برطانیہ: مذہبی رسومات کے لیے’ وقت مناسب نہیں‘، مقامی میڈیا کی فلاح کے لیے اخبار خریدنے کی اپیل

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 36 لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 58 ہزار سے زیادہ ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 649 اموات ہوئی ہیں، جس سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد 30 سے بڑھ گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. اس صفحے کو اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    کورونا وائرس پر بی بی سی اردو نیوز کی کوریج جاری ہے اور تازہ ترین صورتحال کے لیے یہاں کلک کریں

  2. یورپ: جرمنی نے لاک ڈاؤن میں نرمی کردی، سپین میں ایمرجنسی میں توسیع

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جرمنی نے اپنا لاک ڈاؤن میں مزید نرمیاں پیدا کر دی ہیں جبکہ روسی ڈاکٹر اٹلی سے واپس چلے گئے۔

    یوروپ کی تازہ ترین صورتحال:

    جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ اب جرمنی میں تمام دکانیں کھولی جا سکتی ہیں۔ اب لوگ عوامی جگہوں پر ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں اور کھا پی سکتے ہیں۔ اب لوگ کیئرہومز میں اپنے رشتے داروں سے ملنے جا سکتے ہیں۔

    جرمنی میں گرمیوں کی تعطیلات سے پہلے بچے سکول بھی جا سکیں گے یعنی تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔

    سب سے بڑھ کر یہ اب جرمنی کی یورپ کی سب سے بڑی فٹ بال لیگ حکومتی اجازت نامے کے بعد اس مہینے کے اختتام پر دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

    اس متعلق حکام باقاعدہ کسی تاریخ کا اعلان جمعرات کو کریں گے۔

    روس سے محبت کے ساتھ

    روس اب اٹلی سے اپنی میڈیکل ٹیموں کو واپس لے جارہا ہے۔

    روس نے مارچ میں اٹلی میں کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے میڈیکل شعبے کے اپنے 100 ماہرین اٹلی بھیجے تھے۔ روس نے اس مشن کو روس سے محبت کے ساتھ کا نام دیا تھا۔

    سپین: ایمرجسنی میں دو ہفتوں کے لیے توسیع

    سپین کی پارلیمنٹ نے ہنگامی حالت میں مزید دو ہفتوں کے لیے توسیع کر دی ہے۔ اس دوران حکومت کو لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کے بعد نقل و حمل کو محدود رکھنے جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔

    اور اگر آپ بھول گئے ہوں تو- بریگزٹ پر پس پردہ ابھی بھی بات چیت جاری ہے ، جس میں یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان ان کے مسائل کا شکار نئے تعلقات سے متعلق بات ہوئی ہے۔

  3. انڈیا: شراب کی دکانیں کھلنے کے بعد کیا ہوا؟

    انڈیا میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد جب شراب کی دکانیں کھلیں تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر نکلے کہ سماجی فاصلہ رکھنا ناممکن ہو گیا۔ ایسے میں پولیس نے کیا اقدام کیے، جاننے کے لیے دیکھیے ہماری ویڈیو۔۔۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  4. جینریک: مذہبی رسومات کے لیے’ وقت مناسب نہیں ہے‘

    ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا کھیلوں کے ایونٹس کو مذہبی سروسز پر ترجیح دی جا رہی ہے تو رابرٹ جینریک نے جواب دیا کہ وزرا مذہبی رہنماؤں سے رابطے میں ہیں اور جب مناسب وقت آئے گا تو سروسز بحال کر دی جائیں گی۔

    انھوں نے کہا کہ وہ وقت ابھی نہیں آیا اور حکومت طبی مشورے پر عمل کرے گی کہ کب ایسا کرنا محفوظ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں ہدایات میں تبدیلی کر کے خاندان کے قریبی افراد کو شمشان گھاٹ جانے کی اجازت دی ہے۔

  5. جینرک: ’حکومت کا مشن لوگوں کو کام پر واپس لانا ہے‘

    برطانوی وزیر رابرٹ جینریک نے کہا ہے کہ حکومت کا مشن ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ لوگ کام پر محفوظ طریقے سے واپس آ سکیں اور دوستوں کے ساتھ دوبارہ مل سکیں۔

    برطانوی وزیرِ ہاؤسنگ، کمیونٹیز اینڈ لوکل گورنمنٹ نے کہا کہ ’جمعے کو ہم وی ای ڈے (وکٹری اِن یورپ) منا رہے ہوں گے۔۔۔ ہمیں علم ہے کہ اس اہم موقعے کو اب ہمیں گھروں سے ہی منانے کی ضرورت ہے۔‘

    انھوں نے پریس کانفرنس کو بتایا کہ انھوں نے ایک 92 سالہ ویٹرن (سابق فوجی) سے بات کی ہے۔

    ’لیزلے نے کہا کہ ہم پہلے بھی ازسرِ نو تعمیر اور بحالی کر چکے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ ہم اس سال بھی یہ دوبارہ کر لیں گے۔‘

  6. ملک میں اموات کی شرح ’آہستہ سے کم ہو رہی ہے‘

    ڈیٹا

    پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی میڈیکل ڈائریکٹر یوون ڈوئل کا کہنا ہے کہ برطانیہ وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں اموات کی شرح کم ہو رہی ہے۔

  7. ڈاکٹر نِکی کنانی: گھروں پر رہنے کا شکریہ

    نِکی کنانی

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    این ایچ ایس انگینڈ میں پرائمری کیئر کی ڈائریکٹر نِکی کنانی نے حکومت کا مشورہ ماننے پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ طبی عملہ بہت دباؤ میں کام کر رہا ہے اور لوگ گھروں میں رہ کر ان کی مدد کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو ’یقین دہانی‘ کرانا چاہتی ہیں کہ پرائمری کیئر سروسز جیسا کہ جی پی سرجریز لوگوں کے لیے اب بھی دستیاب ہیں۔

  8. برطانوی وزیر جینریک: مقامی میڈیا کے فلاح کے لیے اخبار خریدیں

    کورونا

    برطانیہ کے کمیونٹی سکریٹری رابرٹ جینریک کا کہنا ہے کہ وہ مقامی میڈیا کے سوالات کے جوبات دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ مقامی پریس بہت دباؤ میں ہیں۔ انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ اگر ہوسکے تو اخبار ضرور خریدیں۔

    کورونا وائرس کی مقامی صورتحال سے متعلق بتائے ہوئے انھوں نے کہا حکومت نے 3 اعشاریہ 2 بلین پاؤنڈز لوکل کونسلز کو دیے ہیں۔

    ان کے مطابق این ایچ ایس نے جن غریب لوگوں کی نشاندہی کی تھی مقامی فورمز نے مقامی حکام کے ساتھ مل کر ان میں ایک ملین کھانے کے باکس تقسیم کیے ہیں۔

  9. بریکنگ, برطانیہ میں مرنے والوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہو گئی

    رابرٹ جینرکس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 649 اموات ہوئی ہیں۔ برطانیہ کے کیمونٹی سکیریٹری رابرٹ جینرک کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مرنے والوں کی کل تعداد 30،076 ہو گئی ہے۔۔

  10. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹاسک فورس کی تشکیل نو کریں گے

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کورونا وائرس ٹاسک فورس غیر معینہ مدت تک اپنا کام جاری رکھے گی مگر اب اس کا ہدف حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے امریکہ کو دوبارہ کھولنا ہے۔ اس کی توجہ ویکسین اور علاج کے طریقوں پر ہو گی۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ 'ہم اس فورس میں کچھ مزید لوگوں کو شامل کریں یا نکالیں گے‘ مگر انھوں نے ان افراد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ وہ کون ہو سکتے ہیں۔

    منگل کو صدر ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک ’مختلف گروپ‘ بنایا جائے گا۔ امریکی نائب صدر مائیک پینس جو ٹاسک فورس کے چیئرمین ہیں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس فورس کو جلد ہی ختم کر دیا جائے گا۔

    امریکی وائرس ٹاسک فورس کو 29 جنوری کو تشکیل دیا گیا تھا۔

    اس ٹاسک فورس میں 20 ماہرین اور حکام بھی شامل ہیں جن کا کام کورونا وائرس کی مانیٹرنگ، اس کو قابو کرنا، اس کے پھیلاؤ کو قابو میں لانا اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہے۔

  11. کورونا وائرس: مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 پھیلانے میں ایران کی ایئر لائن ماہان ایئر کا کیا کردار ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  12. بدھ، 6 مئی 2020 کا سیربین

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  13. جرمنی کی بنڈیسلیگا دوبارہ سیزن شروع کرنے والی پہلی اہم لیگ ہوگی

    جرمنی کی بنڈیسلیگا فٹ بال لیگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگر جرمنی کی بنڈیسلیگا دوبارہ سیزن شروع کرتی ہے تو یہ دنیا کی پہلی اہم فٹ بال لیگ ہو گی جو کورونا وائرس کی وبا کے بعد دوبارہ سیزن شروع کرے گی۔

    اس لیگ کی آخری گیم 11 مارچ کو کھیلی گئی تھی اور اس کے ہر کلب کو ابھی نو یا 10 میچ کھیلنا باقی تھے۔ میچ تماشائیوں کے بغیر ہوں گے۔

    انگلینڈ اور سپین کی اہم ٹیمیں اگلے ماہ واپس آنے کی امید کر رہی ہیں جبکہ اطالوی ٹیموں کو انفرادی ٹریننگ کی اجازت مل چکی ہے۔

    فرانس اور نیدرلینڈز میں ٹاپ لیگز جلد رک جانے کے بعد اب مکمل نہیں ہو رہیں۔

    صرف چند ہی غیر معروف لیگز کورونا وائرس کی وبا کے دوران جاری رہیں۔ ان میں بیلارس اور نکاراگوا کی لیگز شامل ہیں۔

    منگل کو جنوبی کوریا کی بیس بال ڈویژن کی بھی واپسی ہوئی، اور اس کی فٹ بال لیگ بھی جمعے سے شروع ہو گی۔

  14. بلجیئم میں اگلے ہفتے سے دکانیں کھل جائیں گی

    بلجیئم کی وزیر اعظم صوفی ولمز نے پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی لاتے ہوئے دکانیں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے کاروبار جن کا عوام سے تعلق نہیں ہے وہ پہلے ہی کھل چکے ہیں۔ تاہم سکول، ریستوارن اور بار بند رہیں گی۔

    دنیا بھر میں بلجیئم میں کووڈ-19 سے مرنے والوں کی شرح بہت زیادہ رہی ہے۔

  15. ایئرلانز نے پروازوں کے دوران پابندیوں کا منصوبہ تیار کر لیا, ٹوم بوریج، ٹرانسپورٹ رپورٹر

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کی ایئر لائنز نے حکومت کو درجہ بندی کے نظام کی تجویز کے بارے میں لکھا ہے تاکہ مستقبل میں کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہوائی جہاز کے ایک جیسے معیارات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ایئرلائنز نے تین مراحل میں پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    اس منصوبے کے مطابق پہلے ممالک پروازوں کے لیے ایک خاص معیار اختیار کریں گے، اس کے بعد دو ممالک کے درمیان پرواز سے متعلق ایک خاص معیار اختیار کیا جائے گا۔

    یو کے ایئرلائنز کے سی ای او ٹم ایلڈرسلیڈ نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ پہلے مرحلے پر کم سختیاں ہوں گی، اس میں صفائی ہوگی، پرواز کے اندر کچھ خریداری نہیں ہو گی اور عملے نے ماسک پہنے ہوں گے۔

    ان کے مطابق تیسرے مرحلے میں سخت پابندیوں کا اطلاق کیا جائے گا جس میں تمام مسافروں کا ماسک پہننا، عملے نے پرسنل پروٹیکشن کے آلات پہنے ہوں گے اور طیارے کے اندر نقل و حرکت پر پابندی عائد ہو گی۔

  16. جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے کیا اعلانات کیے ہیں

    جرمن چانسلر انگیلا مرکل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمن چانسلر نے ملک کی 16 ریاستوں کے سربراہان کے ساتھ اجلاس کے بعد مزید کیا اعلانات کیے ہیں:

    جرمن چانسلر نے کہا کہ بڑی دکانیں دوبارہ کھلیں گی، کیئر ہومز میں موجودافراد کو دیکھنے مہمان جا سکیں گے، اور دو گھرانے کھلے مقام پر مل سکیں گے۔

    جرمنی کی بنڈیسلیگا فٹ بال لیگ کو بھی اس مہینے کے آخر میں کھیلنے کی اجازت مل جائے گی۔

    ریاستیں خود تعین کریں گی کہ سنیماؤں، ریستورانوں اور تھیئٹرز کو کب دوبارہ کھولنا ہے۔

    سماجی دوری کے قوانین 5 جون تک نافذ العمل رہیں گے، جس میں ایک اعشاریہ پانچ میٹر (5 فٹ) فاصلہ رکھنا۔

    چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر انفیکشن بڑھنا شروع ہوگیا تو پابندیوں کو دوبارہ لگا دیا جائے گا۔ لیکن وہ پرامید تھیں اور انھوں نے جرمنی کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ضوابط کا احترام کیا۔

  17. بریکنگ, جرمن چانسلر میرکل: وبا کا پہلا مرحلہ نکل چکا ہے

    جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرمنی کی تمام 16 ریاستوں کے سربراہوں سے بات کی ہے کہ لاک ڈاؤن کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’وبا کا پہلا مرحلہ نکل چکا ہے۔‘ اگرچہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک ’ابھی بھی وبا کے ابتدائی مرحلوں میں ہے اور اس میں لمبے عرصے تک رہے گا۔‘

    ملک میں سماجی دوری 5 جون تک جاری رہے گی لیکن جرمنی اب پابندیوں میں نرمی شروع کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ دو گھرانے کھلے مقام میں آپس میں مل سکتے ہیں۔

  18. لاک ڈاؤن کی وجہ سے ’انڈیا میں کم از کم 12 کروڑ افراد بیروزگار‘, نِکھل انامدار، بی بی سے کے بزنس کے نامہ نگار، ممبئی

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری لاک ڈاؤن سے صرف اپریل کے مہینے میں 12 کروڑ 20 لاکھ شہریوں کی نوکریاں ختم ہوئی ہیں۔

    یہ اعداد و شمار ایک نجنی تحقیقاتی ایجنسی ’سینٹر فار مانیٹرنگ دی انڈین اکانومی‘ کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔

    انڈیا میں بیروزگاری کی شرح ریکارڈ 27 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

    ان نئے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا میں امریکہ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ افراد بیروگار ہوئے ہیں۔

    انڈیا میں سرکاری طور پر نوکریوں سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کیے جاتے لیکن اس ادارے کے ڈیٹا کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

    ملک میں 25 مارچ سے لاک ڈاؤن ہے اور اب تک تقریباً 50 ہزار مصدقہ کیسز رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔

  19. تقریباً پچاس دن سے بحری جہاز پر پھنسا ہوا برطانوی شہری

    ایڈی و برائن

    ،تصویر کا ذریعہEddy O'Brien

    50 روز سے فلپائن میں کھڑے ایک بحری جہاز میں پھنسے ہوئے شخص نے اسے ایک ڈراؤنا خواب قرار دیا ہے۔

    25 سالہ ساؤنڈ انجینیئر ایڈی و برائن کا تعلق لینکاشائر سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وبا کے مسائل کی وجہ سے وہ نہیں جانتے کہ وہ اور جہاز پر ان کے ساتھی گھروں کو کب لوٹ سکیں گے۔

    18 مارچ کو اس جہاز سے نکلنے والے تقریباً 3 ہزار مسافروں کو وطن واپس لایا گیا ہے اور وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں مدد جاری رکھیں گے۔

  20. برطانیہ میں 25 سال سے کم عمر 10 لاکھ نوجوانوں کو ’بے روزگاری کا سامنا‘

    ایک نوجوان (فائل فوٹو)

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس سے معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر وہ ہو رہے ہیں جو ابھی تعلیم مکمل کر کے نکلے ہیں۔

    ریسرچ فاؤنڈیشن تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال برطانیہ میں نوجوانوں کی بے روزگاری میں 640،000 تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے بے روزگاروں کی تعداد 10 لاکھ ہو جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق تعلیم مکمل کرنے والے اس کساد بازاری سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

    کلاس آف 2020 کہلانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین میں سے ایک سے زیادہ سکول میں تعلی ممکمل کرنے والے اور پانچ میں سے ایک گریجویٹس کو عام طور پر لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے شعبوں جیسے کیفے، بارز اور ریٹیل میں ملازمتیں ملا کرتی تھیں۔