اسرائیل کی جوابی کارروائی مشرق وسطیٰ کو بدل کر رکھ دے گی: نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کا جواب ’مشرق وسطیٰ کو بدل کر رکھ دے گا۔‘ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے 'مکمل محاصرے' کا حکم دیا ہے۔ سنیچر سے اب تک پُرتشدد واقعات کے دوران اسرائیل میں 900 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد قریب 600 بتائی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. 15 ماہ قبل حماس کا اسرائیل پر زمین، فضا اور آبی راستے سے برق رفتار حملہ کیسے ممکن ہوا تھا؟

  2. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    اسرائیل اور فلسطین تنازعے سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔ تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    منگل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  3. اسرائیلی بمباری پر حماس کی یرغمالیوں کو قتل کرنے کی دھمکی

    حماس نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں بغیر وارننگ شہریوں کے گھروں پر اسرائیلی بمباری کے بدلے ان کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کو قتل کیا جاسکتا ہے۔

    القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں اس ممکنہ اقدام کا الزام ’اسرائیل کی جانب سے بمباری اور گھروں میں بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے‘ پر لگایا ہے۔

  4. بریکنگ, اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 900 ہوگئی

    امریکہ میں اسرائیلی سفارتخانے کے ترجمان کے مطابق سنیچر سے اب تک حماس کے حملوں میں اسرائیل میں 900 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    دوسری طرف فلسطینی حکام کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں قریب 600 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  5. اقوام متحدہ کو مزید ہلاکتوں، غزہ کے محاصرے سے صورتحال بگڑنے کا خدشہ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پُرتشدد حملوں اور شہریوں کو یرغمال بنانے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی سامان غزہ پہنچانے کی اجازت دی جائے۔

    انتونیو گوتریس نے:

    • حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی قصبوں اور دیہاتوں پر ’گھناؤنے‘ حملوں کی مذمت کی
    • شہریوں پر تمام حملے بند کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا
    • 800 سے زیادہ اسرائیلیوں کی ہلاکت کی مذمت کی اور ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ وہ غزہ میں 500 فلسطینیوں کی ہلاکتوں سے بھی ’شدید پریشان‘ ہیں
    • انھوں نے اسرائیل سے شہریوں اور عمارتوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا
    • انھوں نے کہا کہ غزہ کے محاصرے سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے
  6. اسرائیل کی جوابی کارروائی مشرق وسطیٰ کو بدل کر رکھ دے گی: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کا جواب ’مشرق وسطیٰ کو بدل کر رکھ دے گا۔‘

    وزیر اعظم آفس نے اس بیان کی وضاحت نہیں کی مگر بتایا کہ انھوں نے کونسل کے سربراہان کو بتایا ہے کہ حماس کو ’مشکل اور بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    اے ایف پی کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ ’یہ صرف شروعات ہے۔۔۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اور ہم انھیں بڑی قوت سے شکست دیں گے۔‘

  7. غزہ میں فضا سوگوار

    حالیہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایک ہی خاندان کے افراد کے جنازوں میں شامل سوگوران

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  8. حماس اور اسرائیلی فوج کے ایک دوسرے پر میزائل حملے

    ،ویڈیو کیپشنسنیچر سے اب تک ان پُرتشدد واقعات میں 700 اسرائیلی اور 500 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں

    اسرائیل اور حماس کے درمیان پیر کے روز بھی مختلف علاقوں میں شدید لڑائی کا سلسلہ جاری رہا اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر میزائل بھی داغے جاتے رہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملوں میں اب تک اس کے 700 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ فلسطینی حکام نے غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 500 بتائی ہے۔

  9. اسرائیل کی دفاعی افواج کا لبنان میں اہداف کے خلاف آپریشن

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے لبنان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کو مدد کے لیے طاب کر لیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں اسرائیلی فورسز کو حزب اللہ کی ایک پوسٹ پر بمباری کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاہم بی بی سی کی جانب سے اس کی تصدق نہیں کی جا سکی۔

    قبل ازیں اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا تھا کہ اس نے کم از کم دو مسلح افراد کو ہلاک کیا ہے جو لبنان سے اسرائیل میں داخل ہوئے تھے۔

  10. قطر کی وزارت خارجہ نے ثالثی اور مذاکرات کی تصدیق کر دی ہے

    قطر کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ حماس اور اسرائیلی حکام کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک ترجمان نے کہا کہ ’قیدیوں کے ممکنہ تبادلے سمیت مذاکرات ہفتے کی رات سے جاری ہیں اور ’مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

    وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ’ہماری ترجیحات خونریزی کو ختم کرنا، قیدیوں کو رہا کروانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تنازعہ پر قابو پایا جائے اور علاقائی سطح پر اس کے بُرے اثرات سے بھی بچا جائے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کو یہ معلوم ہوا ہے کہ قطر کی جانب سے یہ تجویز پیش کی ہے کہ اسرائیل میں زیر حراست 36 فلسطینی خواتین اور بچوں کے بدلے اسرائیلیوں کا تبادلہ کیا جائے۔

    غزہ میں بنائے گئے اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس نے خواتین، بچوں، بزرگوں اور فوجیوں کو یرغمال بنایا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے حماس کے ترجمان حسام بدران کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ ’وہ جنگ کے دوران قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

  11. حماس کا ’طوفان الاقصیٰ‘ آپریشن: وائرل ویڈیوز جو ہمیں بتاتی ہیں کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو آخری بار کہاں دیکھا گیا

  12. اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان

    مغربی کنارہ

    مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی عروج پر ہے جہاں تقریبا دو کروڑ 80 لاکھ فلسطینی آباد ہیں کیونکہ اسرائیلی فوج نے اسے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قصبوں اور شہروں کے داخلی راستوں کو لوہے کے دروازوں، سیمنٹ کے بلاکس اور مٹی کے ڈھیر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    کچھ مقامات پر نئی فوجی چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں۔ ایندھن کی سپلائی ختم ہونے کی وجہ سے دن بھر کچھ پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگی دیکھائی دیں۔

    بیت ساہور کے ایک ٹور گائیڈ، جن کے پاس اب کوئی کام نہیں، اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ ایسے اقدامات ہیں جو ہم نے کئی دہائیوں پر محیط قبضے کے دوران پہلے بھی دیکھے ہیں۔‘

    ایک اور رہائشی نے شکوہ کیا کہ ’یہ ایک ایسی پالیسی ہے جسے اسرائیل کئی دہائیوں سے صرف لوگوں کے مخصوص گروہوں کے اعمال کے لئے پوری آبادی کو سزا دینے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔‘

    غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کی کارروائی کے جواب میں احتجاجاً اتوار کے روز مغربی کنارے میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند کر دیے گئے تھے۔

    گزشتہ رات رام اللہ میں قلندریہ چیک پوسٹ پر اسرائیلی فوجیوں نے چار فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

    ہیبرون میں ایک شخص ہلاک ہوا جو بظاہر اسرائیلی افواج کو بلڈوزر سے کچلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

  13. ’اسرائیلی یرغمالیوں کا خیال رکھا جائے گا‘: حماس کے رہنما کی یقین دہانی

    اسرائیلی یرغمالیوں

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    حماس میں شعبۂ عالمی امور کے سربراہ بسم نعیم نے کہا ہے کہ گروہ ’پُرعزم ہے اور ہم اپنے یرغمالیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی، پُروقار سلوک کرنے کے پابند ہیں۔‘

    انھوں نے اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی جنھیں فلسطینی عسکریت پسندوں نے حملے کے دوران اغوا کیا تھا۔

    حماس کے مسلح افراد نے اسرائیل میں ایک میوزک فیسٹیول کے دوران 260 افراد پر گولیاں برسا کر انھیں ہلاک کیا تھا۔ اسرائیل میں سنیچر سے اب تک 700 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    جبکہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 500 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔

    نعیم نے کہا کہ حماس کے رہنما محمد ضيف نے عسکریت پسندوں کو حکم دیا کہ ’معمر افراد، شہریوں اور بچوں کا احترام کریں‘ اور ’ایسے کسی فرد کا قتل نہ کریں جس کا لڑائی سے براہ راست تعلق نہیں۔‘

  14. غزہ کے مکمل محاصرے کا حکم: آج اب تک کیا ہوا؟

    اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے غزہ کی پٹی کے ’مکمل محاصرے‘ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہاں کھانے، ایندھن، بجلی اور پانی کی سپلائی روکی جائے گی۔

    پیر کی دوپہر تک اسرائیلی فوج نے غزہ میں فضائی حملے بڑھا دیے تھے۔ اس کا کہنا تھا اتوار کی شب حماس کے 500 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کے ایک لاکھ 20 ہزار لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور اکثر لوگ سکولوں کی عمارتوں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اسرائیل کے علاقوں میں جھڑپیں جاری

    حماس کے حملے کے دو روز بعد بھی اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سے ملحق بعض علاقوں کا مکمل کنٹرول حاصل نہیں کیا جاسکا۔

    اسرائیلی حکومت کے مطابق افواج نے ان شہریوں کو محفوظ بنایا جن پر حماس کے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے معلوم ہے کچھ فلسطینی عسکریت پسند اب بھی اسرائیل میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دونوں جانب ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں

    ان پُرتشدد واقعات میں اب تک 700 اسرائیلی اور 500 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسرائیل میں نو امریکی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 10 برطانوی شہری لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ہلاک ہوچکے ہیں۔

    شمالی اسرائیل میں ایئر ریڈ الرٹ سنے گئے ہیں اور ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ اسرائیلی دفاعی نظام نے لبنان سے راکٹ حملے ناکام بنائے ہیں۔ اس راکٹ حملے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی اور اسرائیل نے جوابی فضائی کارروائی کی ہے۔

  15. امریکی انتظامیہ کی اپنے نو شہریوں کی اسرائیل میں ہلاکت کی تصدیق، دس برطانوی شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ

    امریکی حکومت نے اسرائیل میں اپنے نو شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم متاثرین اور تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے دوست مُلک اسرائیلی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

    اسرائیل میں دس برطانوی شہریوں کی ہلاکت یا گمشدگی کا خدشہ ہے۔

    بی بی سی کو برطانیہ کے ایک سرکاری ذریعے نے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل میں دس سے زائد برطانوی شہریوں کی ہلاکت یا گمشدگی ہو چکی ہے۔

  16. غزہ میں ایک لاکھ 23 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چُکے ہیں: اقوام متحدہ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں ایک لاکھ 23 ہزار 538 افراد حماس اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی اس حالیہ جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں، کیونکہ انھیں خطرے ہے کہ ان کے گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

    انسانی حقوق پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے (او سی ایچ اے) نے مزید کہا کہ 73 ہزار افراد سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے ترجمان عدنان ابو حسنہ نے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

    عدنان کا کہنا ہے کہ ’ان سکولوں میں بجلی ہے، ہم انھیں کھانا، صاف پانی، اور طبی سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں۔‘

    غزہ میں دو کروڑ 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ سنیچر کے روز اسرائیل کی جانب سے حماس کے حملے کے بعد جوابی فضائی حملے شروع کرنے سے قبل اسرائیل نے بعض علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’میں غزہ کے لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ اب وہ وہاں سے نکل جائیں کیونکہ ہم ہر جگہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ کارروائی کرنے والے ہیں۔‘

  17. فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق غزہ میں پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

    فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں دو پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الشاتی‘ (جسے بیچ کیمپ بھی کہا جاتا ہے) اور ’جبالیہ‘ دونوں کیمپوں پر حملہ کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر متعدد افراد کے زخمی اور ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    گنجان آباد غزہ پٹی میں آٹھ تسلیم شدہ پناہ گزین کیمپس موجود ہیں۔

  18. بریکنگ, اسرائیل کی جانب سے حماس کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملوں آغاز

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں اب اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے مراکز پر ’وسیع اور بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا ہے۔‘

    اسرائیلی ڈیفنس فورس اور اسرائیلی فضائیہ دونوں نے سوشل میڈیا پر آپریشن کے آغاز کا با قائدہ اعلان کیا۔

    اسرائیلی ڈیفینس فورس اور فضائیہ نے یہ قدم حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملہ کے بعد اُٹھایا ہے۔

  19. متحدہ عرب امارات کی اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنانے پر حماس کی مذمت

    متحدہ عرب امارات، یو اے ای، نے اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنانے پر حماس کی مذمت کی ہے۔ یو اے ای کے دفتر خارجہ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای اسرائیلی شہریوں کو گھروں سے نکال کر گرفتار کرنے اور انھیں یرغمال بنانے پر اپنے شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایک سال قبل ہی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے متعلق معاہدہ کیا تھا۔

    اسرائیل کی فوج نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ حماس اور دوسرے اسلامک جہاد کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والے اسرائیلی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہے۔

    یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ان اسرائیلی شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔ دفتر خارجہ نے دونوں طرف کے شہریوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وسیع تر علاقائی تصادم کو روکنے کے لیے تمام سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے۔

    وزارت نے تشدد کے نتیجے میں اسرائیلی اور فلسطینیوں کی جانوں کے ضیاع پر بھی اپنے گہرے افسوس کا اظہار کیا اور دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد کو روکنے اور تشدد میں اضافے اور اس کے نتیجے میں عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے والے المناک نتائج سے گریز کریں۔

    وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات تمام علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ کر رہا ہے تاکہ صورتحال کو معمول پر لایا جا سکے، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جلد از جلد کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کے ایک سکول کو نشانہ بنایا ہے

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہUNRWA

    فلسطین کی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران غزہ میں اقوام متحدہ کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    وزارت کی جانب سے جاری بیان میں سکول کو نشانہ بنائے جانے کے اس اقدام کو ’سفاکانہ‘ قرار دیا گیا ہے، بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے بعد اس سکول میں بچوں اور بزرگوں سمیت سیکڑوں شہریوں نے پناہ لی ہوئی تھی۔

    اقوام متحدہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکول کی عمارت کو ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔