اسرائیل حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق، بائیڈن کا معاہدے کا خیر مقدم

غزہ پر اسرائیلی طیاروں اور حماس کے اسرائیلی علاقوں پر 11 دن تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد فریقین نے غیرمشروط جنگ بندی کی مصری تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ امریکی صدر نے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ اس لڑائی کے دوران غزہ میں 65 بچوں سمیت 232 جبکہ اسرائیل میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے سیز فائر کے حوالے سے ہمارا یہ مضمون پڑھیے۔اس حوالے سے مزید تجزیے اور تبصرے پڑھنے کے لیے دیکھتے رہیے ہماری ویب سائٹ۔

  2. مصری صدر سیسی نے صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کیا

    مصری صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مصری صدر عبدالفاتح السیسی نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں مدد فراہم کرنے پر امریکی صدر جو بائیڈن کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں امریکی صدر بائیڈن کا جنگ بندی معاہدے میں مصری اقدامات کو کامیاب بنانے پر شکریہ ادا کرتا ہو۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے مصری صدر کا جنگ بندی کا معاہدہ کروانے پر شکریہ ادا کیا تھا۔

    بائیڈن نہ کہا تھا کہ مصری صدر نے اس معاہدہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

  3. فلسطینوں کا جنگ بندی عملدرآمد پر جشن

    اسرائیل اور حماس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد فلسطین میں شہری جشن مناتے دکھائی دیے ہیں

    سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں جن میں جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد فلسطینی شہری خوشیاں مناتے نظر آ رہے ہیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں شہری جنگ بندی پر عملدرآمد کے آغاز کے بعد جشن میں ہوائی فائرنگ کرتے دکھائی دیے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. بریکنگ, اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد کا آغاز

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد مقامی وقت کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب رات دو بجے سے شروع ہوا ہے۔ اس معاہدے پر عملدرآمد نے گذشتہ گیارہ روز سے جاری کشیدگی کو ختم کیا ہے جس میں 240 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق غزہ سے ہے۔

  5. امریکہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے 'پرعزم' ہے

    Biden

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ غزہ کو انسانی ہمدردی کے تحت امداد فراہم کرنے اور انکلیو میں تعمیر نو کی کوششوں میں امریکہ ’اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم فلسطینی حکام کے ساتھ مکمل شراکت داری میں یہ کام کریں گے، حماس کے ساتھ نہیں بلکہ اس اتھارٹی کے ساتھ جو حماس کو گولہ بارود اکٹھا کرنے کی اجازت نہ دے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھاکہ ’ میں سمجھتا ہو کہ اسرائیلی اور فلسطینی دنوں شہریوں کومحفوظ زندگیاں گزارنے، آزادی، خوشحالی اور جمہوریت کے ثمرات حاصل کرنے کا حق ہے۔‘

    یاد رہے کہ رواں ہفتے امریکہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین کی صورتحال پر مشترکہ اعلامیہ رکوا دیا تھا جس میں اسرائیل سے جارحانہ حملے بند کرنے اور جنگ بندیپر زور دیا گیا تھا۔

    اپنے خطاب کے آخر میں امریکی صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس اس جانب بڑھنے کا نادر موقع ہے اور میں اس کے لیے کام کرنے کے لیے پر عزم ہوں۔‘

    ’خدا آپ کا حامی و ناصر ہو اور آئیں مل کر دعا کریں کہ یہ (جنگ بندی کا معاہدہ) جاری رہے۔‘

  6. صدر بائیڈن کا ہلاکتوں پر اظہار افسوس

    امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کروانے پر اپنی سفارتی ٹیم اور مصر کے صدر السیسی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا معاہدہ کروانے میں مصری صدر نے ’اہم کردار‘ ادا کیا ہے۔

    اس کے بات خطاب میں انھوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران انسانی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کیا۔

    دنوں جانب حملوں میں بچوں کی ہلاکتوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ان حملوں کے نتیجہ میں بہت سے معصوم شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘

    ’میں ان تمام اسرائیلی اور فلسطینی متاثرہ خاندانوں سے دلی اظہار تعزیت کرتا ہوں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں۔‘

  7. اسرائیل کو دفاع کا مکمل حق حاصل ہے: امریکی صدر بائیڈن

    صدر بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاوس سے بیان دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

    صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد کہ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو اور مصری صدر السیسی سے بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ میری اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران میں نے ان کے حالیہ کشیدگی کو گیارہ دنوں کے اندر ختم کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔‘

    ’میں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے جو میں ہمیشہ سے اس تنازعے میں کہتا آیا ہو کہ امریکہ حماس اور غزہ میں مقیم دیگر دہشت گرد گروہوں کے اندھا دھند راکٹ حملوں سے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے، جنھوں نے اسرائیل میں بے گناہ متاثرین کی جانیں لی ہیں۔‘

    صدر بائیڈن نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اسرائیل کے امریکی حمایت یافتہ دفاعی نظام ، جسے آئرن ڈوم کے نام سے جانا جاتا ہے ، کی تعریف کی، ’جسے ہماری اقوام نے مل کر تیار کیا ہے اور جس سے بے شمار اسرائیلی شہریوں کی زندگیاں بچ گئی ہیں۔‘

    صدر بائیڈن نے کہا کہ انھوں نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں بھی امریکہ آئرن ڈوم کے نظام کو استعمال کرے گا۔

  8. اسرائیل کے دائیں بازو کے سیاستدانوں کی جنگ بندی کے فیصلے پر تنقید

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے دائیں بازو کے متعدد سیاستدانوں نے جنگ بندی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

    اسرائیل کی سلامتی کی کابینہ کے فیصلے سے قبل بات کرتےہوئے اسرائیل کی نیو ہوپ نامی سیاسی جماعت کے رہنما گیڈیون سار کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ’ حماس اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف اسرائیلی طاقت کو شدید نقصان پہنچائے گا۔‘

    اسرائیل کے مقامی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’ غزہ میں قید فوجیوں اور عام شہریوں کی واپسی کے بغیر ، حماس کو مسلح اور مضبوط بنانے سے روکنے کے لئے کسی قسم کی پابندی عائد کیے بغیر اسرائیلی فوجی سرگرمی کا خاتمہ ایک سیاسی ناکامی ہوگی ، جس کی قیمت مستقبل میں سود کے ساتھ ادا کرنا پڑے گی۔‘

    دائیں بازو کی سیاسی جماعت یسرائیل بیتینو پارٹی کے چیرمین ایوگدور لایبرمین نے اس فیصلے کو ’نیتن یاہو کی ایک اور ناکامی‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے اسرائیل کے ایک مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ’جس نے حماس کو بنایا اور اس قابل بنایا جہاں وہ آج ہے وہ شخص تین یاہو ہے۔‘

  9. حالیہ کشیدگی میں غزہ میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 232 افراد ہلاک

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرقی یروشلم میں بیت المقدس میں مسلمان فلسطینیوں پر اسرائیلی پولیس کے حملے کے نتیجہ میں ہفتوں کی کشیدگی کے بعد دس مئی کو غزہ میں لڑائی کا آغاز ہوا تھا۔

    غزہ پر کنٹرول کرنے والے عسکری گروہ حماس نے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کر دیے اور اسرائیل کو مقدس مقام سے نکل جانے پر خبردار کیا جبکہ اسرائیل نے اس کے جواب میں غزہ پر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا۔

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق حالیہ کشیدگی میں غزہ میں اب تک کم از کم 232 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک سو سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 150 افراد حماس کے عسکریت پسند تھے۔ تاہم حماس کی جانب سے اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

    اسرائیل کے صحت حکام کے مطابق دو بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروہ حماس کی جانب سے تقریباً چار ہزار راکٹ اسرائیلی علاقوں پر داغے گئے ہیں۔

  10. جنگ بندی عارضی ہو گی، سابق امریکی نمائندہ برائے مشرقِ وسطی کا خدشہ

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    مشرقِ وسطیٰ کے لیے سابق امریکی نمائندے ڈینس راس نے خبردار کیا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی عارضی ہی ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک حماس کے پاس راکٹ ہیں کوئی سیزفائر برقرار نہیں رہ سکتا۔

    اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ سے بات کرتے ہوئے ڈینس راس نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری انسانی امداد کو حماس کے غیرمسلح ہونے سے مشروط کرے۔

    • جنگ بندی پر رضامندی کے باوجود غزہ پر تازہ حملے، اسرائیل میں راکٹ حملوں کے تنبیہی سائرن

      اسرائیل اور حماس کی جانب سے جنگ بندی پر رضامندی کے باوجود فلسطینی ذرائع ابلاع کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی طیاروں نے تازہ حملے کیے ہیں۔

      ادھر اسرائیلی فوج کا بھی کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں تنبیہی سائرن بجائے گئے ہیں جن کا مطلب غزہ سے راکٹ داغے جانا ہوتا ہے۔

    • سیز فائر فلسطینیوں کی فتح ہے: حماس

      حماس کے ایک رہنما نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اعلان کردہ سیزفائر فلسطینی عوام کی ’فتح‘ اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی شکست ہے۔

      ال براکہ نامی رہنما کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے باوجود حماس کے کارکن چوکنا اور مستعد رہیں گے جب تک کہ جنگ بندی کے معاہدے کی تفصیلات حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتیں۔

      اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر میں مصر، قطر اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

    • مصری سکیورٹی وفود جنگ بندی پر عملدرآمد کروائیں گے

      مصر کے سرکاری ٹی وی کے مطابق مصر کے صدر سیسی نے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں دو سکیورٹی وفود کو جنگ بندی پر عملدرآمد کروانے کا حکم دیا ہے۔

    • امریکہ جنگ بندی کی امید کرتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

      امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر خارجہ گبی اشکنازی سے بات کر رہے ہیں اور انھوں نے صدر بائیڈن کے اس پیغام کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ خطے میں جنگ بندی کی امید کرتا ہے۔

      روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث فلسطینوں اور اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں پر پوری دنیا کو تشویش ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا مقصد اس تشدد کو ختم کرنا ہے۔

      US

      ،تصویر کا ذریعہgett

    • بریکنگ, اسرائیلی کابینہ نے سیز فائر کے بارے میں کیا کہا؟

      سیز فائر کی منظوری کے بارے میں اسرائیلی کی سیاسی سلامتی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کابینہ تمام سکیورٹی حکام، چیف آف سٹاف، داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت کے سربراہ، موساد کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کی سفارش کو متفقہ طور پر قبول کرتی ہے کہ دوطرفہ اور غیرمشروط جنگ بندی کی مصری کوشش کو قبول کر لیا جائے جس کی تاریخ کا تعین بعد میں ہو گا۔

      بیان کے مطابق „چیف آف سٹاف، عسکری حکام اور جی ایس ایس کے سربراہ نے وزرا کو اس مہم کے دوران اسرائیلی کامیابیوں سے آگاہ کیا جن میں سے کچھ بےمثال تھیں۔‘

      بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’سیاسی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ زمینی حقائق ہی اس مہم کے جاری رہنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔‘

    • بریکنگ, اسرائیل غزہ میں جنگ بندی پر رضامند، حماس کا بھی سیز فائر پر اتفاق

      اسرائیل کی کابینہ نے غزہ میں جنگ بندی کے فیصلے کی تصدیق کی ہے تاہم کابینہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے وقت کے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا کہ سیز فائر کا آغاز کب سے ہو گا۔

      کابینہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی تجویز دی گئی تھی اور یہ معاہدہ اسرائیل اور حماس کی جانب سے ’مشترکہ اور غیر مشروط‘ ہو گا۔

      اس سے قبل روئٹرز کے مطابق حماس کے حکام نے بھی اسرائیلی کابینہ کے جنگ بندی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ’مشترکہ اور غیر مشروط‘ قرار دیا تھا۔

      حماس کے حکام کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا آغاز آج رات مقامی وقت دو بجے سے ہوگا تاہم اسرائیلی کابینہ کے بیان میں وقت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    • حماس کا رات دو بجے سے جنگ بندی کا اعلان

      غزہ پر کنٹرول رکھنے والی فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے سینیئر حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے مصری حکام کو مطلع کر دیا ہے کہ حماس جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب رات دو بجے سے جنگ بندی پر عمل شروع کر دے گی

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام

    • غزہ ہلاکتوں کی تعداد 232، مرنے والوں میں 65 بچے شامل ہیں

      غزہ

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 232 ہوگئی ہے۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 65 بچے بھی شامل ہیں۔ اب تک زخمی ہونے والوں کی تعداد کم از کم 1900 بتائی جاتی ہے۔

      دوسری طرف اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل میں 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

    • بریکنگ, اسرائیل کی سلامتی کی کابینہ کا اجلاس شروع

      اسرائیلی حکومت کی سکیورٹی کابینہ کا متوقع اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اس میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ مختلف اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریق لڑائی ختم کرنے پر راضی ہیں، لیکن شرائط غیر واضح ہیں۔

    • اسرائیل کے انسانیت کے خلاف جرائم کا احتساب ہونا چاہیے: شاہ محمود قریشی

      پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔

      انھوں نے کہا کہ جب ہم یہ بات کر رہے ہیں ، فلسطین میں لوگوں کو آزادی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ غزہ کے ہر گھر میں موت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ (غزہ ) حقیقی اور استعاراتی طور پر تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے ، واحد روشنی صرف اسرائیلی دھماکوں کی ہے۔‘

      انھوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ ’اسرائیل کی جانب سے شیخ جارح میں فلسطینیوں کی جبری اور غیر قانونی بے دخلی کی مذمت کی جائے، اور اسرائیل کے ’انسانیت کے خلاف جرائم کو احتساب سے نہیں بچنا چاہئے۔‘

      پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا فوری خاتمہ عالمی برادری کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور غزہ میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی اشیاء بجھوانے کا انتظام کیا جائے۔

      وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بات ’ہولناک‘ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل لڑائی کو ختم کرنے کا مطالبہ نہ کر کے ’اپنی بنیادی ذمہ داری کو پورا نہیں کر سکی ہے۔‘

      X پوسٹ نظرانداز کریں
      X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

      اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

      تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

      X پوسٹ کا اختتام