یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
ہمیں اس خانہ جنگی کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لال اور نیلے کو آپس میں لڑواتی ہے: جو بائیڈن
جو بائیڈن حلف لے کر امریکہ کے 46ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل کملا ہیرس حلف اٹھا کر امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر بن گئیں۔ حلف اٹھانے کے بعد جو بائیڈن نے خطاب میں کہا کہ ان کا کام امریکہ کے مستقبل کو بچانا ہے اور اس کے لیے محض الفاظ نہیں بلکہ اقدامات درکار ہوں گے۔ انھوں نے چھ جنوری کو ہونے والے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس خانہ جنگی کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لال اور نیلے کو آپس میں لڑواتی ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جو بائیڈن بحیثیت امریکی صدر پہلی بار وائٹ ہاؤس میں داخل ہو گئے ہیں۔
اس موقع پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر حاضر ہیں، جنھوں نے جو بائیڈن کو نئے گھر میں خوش آمدید کرنے کی بجائے فلوریڈا جانے کا اعلان کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
اب آگے کیا ہوگا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
اپنے حلف اٹھانے کے بعد نئے امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس اس وقت امریکی کیپیٹل میں ہیں۔
جو بائیڈن نے اپنی کابینہ میں لوگوں کو نامزد کر دیا ہے۔ اس کے بعد بائیڈن اور ہیرس روایت کے مطابق کیپیٹل کی عمارت کے باہر فوجی دستوں کا جائزہ لیں گے۔
صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ جِل بائیڈن سابق صدور اوباما اور بُش کے ہمراہ نیشنل سیمٹری جائیں گے۔
انھیں امریکی فوج کے اہلکار وائٹ ہاؤس لے جائیں گے۔ انھیں گارڈ آف آنر دیا جائے گا۔
کملا ہیرس، جو کہ اب امریکی سینیٹ کی نئی صدر بھی ہوں گی، تین نئے سینیٹرز کی تقریب حلف برداری میں حصہ لیں گی۔
اس سے امریکی ایوان بالا میں ڈیموکریٹ پارٹی کی موجودگی بڑھ جائے گی۔
سابق صدر ٹرمپ کی فلوریڈا آمد

،تصویر کا ذریعہReuters
صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری شروع ہونے سے کچھ دیر قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا پہنچ گئے جہاں ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
ان کے ہاتھوں میں بینرز تھے جس پر درج تھا ’میرا صدر‘ اور ’ٹرمپ کی جیت‘۔
اپنی صدارت کے آخری چند منٹ انھوں نے فلوریڈا کے پام بیچ ک علاقے میں موجود اپنے گالف کورس اور ریزورٹ ’مار اے لاگو‘ میں گزارے۔
اب وہ ایک نجی شہری بنگئے ہیں لیکن چند روز قبل امریکی کانگریس میں قانون سازوں نے ان کے خلاف مواخذے کی قرار داد منظور کی تھی اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں سینیٹ میں ان کا ٹرائل شروع ہو گا۔
یہ دوسرا موقع ہے جب وہ اس ٹرائل سے گزریں گے۔

،تصویر کا ذریعہreu
بورس جانسن: امریکہ ایک قدم آگے بڑھ گیا
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ امریکہ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ صدر بائیڈن اور نائب صدر ہیرس کی تقریب حلف برداری سے امریکہ ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ امریکہ اور برطانیہ دونوں کے لیے اہم لمحہ ہے کیونکہ دونوں کا ’مشترکہ ایجنڈا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ برطانیہ یہ امید کرتا ہے کہ امریکہ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر برطانیہ کے ساتھ کام کرے گا۔
گذشتہ برسوں کے دوران بورس جانسن پر ٹرمپ کے ساتھ ’قریبی تعلقات‘ ہونے پر ان پر تنقید کی گئی تھی۔
اپنے بیانات میں وہ ٹرمپ کی تعریف کرتے بھی دکھائی دیے تھے۔
اموات کے لحاظ سے کورونا کا موازنہ دوسری عالمی جنگ سے صحیح ہے؟, ریئلٹی چیک

،تصویر کا ذریعہReuters
حلف لینے کے بعد نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے دوسری عالمی جنگ میں ہونے والی اموات کا موازنہ عالمی وبا سے کیا ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک امریکہ میں کووڈ 19 سے 402400 اموات ہوئی ہیں۔
تاہم اس حوالے سے یہ واضح نہیں کہ کتنے امریکی شہری دوسری عالمی جنگ میں مارے گئے تھے۔ اندازوں کے مطابق اس جنگ میں 407000 امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔
امکان ہے کہ امریکہ میں آئندہ ہفتے عالمی وبا سے کل اموات کی تعداد اس سے زیادہ ہوجائے گی۔
گذشتہ ہفتے امریکہ میں کووڈ 19 سے تین ہزار اموات ہوئیں اور ہلاکتوں کی یہ تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔
جو بائیڈن کے لیے عمران خان کا پیغام
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے بعد ان کے لیے ایک خصوصی پیغام ٹوئٹر پر جاری کیا ہے۔
بریکنگ, ’جس بحران کا سامنا کر رہے ہیں اس میں وقت ضائع کرنے کی بالکل گنجائش نہیں ہے‘
X پوسٹ نظرانداز کریں, 1X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
جو بائیڈن نے صدر کا حلف اٹھانے کے بعد امریکی صدر کے باضابطہ ٹوئٹر اکاؤنٹ کا بھی کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اپنی پہلی ٹویٹ میں انھوں نے عہد کیا ہے کہ وہ ’امریکی خاندانوں کی مشکلات آسان کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں گے۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’ہم جس بحران کا سامنا کر رہے ہیں اس میں وقت ضائع کرنے کا بالکل گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے میں فوراً اوول آفس (صدارتی دفتر) جا رہا ہوں۔۔۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریں, 2X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
نائب صدر کملا ہیرس نے بھی نائب صدر کے اکاؤنٹ سے پہلی ٹویٹ کی اور لکھا: ’خدمت کے لیے تیار۔‘
بائیڈن نے ایک بار بھی ٹرمپ کا نام لے کر ان پر تنقید نہیں کی, جون سوپل، بی بی سی
اپنے خطاب کے دوران نئے امریکی صدر جو بائیڈن ایک مشکل راستے پر چل رہے تھے۔
وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کرنا چاہتے تھے لیکن انھوں نے ایک بار بھی ٹرمپ کا نام نہ لیا۔
وہ ٹرمپ کے حامیوں سے اپیل کر رہے تھے اور انھیں باور کرا رہے تھے کہ اب امریکہ ان کی انتظامیہ چلائے گی۔
انھوں نے کہا کہ وہ اس خانہ جنگی کا خاتمہ چاہتے تھے۔
جب بائیڈن وائٹ ہاؤس میں داخل ہوں گے تو ملک کو کئی مشکلات درپیش ہوں گی اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ امریکی لوگ تقسیم ہوچکے ہیں۔
یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وہ کیسے امریکیوں کو متحد کرتے ہیں۔
’اس خانہ جنگی کو ختم کرنا ہوگا جو لال کو نیلے کے خلاف لڑواتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
جو بائیڈن، امریکہ کے نئے صدر، نے اپنے خطاب کے دوران پوچھا کہ ’امریکہ میں تمام افراد کو کن چیزوں سے محبت ہے؟‘
اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’مواقع، سکیورٹی، آزادی، عزت و احترام، وقار اور سچائی۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن کی صدارتی جیت کو انتخابی دھاندلی کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ لیکن اب بائیڈن نے کہا ہے کہ ’سچ اور جھوٹ میں فرق ہوتا ہے۔ جھوٹ طاقت اور مفاد کے لیے بولے جاتے ہیں۔‘
’ہمیں اس خانہ جنگی کو ختم کرنا ہوگا جو سرخ کو نیلے کے خلاف لڑواتی ہے۔‘ یہاں سرخ سے مراد ریپبلکنز اور نیلے سے مراد ڈیموکریٹس ہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ رائے کی بنیاد پر لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہیے۔
امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن کن مسائل پر فکر مند؟, انتھونی زرچر، بی بی سی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن کے لیے یہ کام آسان نہ ہوگا۔
صدر کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے عالمی وبا، بے روزگاری، ماحولیاتی تبدیلی، تمام نسلوں کے لیے انصاف کی عدم فراہمی اور سیاست میں انتہا پسندی جیسے مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔
لیکن انھوں نے اس خطاب میں اتحاد پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اتحاد کے بغیر صرف نفرت رہتی ہے۔ آج یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔‘
’مجھے یہ نہ کہو حالات نہیں بدل سکتے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ’ہمیں نفرت ختم کرنی ہوگی اور اس درجہ حرارت کو کم کرنا ہوگا۔۔۔ اتحاد کے بغیر امن کا حصول ممکن نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اتحاد سے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘
انھوں نے نائب صدر کملا ہیرس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’108 برس قبل خواتین مظاہرین کو ووٹ کے حق پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘
’آج امریکی تاریخ کی پہلی خاتون نائب صدر نے حلف اٹھایا ہے۔۔۔ مجھے یہ نہ کہو کہ حالات نہیں بدل سکتے۔‘
امریکہ کے نئے صدر کا بیان: ’ہمیں متحد رہنا ہوگا‘

،تصویر کا ذریعہReuters
تقریب حلف برداری کے موقع پر امریکہ کے نئے صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر رکاوٹ کو شکست دیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کا کام امریکہ کے مستقبل کو بچانا ہے۔ ’اس کے لیے محض الفاظ نہیں بلکہ اقدامات درکار ہوں گے۔‘
’جمہوریت میں اس کے لیے سب سے ضروری اتحاد ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو عناصر ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ طاقتور ہیں لیکن وہ کوئی نئے نہیں۔‘
جو بائیڈن: جمہوریت کی جیت ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ اس سے ’جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔‘
’یہ دن امریکیوں کا ہے۔ یہ دن جمہوریت کا ہے۔ یہ تاریخی دن اپنے ساتھ امید لایا ہے۔
’امریکہ کو مشکلات درپیش ہوئیں لیکن شہریوں نے اس چیلنج کا مقابلہ کیا۔ آج ہم ایک امیدوار کی جیت نہیں بلکہ جمہوریت کی جیت منا رہے ہیں۔‘
بائیڈن نے کہا کہ ایک پُرتشدد واقعے نے کیپیٹل کی بنیایں ہلا دیں۔
’ہم نے پھر سیکھا کہ جمہوریت اہم ہے۔ یہ کمزور ہے۔۔۔ لیکن ہم ایک قوم بن کر اکٹھے ہوئے ہیں۔ ہم نے گذشتہ دو دہائیوں کی طرح طاقت کی پُرامن منتقلی کو یقینی بنایا ہے۔‘
جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری: بی بی سی کی خصوصی نشریات
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
بائیڈن نے صدارت کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے سنہ 1987 اور سنہ 2008 کے صدارتی انتخاب اس آفس کا امیدوار بننے کی کوشش تھی۔ مگر ان دونوں کوششوں کے برعکس سنہ 2020 میں بائیڈن ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ اس دوڑ کے آغاز میں اگرچہ 77 سالہ بائیڈن کو آیووا کاکس اور نیو ہیمپشائر میں ناکامی جیسی رُکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر ’سپر ٹیوزڈے‘ کو ان کی مشکلات آسان ہو گئیں، جب 14 ریاستوں میں انھیں کامیابی مل گئی۔
جہاں تک صدارتی مہم کی بات ہے تو رپبلکن امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بائیڈن کی مہم ’پھیکی‘ تھی لیکن انھوں نے خود کو کورونا کی وبا کے دوران ایک ایسے ذمہ دار امیدوار کے طور پر پیش کیا جو وبا کی وجہ سے محتاط تھا۔
بریکنگ, نئی امریکی نائب صدر نے حلف اٹھا لیا

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں نومنتخب نائب صدر کملا ہیرس نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ ڈیموکریٹ سینیٹر ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں جو بائیڈن کے مخالف تھیں تاہم بائیڈن نے اپنے انتخاب کے بعد کملا کو اپنے نائب کے طور پر چن لیا تھا۔
کملا ہیرس صرف پہلی خاتون نائب صدر ہی نہیں بلکہ ان کے والدین کے جمیکا اور انڈیا سے تعلق کی وجہ سے وہ پہلی غیرسفید فام شخصیت بھی ہیں جو امریکہ کی نائب صدر بن رہی ہیں۔
کملا ہیرس کی والدہ انڈیا جبکہ والد جمیکا میں پیدا ہوئے تھے۔
وہ ریاست کیلی فورنیا کی سابق اٹارنی جنرل بھی رہ چکی ہیں اور وہ نسلی تعصب کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کے نظام میں اصلاحات کی بھی حامی رہی ہیں۔
بریکنگ, لیڈی گاگا نے تقریب میں امریکی قومی ترانہ گایا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معروف گلوکارہ لیڈی گاگا تقریب میں امریکہ کا قومی ترانہ گانے پہنچ گئی ہیں۔ گذشتہ برس انھوں نے جو بائیڈن کی صدارتی مہم میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی تھی اور ان کا اس تقریب میں ترانہ پڑھنے پر کہنا تھا کہ ’یہ میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔‘
تقریبِ حلف برداری: کووڈ 19 کی وجہ سے ہجوم کی اجازت نہیں, نِک برائنٹ، بی بی سی
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
رونلڈ ریگن وہ پہلے امریکی صدر تھے جن کی تقریبِ حلف برداری کیپیٹل ہِل کی عمارت کے سامنے ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے نئے آنے والے امریکی صدور نے یہیں پر اپنی تقاریب رکھی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہاں ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد کے جمع ہونے کے لیے جگہ موجود ہوتی ہے۔
تاہم اس مرتبہ عام لوگوں کو یہاں مدعو نہیں کیا گیا بلکہ قانون ساز، نومنتخب صدر کا خاندان اور ان کے دوست یہاں موجود ہیں۔
حکام نے لوگوں کی جانب سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے ہیں۔
بائیڈن کی ٹیم چاہتی ہے کہ یہ کوئی ’سپر سپریڈر‘ تقریب نہ ہو جس میں کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
لوگوں کی جگہ اس میدان میں امریکہ کے جھنڈے دیکھے جاسکتے ہیں۔
بریکنگ, جو بائیڈن، کملا ہیرس مرکزی سٹیج پر پہنچ گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
حلف برداری کی تقریب اب کچھ ہی لمحات میں شروع ہونے والی ہے اور جو بائیڈن اور کملا ہیرس دونوں ہی مرکزی سٹیج پر آ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہget
