غزہ کے ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند روز کا ایندھن باقی، اقوام متحدہ نے عملے کے 11 کارکن ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی
غزہ میں انسانی ہمدردی کی ایک فلاحی تنظیم سے منسلک ڈاکٹر جستین دالبی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دن اور رات کی تفریق کے بغیر ہر جانب تباہی اور پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند روز کا ایندھن باقی رہ گیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے اپنے عملے کے 11 کارکنان ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
لائیو کوریج
غزہ کے ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند دنوں کا ایندھن باقی

،تصویر کا ذریعہEPA
غزہ میں انسانی ہمدردی کی فلاحی تنظیم میڈیسن سینز فرنٹیئر(Médecins Sans Frontières) سے منسلک ڈاکٹر جستین دالبی نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا ہے کہ دن اور رات کی تفریق کے بغیر غزہ میں ہر جانب تباہی اور پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند روز کا ایندھن باقی رہ گیا ہے۔
ان کے مطابق شہر کے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔ جن میں بچے، عورتیں اور مرد شامل ہیں۔ ۔‘
واضح رہے کہ غزہ کا واحد پاور پلانٹ آج دن کے وقت ایندھن ختم ہونے کے باعث بند ہو گیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے سنیچر کے روز حماس کے حملے کے جواب میں علاقے میں بجلی، ایندھن، خوراک، سامان اور پانی کی سپلائی منقطع کر دی گئی تھی۔
ڈاکٹر دالبی کا کہنا ہے کہ غزہ کے بہت سے ہسپتال اپنے جنریٹر چلانے کے لیے ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے پاس اب محض چند روز کا سٹاک ہے۔
’اگر آپ کسی ہسپتال کی بجلی کی سپلائی بند کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ لائٹس بند ہو جاتی ہیں، مانیٹرنگ کا سامان، آکسیجن کی ترسیل، مکینیکل وینٹی لیٹرز، آپریشن تھیٹر اور بجلی سے چلنے والے سرجیکل آلات ۔ اس طرح ہسپتال کا سب کام رک جائے گا۔‘
ڈاکٹر دالبی کے مطابق ’طبی ٹیمیں بمباری کی آواز کے ساتھ ساتھ کام کر رہی ہیں جو اکثر انتہائی قریب سے سنائی دیتی ہے۔‘
ان کے مطابق ہسپتال میں سپلائی ایک ’بہت بڑا مسئلہ‘ ہے کیونکہ ہسپتال پہلے ہی عرصہ دراز سے وسائل کی کمی کا شکار ہیں اور طبی سامان اور عملے کے لیے فوری رسائی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس وقت سب سے زیادہ اشد ضرورت ایندھن کی ہے۔
امریکہ اسرائیل کو 'ہر وہ مدد‘ فراہم کرے گا جس کی اسے ضرورت ہے: انتھونی بلنکن

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اسرائیک روانگی سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’ ’اسرائیل کو آج، کل اور ہر دن امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔
انتھونی بلنکن نے مزید کہا کہ ’ہم دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہیں اور ہم نے حماس کی جانب سے ناقابل بیان کارروائیوں کو دیکھا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ صورت حال ’صرف دل دہلا دینے والی‘ تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل پہنچنے پر وزیر اعظم اور صدر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ اسرائیل کو ہر مدد فراہم کرے گا۔
اسرائیل اور غزہ تنازعے میں لا پتہ ہونے والے امریکی شہریوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کو جلد تلاش کر لیا جائے گا اور اگر یہ معلوم ہوا کہ انھیں حماس نے یرغمال بنایا ہے تو وہ ان کی رہائی کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔
بریکنگ, غزہ میں اقوام متحدہ کے عملے کے 11 کارکنان ہلاک ہونے کی تصدیق
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں جنگ کے دوران اقوام متحدہ کے عملے کے 11 ارکان بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) کی ڈپٹی ڈائریکٹر جینیفرآسٹن نے اپنے ایک بیان میں غزہ کی پٹی پر اقوام متحدہ کے عملے کے 11 کارکن کی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ہلاکت پر انتہائی غمزدہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مرنے والے کارکنوں میں سکولوں کے پانچ اساتذہ، ایک ماہر امراض چشم، ایک انجینئر، ایک نفسیاتی کونسلر اور تین معاون عملہ شامل ہیں۔
جینیفرآسٹن کا مزید کہنا ہے کہ عملے کے کچھ ارکان کو ان کے گھروں میں خاندان سمیت ماردیا گیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک الگ اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ریڈ کریسنٹ کے چار طبی عملے ڈیوٹی پر مارے گئے۔
اقوام متحدہ کا غزہ میں خوراک، ایندھن سمیت ضروری اشیائے خوردنوش کا سامان پہنچانے کی اجازت دینے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ جو اس وقت اسرائیلی بمباری اور ناکہ بندی میں گھرا ہوا ہے وہاں کے شہریوں تک خوراک، ایندھن اور پانی کی ضروری سپلائی کو پہنچانے کی اجازت دی جائے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایندھن، خوراک اور پانی سمیت زندگی بچانے والا تمام اہم سامان غزہ میں داخل ہونے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ہمیں اب انسانی امداد کے لیے تیز رفتار اور بلا روک ٹوک رسائی کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے اپنے پیغام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی کو آسان بنانے کے لیے مصر کی مثبت کاوشوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر شہریوں کے لیے محفوظ راستے کی فراہمی پر کام کر رہے ہیں: امریکہ
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ سے شہریوں کے انخلا کے لیے ممکنہ محفوظ راستے پر کام کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ غزہ کے شہریوں کو بحفاظت نکلنے میں مدد کے لیے ’فعال بات چیت‘ کر رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ محفوظ راستے کی فراہمی اس وقت اہم ہے اور ہم ایک محفوظ راہداری کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
اس سے قبل بی بی سی یہ رپورٹ بھی کر چکا ہے کہ مصر کی حکومت اسرائیل، حماس، امریکہ اور اقوام متحدہ کے ساتھ غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔
اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کی تباہی کا سیٹلائٹ تصاویر سے موازنہ, دانيئل بالومبو اورتورال احمد زاده، بی بی سی ویریفائی

،تصویر کا ذریعہgoogle, Maxar

،تصویر کا ذریعہgoogle, Maxar
بی بی سی ویریفائی نے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ کئی دنوں سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں ہونے والی تباہی کس پیمانے پر ہوئی ہے۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ایک شمالی غزہ کے ساتھ موجود ’رِمال‘ کا ایک گنجان آباد رہائشی علاقہ دکھائی دے رہا ہے۔
ان سیٹلائٹ تصاویر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ 9 سے 10 اکتوبر کے درمیان اس علاقے میں بہت سی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔
تصویروں میں باقی ماندہ عمارتیں اور سڑک کے نمونوں کو تصدیق کے لیے سیٹلائٹ کی پرانی تصویروں کے ساتھ ملا کے دیکھا گیا۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض علاقوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ ’دہشت گرد تنظیم کی ٹینک شکن فورس کے سرگرم کارکنوں زیر استعمال تھے۔
بریکنگ, اسرائیل میں 22 امریکی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خارجہ نے سنیچر کے روز اسرائیل میں حماس کے حملوں میں کم از کم 22 امریکی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے بدھ کی سہ پہر کو کہا کہ ’ہم متاثرین اور تمام متاثرہ افراد کے خاندانوں کے دکھ میں شریک ہیں اور ان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘
گذشتہ روز صدر بائیڈن نے 14 امریکی شہریوں کی اسرائیل میں ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
بریکنگ, اسرائیلی فوج نے لبنان سے فضائی حدود میں دراندازی کو مسترد کر دیا
ہم نے اس سے قبل اسرائیل ڈیفنس فورسز کے ایک بیان کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کو لبنان سے اسرائیلی فضائی حدود میں مشتبہ دراندازی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، اور یہ کہ پورے شمالی اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ابھی ایک نیا بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’دراندازی کے شبہ کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے۔‘
بریکنگ, اسرائیل لبنان سرحد پر پیش رفت تشویشناک ہے: ترجمان امریکی سلامتی کونسل
امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان اور اعلیٰ امریکی اہلکار جان کربی کا کہنا اسرائیل لبنان سرحد پر پیش رفت تشویشناک ہے۔
امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ٹی وی چینل ایم ایس بی این پر ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ وائٹ ہاؤس اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تشویشناک ہے۔‘
اس سے قبل اسرائیل کی افواج نے کہا تھا کہ اسے لبنان سے اسرائیلی فضائی حدود میں مشتبہ دراندازی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اس کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں سائرن بجائے گئے تھے وہاں کے تمام شہریوں کو پناہ گاہوں میں داخل ہونے اور اگلی اطلاع تک ان میں رہنے کو کہا گیا تھا۔
بریکنگ, فلسطین اسرائیل کشیدگی اب تک کی تازہ صورتحال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل فلسطین تنازعے میں ایک اور پرتشدد دن کا سورج غروب ہو رہا ہے۔ اب تک کی اہم پیش رفت یہ ہیں:
- اسرائیل کی جانب سے بجلی، ایندھن، سامان اور پانی کی سپلائی تک رسائی منقطع کرنے کے بعد غزہ کے واحد پاور سٹیشن کا ایندھن ختم ہو گیا ہے۔
- اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی سرحد کے قریب اپنے فوجیوں کو جمع کر دیا ہے، اب وہ ’ہمارے دیئے گئے مشن کو انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔‘
- اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور اپوزیشن لیڈر بینی گینٹز نے ہنگامی حکومت اور ’جنگی کابینہ‘ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
- حماس کے حملوں میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے۔
- غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 1100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
- اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے طیارے نے حزب اللہ کے حملے کے جواب میں لبنان کے اندر ایک چوکی پر حملہ کیا۔
- سکریٹری خارجہ جیمز کلیورلی برطانیہ کی ’غیر متزلزل یکجہتی‘ کا مظاہرہ کرنے اسرائیل میں ہیں۔
- دریں اثنا، ذرائع کے مطابق شاہ چارلس نے اسرائیل میں دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔
بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 1100 تک پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطینی وزارتِ صحت کی طرف سے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں سے غزہ میں مرنے والوں کی تعداد 1,100 ہو گئی ہے۔
اس سے پہلے ایک بیان میں ہلاکتوں کی تعداد 1,000 بتائی گئی تھی۔
فیس بک پر پوسٹ کیے گئے نئے اعداد و شمار کے مطابق، وزارت صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں کی کل تعداد اب 5,339 ہے۔
بریکنگ, لبنان سے مشتبہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اطلاعات ہیں: اسرائیلی فورسز
اسرائیل کی سیکورٹی فورس کا کہنا ہے کہ لبنان سے مشتبہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اطلاعات ملی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ کہ اسے لبنان سے اسرائیلی فضائی حدود میں مشتبہ دراندازی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شمالی اسرائیل کے کئی قصبوں میں الرٹ جاری کیے گئے تھے۔
روئٹرز نے اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میزائل شمالی اسرائیل میں گرے تھے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ جن علاقوں میں سائرن بجائے گئے تھے وہاں کے تمام شہریوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ پناہ گاہوں میں چلے جائیں اور اگلی اطلاع تک ان میں رہیں۔
بریکنگ, برٹش ایئرویز نے تل ابیب کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں
اس سے قبل ہم نے اطلاع دی تھی کہ برٹش ایئرویز کی لندن سے تل ابیب جانے والی پرواز کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے واپس ہیتھرو کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔
برٹش ایئرویز نے ابھی کہا ہے کہ وہ تل ابیب کے لیے تمام پروازیں معطل کر رہی ہے۔
اسرائیل کا ہائی ٹیک سکیورٹی نظام کیسے ناکام ہوا؟
بادشاہ چارلس کا اسرائیل اور غزہ کی صورتحال پر ’شدید خدشات‘ کا اظہار
بادشاہ چارلس کے ترجمان نے کہا کہ بادشاہ کو اسرائیل اور غزہ کی صورتحال پر ’شدید خدشات‘ ہیں اور انھوں نے اس حوالے سے ’تمام صورتحال سے آگاہ رکھنے کے بارے میں کہا ہے۔‘
ان کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کی نیک تمنائیں اور دعائیں ان تمام افراد کے ساتھ ہیں جو اس دوران متاثرہ ہوئے ہیں خاص طور پر وہ جن کے پیارے کھو گئے اور وہ بھی جو اس وقت اس مشکل میں مبتلا ہیں۔‘
اس کے علاوہ برطانیہ کی ایئرلائن برٹش ایئرویز نے اسرائیل کے لیے تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
بریکنگ, نیتن یاہو کا حذبِ اختلاف کے ساتھ مل کر اسرائیل میں ’ایمرجنسی حکومت‘ کے قیام کا اعلان
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور قائدِ حسبِ اختلاف بینی گینٹز نے ایک ایمرجنسی حکومت بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اس حوالے سے ایک ’جنگی صورتحال پر قائم خصوصی کابینہ‘ بھی بنائی جائے گی جس میں نیتن یاہو، گینٹز اور ملک کے وزیرِ دفاع شامل ہوں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کے دنوں میں ’کوئی بھی قوانین یا ایسے حکومتی فیصلے نہیں کیے جائیں گے جن کا تعلق جنگ سے نہ ہو۔‘
اس کے علاوہ تمام سینیئر عہدوں پر تعینات افراد کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دی جائے گی۔
یہ اعلان وزیرِ اعظم اور قائدِ حذبِ اختلاف کے درمیان کئی روز سے ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
نیتن یاہو نے اس سے پہلے اپوزیشن رہنماؤں یائیر لاپید اور بینی گینٹز کو سنیچر کے حماس کے سرپرائز حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔
نیتن یاہو اور نیشنل یونٹی پارٹی کے چیئر پرسن گینٹز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں میں ایک ایمرجنسی حکومت اور جنگ کی صورتحال پر نظر رکھنے والی کابینہ کے قیام پر اتفاق ہوا ہے۔‘
’جنگ کی صورتحال پر بننے والی کابینہ کے تین رکن ہوں گے، جن میں وزیرِ اعظم، وزیرِ دفاع اور قائدِ حزبِ اختلاف شامل ہوں گے۔‘ مزید دو اہلکار اس کابینہ میں بطور نگراں رکن شامل ہوں گے۔
’غزہ کی پٹی میں خطرناک انسانی صورتحال‘، مصری سفارتکار کی اقوامِ متحدہ کے نمائندے سے ملاقات

غزہ کے شہریوں کو مدد فراہم کرنے کے معاملے پر مصر کے سفارتکار سامح شکری نے بدھ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔
شکری نے ’غزہ کی پٹی میں خطرناک انسانی صورتحال‘ کے بارے میں خبردار کیا اور کہا کہ مصر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ’اقوام متحدہ کے اداروں کی مکمل حمایت کرتا ہے‘۔
اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی ہیں اور اب مصر کے زیر کنٹرول رفح کراسنگ ہی عام شہریوں کے غزہ جانے اور وہاں سے نکلنے کا واحد ممکنہ راستہ ہے۔
مصر نے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد منگل کو اس کراسنگ کو بند کر دیا تھا۔
’یہ سوچ کر دل تیزی سے دھڑک رہا ہے کہ کیا اگلی باری میری ہے‘, بیتھ ٹمنز
غزہ کے رہائشی کمال مشراوی نے کچھ دیر قبل بی بی سی سے بات کی۔ وہ ایک تہہ خانے میں 45 افراد کے ساتھ موجود تھے۔
’یہ بہت مشکل ہے۔ ہمارے پاس پانی نہیں ہے، ہمارے پاس انٹرنیٹ نہیں ہے، ہمارے پاس بجلی نہیں ہے۔‘
ان کے بچے زخمی ہیں اور خود انھیں سانس لینے میں دشواری ہے۔ کمال نے اپنے خاندان کے چند افراد کو کھو دیا ہے لیکن انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ دوسروں سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔
بی بی سی نیوز آور سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے قریب ترین سپر مارکیٹ تک جانے کی کوشش کی لیکن دھماکوں کی وجہ سے یہ عمل غیر محفوظ تھا‘۔
فون پر بات کرتے ہوئے کمال کہتے ہیں کہ اگلے حملے کے خدشے سے ان کا دل یہ سوچ سوچ کر تیزی سے دھڑک رہا ہے کہ ’کیا اگلی باری میری ہے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں شہریوں کو مرنا نہیں چاہیے۔ انھیں تنازعات سے دور رکھا جانا چاہیے۔ میں واقعی حماس پر الزام نہیں لگا سکتا۔ میں واقعی اسرائیل پر الزام نہیں لگا سکتا لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ ہم عام شہری متاثر ہوئے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اس تنازعے کا حصہ نہیں ہیں اور ہم اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں‘۔
کفار عزہ جہاں حماس کے عسکریت پسندوں نے خاندانوں کو گھروں میں ہلاک کیا
