پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 104 مریض ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ انڈیا کی ریاست بہار کے ضلع بکسر میں گنگا کنارے کم از کم 40 لاشوں کو پانی میں تیرتے دیکھا گیا ہے۔
لائیو کوریج
ڈاکٹر فضل رحیم کورونا کے باعث چل بسے
،تصویر کا ذریعہPROVINCIAL DR ASSOCIATION
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک اور ڈاکٹرکورونا کے باعث جان کی بازی ہار گیا ہے۔
وبا کے دوران ہلاک ہونے والے کل ڈاکٹروں کی تعداد 67 ہو گئی ہے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ڈاکٹر فضل رحیم سینئر پتھالوجسٹ، ڈی ایچ کیو ہسپتال تیمرگرہ دیر کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد آج وفات پا گئے۔
ڈاکٹر فضل رحیم گزشتہ دو ہفتوں سے ہسپتال میں داخل تھے۔
ڈاکٹر فضل رحیم کی نماز جنازہ بدھ کو کالاڈاگ کے مقام پر صبح 10:00 بجے ادا کی جاے گی۔
پاکستان میں مزید 104 ہلاکتیں اور 2869 نئے مریض
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 104 مریض ہلاک ہو گئے ہیں۔
ادارے کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں کورونا کی تشخیص کے لیے 38616 ٹیسٹ کیے گئے۔ نتائج کے مطابق 2869 افراد کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح سات اعشاریہ چار دو فیصد ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈین ریاست اترپردیش میں درجنوں لاشیں دریائے گنگا کے کنارے سے برآمد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا کے دوسری لہر کی شدت
میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے اور شمالی انڈیا میں دریائے گنگا کے کنارے
پر مزید درجنوں لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
انڈین ریاست اترپردیش کے علاقے گھمار میں
اب تک گنگا دریا سے 50 سے زائد لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
پیر کو بھی کم از کم 40 لاشوں کو گھمار
کے مقام پر دریائے گنگا سے نکالا گیا تھا۔
یہ لاشیں یہاں کیسے آئی اس کے متعلق
اطلاعات نہیں ہے تاہم یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تمام کورونا سے متاثرہ افراد کی
لاشیں ہیں۔ اب تک ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔
منگل کو ایک مقامی صحافی نے بی بی سی
ہندی کو بتایا کہ گھمار گاؤں کے قریب گنگا دریا کے کناروں پر گذشتہ چند دنوں سے
لاشیں بہہ کر آ رہی ہیں۔
مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پچھلے
کچھ دنوں سے دریا کے قریب سے بدبو کی شکایت کر رہے تھے لیکن پیر کے روز ریاست بہار
میں حکام نے دریا سے ملنے والی لاشوں کے بارے میں خبر سن کر ہی کارروائی کی۔
گھمار میں پولیس لاٹھیوں کی مدد سے لاشیں
دریا سے نکال رہی ہے۔ پیر کے روز بھی گئے رات کو تقریباً 25سے 30
گلی سڑی لاشوں کو نکال کر سپرد خاک کیا
گیا تھا۔
انڈیا کے مقامی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی نے
رپورٹ کیا ہے کہ ضلع غازی پور کے مجسٹریٹ ایم پی نے لاشیں دریا میں کیسے آئی کی تحقیقات
کا حکم دے دیا ہے۔
ان کہنا تھا کہ ’ ہمیں اس متعلق اطلاع
ملی، ہمارے اہلکار موقع پر موجود ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ ہم یہ جاننے کی کوشش
کر رہے ہیں کہ یہ لاشیں کہاں سہ بہہ کر آئی ہیں۔‘
پیر کو بھی حکام نے انڈیا کی ریاست بہار
اور اترپردیش کے سرحدی علاقے بکسر میں دریا سے 40 لاشیں ملنے کی تصدیق کی تھی۔
چند مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک لگ
بھگ 100
لاشیں مل چکی ہیں اور ان کی حالت سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ چند دنوں سے دریا
میں بہہ رہی تھیں۔
ایک اہلکار کے مطابق ملنے والی ان تمام
لاشوں کی آخری رسومات ادا کر دی گئی تھی۔
انڈیا میں کووڈ کی دوسری لہر کے دوران
ملک میں اموات کی بڑھتی تعداد کے باعث مختلف شہروں میں شمشان گھاٹوں میں جگہ کم پڑ
چکی ہے۔
انڈیا اس وقت دنیا میں کورونا وبا کا
مرکز بنا ہوا ہے اور اب تک ملک میں دو کروڑ سے زیادہ افراد اس سے متاثر جبکہ
تقریباً ڈھائی لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا
متاثرین اور اموات کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
40 سال سے بڑی عمر کے افراد کے لیے واک ان ویکسینیشن کا آغاز
وفاقی وزیر
برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ 12 مئی (کل) سے 40 سال سے بڑی عمر کے وہ
تمام افراد جو کووڈ ویکسین کے لیے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں وہ کسی بھی ویکسیشن سینٹر پر
جا کر ’واک ان‘ سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
یعنی وہ تمام افراد جو ویکسین کے لیے رجسٹریشن کروا چکے ہیں وہ اپنی پسند کے کسی
بھی سینٹر پر جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عیدالفطر کے
موقع پر ویکسین سینٹر دو روز کے لیے بند ہوں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
آندھرا پردیش: آکسیجن سپلائی میں تعطل کے باعث 11 مریض ہلاک
،تصویر کا ذریعہUGC
آندھرا پردیش کے ایک سرکاری ہسپتال میں آکسیجن ختم ہو جانے کے باعث کورونا وائرس کے 11 مریضوں کی موت ہوگئی ہے۔
یہ تمام مریض ضلع چتور کے تروپتی شہر کے روئیا ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِ علاج تھے۔
چتور کے ضلعی کلکٹر ہری نارائن نے بتایا کہ پیر کی رات کو آکسیجن کی سپلائی میں پانچ منٹ کے لیے معمولی کمی ہوئی تھی جس کے باعث کورونا کے 11 مریض ہلاک ہو گئے تھے۔
تاہم ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ آکسیجن پانچ منٹ نہیں بلکہ آدھے گھنٹے کے لیے بند ہوئی تھی۔
دوسری جانب ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ آکسیجن سپلائی کے دباؤ میں کمی کے باعث پیش آیا۔
راہُل گاندھی: نریندر مودی اپنی گلابی عینک اتاریں
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا کے رکنِ پارلیمان راہُل گاندھی نے انڈیا کے دریاؤں میں تیرتی لاشوں پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی 'گلابی عینک' اتاریں۔
اُنھوں نے منگل کو اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ لاتعداد لاشیں دریاؤں میں تیر رہی ہیں، ہسپتالوں میں میلوں طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
وزیرِ اعظم صاحب اپنی گلابی عینک اتاریں جس کی وجہ سے آپ کو سینٹرل وسٹا کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا۔ یاد رہے کہ سینٹرل وسٹا ترقیاتی پراجیکٹ مرکزی حکومت کا ایک انتہائی بڑا پراجیکٹ ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 20 ہزار کروڑ روپے لگایا جا رہا ہے۔
حکومت نے اس منصوبے کو 'لازمی خدمت' قرار دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ دلی میں لاک ڈاؤن کے باوجود مزدور اس پر کام جاری رکھیں۔
اس پراجیکٹ کے تحت نئی دلی میں واقع رائیسینا پہاڑی پر موجود پرانی سرکاری عمارتوں کی تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش کی جا رہی ہے جس میں پرانا پارلیمنٹ ہاؤس بھی شامل ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ملائشیا میں نیا لاک ڈاؤن سات جون تک نافذ رہے گا
،تصویر کا ذریعہReuters
ملائشیا میں پیر کے روز سے قومی سطح پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے کیونکہ یہاں پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ حکومت کے مطابق وائرس کی انتہائی متعدی اقسام کی وجہ سے نظامِ صحت دباؤ کا شکار ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیرِ اعظم محی الدین یاسین نے کہا ہے کہ تمام بین الریاستی اور بین الاضلاعی سفر اور سماجی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ تعلیمی ادارے بند رہیں گے مگر معاشی شعبے اپنا کام جاری رکھ سکیں گے۔
اُنھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ملائشیا کو اس وقت کورونا کی تیسری لہر کا سامنا ہے جو قومی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ یہ لاک ڈاؤن جون کی سات تاریخ تک نافذ رہے گا۔
انڈین ڈاکٹروں کی وارننگ: ’سائنسی ثبوت نہیں کہ گائے کا گوبر کورونا کے خلاف مؤثر ہے‘
انڈیا میں ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی سائنسی ثبوت نہیں کہ گائے کا گوبر کورونا کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، بلکہ یہ دیگر بیماریاں پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کے سبب دو لاکھ 50 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں جبکہ گذشتہ روز بھی تین لاکھ 29 ہزار سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مغربی ریاست گجرات میں کچھ عقیدت مند ہر ہفتے گئو شالہ میں جا کر اس امید میں اپنے جسموں پر گائے کا گوبر اور پیشاب مل رہے ہیں کہ اس سے اُن کا مدافعتی نظام بہتر ہو گا یا وہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہو سکیں گے۔
اپنے جسم پر ملا گیا گوبر اور پیشاب سوکھنے کا انتظار کرتے ہوئے وہ گئو شالہ میں موجود جانوروں کو گلے سے لگاتے ہیں اور یوگا کرتے ہیں تاکہ توانائی حاصل کی جا سکے۔
اس کے بعد اسے گائے کے دودھ سے دھو کر اتارا جاتا ہے۔
انڈیا سمیت دنیا کے کئی سائنسدانوں نے ایسا کرنے سے خبردار کیا ہے۔
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جے اے جیالال نے کہا ہے کہ ’کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت نہیں کہ گائے کا گوبر یا پیشاب کووڈ 19 کے خلاف مدافعت پیدا کر سکتا ہے۔‘
’اس کے علاوہ ان چیزوں کو خود پر ملنے یا انھیں جسم میں داخل کرنے سے بیماریاں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی ادارہ صحت: کورونا کی انڈین قسم عالمی تشویش کی باعث
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی سب سے پہلے انڈیا میں سامنے آنے والی قسم عالمی طور پر تشویش کی باعث ہے۔
ادارے کے مطابق ابتدائی مطالعوں سے پایا گیا ہے کہ B.1.617 کہلائی جانے والی یہ قسم کورونا کی دوسری اقسام کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے پھیلتی ہے اور اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ کورونا کی یہ قسم اب 30 سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے۔
اس کے علاوہ برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل سے سامنے آنے والی کووڈ اقسام کو بھی یہی نام دیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کسی وائرس کی قسم کو تب تشویش کی باعث قسم قرار دیا جاتا ہے جب وہ تیزی سے پھیلنے، شدت سے بیمار کرنے، جسم کے مدافعتی نظام سے مقابلہ کرنے یا علاج اور ویکسین کے اثر کو کم کرنے میں سے کسی ایک بھی معیار پر پوری اترتی ہو۔
کورونا کی اس قسم پر یہ جاننے کے لیے تحقیق کی جا رہی ہے کہ کہیں یہ انڈیا میں وائرس کی ہلاکت خیز لہر کے لیے ذمہ دار تو نہیں۔
انڈیا میں تین لاکھ 29 ہزار سے زائد نئے متاثرین، 3800 سے زائد اموات
،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا میں کورونا وائرس کے تین لاکھ 29 ہزار 942 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں اور 3876 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اب تک انڈیا میں کورونا وائرس کے باعث دو لاکھ 49 ہزار 992 اموات ہوچکی ہیں جبکہ یہاں پر اس وقت کورونا کے 37 لاکھ 15 ہزار 221 مریض موجود ہیں۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران 113 ہلاکتیں
پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 113 کورونا مریض ہلاک ہو گئے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ادارے کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح سات اعشاریہ نو تین فیصد ہے۔
گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کل 38883 افراد میں کورونا کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیے گئے جبکہ 3084 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
گلگت بلتستان میں کورونا کی شرح پانچ فیصد تک بڑھ چکی ہے
،تصویر کا ذریعہtwitter
محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق گلگت بلتستان میں کورونا مریضوں کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ دیا گیا ہے۔ یہ شرح پانچ فیصد سے بڑھ چکی ہے۔ تاہم اموات کی شرح میں کمی ہوئی ہے حکام کے مطابق اس وقت اموات تقریباً دو فیصد سے کم ہے اور مجموعی اموات کی تعداد ایک سو سات ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 15 افراد میں کورونا پازئیٹو پایا گیا ہے۔ جس کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 5401 ہوگئی ہے۔
صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی پندرہ ہی بتائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صحت یاب افراد کی تعداد 95 فیصد سے زائد کی شرح کے ساتھ 5182 ہے۔ اس وقت فعال مریضوں کی تعداد 112 ہے۔ جس میں 31 خواتین اور 81 مرد شامل ہیں۔
ایسے مریض جو حساس ہیں مگر وینٹیلٹر پر نہیں ہیں کی تعداد آٹھ بتائی گئی ہے جبکہ گلگت بلتستان میں کوئی بھی مریض وینٹیلیٹر پر نہیں ہے۔
دنیا بھر سے اہم خبریں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انگلینڈ میں 17 مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی لائی جا رہی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ اس دوران بار، کیفے اور ریستوران کھولے جا سکیں گے اور یہاں انڈور ڈائننگ کی اجازت ہوگی۔ لوگوں کو گلے ملنے کی بھی اجازت ہوگی اور سماجی فاصلہ ہر کسی کا انفرادی فیصلہ ہوگا۔
آئر لینڈ اور سپین سمیت یورپ کے کئی ملکوں میں سختیوں میں نرمی لائی جا رہی ہے۔ سپین کے مختلف شہروں میں چھ ماہ تک جاری ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد گذشتہ رات لوگوں نے گلیوں میں نکل کر جشن منایا۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کی انڈین قسم دنیا بھر کے لیے خطرہ ہے۔
ویتنام میں 125 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک کوئی متاثرہ شخص سامنے نہ آنے کے بعد اسے بڑا اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔
جرمنی نے تمام بالغ افراد کے لیے جانسنز اینڈ جانسنز کی ویکسین کی دستیابی بحال کر دی ہے۔ ترجیحی بنیادوں پر کچھ لوگوں کو یہ ویکسین پہلے دی گئی تھی۔
جاپان میں کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر ٹوکیو اولمپکس کے انعقاد پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
انڈیا کی ریاست بہار میں ’40 سے زیادہ لاشوں کو گنگا میں بہایا گیا‘, سیتو تیواری، بی بی سی ہندی
،تصویر کا ذریعہSATYAPRAKASH/BBC
انڈیا کی ریاست بہار کے ضلع بکسر میں گنگا کنارے کم از کم 40 لاشوں کو پانی میں تیرتے دیکھا گیا ہے۔ مقامی صحافیوں سمیت کئی لوگوں کو شک ہے کہ یہ لاشیں کووڈ متاثرین کی ہوسکتی ہیں اور انھیں جان بوجھ کر گنگا میں بہایا گیا تھا۔ تاہم سرکار نے اب تک اس کی تصدیق نہیں کی۔
مقامی انتظامیہ نے لاشوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جبکہ وہاں کے صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ادھر موجود ایک شمشان گھاٹ میں مزید لاشوں کو دیکھا ہے۔
چوسا گھاٹ کے قریب ایک ڈیویلپمنٹ اہلکار اشوک کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ممکنہ طور پر یہ لاشیں اتر پردیش سے یہاں آئی ہیں۔ ’امکان ہے کہ یہ لاشیں اترپردیش سے بہہ
کر یہاں آ گئی ہیں۔ میں نے اس گھاٹ پر موجود رہنے والے لوگوں سے بات کی ہے اور ان
کہنا ہے کہ یہ لاشیں یہاں کی نہیں ہیں۔‘
بکسر کے میجسٹریٹ امان سمیر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ وہ ان لاشوں کو جلانے کے لیے حکام سے تعاون کر رہے ہیں۔ مقامی صحافی ستیا پراکاش نے سوال اٹھایا ہے کہ ’ان حالات میں یہ لاشیں یہاں کیسے پہنچ سکتی ہیں؟‘
وہ مزید کہتے ہیں ’نو مئی کومجھے پہلی بار اس بارے میں معلوم ہوا۔ میں نے وہاں تقریباً 100 لاشیں دیکھیں۔ 10 مئی کو یہ تعداد بہت کم تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’در
حقیقت بکسر کا چریتر گھاٹ لوگوں میں کافی
اہم سمجھا جاتا ہے اور ابھی کورونا کی وجہ سے وہاں لاشوں کو جلانے کی جگہ نہیں۔ اور لوگوں کو آخری رسومات ادا کرنے کی جگہ
نہیں مل رہی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ آٹھ کلومیٹر دور چوسا شمشان گھاٹ میں لاشوں کو لا
رہے ہیں۔‘
’لیکن اس گھاٹ پر لکڑی کا کوئی انتظام موجود
نہیں ہے۔ کشتی کا رواج بھی بند ہے۔ لہذا لوگ اس طرح گنگا میں لاشیں بہا رہے ہیں۔
بہت سے لوگ لاش میں گھڑا باندھ کر انھیں دریا برد کر رہے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہSATYAPRAKASH/BBC
اس گھاٹ پر موجود پنڈت دین دیال پانڈے نے مقامی صحافیوں سے گفتگو میں بتایا ’عام طور پر اس گھاٹ میں روزانہ دو سے تین لاشیں آتی تھیں۔ لیکن پچھلے 15 دن سے یہاں قریب 20 لاشیں آئیں ہیں۔
’اس وقت گنگا میں جو لاشیں تیر رہی ہیں وہ کووڈ سے مرنے والے لوگوں کی ہیں۔ یہاں ہم لوگوں کو گنگا جی میں لاشیں بہانےسے منع کرتے ہیں لیکن لوگ مانتے ہی نہیں ہیں۔ انتظامیہ نے یہاں ایک چوکیدار بھی لگایا ہے لیکن لوگ اس کی بات نہیں سنتے۔‘
فی الحال بکسر انتظامیہ گھاٹ پر جے سی بی مشین کے ساتھ گڑھے کھود کر لاشوں کو دفن کر رہی ہے۔
بہار میں کورونا کے بڑھتے کیسز
9 مئی تک ریاست میں 110804 فعال کیسز موجود تھے جبکہ صحتیاب ہونے والوں کی شرح 80 سے 71 فیصد ہے۔ بکسر ضلع میں 1216 فعال کیسز ہیں جبکہ اب تک 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق ریاست میں اب تک اسی لاکھ سے زیادہ افراد کو کووڈ سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔
سب سے زیادہ فعال کیسز دارالحکومت پٹنہ میں ہیں۔
بریکنگ, متحدہ عرب امارات نے پاکستان سمیت چار جنوبی ایشیائی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں, 12 مئی کی شب کے بعد پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال سے کوئی پرواز متحدہ عرب امارات نہیں جا سکے گی تاہم ٹرانٹ پروازیں اس پابندی سے مستثنی ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ بدھ 12 مئی
کی شب کے بعد سے جنوبی ایشیا کے چار ممالک جن میں پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا
اور نیپال شامل ہیں، پر سفری پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔
کووڈ 19 کے بحران کی وجہ سے عائد کیا گیا یہ فیصلہ ان تمام
پروازوں اور فضائی کمپنیوں پر پر لاگو ہوگا جو پاکستان سے متحدہ عرب امارات کے لیے
سفر کرنا کے خواہشمند ہوں گے۔ ٹرانزٹ پروازیں اس پابندی سے مستثنی ہوں گی۔
یو اے ای کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن اور نیشنل
ایمرجنسی کرائسس اینڈ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دس مئی کو یہ اعلان کیا۔
اعلامیے کے مطابق بدھ کی شب رات 11 بج کر 59 منٹ تک
پروازوں کو متحدہ عرب امارات آنے کی اجازت ہو گی۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای سے ان چاروں ممالک
کی جانب جانے والی پروازیں معمول کے مطابق اڑیں گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا میں کووڈ بحران کا ’خاتمہ‘ صرف ویکسینز کے ذریعے ممکن ہوگا: ڈاکٹر فاؤچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کے چیف میڈیکل مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے
امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو اتوار کی شب دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انڈیا
میں جاری کووڈ کے بحران کا خاتمہ صرف ویکسینیز کے عمل میں اضافے سے ممکن ہوگا۔
انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا دنیا میں سب سے زیادہ
ویکسین تیار کرنے والے ممالک میں سے ہے اور ان کے پاس وسائل بھی موجود ہیں تو
انھیں چاہیے ملک کے اندر اور ملک باہر سے تمام وسائل کو استعمال کریں تاکہ انڈیا
والوں کی مدد ہو سکے جس کی مدد سے وہ یا تو خود ویکسین تیار کر سکیں یا انڈیا کو
ویکسین عطیہ کی جائے۔
بریکنگ, پاکستان میں آکسفورڈ ویکسین فی الوقت 40 سال سے کم عمر کے لوگوں کو نہیں دی جائے گی: صحت حکام
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستانی حکومت کی جانب سے آکسفورڈ ایسٹرازینیکا کورونا ویکسین سے متعلق
نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق فی الوقت، مزید ڈیٹا کے آنے سے قبل 40 سال سے کم عمر کے مرد اور خواتین کو یہ
ویکسین نہیں لگائی جائے گی۔
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر رانا صفدر نے بی بی سی کو بتایا
ہے کہ نئی ہدایات کے تحت پہلی اور دوسری خوراک میںکم سے کم 12 ہفتوں کا وقفہ رکھا گیا ہے جو پہلے
جاری کی گئی ہدایات میں 8 سے 12 ہفتے تھا۔
حکومت کے جانب سے نئی ہدایت کا اجرا بین الاقوامی ہدایات میں
آنے والی تبدیلیوں کے بعد کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ کی ادویات اور صحت کی سہولیات کی نگرانی
کرنے والے ادارے ایم ایچ آر اے کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 31 مارچ
2021 تک برطانیہ میں دو کروڑ بیس لاکھ افراد کو ایسٹرا زینکا ویکسین لگائی گئی جن میں
سے میں سے 79 افراد کو خون جمنے( بلڈ کلاٹنگ) کی شکایت ہوئی ہے اور 19 افراد کی موت
ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں 13 خواتین اور چھ
مرد تھے تاہم ایسٹرا زینکا ویکسین مردوں کی نسبت خواتین کو زیادہ لگائی گئی۔
برطانوی ادارے نے کہا ہے اس ویکسین کے فوائد نقصان سے کہیں
زیادہ ہیں اور لوگوں کو یہ ویکسین لگوانے سے کترانا نہیں چاہیے۔
یہ ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوائیں بنانے والی کمپنی ایسٹرا
زینیکا کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔
انڈیا: کورونا انفیکشن کے بڑھتے متاثرین کے باعث مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے متاثرین کی وجہ سے مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن کی حد بڑھا دی گئی ہے۔
ملک کے دارالحکومت دہلی میں کورونا انفیکشن پر قابو پانے کے لیے ایک بار پھر لاک ڈاؤن میں اضافہ کیا گیا ہے۔
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دہلی میں لاک ڈاؤن میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کردی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اس بار کی قانونی کارروائی مزید سخت ہوگی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست اتر پردیش جو کورونا انفیکشن سے بدترین متاثرہ ہے، نے کورونا انفیکشن پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کی مدت میں بھی اضافہ کیا ہے۔
اترپردیش حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 17 مئی تک نافذ کرفیو میں توسیع کردی ہے۔ اس سے قبل کرفیو صبح سات بجے ختم ہونا تھا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام جموں وکشمیر کے تمام 20 اضلاع میں، کورونا کرفیو میں 17 مئی کی شام 7 بجے تک توسیع کردی گئی ہے۔
تازہ ترین آرڈر کے مطابق اس بار کورونا کرفیو پہلے کے مقابلے میں سخت ہوگا اور اس دوران صرف میڈیکل اور کھانے پینے جیسی ضروری خدمات ہی کھولنے کی اجازت ہوگی۔
اس دوران 25 سے زائد افراد کو شادی کی تقاریب میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس سے قبل کورونا کرفیو کی مدت 10 تاریخ کو صبح سات بجے تک ختم ہونے والی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ہماچل پردیش حکومت نے کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے متاثرین کے باعث پابندیوں میں اضافہ کیا ہے۔
کانگرا کے ضلعی مجسٹریٹ راکیش کمار پرجاپتی نے کہا ’نئے قواعد 10 مئی سے صبح 6 بجے سے نافذ ہوں گے۔ سنیما ہال، مال ، مارکیٹ، کمپلیکس، جم بند رہیں گے۔‘
اتراکھنڈ میں بھی کورونا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ 10 مئی کو صبح چھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک تمام ضروری چیزوں کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
11 مئی کو صبح 6 بجے سے 18 مئی کی صبح 6 بجے تک کورونا کرفیو نافذ رہے گا۔
،تصویر کا ذریعہANI
اس کے علاوہ تمل ناڈو حکومت نے بھی 10 مئی سے دو ہفتوں کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کرناٹک میں بھی، لاک ڈاؤن کا اطلاق آج سے 24 مئی تک ہوگا۔ کرناٹک میں لاک ڈاؤن پہلے ہی نافذ ہے، لیکن بڑھتے ہوئے متاثرین کی وجہ سے، دورانیے میں توسیع کردی گئی ہے۔
گوا میں بھی کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے متاثرین کے باعث 24 مئی تک کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
کیرالا میں لاک ڈاؤن کو 16 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہANI
ہریانہ میں لاک ڈاؤن میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ہریانہ حکومت نے لاک ڈاؤن کی آخری تاریخ میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کردی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
راجستھان میں 10 مئی سے 24 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ میزورم حکومت نے بھی 10 مئی سے سات دن کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔
لاک ڈاؤن میں سودا خریدنے کا منفرد طریقہ
اگر شہر میں لاک ڈاؤن ہو اور دکانوں تک رسائی مشکل ہو تو لوگوں تک تازہ خوراک کیسے پہنچائی جائے؟
اس مسئلے کا حل نکالا ہے جنوبی افریقہ میں ’سکھافٹن‘ لنچ باکس بس نے۔
رومانیہ: ڈریکولا کے قلعے میں آنے والوں کو ویکسین کی فراہمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وسطی رومانیہ میں خوفناک سٹیکرز والے میڈیکس ہر اس فرد کو فائزر کی ویکسین پیش کررہے ہیں جو چودہویں صدی کے بران کیسل کا دورہ کرنے آتے ہیں۔
رومانیہ میں رہائشیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد تک پہنچنے اور ان کو ویکسینیشن فراہم کرنے کی کوششوں کے سبب مشہور جگہوں اور مقامات سے کورونا ویکسینیشن مہم چلائی جارہی ہے۔
اس وبا کے آغاز کے بعد ہی رومانیہ میں دس لاکھ سے زیادہ انفیکشن ریکارڈ ہوئے ہیں اور تقریباً 29000 اموات ہوئیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر تک 10 ملین لوگوں کو ویکسین لگانا چاہتی ہے، لیکن تقریباً آدھے رومن باشندے کہتے ہیں کہ وہ یہ ویکسین نہیں لگوائیں گے-