آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اب امریکی صدر ٹرمپ کا روزانہ کورونا ٹیسٹ ہوگا:وائٹ ہاؤس
دنیا میں کورونا وائرس سے 38 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ دو لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ جرمنی کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے چین کی کسی لیبارٹری میں بنائے جانے کے الزامات مشکوک ہیں اور یہ امریکہ کی بیماری سے نمٹنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نھیں کیا جا رہا
کورونا وائرس کی وباء آخر کب ختم ہو گی؟
کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں:
مشرق وسطیٰٰ میں کورونا وائرس کیسے پھیلا؟
بی بی سی نے ایک تحقیق کی ہے کہ کس طرح ایک ایرانی ایئر لائن ماہان ایئر نے مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 پھیلانے میں کردار ادا کیا اور متعدد ممالک کی جانب سے پابندی کے باوجود اپنی پروازوں کو جاری رکھا۔
سعودی عرب میں لوگ اس سال رمضان کیسے گزار رہے؟
سعودی عرب میں رمضان کے دوران مساجد اور افطار کے اجتماع بند ہیں اور لوگوں کو گھروں میں نماز ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔ لوگ اس سال رمضان کیسے گزار رہے ہیں، جوبیل شہر میں مقیم ایک پاکستانی شہری ہمیں دکھا رہے ہیں اس ویڈیو میں۔
'راتوں رات لاک ڈاؤن میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں ہو سکتی'
بی بی سی کے بین رائٹ کی جانب سے لاک ڈان میں تبدیلیوں کے حوالے سے پوچھا کہ کیا حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام کو واضح پیغام دیا جائے۔ اس موقع پر انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ کہ کیا ویلش حکام کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیوں کی توقع انگلینڈ میں بھی کی جائے۔
اس سوال کے جواب میں بریفنگ کے دوران وزیر ماحولیات نے اپنے ابتدائی کلمات کو دوہرایا اور کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ لوگ حالیہ پابندیوں پر بینک ہالی ڈے تک کاربند رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو وزیراعظم اس حوالے سے روڈ میپ ترتیب دیں گے۔
تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ راتوں رات کوئی ڈرامای تبدیلیاں نہیں ہوں گی اور حکومت اس ضمن میں بہت احتیاط سے کام لے گی۔
وزیر ماحولیات جارج یوسٹس نے کہا کہ چاروں اقوام مل کر کام کر رہی ہیں اور کوشاں ہیں کہ ایک جیسا نکتہ نظر اپنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
ضرورت مندوں کی خوراک کے لیے فنڈ کا اعلان
برطانوی وزیر ماحولیات نے اعلان کیا کہ حکومت ایک کروڑ ساتھ لاکھ پاؤنڈ فنڈ کورونا کی وجہ سے خوراک کی کمی کا سامنا کرنے والوں کے لیے مختص کر رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت اگلے 12 ہفتوں میں لاکھوں افراد کو خوراک فراہم کی جائے گی۔ اس ضمن میں حکام کی مدد فلاحی امور سرانجام دینے والے ادارے کریں گے۔
صرف انگلینڈ میں کم ازکم 5000 چیریٹیز کو بھی اس کیش رقم سے فائدہ ہو گا جو 750 ملین پاؤنڈ ہے اورجس کا اعلان چانسلر رشی سونک نے آٹھ اپریل کو کیا تھا۔
بریکنگ, اٹلی: 30 ہزار ہلاکتوں کے ساتھ کورونا کا تیسرا بڑا شکار
اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 30201 تک پہنچ چکی ہے۔
امریکہ اور برطانیہ اس کے علاوہ دو ہی ممالک ہیں جہاں اس وبا کی وجہ سے 30 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
امریکی نائب صدر کے معاون میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص
امریکہ میں حکام کے مطابق امریکی صدر کے ایک معاون کے بعد اب ملک کے نائب صدر مائیک پنس کے ایک معاون میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ایک روز پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی معاون کے بارے میں بھی اسی طرح کی خبر آئی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سٹاف کا اب ہفتے وار کی بجائے روزانہ ٹیسٹ ہو گا۔
جمعہ کو مائیک پنس آئیووا جا رہے تھے جھاں انپوں نے مذہبی رہنماؤں سے عبادت گاہوں کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں بات چیت کرنی ہے۔
برطانیہ میں ایک روز میں کورونا کی تشخیص کے لیے 97029 ٹیسٹ
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں روزانہ کی بنیاد پر ایک روز میں 97000 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ ہوئے ہیں۔
وزیر ماحولیات کے مطابق برطانوی وقت کے مطابق صبح نو بجے تک گزرے 24 گھنٹوں میں 97029 ٹیسٹ کیے گئے۔
حکام نے کہا ہے کہ کورونا ائرس کے مصدقہ کیسوں کی تعداد 211,364 ہے۔ اس میں 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے نئے 4639 کیس بھی شامل ہیں۔
ملک میں اب تک مجموعی طور پر 1,631,561 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
کورونا وائرس کا شکار ایک اہلکار میرے دفتر میں موجود تھا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک فوجی اہلکار 24 اپریل کو اپنے اندر کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے سے چند گھنٹے پہلے ان کے دفتر میں موجود تھا۔
صدر ٹرمپ کی ٹیم کے اس رکن میں بدھ کورنا وائرس کی تشخیص ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اہلکار ان کے ساتھ ان کے کمرے میں تھا لیکن یہ بتانے کے ساتھ ہی انھوں نے وائرس لگنے کے خطرے کو زیادہ اہمیت نھیں دی۔
اس اہلکار میں وائرس کی تشخیص کے بعد صدر ٹرمپ اور امریکہ کے نائب صدر مائیک پنس کے بھی ٹیسٹ ہوئے جو نیگیٹو آئے۔
اب اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کا اب ہفتہ وار کی بجائے روزانہ ٹیسٹ ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاؤس کے کچھ عملے نے ماسک پہننا شروع کر دیے ہیں اور اب جو ان کے لیے کھانا لے کر آنے والا سٹاف بھی ماسک پہنے گا۔
بریکنگ, برطانیہ میں کل 31241 اموات
برطانیہ کے وزیر ماحولیات جارج یوسٹس نے بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ ملک میں گذشتہ ایک روز میں 626 مزید ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والی کی مجموعی تعداد 31241 ہو گئی ہے۔
روس: طبّی اہلکار حفاظتی سامان کے بغیر مریض دیکھنے پر مجبور
روس میں طبّی اہلکاروں نے خبردار کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں کا معائنہ کرتے وقت مناسب طور پر محفوظ نہیں ہوتے۔
بہت سے روسی طبّی اہلکاروں نے بی بی سی سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ وہ کھلے عام یہ بتانے سے خوفزدہ تھے کہ ماسکو کے باہر ہسپتالوں میں ماسک کی کمی ہے۔
ایک نرس نے جنھیں یہ خدشہ تھا کہ وہ کورونا کا شکار ہو چکی ہیں کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ ان کے جسم میں سب کچھ جل رہا ہے۔
ایک اور اہلکار نے بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم محفوظ نہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔
استراخن میں محکمہ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ مشکل صورتحال گزر چکی ہے اور اب حفاظتی سامان کی ترسیل ہو رہی ہے۔
بورس جانسن کی روسی صدر پوتن سےغریب ملکوں کی مدد میں ساتھ دینے کی اپیل
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے بلا،ئے جانے والے ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
برطانیہ اگلے مہینے ہونے والے عالمی لیڈروں کے اس اجلاس کی سربراہی کر رہا ہے جس میں عالمی رہنما ٹیکنالوجی کی مدد سے شرکت کریں گے۔
بورس جانسن نے ٹیلی فون پر صدر پوتن سے کہا کہ وہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں صحت کے نظام بہتر کرنے اور کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں مدد کریں اور اس کانفرنس میں شامل ہوں۔
گزشتہ مہینے بلائی جانے والی اس کانفرنس کا مقصد عالمی رہنماؤں، عطیات دینے والوں اور ویکسین بنانے والوں کو ساتھ ملا کر ویکسین تیار کرنے والی عالمی تنظیم ’گاوی‘ کی مدد کرنا ہے۔
دونوں عالمی رہنماؤں نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ کانرنس دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 75 برس مکمل ہونے پر بلائی گئی تھی۔
کورونا کا دنیا میں غیر معمولی رفتار سے پھیلاؤ
کورونا وائرس کا پھیلاؤ بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق صرف ایک مہینے میں دنیا بھر میں اس کے متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے 38 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔
اب بھی بہت سے کیس ریکارڈ نہیں ہو سکے اس لیے اس کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
صرف امریکہ میں 12 لاکھ کیس سامنے آچکے ہیں جو سپین، اٹلی برطانیہ اور روس کے مجموعی کیسوں سے زیادہ ہیں۔
فیجی میں کرنسی ختم، لوگ چیز کے بدلے چیز پر مجبور
فیجی میں اب کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پیسوں کی کمی کا بھی سامنا ہے جس کا حل ’بارٹر ٹریڈ‘ میں نکالا گیا ہے یعنی رقم کے بجائے چیزوں کا لین دین ہو گا۔
فیس بک پر ایک گروپ بن گیا ہے جس کا نام ہے Barter for a Better Fiji۔
اس گروپ کے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ممبران ہیں جبکہ فجی کی مجموعی آبادی 10 لاکھ سے بھی کم ہے۔
فیس بک پر موجود اس گروپ میں دیکھا گیا کہ بالوں کے آرائشی جوڑے کے بدلے میں کھلونوں کا تبادلہ ہوا۔
اگرچہ فیجی کورونا وائرس کی تباہی سے بچا ہوا ہے تاہم وبا کی وجہ سے اس کا سیاحت کا شعبہ بہت متاثر ہوا ہے۔
کورونا کی وبا کے بارے میں جعلی ویڈو فلمیں غلط خبریں پھیلانے کا نیا انداز, ماریانا سپرنگ، سوشل میڈیا رپورٹر
دھوکے باز، شرارتی لوگ اور سیاستدان سب سے ہی کسی نے کسی مرحلے پر غلط خبروں کے پھیلنے کی وجہ بنے ہیں لیکن اب اس کام میں زیادہ آگے وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو وڈیو فلموں میں ماہرین کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
ڈاکومنٹری کے انداز میں بنائی گئی یہ فلمیں لوگوں میں ’کانسپیرسی تھوریاں‘ پھیلا رہی ہیں جن میں ہر کام کے پیچھے ایک سازش ہوتی ہے۔ یہ فلمیں بہت مقبول ہیں اور انھیں واٹس ایپ پر جعلی پیغامات عام کرنے کے سلسلے کا اگلا مرحلہ بھی کہا گیا ہے۔
ان فلموں کی پروڈکشن کا اچھا معیار انھیں زیادہ قابل اعتبار بنا دیتا ہے اور اسی وجہ سے یہ زیادہ خطرناک بھی ہیں۔
یہ فلمیں ان فلموں کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں جن میں مستند ماہرین اپنی رائے دے رہے ہیں اور جن کے کام کی اہمیت کو کم کرنا ان فلموں کا مقصد ہے۔ اس کے علاوہ یہ جعلی ماہرین مداحوں کی اچھی خاصی تعداد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔
یہ یو ٹیوب جیسے اداروں کے لیے بھی آنکھ مچولی کے کھیل کی طرح ہے جس میں وہ ایک فلم کو اپنی سائٹ سے ہٹاتے ہیں اور پھر اس کو نئے انداز میں دوبارہ پبلش کر دیا جاتا ہے۔
یورپ میں کچھ ثقافتی مقامات کھلنا شروع ہو گئے
ڈنمارک کی حکومت نے کہا ہے کہ آٹھ جون سے ملک میں تھیٹر، سنیما گھر اور چڑیا گھر کھولنے کی اجازت ہو گی۔
ابھی جو ملک میں دس سے زیادہ افراد کے اکھٹے ہونے پر پابندی ہے اسے بھی نرم کیا جائے گا اور تقریب کی مناسبت سے 30 سے 50 لوگ اکھٹے ہو سکیں گے۔
یونان میں 18 مئی سے قدیم ثقافتی مقامات کھول دیے جائیں گے۔ یونانی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہوتا ہے۔
جرمنی میں بھی بدھ کو کچھ عجائب گھر کھول دیے گئے تھے۔