یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
اسرائیل فلسطین کے درمیان حالیہ کشیدگی پر بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔ تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ اتوار کی خبروں سے متعلق جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اسرائیل میں جاری لڑائی کے دوران ’علاقائی مزاحمت کو تقویت دینے‘ کے لیے بحری جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کر رہی ہے۔ تازہ کشیدگی کے بعد اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے زیادہ بتائی گئی ہے جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 370 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیل فلسطین کے درمیان حالیہ کشیدگی پر بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔ تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ اتوار کی خبروں سے متعلق جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اسرائیل میں جاری لڑائی کے دوران ’علاقائی مزاحمت کو تقویت دینے‘ کے لیے بحری جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے لیے اضافی مدد کا وعدہ کیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہاز وں کے بیڑے کو مشرقی بحیرہ روم کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔
اس تعیناتی میں کئی گائیڈڈ میزائل کروزر اور تباہ کن جہاز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائیہ کے اسکواڈرن میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
آسٹن کا مزید کہنا تھا کہ ’ضرورت پڑنے پر امریکہ اس ڈیٹرنس پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عالمی سطح پر اپنی افواج برقرار رکھے گا۔‘
گولہ بارود سمیت اضافی وسائل بھی اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ پہلی سکیورٹی امداد آنے والے دنوں میں پہنچ جائے گی۔
آسٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’اسرائیل کی دفاعی افواج اور اسرائیلی عوام کے لیے امریکہ کی آہنی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ایک سکول کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے جہاں 225 افراد راکٹ حملوں سے بچ کر پناہ لیے ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تاہم عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
ایجنسی نے مزید کہا کہ وہ اس وقت فلسطینی انکلیو کے 64 سکولوں میں 73،538 بے گھر افراد کو پناہ دے رہا ہے۔
آج کل کسی بھی مسلح تصادم یا لڑائی کی خبروں میں خلائی سیاروں سے لی جانے والی تصاویر کا کردار بہت اہم ہو چکا ہے۔ لیکن ایسی خلائی تصاویر جن میں آپ متعلقہ علاقے کی تمام تفیصل دیکھ سکتے ہیں، ان سے آپ کی فوجی حکمت عملی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
کچھ ایسا ہی معاملہ غزہ کے ساتھ بھی ہے جو کے دنیا کے گنجان ترین آبادی والے علاقوں میں سے ایک ہے، آخر وہ ’گُوگل میپس‘ کی ویب سائٹ پر دھندلا کیوں دکھائی دیتا ہے۔
غزہ شہر سے تعلق رکھنے والے نیورو ری ہیبلیٹیشن اور پین میڈیسن کنسلٹنٹ ڈاکٹر خمیس ایلیسی نے بی بی سی سے بات کی اُن کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں جہاں کہیں بھی آپ جا رہے ہیں، آپ کو جنازے نظر آتے ہیں، آپ کو ہر طرف موت ہی موت نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بلکُل ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ اس زمین پر زندگی کے خاتمے کے بارے میں کوئی فلم دیکھ رہے ہیں۔‘
ایلیسی کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے اپنے خاندان کے افراد کو چوتھی منزل کے گھر سے گراؤنڈ فلور پر اپنے بھائی کے گھر منتقل کر دیا کیونکہ چوتھی منزل پر 'پوری عمارت دائیں سے بائیں اور ایک طرف سے دوسری طرف جا رہی ہے اور دھماکوں سے لرز رہی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’وہ کل سے سوئے نہیں ہیں۔ ’حالات یہ ہیں کہ آپ آنکھیں تک بند نہیں کر سکتے، بچے رو رہے ہیں اور چیخ رہے ہیں، بجلی نہیں ہے، انٹرنیٹ نہیں ہے اور اس لیے آپ کو لگتا ہے کہ اب آپ کی باری ہے۔‘
’یہ بم آپ کے گھر کے اوپر، آپ کے اپارٹمنٹ کے اوپر ہو گر سکتا ہے۔‘
کچھ ہی عرصہ قبل بی بی سی ریڈیو 4 کے ایک پروگرام ’دی ورلڈ دس ویک اینڈ‘ میں صحافی گرشون باسکن نے اسرائیلی فوجی گلاد شلیٹ سے متعلق بات کی۔ گلاد شلیٹ وہی اسرائیلی فوجی ہیں جنھیں سن 2011 میں حماس نے یرغمال بنا لیا تھا اور ان کی رہائی کے لیے گرشون باسکن نے حماس کے ساتھ مزاکرات کیے تھے۔
بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران گرشون باسکن کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے کہ حماس نے یرغمالیوں (اسرائیلی باشندوں) کو زیر زمین منتقل کر دیا ہو جس کی وجہ سے اسرائیل کے لیے ان کا سراغ لگانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔‘
باسکن نے مزید کہا کہ ’میں بلا شبا یہ کہ سکتا ہوں کہ اسرائیل کا پہلا مقصد فوجی کارروائیوں کے ذریعے انھیں (اسرئیلی یرغمالیوں کو) تلاش کرنا ہوگا، نہ کہ مذاکرات کے ذریعے۔‘
باسکن نے کہا کہ ’انھیں توقع ہے کہ فضائی حملوں کے بعد اسرائیل غزہ میں ’بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن‘ کے لیے بری فوج بھیجے گا، جس کا مقصد حماس کے اہم رہنماؤں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور اپنے یرغمالیوں کو آزاد کرانا ہے ہوگا۔‘
اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک حماس کے حملے میں 600 سے زیادہ اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 2000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 100 سے زیادہ اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔
دوسری طرف غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں 370 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد قریب 2200 بتائی گئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اسرائیل میں کئی امریکی شہری ہلاک ہوئے ہیں مگر حکام اس کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ اسرائیل کے پاس ضرورت کے مطابق سامان ہو۔‘
دوسری طرف اسرائیل میں برطانوی شہری جیک مارلو لاپتہ ہوئے ہیں۔ وہ عزہ کے قریب ایک آؤٹ ڈور پارٹی میں سکیورٹی کی خدمات سرانجام دے رہے تھے جب وہاں حملہ ہوا۔
ادھر مصر میں دو اسرائیلی سیاحوں کو اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی صدر نے حالیہ تازہ ترین پیش رفت کے بعد فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس اور اسلامی جہاد کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی دونوں رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کی تفصیلات تا حال ظاہر نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ حماس کو ایران کی حمایت حاصل ہے جو اسے مالی اعانت کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور تربیت فراہم کرتا ہے۔
ویڈیو میں وہ مناظر دیکھے جا سکتے ہیں کہ جب اسرائیلی میزائل نے غزہ میں بی بی سی کی ٹیم کے قریب ایک عمارت کو تباہ کیا۔
یہ فوٹیج سنیچر کے روز اس وقت بنائی گئی جب اسرائیل نے فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد جوابی حملے شروع کیے تھے۔
اسرائیلی مقامی میڈیا کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اب تک اس کشیدگی میں 500 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہو چُکے ہیں تاہم سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو یرغمال بھی بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری اس حالیہ کشیدگی کو اب 24 گھنٹے مکمل ہو چُکے ہیں جس کے بعد غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے مطابق اب تک 313 افراد ہلاک جبکہ جوابی اسرائیلی فضائی حملوں میں 2000 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے آئی ڈی ایف کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد فلسطینی عسکریت پسند ہلاک اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حماس کے حملے کے وقت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے رہنما یروشلم اور قیدیوں کے لیے لڑائی اور اُن کی رہائی کے لیے ان کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
لیکن اس مزاحمتی تحریک کے ایک ایسے آپریشن میں کہیں زیادہ وسیع عزائم ہوں گے جس کی تیاری میں برسوں لگ جائیں گے۔
مگر اب تازہ صورتحال کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے معاملات اور اقدامات ہیں جو مل کر اس وقت کو پیچیدہ اور سمجھنے میں مشکل بناتے جا رہے ہیں۔ اس بحران کے نتائج سے یقینی طور پر بہت سے وسیع تر معاملات کے متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔
یہ غیر معمولی حالات اور کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب، سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک اہم موڑ پر ہیں اور سعودی عرب یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اس ساری صورت حال کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ جہاں امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کی بیٹھک ہو رہی تھی وہاں حماس نے دستی بم پھینک دیا ہو۔
اور اس ساری صورتحال میں یہاں بہت سے کھلاڑی موجود ہیں جیسا کہ ایران، جو حماس کا اتحادی ہے، اور ساتھ ہی روس بھی جو ان کی حمایت امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہے۔ حتیٰ کہ یوکرین کی جنگ بھی۔
حماس بحیثیت تنظیم منقسم ہونے کی وجہ سے پہچنی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کا فوجی ونگ خطرناک کشیدگی کا باعث بن رہا ہے جس کے اثرات دور رس اور دیرپا ہوں گے۔
اسرائیل کے جنوبی شہر ’اشکیلون‘ کی اس ویڈیو میں ملک کے ’آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم‘ کو غزہ کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائلوں کو روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے شروع کرنے اور جنوبی علاقوں میں دراندازی کے 24 گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے بعد، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان اب تک کی شدید لڑائی کی تازہ صورت حال:
یوروشلم میں مشرق وسطیٰ کے بیورو چیف جو فلوتو کے مطابق ’گذشتہ شب سے اسرائیلی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی وہ ویڈیوز دیکھ رہے ہیں کہ جن میں شہریوں کو بندوق کی نوک پر ان کے گھروں سے باہر نکالا گیا اور بعد ازاں اُنھیں غزہ منتقل کیا گیا اور اکثر کو کیمرے کے سامنے تضحیک کا نشانہ بھی بنایا گیا۔‘
یہ تمام تر صورت حال اور مناظر اسرائیل کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں۔ ان حالات کو دیکھنے کے بعد ان یرغمالیوں کی بازیابی اور با حفاظت اپنے گھروں اور علاقوں میں واپسی اس وقت سب سے اہم امر ہے۔
ماضی میں، جب اسرائیلی باشندوں کو عسکریت پسند گروہ حماس یرغمال بنانے میں کامیاب ہوا تھا تو یہ معاملہ بالآخر مذاکرات پر ہی ختم ہوا تھا، مذاکرات کے اس عمل میں کئی سال بھی لگے، اور جب یہ ممکن ہوا تو اس کے بدلے میں ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو بھی رہائی ملی۔
ہم جانتے ہیں کہ حماس اب بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ان یرغمالیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی عسکریت پسندوں کی رہائی کو یقینی بنائے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے حماس کو متنبہ کیا ہے کہ اگر یرغمالیوں کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
یہ دیکھنا مشکل ہے کہ وہ زمینی آپریشن کے بغیر یرغمالیوں کو کیسے بازیاب کرا سکتے ہیں - اور وہ اس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ وہ فائرنگ میں ہلاک نہ ہوں۔
اسرائیلی فوج ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو متحرک کر رہی ہے اور ٹینکوں کو غزہ کی سڑک پر لایا جا رہا ہے۔ کسی موقع پر زمینی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل کے کئی حصوں میں اسرائیلی فورسز اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے ’ہارٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ کی سرحد کے قریب ’سدروت‘ کے ایک پولیس سٹیشن پر 10 مسلح جنگجوؤں سے لڑائی کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے پر اسرائیل نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
اخبار نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے رات گئے جنوبی علاقے کے بیشتر حصوں کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا ہے، لیکن غزہ کی سرحد کے قریب بیری، سدروٹ اور چار دیگر جنوبی مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں جن کی وضاحت نہیں کی گئی۔
ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی سرحد کے قریب واقع ایک اور علاقے ’کفر عزا‘ کے رہائشی اب بھی اپنے گھروں میں محصور ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔
ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ ’کفر عزا اب بھی شدید جنگ کی زد میں ہے۔‘