہ کے لوگوں کی حمایت میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی ہے۔
مظاہرین سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں جن میں اردن کے فوجی مقبوضہ مغربی کنارے کے ساتھ اردن کی سرحد کے قریب ان مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔
اردن کے بہت سے لوگ فلسطینی پناہ گزین ہیں یا ان کے آباؤ اجداد فلسطین سے ہیں، انھیں میں اردن کی ملکہ رانیہ بھی شامل ہیں۔
اردن کی ملکہ رانیہ نے انسٹاگرام پر اپنے ایک کروڑ سے زائد فالوورز کے نام ایک پیغام میں لکھا کہ ’اگر آپ قابض فوج ہیں تو اسے اپنا دفاع کرنا نہیں کہا جاسکتا۔‘
اس سے قبل اُنھوں نے غزہ کے حالات سے متعلق کچھ مزید سٹوریز بھی شیئر کیں۔
غزہ کے لوگوں کو اسرائیل کی جانب سے کہاں جانے کے لیے کہا جا رہا ہے؟

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی انتظامیہ نے غزہ کے شمال میں رہنے والے تقریبا گیارہ لاکھ افراد کو پٹی کے جنوبی حصے میں منتقل ہونے کے لئے کہا ہے۔
رہائشیوں کو وادی غزہ کے جنوب میں ایک ایسے مقام پر منتقل ہونے کے لئے کہا جا رہا ہے جو ایک دریا کے کنارے پر واقع۔
غزہ شہر اور وادی غزہ کے علاقوں سمیت نقشے میں تمام اہم مقامات دیکھے جا سکتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی اردن میں فلسطینی صدر سے ملاقات

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے۔
مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے عباس غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے والی عسکریت پسند گروہ حماس کے سیاسی حریف ہیں۔
بلنکن آج صبح عمان پہنچنے کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ گزشتہ روز وہ اسرائیل کے وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے لیے اسراییل گئے تھے جہاں انھیں حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر دکھائی گئیں تھیں۔
عالمی ادارہ صحت کہ مطابق ’غزہ سے مریضوں کی منتقلی ناممکن ہے‘
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ ’غزہ میں مقامی صحت کے حکام نے انھیں مطلع کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لوگوں کے لیے انخلا کے حکم کے تناظر میں شمالی غزہ کے ہسپتالوں میں موجود مریضوں کو نکالنا ناممکن عمل دیکھائی دیتا ہے۔‘
عالمی ادارہ صحت کے ترجمان طارق جساریویچ کا کہنا تھا کہ ’شدید زخمی افراد کو ہسپتالوں سے منتقل کرنے سے اُن زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے، یہ وہ مریض ہیں جن کی زندگیوں کو بچانے کے لیے وینٹیلیٹرز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’لہٰذا ان لوگوں کو وینٹیلیٹر سے ہٹانا موت کے منہ میں دھکیلنے جیسا ہوگا۔ ہیلتھ ورکرز کو ایسا کرنے کے لیے کہنا بھی ظلم سے بالاتر ہے۔‘


