برطانیہ نے انڈیا کو بھی ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کر دیا

برطانیہ نے انڈیا کو بھی ان ریڈ لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے جن پر برطانیہ کے سفر کی پابندی ہے۔ پاکستانی پولیس کے سابق سینئیر افسر ناصر درانی کورونا کا شکار ہو کر وفات پا گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. برطانیہ: انڈیا کو بھی ریڈ لسٹ میں شامل کر دیا گیا

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکک نے کہا ہے کہ انڈیا میں کووڈ وائرس کی نئی قسم پر تشویش کی وجہ سے انڈیا کو بھی ان ریڈ لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے جن پر برطانیہ کے سفر کی پابندی ہے۔

    اس سے قبل کورونا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کے پیش نظر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنا دورہ انڈیا بھی منسوخ کر دیا تھا۔

    مقامی اطلاعات کے مطابق بورس جانسن کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ ’باہمی رائے سے‘ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹے کورونا وائرس کی ابتدا کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے ہیں اور 1625 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    گذشتہ روز انڈیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص بھی ہوئی ہے اور یہ تعداد دو لاکھ 75 سے بھی زیادہ رہی ہے۔

    ادھر دلی میں ایک دن میں سب سے زیادہ 25 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دلی میں ٹیسٹ ہونے والا ہر تیسرا شخص کورونا وائرس میں مبتلا ہے۔

    دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دہلی میں صورتحال بہت خراب ہے۔

    اتوار کے روز دارالحکومت نئی دہلی میں 161 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

  2. سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی انتقال کر گئے

    ناصر درانی

    سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی کرونا کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ کرونا کے باعث میو ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر تھے۔

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دور حکومت کے ابتدائی دنوں میں سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی کو چیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن تعینات کیا تھا اور انھیں پنجاب پولیس میں اصلاحات کی خصوصی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

    تاہم ناصر درانی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

  3. برطانوی وزیر اعظم کا دورہ انڈیا ’باہمی مشاورت سے‘ منسوخ

    برطانوی وزیر اعظم کا دورہ انڈیا ’باہمی مشاورت سے‘ منسوخ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کے پیش نظر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنا دورہ انڈیا منسوخ کر دیا ہے۔

    مقامی اطلاعات کے مطابق بورس جانسن کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ ’باہمی رائے سے‘ کیا گیا۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’کووڈ 19 کی صورتحال کے پیش نظر مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے برطانوی وزیر اعظم آئندہ ہفتے انڈیا کا دورہ نہیں کریں گے۔

    ’دونوں فریقین آئندہ دنوں ورچوئل ملاقات کریں گے جس میں انڈیا اور برطانیہ کے تعلقات میں مزید بہتری کے لیے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔‘

    بورس جانسن نے اپنے شیڈول کے مطابق 25 سے 26 اپریل کے دوران انڈیا کا دورہ کرنا تھا۔ اس سے قبل جنوری میں بھی برطانوی وزیر اعظم کا دورۂ انڈیا کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے منسوخ ہوا تھا۔

  4. انڈیا: دارالحکومت دلی میں آج سے اگلے چھ دن تک لاک ڈاؤن نافذ

    fgf

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے دارالحکومت دلی میں آج سے چھ دن کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

    دارالحکومت دلی میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سوموار کی رات سے پیر کی صبح تک دہلی میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

    کیجریوال نے کہا: 'تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت نے چھ دنوں کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج رات 10 بجے سے سوموار کی صبح پانچ بجے تک لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔'

    کجریوال نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا لاک ڈاؤن ہے اور اس میں اضافے کا خدشہ کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت غریب عوام کے لیے مشکلات کا باعث ہوتی ہے، لیکن انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دوران دہلی چھوڑ کر نہ جائیں۔

    کجریوال نے کہا: 'مجھے یقین ہے کہ لاک ڈاؤن سے کورونا ختم نہیں ہوتا، لیکن اس کی رفتار کم ہوتی ہے۔ ان چھ دنوں میں ہم بڑے پیمانے پر بیڈز، ادویات اور آکسیجن کا بندوبست کریں گے۔'

    دلی حکومت کے جاری کردہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ اس دوران تمام ضروری خدمات کے شعبے اپنا کام کریں گے۔ سبزیوں، دودھ، دوائیں اور دیگر ضروری چیزوں کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہوگی۔

    اس کے علاوہ ضروری خدمات سے وابستہ لوگوں کو پاسز دیے جائیں گے تاکہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر اور میڈیا والے آئی کارڈز دکھا کر اپنے کام پر جاسکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم نے بھی کووڈ 19 کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ایک ہنگامی میٹنگ کا اعلان کیا ہے۔

    انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ تازہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دہلی میں تقریباً 25 ہزار افراد میں اس کی تشخیص ہوئی ہے اور جانچ کرانے والے ہر تیسرے شخص میں اس کی تشخیص ہو رہی ہے۔

    دریں اثنا خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق بازار میں یکایک بھیڑ بڑھ گئی ہے اور لوگ ضروری اشیا خرید رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب کی دکانوں پر بھی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. انڈیا میں صورتحال تشویشناک: ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت، وزیر اعظم مودی کا ہنگامی میٹنگ کا اعلان

    انڈیا میں کورونا کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ یومیہ متاثرین کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کورونا کی صورتحال پر قابو پانے کے فوری اقدامات پر غورکرنے کے لیے اعلی اہلکاروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کر رہے ہیں۔

    وزارت صحت کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں انڈیا میں کورونا سے 273810 افراد متاثر ہوئےجبکہ اس مدت میں 1619 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

    اس وقت ملک میں کورونا کے 1929329 فعال متاثرین ہیں۔

    کورونا کے کیسزمیں تیزی سے اضافے کے سبب پورے ملک میں ہسپتالوں میں مطلوبہ وینٹی لیٹر والے بستروں کی شدید کمی ہو گئی ہے اور سب سے بڑا مسلہ آکسیجن کی فراہمی کا ہے۔

    ہسپتالوں میں لاکھوں کی تعداد میں مریضوں کے داخل ہونے کے سبب آکسیجن کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حکومت نے صنعتی یونٹوں کو فراہم کی جانے والی آکسیجن کی مقدار محدود کر دی ہے تاکہ مریضوں کو مطلوبہ آکسیجن فراہم کی جا سکے۔

    آکسیجن کا مسئلہ ایک بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے اور ملک کے کئی علاقوں میں ویکسین کی قلت کی بھی خبریں ہیں۔

    اب تک مجموعی طور پر 566،52،38،12افراد کو کورونا ویکسین کے ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

    سب سے متاثرہ ریاست مہاراشٹر ہے لیکن اب ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بھی کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں یو پی ریاست میں تیس ہزار سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ دلی میں میں بھی صورتحال کافی نازک ہے جہاں یہاں پچیس ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آ ئے ہیں۔

    چوبیس گھنٹے کے لاک ڈاؤن کے بعد حکومت کچھ نئی پابندیاں نافذ کر سکتی ہے۔

  6. انڈیا میں کورونا کا پھیلاؤ: گذشتہ 24 گھنٹے سب سے ہلاکت خیز

    انڈیا میں کورونا کا پھیلاؤ: گذشتہ 24 گھنٹے سب سے ہلاکت خیز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹے کورونا وائرس کی ابتدا کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے ہیں اور 1625 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    گذشتہ روز انڈیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص بھی ہوئی ہے اور یہ تعداد دو لاکھ 75 سے بھی زیادہ رہی ہے۔

    ادھر دلی میں ایک دن میں سب سے زیادہ 25 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دلی میں ٹیسٹ ہونے والا ہر تیسرا شخص کورونا وائرس میں مبتلا ہے۔

    دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دہلی میں صورتحال بہت خراب ہے۔

    اتوار کے روز دارالحکومت نئی دہلی میں 161 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

  7. کورونا: پاکستان میں 5152 نئے مریض، مزید 73 اموات

    کورونا: پاکستان میں 5152 نئے مریض، مزید 73 اموات

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 5152 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 73 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 8.5 فیصد رہی جبکہ ملک میں کل 60 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔

    خیال رہے کہ این سی او سی کی جانب سے 21 اپریل کو 50 سے 59 سال کے افراد کے لیے ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

  8. ’نہ کمبھ میں، نہ رمضان میں کورونا ضوابط کا خیال رکھا گیا‘

    ’نہ کمبھ میں، نہ رمضان میں کورونا ضوابط کا خیال رکھا گیا‘

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے انڈیا میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نہ تو کمبھ کے میلے میں شرکت کرنے والے عقیدت مندوں نے اور نہ ہی رمضان کے دوران کورونا وائرس سے متعلق بنائے گئے قواعد و ضوابط کا خیال رکھا جا ریا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لیے گئے فیصلوں کے حوالے سے وہ مطمئن ہیں۔

    انھوں نے اس حوالے سے خبروں تردید کی کہ وفاق کی لاپرواہی کے باعث ہسپتالوں میں آکسیجن اور ادویات کی قلت ہوئی۔

    امت شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں جہاں بھی وائرس کی ایک کے بعد ایک لہر آئی ہے، وہ پہلی لہر سے زیادہ بڑی تھی لیکن حکومت نے اس حوالے سے درست اقدامات اٹھائے ہیں۔

  9. بلوچستان میں بھی پہلی سے آٹھویں جماعت تک کلاسیں عید تک بند رہیں گی

    کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین کے پیش نظر محکمہ تعلیم بلوچستان نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی تائید کردی ہے۔ اب صوبہ بلوچستان میں بھی 19 اپریل سے عید الفطر تک سکولوں میں پہلی تا آٹھویں جماعت تک کلاسز نہیں ہوں گی۔

    صوبائی وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند نے بتایا ہے کہ 9 ویں سے 12 ویں تک تعلیمی ادارے کل سے سخت کورونا ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فیصلے کے لیے وفاقی حکومت سے مشاورت کی گئی ہے۔

  10. پنجاب میں کورونا کے ساڑھے تین ہزار سے زائد نئے متاثرین، 97 ہلاکتیں

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 3562 نئے متاثرین سمنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں کورونا متاثرین کی کُل تعداد دو لاکھ 67 ہزار 572 ہو گئی۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کے مطابق کورونا وائرس سے صوبے میں مزید 97 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی کل تعداد 7430 ہوچکی ہے۔

    محکمہ صحت پنجاب نے آگاہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد دو لاکھ 16 ہزار 237 ہوگئی ہے۔

  11. پاکستان کو ریڈ زون ممالک کی فہرست میں ڈالنا، امتیازی سلوک ہے: شیریں مزاری

    وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈ زون ممالک کے فہرست میں ڈالنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے امتیازی سلوک قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا جیسے ممالک جہاں کورونا وائرس زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہاں نیا مہلک وائرس بھی موجود ہے، اس کے برعکس پاکستان اور پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں سےامتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

    شیریں مزاری نے پاکستان سے برطانیہ جانے والے افراد جو قرنطینہ میں ہیں، ان کی حالتِ زار پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بالکل شرمناک قرار دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے برطانیہ میں 10 دن لازمی قرنطینہ کے لیے فی شخص 1750 پاؤنڈ ادا کیے ہیں اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے کیونکہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    دوسری جانب وزیرِاعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے بھی قرنطینہ میں موجود روزے دارں کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مزید سوچ وچار اور دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

  12. پہلی سے آٹھویں جماعت تک سکول عید تک بند رکھنے کا اعلان

    پاکستان کے وفاقی وزیِر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین اور اموات کے پیشِ نظر پہلی سے آٹھویں جماعت تک سکول عید تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    شفقت محمود کے مطابق نویں سے بارہویں جماعت کےامتحانات نئی تاریخوں کے تحت ہوں گے اور امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان متعلقہ بورڈ کریں گے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ اضلاع کی یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسیں جاری رہیں گی۔

    شفقت محمود کے مطابق اے اور او لیول کےامتحان میں تاخیر یا منسوخی نہیں ہوگی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  13. پاکستان میں 21 اپریل سے 50 سے 59 برس کے افراد بھی ویکسین لگوا سکیں گے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    گذشتہ روز این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے بتایا کہ پاکستان میں اب 50 سے 59 برس کے افراد کو ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز 21 اپریل سے کیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ اب تک ملک میں سرکاری سطح پر صرف 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی تھی۔

    اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر مذکورہ افراد سے ویکسین لگوانے کے لیے اندراج کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

  14. کمبھ سے دلی لوٹنے والوں کے لیے 14 دن تک قرنطینہ لازمی قرار

    کمبھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا کے بڑھتی شرح کے پیش نظر دلی حکومت نے ہفتے کے روز ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ کمبھ سے واپس آنے والے تمام عقیدت مندوں کے لیے 14 دن تک گھر میں قرنطینہ کرنا لازمی ہو گا اور قواعد توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    حکم کے مطابق، جو لوگ چار سے 17 اپریل کے درمیان کمبھ میلے میں گئے ہیں انھیں دہلی حکومت کی ویب سائٹ پر 24 گھنٹوں کے اندر اپنی معلومات جیسے نام، پتہ، فون نمبر، آنے کی تاریخ ، اپ لوڈ کرنا ہوں گے۔

    اس کے علاوہ، جو افراد 18 اپریل سے 30 اپریل کے درمیان کمبھ جانے والے ہیں انھیں جانے سے پہلے ویب سائٹ پر معلومات دینا ہوں گی۔ اس سے حکومت کو ان کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔

    جو لوگ معلومات کو اپ لوڈ نہیں کرتے ہیں انھیں دو ہفتے کے لیے گورنمنٹ قرنظینہ سنٹر میں بھیجا جائے گا۔

    گذشتہ پانچ دنوں میں کمبھ میلے میں 1700 کورونا مثبت افراد پائے گئے ہیں۔ پروٹوکول کی خلاف ورزیاں جیسے ماسک نہ پہننا اور سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنا اس لاکھوں افراد کے مجمع میں دیکھا گیا ہے۔

    ہفتے کے روز دہلی میں 24 ہزار سے زیادہ نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔

  15. بریکنگ, کورونا وبا کے آغاز کے بعد سے پاکستان میں دوسرا سب سے زیادہ ہلاکت خیز دن، 149 اموات, 19 جون کے بعد سے پہلی مرتبہ نئے مریضوں کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث 149 اموات ہوئیں یہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے ملک میں دوسرا سب سے زیادہ ہلاکت خیز دن ہے۔

    اس سے قبل 19 جون کو پاکستان میں کورونا سے 153 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    گذشتہ روز ملک میں 19 جون کے بعد سے پہلی مرتبہ نئے مریضوں کی تعداد چھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور گذشتہ روز وائرس سے 6127 افراد متاثر ہوئے۔ یہ تیسرے لہر کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    گذشتہ روز ملک بھر میں 71836 ٹیسٹ کیے گئے اور مثبت کیسز کی شرح آٹھ اعشاریہ پانچ دو رہی۔

  16. دنیا بھر میں کووڈ19 سے ہونے والی ہلاکتیں تیس لاکھ سے تجاوز کر گئی

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں کووڈ19 سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے گزشتہ روز ہی خبردار کیا تھا کہ ’دنیا بھر میں اس مرض کے پھیلینے کی رفتار اس وقت سب سے زیادہ ہے۔‘ انڈیا میں، جو اس عالمگیر وبا کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہے، سنیچر کے روز کووڈ نائنٹین کے 230,000 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ جبکہ وبا شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً چودہ کروڑ افراد اس مرض سے متاثر ہو چکے ہیں۔

  17. کورونا وائرس: انڈیا میں ریکارڈ کیسز کے باوجود کمبھ میلہ جاری

    kumbh

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث ملک میں ریکارڈ کیسز اور اموات دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اب یہ تعداد یومیہ دو لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    اتراکھنڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک میں کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی کی وجہ جہاں وائرس کی برطانوی قسم کو قرار دیا جا رہا ہے وہیں اس وقت ریاست اتراکھنڈ میں کمبھ میلا بھی جاری ہے جہاں ہزاروں افراد بظاہر کووڈ 19 کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    hkumb

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  18. کورونا کے دور میں تبلیغی اجتماع غلط تو کمبھ کا میلہ ٹھیک کیوں؟

  19. انڈیا میں کورونا کی صورتحال: 2 لاکھ 34 ہزار سے زیادہ نئے مریض، 1341 اموات

    india corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں کورونا کے 2 لاکھ 34 ہزار 692 نئے کیس رپورٹ ہوئے اور کووڈ 19 کی وجہ سے 1341 افراد ہلاک بھی ہوئے۔

    مرکزی وزارت صحت نے اپنے یومیہ بلیٹن میں یہ معلومات دی ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1 لاکھ 23 ہزار 354 افراد اس مرض سے صحت یاب بھی ہوئے۔

    وزارت کے مطابق انڈیا میں کووڈ 19 کے باعث اب تک 1 لاکھ 75 ہزار 649 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    انڈیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد اب ایک کروڑ 45 لاکھ 26 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

  20. انڈین شہری چینی ویکسین لگوانے کے لیے نیپال کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟

    chinese vaccine

    ،تصویر کا ذریعہChinese Embassy Nepal

    رواں ہفتے بدھ کے روز نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے ایک ہسپتال کے ملازمین کو اس وقت حیرت ہوئی جب انھوں نے ہسپتال کے دروازے پر بڑے سوٹ کیس اور بیگ تھامے ہوئے ایسے افراد کو دیکھا جو کووڈ کی ویکسین لگوانے آئے تھے۔

    ہسپتال کے عملے کے مطابق جب ان لوگوں سے شناختی کارڈ دکھانے کو کہا گیا تو انھوں نے جواباً انڈین پاسپورٹ دکھایا۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر ساگر راج بھنڈاری نے بی بی سی نیپالی کو بتایا کہ ان لوگوں سے ہمیں معلوم ہوا کہ کووڈ ویکسین بھی اسی لگائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ان لوگوں نے مختلف طریقوں سے ہم پر دباؤ بھی ڈالا۔

    نیپال میں چینی سفارت خانے کی ویب سائٹ کے مطابق چین ان لوگوں کو ویزا دے رہا ہے جن کو چین میں تیار کی جانے والی ویکسین ملی ہے۔

    نیپالی عہدیداروں کو شبہ ہے کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے والے انڈین تاجر نیپال آ کر ویزا حاصل کرنے کے لیے چین میں تیار کی جانے والی ویکسین لینا چاہتے ہیں۔

    اگرچہ کوویشیلڈ اور کوویکسین کے تحت ایسٹرازینیکا ویکسین انڈیا میں تیار ہو رہی ہے اس کے علاوہ روسی ویکسین اسپوٹنک پن کو بھی ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ تاہم چینی ساختہ ویکسین ایسے دستیاب نہیں ہے جیسے دیگر ویکسینز لگائی جا رہی ہیں۔