یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
کورونا وائرس سے متعلق بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج جاری ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین صورتحال اور دنیا بھر کے خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔
کورونا وائرس سے متعلق بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج جاری ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین صورتحال اور دنیا بھر کے خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی سندھ خرم شیر زمان میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔
انھوں نے یہ بات ایک ٹویٹ میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہ طبیعت کی ناسازی کے باعث گذشتہ پانچ روز سے قرنطینہ میں تھے تاہم آج جب انھوں نے ٹیسٹ کروایا تو وہ مثبت آیا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل آج کے روز ہی پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی احسن اقبال، تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی فرخ حبیب، بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ثنا جمالی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکنِ قومی اسمبلی اسامہ قادری میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہWHO
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں شرح اموات چار اعشاریہ دو فیصد ہے جو کہ تمام صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
خیال رہے کہ اب تک صوبے میں 619 اموات ہو چکی ہیں۔
گلگت بلستان کے محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خطے میں مزید 44 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے بعد گلگت بلستان میں مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس وقت صحت پانے والے افراد کی مجموعی تعداد 633 ہو چکی ہے جبکہ زیر علاج مریضوں کی تعداد 371 ہے جبکہ 14 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
گلگت بلستان محکمہ صحت کے مطابق گلگت بلستان کے 14 میں سے دس اضلاع متاثر ہیں۔
مجموعی طور پر 10389 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے ابھی بھی 310 کے نتائج کا انتظار ہے۔
صحافی محمد زبیر کے مطابق گلگت بلستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق ہمیں محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ گلگت بلستان میں صورتحال اب زیادہ اچھی نہیں رہی ہے۔
ٹیسٹنگ وسائل بھی کم ہیں جس وجہ سے صرف مخصوص ٹیسٹ اور ایسے لوگوں کے ٹیسٹ ہی کیے جاتے ہیں جن میں کوئی علامات ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب حالات یہ ہیں کہ گلگت بلستان حکومت مزید اقدامات کے بارے میں سوچ رہی ہے مگر راستے میں وسائل آڑے آ رہے ہیں۔
’وفاق کے ساتھ رابطے میں ہیں کہ وہ اس صورتحال میں گلگت بلستان کے لیے کوئی اقدامات کرے۔‘
فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے ہمیں وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر ابھی تک عملی اقدامات کا انتظار ہے۔
’اس وقت ہماری فوری ضروریات میں ایک اور لیبارٹری، حفاظتی سامان کی قلت کا سامنا فی الفور طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان کی ضرورت ہے جبکہ ہمارے پاس اس وقت انسانی وسائل اور عملہ بھی بہت کم ہوچکا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHealth Dept. Balochistan
رقبے کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں کورونا وائرس کے 304 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 7335 ہو گئی ہے۔
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کورونا سے مزید 11 افراد کی ہلاکت کے ہلاکت بھی ہوئی ہے جس سے اموات کی مصدقہ تعداد 73 ہو گئی ہے۔
بلوچستان میں اب تک کسی دن کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

،تصویر کا ذریعہHealth Dept. Balochistan
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 10جون کو کورونا کے1025 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے304 پازیٹو آئے۔
یعنی گذشتہ روز صوبے میں انفیکشن ریٹ 29 اعشاریہ چھ رہا۔
صوبے میں اب تک کورونا وائرس سے اب تک 2596 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔
برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کورونا وائرس پر ہونے والی روزانہ کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ’خود کو پرکھنا قبل از وقت ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ میں آپ کو یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ ہمیں اب وائرس کے متعلق جنوری، فروری اور مارچ سے بھی بہت زیادہ معلوم ہے۔‘
’آپ کو احتیاط سے چلنا چاہیئے اور یہی ہم کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت نے دوکانوں، سپورٹ پببلز اور نجی عبادت کے متعلق معقول اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اپنا روڈ میپ جای رکھیں گے، ہم اپنے منصوبوں کے مطابق چلیں گے اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ سب ہدایات پر عمل کریں گے، جس میں ہاتھ دھونا اور محتاط رہنا بھی شامل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہM.A. Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کے مطابق بدھ کے روز مزید 44 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 488 ہوگئی ہے۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق میرہور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے والے 23 افراد کا تعلق میرپور ڈویژن سے ہے جن میں 7 کا تعلق میرپور، 9 کا بھمبر اور 7 کا کوٹلی سے ہے۔
ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 15 افراد کا تعلق دارالحکومت مظفرآباد سے ہے۔
ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد جرال کے مطابق کورونا سے متاثر 6 افراد کا تعلق راولاکوٹ سے ہے۔
حکام کے مطابق مزید دو افراد صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 219 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 9573 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گے ہیں جس میں 53 کے نتیجہ آنا باقی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی اور قدغنوں کی غیریقینی صورتحال کے درمیان بیشتر تعلیم یافتہ نوجوانوں کئی سال سے زرعی شعبے میں نئے تجربات کرکے روزگار کے نئے وسائل پیدا کرنےکی جدوجہد میں مصروف تھے۔
سٹرابیری اور پھولوں کی کاشت کشمیر میں نو ہزار کروڑ روپے کے حجم وانی باغبانی صنعت کا اہم حصہ ہے۔
ابھی یہ صنعت پروان چڑھ ہی رہی تھی کہ حالات نے نوجوانوں کے حوصلے پست کردئے اور اب دو ماہ سے جاری لاک ڈاوٴن نے روزگار کی خاطر نئے تجربے کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کردی ہے۔
سری نگر سے یہ ڈیجیٹل رپورٹ دیکھیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کسی وبا کے پھوٹنے کی صورت میں ہمیں اپنی ان تمام عادتوں میں سے جو ہمیں دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں، کے بارے میں متفکر ہونا چاہیے۔
جانداروں کی دوسری تمام انواع میں صرف انسانوں کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ غیرارادی طور پر اپنے جسم کو چھوتے ہیں۔
اور انسان کی یہی عادت کورونا وائرس (کووِڈ 19) کی وبا کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔
ہم ایسا کیوں کرتے ہیں، اور اس غیرارادی فعل کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 679 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس سے یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
صوبے اموات کی کل تعداد 619 ہے جبکہ اب تک 3771 افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز صوبے میں 3121 ٹیسٹ کیے گئے جس کے اعتبار سے کل صوبے میں انفیکشن ریٹ یعنی مثبت ٹیسٹوں کی شرح 21 اعشاریہ سات رہی۔
صوبے میں اب تک کل 87528 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور یہاں مجموعی انفیکشن ریٹ 17 اعشاریہ تین فیصد ہے جبکہ اموات کی شرح چار فیصد ہے۔

،تصویر کا ذریعہKhadim Hussain
سندھ پیرا میڈیکس ایسوسی ایشن کی کال پر سندھ بھر کے ہسپتالوں کی جانب سے بدھ کے روز دو گھنٹے کی علامتی ہڑتال کی گئی۔
سندھ پیرا میڈیکس کے صدر خادم حسین کے مطابق 11 جون کو سندھ بھر کے ہسپتالوں میں او پی ڈیز (شعبہ بیرونی مریضاں) میں مکمل ہڑتال کی جائے گئی۔
صحافی محمد زبیر سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خادم حسین کے مطابق پورے صوبے میں اس وقت او پی ڈی، ایمرجنسی اور وارڈز چل رہے ہیں جہاں پر ہمارے پیرا میڈیکس خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن وہ بغیر حفاظتی لباس کے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKhadim Hussain
انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ہمارے خاندان، گھر والے اور بچے بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
’کسی کو کچھ پتا نہیں ہوتا کہ کون کورونا کا مریض ہوتا ہے۔ دیکھا تو یہ جارہا ہے کہ کورونا کے علاوہ دیگر امراض کے لیے جو لوگ ہسپتال آتے ہیں عموماً وہ لوگ بھی کورونا پازئیٹو ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKhadim Hussain
’ہمارا پیرا میڈیکس سٹاف بغیر حفاظتی لباس کے ای سی جی، ایکسرے اور دیگر خدمات فراہم کرتے ہیں جس پر ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔‘
خادم حسین کا کہنا تھا کہ اسی طرح حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ تمام پیرا میڈیکس سٹاف کو صحت اور خطرے کا الاوئنس دیا جائے مگر ہمیں کہا گیا ہے کہ خطرے کا الاوئنس صرف ان کو ملے گا جو کورونا وارڈز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKhadim Hussain
’ہم تو کہتے ہیں جو کورونا وارڈز میں خدمات انجام دے رہے ہیں ان کو دگنا دو مگر جو ان حالات میں ہسپتالوں میں اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر خدمات انجام دے رہے ہیں ان کو بھی ان کا حق دو۔‘
بی بی سی اردو کی جانب سے آج کورونا وائرس پر آپ کے سوالات کا جواب دینے اور پاکستان کی تازہ ترین پیش رفت پر تجزیہ کرنے کے لیے زوم کے ذریعے لائیو بحث کا انعقاد کیا گیا۔
اس ویڈیو کو آپ یوٹیوب پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اگر آپ کے بھی کورونا وائرس کے متعلق سوالات ہوں تو آپ ہمارے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کے کمنٹس سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں جن کا جواب دینے کی اگلے زوم لائیو میں کوشش کی جائے گی۔
اب سے کچھ دیر بعد آپ ہمارے لائیو پیج پر معمول کی کوریج دیکھ سکیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سید ناصر شاہ کا سوال ہے کہ پاکستان میں یہ حالات کب تک قابو میں آ جائیں گے؟
عالمی ادارہ صحت نے یہ کہہ رکھا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بیماری کبھی نہ ختم ہو اور ہمیں اس کے ساتھ رہنا سیکھنا پڑے، دوسری جانب ویکسین اور ادویات پر کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ ویکسین کی عام دستیابی تک اس وبا کا زور نہیں ٹوٹ پائے گا۔
مثال کے طور پر پولیو کی ویکسین موجود ہے اور دنیا کے کئی ممالک سے یہ مرض ختم ہو چکا ہے لیکن اب بھی پاکستان سے کئی پولیو متاثرین ہر سال اس لیے سامنے آتے ہیں کیونکہ اب تک ہر کسی کو یہ ویکسین نہیں دی جا سکی ہے۔ اس لیے جب تک ایسے لوگ موجود رہیں گے جن میں کورونا کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہ ہو یا انھیں ویکسین نہ لگ چُکی ہو، تب تک ہم نہیں یہ کہہ سکتے کہ اس وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مئی کے وسط میں سپین سے جن تین پاکستانیوں کی لاشیں واپس لائی گئی ہیں ان میں سے ایک کا نام اقبال حسن تھا۔ ان کے بھانجے محمد وقاص نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ماموں بارسلونا میں گھروں کو کرائے پر دینے کے کاروبار سے منسلک تھے۔
وقاص نے بتایا کہ اُن کے ماموں کی میت پاکستان لانے کے لیے خاندان کو تقریباً ڈھائی ماہ تک انتظار کرنا پڑا۔
وقاص کے مطابق ان کے ماموں کو کئی دنوں سے نزلہ اور زکام تھا جس میں شدت آگئی اور اس کے چند دنوں کے بعد اُن کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ ہسپتال منتقل ہونے کے ایک ہفتہ بعد 22 مارچ کو اقبال حسن کا انتقال ہو گیا۔
واضح رہے کہ اس وقت ہر ملک اپنے مطابق کورونا وائرس سے نمٹنے کے قوانین بنا رہا ہے، جن میں سے بیشتر ممالک ایسے ہیں جہاں اب تک میتیں لانے یا وہاں سے لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
کچھ روز پہلے تک پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا تھا جو کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی میتیں وطن واپس لانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔
اس حوالے سے پاکستان میں کیا طریقہ کار ہے، اس رپورٹ میں جانیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابر شاہ نے سوال پوچھا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بغیر خود کو اور اپنے گھر والوں کو کیسے محفوظ رکھیں؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق
اس حوالے سے مزید یہاں پڑھیے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خلیق اسرار کا سوال ہے کہ عام آدمی کو اگر اپنے اندر کورونا کی علامات نظر آئیں اور اگر وہ ٹیسٹ نہ کرنا چاہے تو اسے کون سی دوا استعمال کرنی چاہیے؟
اگر آپ کو اپنے اندر کورونا کی علامات محسوس ہوتی ہیں تو سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ گھر پر کوئی بھی دیسی علاج کرنے یا خود سے کوئی دوائی لینے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اپنا کورونا کا ٹیسٹ کروائیں۔
یہاں پڑھیے کہ پاکستان میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے کون کون سے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ان کی اہمیت اور قیمت کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چار مئی کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، جو کووڈ-19 نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے خصوصی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سے او سی) کی سربراہی بھی کر رہے ہیں، نے اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ دی۔
وبا سے مقابلے میں حکومتی حکمت عملی کے روح رواں سمجھے جانے والے اسد عمر نے اس پریس بریفنگ میں بتایا کہ گذشتہ چند دنوں میں پاکستان میں کورونا وائرس سے اوسطاً 24 یومیہ اموات سامنے آئی ہیں اور یہ تعداد اسی تناسب سے بڑھتی گئی تو ایک ماہ میں 720 اموات ہو سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ انھوں نے کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کا موازنہ پاکستان میں ٹریفک حادثوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی اوسط تعداد سے کیا اور منطق یہ دی کہ اوسطاً ساڑھے چار ہزار افراد کی ان حادثوں میں ہلاکت کے باوجود گاڑیوں کو سڑک پر چلنے کی اجازت ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو معاشرہ اور انسان زندگی پر اس کے بھاری اثرات پڑ سکتے ہیں جس کے باعث لوگ ایسا خطرہ لینے پر مجبور ہیں۔
اُس روز تک پاکستان میں مجموعی 21 ہزار متاثرین کی شناخت ہوئی تھی اور 486 افراد کووڈ 19 کے مرض سے ہلاک ہو چکے تھے۔ تاہم اگلے 27 دنوں بعد یہ تعداد بڑھ کر 72 ہزار سے زیادہ متاثرین اور 1543 اموات تک جا پہنچی تھی۔
وفاقی وزیر کے بیان کو اگر مئی کے 31 دنوں میں سامنے آنے والے مجموعی اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان میں آنے والے دنوں میں آثار اچھے نظر نہیں آتے۔
حکومت نے گذشتہ دو ماہ میں مختلف مواقع پر ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے عروج کے بارے میں الگ الگ تاریخیں دی۔
آخری بار پھر این سی او سی کے 30 مئی کو ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کووڈ 19 کی وبا کا عروج 15 جولائی کو ہوگا تاہم ٹوئٹر پر کی گئی یہ پوری تھریڈ بعد میں بغیر کسی وضاحت کے حذف کر دی گئی۔
اس حوالے سے ہماری تفصیلی رپورٹ یہاں پڑھیے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ نے کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کے خون سے اس مرض میں مبتلا مریضوں کا علاج کرنے سے متعلق کوششیں تیز کردی ہیں۔
برطانوی محکمہ صحت کے بلڈ ٹرانسپلانٹ کے ادارے نے کووڈ-19 سے شفایاب ہونے والوں سے خون کا عطیہ دینے کا کہا ہے تاکہ وہ ٹرائل کر کے اندازہ لگا سکیں کہ یہ کس حد فائدہ مند ہے۔
یہ امید کی جا رہی ہے کہ کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی اینٹی باڈیز اب دوسرے مریضوں سے اس وائرس کے خاتمے کی وجہ ہو گی۔
امریکہ نے پہلے ہی 1500 سے زائد ہسپتالوں میں اس بڑے تحقیقاتی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔
برطانوی محکمہ صحت کے خون کے عطیات لینے والی تنظیم نے اب ایسے افراد سے رابطہ شروع کردیا ہے جو اس وائرس سے صحتیاب ہوئے ہیں تاکہ یہ تجربہ کیا جا سکے کہ پلازمہ سے کورونا کے مریضوں کا علاج ممکن ہے یا نھیں۔
ایک بیان میں تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ہماری رائے میں کووڈ-19 کے ممکنہ علاج کے طور پر پہلے تجرباتی بنیادوں پر اس کا استعمال عمل میں لایا جائے گا۔
اگر اس کی منظوری دے دی جاتی ہے تو پھر ٹرائل میں اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا اس وائرس کے صحتیاب ہونے والوں کے پلازمہ سے کووڈ-19 کے مریضوں کے جلد صحتیاب ہونے اور بچنے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے پاکستان میں بھی پلازمہ تھیراپی کے بارے میں کوششیں جاری ہیں اور اس میں کراچی کے قومی ادارہ برائے امراضِ خون اور نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے درمیان تعاون جاری ہے۔
اس بارے میں مزید یہاں جانیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی سے کشمالہ کا سوال ہے کہ کورونا وائرس کے دور میں گھر سے کام کرنا کب تک جاری رہے گا؟
اس سوال کا انحصار آپ کی کمپنی پر ہے مگر حکومت کی گائیڈ لائینز کے مطابق جہاں تک ممکن ہو وہاں تک گھروں سے کام کرنا چاہیے تب تک کہ جب تک کہ لاک ڈاؤن مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان نہیں کر دیا جاتا اور کام کی جگہیں مکمل طور پر محفوظ قرار دے کر کھول نہیں دی جاتیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی سے رُشنا کا سوال ہے کہ پاکستان اور پاکستان سے باہر کا سفر محفوظ ہونے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، یہاں پر سیاحت اور سفر کے حوالے سے ایس او پیز موجود ہیں مثلاً گلگت بلتستان کی حکومت نے 8 جون سے مزید دو ہفتوں کے لیے سیاحت پر پابندی عائد رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کہ اُن کے صوبے کے لیے اس حوالے سے فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
اس کے علاوہ کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل بتاتے ہیں کہ چند دن قبل کراچی کے قریب حب ریور ڈیم پر کئی لوگ پکنک منانے گئے جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے۔ انھوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کی طرف سے سیاحت یا مذہبی سیاحت مثلاً عرس وغیرہ کی بھی اجازت نہیں دی گئی ہے اور سماجی دوری کے ضوابط اب تک قائم ہیں۔
بہتر یہی ہوگا اور حکومتی پالیسی بھی یہی ہے کہ اگر آپ کو بہت ضروری کام نہیں ہے یا کوئی ایسی چیز درپیش ہے جو مؤخر کی جا سکتی ہے، تو بلاضرورت سفر نہ کیا جائے۔
بہرحال ہر انسان کے نزدیک ضروری اور غیر ضروری سفر کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے اس لیے احتیاط میں ہی بہتری ہے۔ اور اگر غیر ملکی سفر کی بات کی جائے تو ایسا کوئی بھی سفر کرنے سے قبل اُس ملک کے لاک ڈاؤن اور غیر ملکی مسافروں سے متعلق قواعد کا مطالعہ کر لینا آپ کے لیے لازمی ہوگا کیونکہ کئی ممالک نے غیر ملکی شہریوں پر سفری پابندیاں یا لازمی قرنطینے کے ضوابط عائد کر رکھے ہیں۔