کورونا: پاکستان میں مزید 70 ہلاکتیں، 4825 افراد میں کورونا کی تشخیص

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں 25 اپریل کو 4825 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جبکہ 70 مزید افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 70 ہلاکتیں، 4800 سے زائد افراد میں کورونا کی تشخیص

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہepa

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں 25 اپریل کو 4825 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جبکہ 70 مزید افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

    سب سے زیادہ اموات خیبر پختونخوا میں اور پنجاب میں ریکارڈ کی گئیں۔

    پاکستان میں اب تک اس مرض سے آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے چھ لاکھ 94 ہزار سے زائد افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  2. انڈیا: گجرات میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو مفت ویکسین ملے گی

    انڈین ریاست گجرات نے اعلان کیا ہے کہ کورونا ویکسینیشن کے تیسرے مرحلے میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو مفت ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ویکسین کا تیسرا مرحلہ یکم مئی سے شروع ہونا ہے۔

    گجرات کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان مفت ویکسینز کی فراہمی کے لیے حکومت پہلے ہی ڈیڑھ کروڑ خوراکوں کے آرڈر دے چکی ہے۔

    یہ فیصلہ ریاستی وزیرِ اعلیٰ وجے روپانی کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. دلی میں 24 گھنٹوں کے دوران 350 مزید ہلاکتیں

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا کے دارالحکومت دلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے سبب 350 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسی دوران وائرس سے 22 ہزار 913 نئے متاثرہ افراد سامنے آئے ہیں۔

    حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ کے 21 ہزار 71 مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ اب دارالحکومت میں کووڈ کے فعال مریضوں کی تعداد 94 ہزار 592 ہو چکی ہے جس میں سے 52 ہزار 296 مریض گھروں پر قرنطینے میں ہیں۔

    حکومتی ہیلتھ بلیٹن کے مطابق اس وقت دلی میں کورونا کے ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 30 اعشاریہ 21 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    یہاں پر اب تک 29 لاکھ 49 ہزار 187 لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے اور مختلف ہسپتالوں میں 6600 سے زیادہ بیڈ اب بھی خالی ہیں۔

  4. کوئٹہ دکانداروں اور لیویز فورس کے اہلکاروں میں تصادم، پانچ افراد زخمی

    QUETTA

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کی کوشش کے دوران دکانداروں اور لیویز فورس کے اہلکاروں کے درمیان تصادم میں پانچ افرادزخمی ہو گئے۔

    یہ واقعہ کوئٹہ میں مسجد روڈ پر شاپنگ مالز کو بند کرانے کی کوشش کے دوران ہوا۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ شاپنگ مالز بند کرانے کے لیے انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کررہی تھی کہ شاپنگ مال انتظامیہ نے لیویز جوانوں کو زدوکوب شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران مشتعل افرادنے لیویز اہلکاروں سے اسلحہ، وائرلیس سیٹ اور موبائل بھی چھین لیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں لیویز فورس کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔

    لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان نے شام 6 بجے کے بعد مارکیٹس بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس واقعے کے حوالے سے ایک ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے جس میں یہ نظر آرہا ہے کہ بعض لوگ ایک اہلکار سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ بھی کی جارہی ہے۔

    سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ اس واقعے کے حوالے سے پانچ زخمی افراد سول ہسپتال لائے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان میں سے ایک شخص کو ٹانگ میں گولی لگی ہے جبکہ باقی چار افراد ڈنڈوں سے زخمی ہوئے۔‘

    تاجر اس واقعے کے بعد شاپنگ مالز کے باہر جمع ہوئے ۔ انھوں نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور فائرنگ کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔

    حکومت بلوچستان نے کورونا کی تیسری لہر میں کیسز میں اضافے کی وجہ سے بلوچستان بھر میں سمارٹ لاک ڈاﺅن نافذ کردیا ہے ۔ سمارٹ لاک داﺅن میں سنیچر اور اتوار کو کاروباری مراکز مکمل بند رہیں گے جبکہ باقی دنوں میں کاروباری مراکز سحری سے شام چھ بجے تک کھلے رہیں گے لیکن تاحال کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کاروباری مراکز میں ان پابندیوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔

    دوسری جانب تاجروں نے مارکیٹوں کی بندش کے حوالے سے احکامات کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

    مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاﺅن سے پہلے بھی تاجروں کو نقصان پہنچا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی تاجروں کے منافع کا کوئی موقع آتا ہے تو لاک ڈاﺅن کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے جو کہ تاجروں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

  5. انڈیا: مہاراشٹرا اور راجستھان میں 18 سے 45 برس کے افراد کے لیے مفت ویکسین

    مہاراشٹر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ریاست میں مہاراشٹرا حکومت 18 سال اور اس سے کم 45 سال سے کم عمر افراد کے لیے مفت کورونا ویکسین کا انتظام کرے گی۔

    ریاست میں این سی پی رہنما اور اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو میں یہ اطلاع دی۔

    انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اپنے فنڈ کو یکم مئی سے ٹیکہ لگانے کے لیے استعمال کرے گی۔

    نواب ملک نے کہا ’یہ واضح ہے کہ مرکزی حکومت 45 سال سے کم عمر افراد کو ویکسین کے لیے الگ فنڈ فراہم نہیں کرے گی ، لہٰذا ریاستی حکومتیں اپنے فنڈز اس میں خرچ کریں گی۔‘

  6. بریکنگ, بغداد: ہسپتال میں آتشزدگی سے کووڈ کے 82 مریض ہلاک

    عراق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک ہسپتال میں لگی آگ سے کم از کم 82 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ابنِ خطیب ہسپتال میں سنیچر کی شب لگنے والی اس آگ سے 100 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق آگ آکسجین سلنڈر پھٹنے سے لگی جس پر فوری طور پر قابو نہ پایا جا سکا۔

    سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریسکیو اہلکار آگ بھجانے اور زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

    عراقی وزیرِ اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. پاکستان: پنجاب کے 25 اضلاع میں سکول غیر معینہ مدت کے لیے بند

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس سے زیادہ متاثرہ شہروں میں نویں تا بارہویں جماعت کے نجی و سرکاری سکول سمیت تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    26 اپریل سے پنجاب کے ان شہروں میں 12ویں تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے جہاں مثبت کیسز کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ ہے۔

    خیال رہے کہ ان شہروں میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک سکول پہلے سے بند ہیں۔

    صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے صوبے کے 25 اضلاع میں سکولوں کی بندش کے حوالے اہم ٹویٹ جاری کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر صوبے بھر کے کُل 25 اضلاع کے تمام سرکاری و نجی سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبے بھر کے 25 اضلاع میں سکول غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے گئے ہیں۔

    ’25 اضلاع میں نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ ہفتے میں دو دن سکول بھی نہیں آئیں گے۔ جن اضلاع میں کورونا کیسز کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ ہیں وہاں تعلیمی سرگرمیاں معطل کردی گئیں ہیں۔‘

    ان شہروں میں لاہور، قصور، راولپنڈی، ساہیوال، شیخوپورہ، سیالکوٹ، اوکاڑہ، ملتان، پاکپتن، فیصل آباد، چکوال، حافظ آباد، جھنگ، بھکر، خانیوال، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر، و دیگر شامل ہیں۔

    ’پنجاب کے باقی گیارہ اضلاع میں سکول ایس او پیز پر بھرپور عملدرآمد کے ساتھ پرانے شیڈول کے مطابق کھلے رہیں گے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ مشکل، لیکن طلبہ و اساتذہ کی خفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔

  8. پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا کے مزید 3056 متاثرین، 67 اموات

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مزید 3056 نئے متاثرین، 67 اموات

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 3056 نئے متاثرین کا اضافہ ہوا ہے جبکہ 67 مزید اموات ہوئی ہیں۔

    ترجمان پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ صوبے میں کل متاثرین کی تعداد 288598 ہے جبکہ اب تک اس عالمی وبا سے 7964 ہلاک ہوئے ہیں۔

    ’کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 233655 ہو چکی ہے۔‘

  9. اسلام آباد میں مثبت کیسز کی شرح 9.4 فیصد سے بڑھ کر 10.6 فیصد تک پہنچ گئی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 9.4 فیصد سے بڑھ کر 10.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور اس وقت شہر میں 12730 افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. خیبرپختونخوا میں ایک اور ڈاکٹر ہلاک، وبا کے آغاز سے اب تک صوبے میں 64 ڈاکٹر ہلاک

    NaseerTeachingHospital

    ،تصویر کا ذریعہFacebook\NaseerTeachingHospital

    پاکستان کے صوبہِ خیبر پختونخوا میں کورونا سے متاثرہ ایک اور ڈاکٹر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    صوبے میں وبا کے آغاز سے اب تک کورونا سے ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد 64 ہو گئی ہے۔

    اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمدعلی کورونا وائرس سے متاثرہ ہونے کے بعد چند دنوں سے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے اور گذشتہ رات جان کی بازی ہار گئے۔

    صوبہِ خیبر پختونخوا کی ڈاکٹرز ایسوسیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد علی، نصیر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے شعبہِ نفسیات میں تعینات تھے۔

  11. دہلی: لاک ڈاؤن میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کا اعلان

    شفشف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے متاثرین کے پیش نظر لاک ڈاون میں مزید ایک ہفتے کے لیے توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    دہلی حکومت نے پہلے چھ دن کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا جس کی مدت 26 اپریل پیر کو ختم ہونے والی تھی۔ اب اس میں ایک ہفتے کی توسیع کردی گئی ہے، یعنی یہ لاک ڈاؤن اگلے پیر 3 مئی کی شام 5 بجے تک نافذ رہے گا۔

    کیجریوال نے کہا کہ دہلی میں جس طرح سے کورونا انفیکشن کے متاثرین تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس کی وجہ سے ریاستی حکومت کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کرنا بہت ضروری تھا۔

    انھوں نے کہا ’یہ آخری ہتھیار تھا جسے ہم استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن اب ہمیں لاک ڈاؤن لگانا ہو گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. کورونا کی دوسری لہر نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے: نریندر مودی

    mannkibaat

    ،تصویر کا ذریعہ@mannkibaat

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    نریندر مودی نے پروگرام ’من کی بات‘ کا آغاز کورونا انفیکشن کے ذکر سے کیا۔

    انھوں نے کہا ’کورونا کی پہلی لہر کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بعد، ملک میں بہت اعتماد تھا لیکن دوسری لہر کے اس طوفان نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

    آج کے پروگرام میں وزیر اعظم کے ساتھ ممبئی کے مشہور ڈاکٹر ششانک جوشی بھی موجود ہیں۔

    ڈاکٹر ششانک کورونا کے علاج اور تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔

  13. جاپان ٹوکیو میں ویکسینیشن کے بڑے مراکز کھولے گا

    شفش

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپان کے مقامی میڈیا کے مطابق جاپانی حکومت ویکسینیشن کی مہم کو تیز کرنے کے لیے آئندہ ہفتوں میں ٹوکیو اور اوساکا میں ویکسینیشن کے بڑے مراکز کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    جاپان نے اس مہینے میں اپنی عمر رسیدہ آبادی کو ویکسینیشن لگانا شروع کی ہے۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگانے کے لیے موسم سرما (دسمبر-فروری) یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    جاپان کے مقامی اخبار نکئی کے مطابق حکومت مئی کے شروع میں وسطی ٹوکیو میں ایک ویکسینیشن مرکز کھولے گی جہاں ایک دن میں 10000 افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔

    اس مرکز میں ٹوکیو میں رہائش پذیر اور کام کرنے والے ہر شخص کو رسائی حاصل ہو گی۔

  14. عراق: کووڈ ہسپتال میں آگ لگ گئی، آکسیجن ٹینک پھٹنے سے کم از کم 23 افراد ہلاک

    شفش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ہسپتال میں لگنے والی آگ میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    سنیچر کی رات ابن خطیب ہسپتال میں ہونے والی آتشزدگی سے درجنوں دیگر افراد زخمی ہوئے۔

    اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں آکسیجن ٹینک پھٹ گیا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں آگ بجھانے والے اہلکاروں کو شعلے بجھانے کے لیے عمارت میں گھستے دیکھا جا سکتا ہے۔

    عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے اس حادثے کو افسوسناک قرار دیا اور حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    SFS

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. امریکہ: ’مشکل کی اس گھڑی میں انڈین شہریوں کے ساتھ ہیں اور جلد مدد فراہم کریں گے‘

    دشگدگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیر خارجہ انٹون بلنکن نے انڈیا میں کورونا کی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ انڈین شہریوں کے ساتھ ہیں۔

    بلنکن نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’ہم اس معاملے پر انڈین حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور انڈین شہریوں اور صحت کے کارکنوں کی مدد کے لیے تیزی سے اضافی مدد فراہم کریں گے۔‘

    انڈیا میں تیزی سے ویکسینیشن شروع ہونے کے لیے، یہ ضروری ہے کہ امریکہ کووڈ 19 ویکسین بنانے کے لیے استعمال ہونے والی پابندیوں کو دور کرے۔

    دو دن پہلے امریکہ نے برآمد پر پابندی کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ پہلے امریکی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا تھا ’امریکہ اپنے شہریوں کو ویکسین لگانے کے لیے موثر انداز میں کام کر رہا ہے۔ یہ عمل ابھی بھی جاری ہے اور جب تک یہ مکمل نہیں ہوتا، پالیسی میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ہم سب سے پہلے امریکی شہریوں کے لیے ذمہ دار ہیں۔ امریکہ میں کسی بھی ملک سے زیادہ اموات ہوئیں اور اب بھی لاکھوں متاثرہ افراد ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 5611 نئے متاثرین، 118 ہلاکتیں

    sfsf

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5611 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 118 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے ملک کے ہپستالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔

    ملک کے تمام بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز اور آکسیجن بیڈز پر مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

    پاکستان کے وزیِرِ اعظم عمران خان نے قوم کو خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا قواعد و ضوابط پر عمل نہ کیا گیا تو ا تو انڈیا جیسے حالات ہو جائیں گے۔

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 55128 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. بریکنگ, گذشتہ 24 گھنٹوں میں انڈیا میں تین لاکھ سے زائد نئے متاثرین، 2700 سے زیادہ اموات

    fsf

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت برقرار ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3,49,691 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 2,767 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    اس طرح انڈیا میں اب مجموعی طور پر 169,60172 سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ 192311 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔’

    ملک میں اب تک 14 کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین کے ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

  18. انڈیا کا ٹوئٹر سے حکومتی اقدامات کی ناقد ٹویٹس ہٹانے کا مطالبہ

    انڈیا، ٹوئٹر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈین حکومت نے ٹوئٹر سے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے مقامی قانون سازوں سمیت مختلف افراد کی درجنوں ایسی ٹویٹس کو ڈیلیٹ کر دے جو انڈیا کے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات پر تنقید کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ انڈیا اس وقت کورونا وائرس کی شدید لہر کی زد میں ہے اور یہاں یومیہ نئے متاثرین کی تعداد لگاتار چار روز سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

    ٹوئٹر کی ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو سنیچر کو بتایا کہ انڈین حکومت کی درخواست کے بعد کچھ ٹویٹس انڈیا میں صارفین سے پوشیدہ کر دی گئی ہیں۔

    ٹوئٹر نے ہارورڈ یونیورسٹی کے لیومن ڈیٹابیس پراجیکٹ پر یہ واضح کیا کہ انڈین حکومت کی جانب سے ٹویٹس کو سینسر کرنے کا ہنگامی حکم دیا گیا۔

    کمپنی کے مطابق ’اگر یہ مواد ٹوئٹر کے قواعد کے خلاف ہوا تو اسے ہٹا دیا جائے گا۔ اگر یہ کسی ملکی قانون کے خلاف ہوا مگر ٹوئٹر قواعد کے خلاف نہ ہوا تو ہم صرف انڈین صارفین کی اس تک رسائی روک دیں گے۔‘

  19. ’دلی کو کوٹے سے زیادہ آکسیجن دی گئی، منظم استعمال اُن پر منحصر ہے‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times/Getty Images

    انڈیا کے وفاقی وزیرِ صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ دلی حکومت نے جتنی آکسیجن کی درخواست کی تھی، اُنھیں اس سے زیادہ دی گئی اور اب یہ اُن پر ہے کہ وہ اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق وزیرِ صحت نے یہ بات سردار پٹیل کووڈ کیئر سینٹر اینڈ ہاسپٹل کے دورے کے دوران کہی۔ کووڈ 19 کے علاج کے لیے قائم کیا گیا یہ ہسپتال آئندہ ہفتے سے کام شروع کر دے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’انڈیا میں آکسیجن کی پیداوار کے تحت ہر ریاست کو آکسیجن اُس کے کوٹے کے مطابق دی گئی ہے۔ دلی کو بھی اس کے طلب کردہ کوٹے سے زیادہ آکسیجن دی گئی اور وہاں کے وزیرِ اعلیٰ نے انڈین وزیرِ اعظم کا گذشتہ روز اس کے لیے شکریہ ادا کیا۔‘

    ڈاکٹر ہرش وردھن کا کہنا تھا کہ اب وہاں کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کوٹے کو منظم انداز میں تقسیم کرنے کے لیے منصوبہ سازی کرے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے دلی کو یقین دلایا ہے کہ آکسیجن کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور رکاوٹ پیدا کرنے کی کوششوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

  20. دلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 357 اموات، 24 ہزار سے زائد نئے متاثرین

    انڈین طبی حکام نے مطلع کیا ہے کہ دلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 24 ہزار 103 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 357 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    اس وقت صرف دارالحکومت دلی میں اموات کی تعداد 13 ہزار 898 تک پہنچ چکی ہے جبکہ یہاں پر 93 ہزار لوگ اب بھی اس مرض سے متاثر ہیں۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@ANI