آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: برطانیہ میں جمعرات سے انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگا
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ جمعرات سے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم انسانوں پر کورونا وائرس کی ویکسین کا ٹرائل کرے گی۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟
برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک: مسلمان برادری کو رمضان مبارک اور گھر رہنے پر ان کا شکریہ
’کورونا متاثرین کی نگرانی کے لیے آئی ایس آئی کے نظام کا استعمال‘
کورونا وائرس: 2 میٹر فاصلے کا کیا مطلب ہے؟
کورونا کے علاج سے متعلق افواہوں کی حقیقت
کیا لیموں کے رس سے کورونا کا علاج ہو سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جُڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جانیے بی بی سی کی عالیہ نازکی سے۔۔۔
پارٹ 1
پارٹ 2
پارٹ 3
کووڈ 19: کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
کووڈ 19 کی وبا 2019 کےآخر میں پھیلی۔ لیکن ایسی علامات موجود ہیں کہ اس کے کچھ مریضوں کو مکمل صحتیاب ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
ایک مریض کورونا سے صحتیاب کب ہوتا ہے یہ بیماری کی شدت پر منحصر ہے۔ کچھ لوگ اس بیماری سے جلدی صحتیاب ہوجاتے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ کچھ مریضوں میں اس سے پیدا ہونے والے مسائل طویل مدتی ہوں۔
آپ کی عمر، جنس اور صحت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آپ کووڈ 19 سے کس حد تک بیمار ہوسکتے ہیں۔
مزید جانیے: کووڈ 19: کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
ویکسین ٹرائلز کے لیے رضاکاروں کی ضرورت، ہر رضاکار کو 625 پاؤنڈ تک ادا کیے جائیں گے
برطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ دو برطانوی پروجیکٹس کو کورونا وائرس کی ویکسین تلاش کرنے کے لیے 40 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد دے رہا ہے۔
اس ویکسین کے ٹرائلز کا آغاز اس ہفتے کیا جا رہا ہے۔
ان منصوبوں میں سے ایک امپیریل کالج لندن کے متعدی بیماریوں کے ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام کام کر رہا ہے اور انھوں نے ویکسین ٹرائلز کے لیے رضاکاروں سے اپیل کی ہے۔
ایک ٹویٹ میں کالج کے ٹرسٹ کا کہا تھا کہ وہ 18 سے 55 سال کی عمر کے صحتمند افراد کی تلاش میں ہیں اور کامیاب درخواست دہندگان کو ان ٹرائلز میں حصہ لینے پر 625 پاؤنڈ تک کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
امریکہ کی امیگریشن پر پابندی سے کون متاثر ہوسکتا ہے؟
برطانیہ میں ٹیسٹ کی جانے والی ویکسین کیا ہے اور کیسے کام کرے گی؟, مشیل رابرٹس، ہیلتھ ایڈیٹر، بی بی سی نیوز ان لائن
دنیا کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی دریافت کی منتظر ہے۔ یہ انسان کو اس بیماری کو شکست دینے اور زندگیاں بچانے میں مدد کرے گی۔
دنیا کے مختلف ممالک میں اس مشن پر سائنسدان کام کر رہے ہیں اور برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کو امید ہے کہ برطانیہ اس میں کامیاب ہو جائے گا۔
انھوں نے آکسفورڈ اور امپیریئل کالج لندن میں ہونے والی دو رسرچز کے لیے 4 کروڑ 25 لاکھ پاؤنڈ کا وعدہ کیا ہے۔
آکسفورڈ والے گروپ کی سربراہ پروفیسر سارہ گلبرٹ ہیں جو اس ہفتے انسانوں پر تیار کردہ ویکسین کا ٹرائل کرے گا۔
جینر انسٹیٹیوٹ میں ان کی ٹیم نے جنوری میں کورونا وائرس کا جینیاتی کوڈ یا بلو پرنٹ سامنے آنے کے بعد اس پر کام شروع کر دیا تھا۔
اس ویکسین میں اس کوڈ کے چھوٹے سے حصے کو ایک نقصان نہ پہنچانے والے وائرس میں پیکیج کیا گیا ہے۔ ان کو امید ہے کہ اسے جسم میں ڈالنے سے مدافعتی نظام سیکھ سکے گا کہ اصل بیماری سے کیسے لڑنا ہے تاکہ یہ دوبارہ کبھی جسم کو بیمار نہ کر سکے۔
منصوبہ ہے کہ اسے مئی کے وسط تک اس ٹرائل میں حصے لینے والے 500 رضا کاروں پر ٹیسٹ کیا جائے گا اور اگر اس میں کامیابی ہوئی تو پھر اسے ہزاروں رضاکاروں پر مزید ٹیسٹ کیا جائے گا۔
امپریئل کالج سے تعلق رکھنے والے دوسرے گروہ میں پروفیسر رابن شیٹوک شامل ہیں۔ یہ گروہ خام جینیٹک کوڈ کے حصوں کا استعمال کرے گا، جنھیں جب جسم میں انجیکٹ کیا جائے گا تو وہ وائرل پروٹین پیدا کریں گے اور مدافعتی نظام ان سے لڑنا سیکھے گا۔
ہینکاک سے سوال: ’چین کی جانب سے غلط معلومات پر مبنی مہمات اور ’سازشی بیانیے‘ سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کیا کر رہا ہے؟‘
پریس بریفنگ کے دوران برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک سے پوچھا گیا ہے کہ چین کی جانب سے غلط معلومات پر مبنی مہمات اور ’سازشی بیانہ‘ (جس کا مقصد وبائی مرض سے متعلق چین کے ردِعمل پر اسے بے قصور ٹھرانا ہے) سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کیا کر رہا ہے؟
میٹ ہینکاک کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس بارے میں یا چینی حکام کے ان الزامات میں ملوث ہونے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دیکھا۔
لیکن ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر کورونا وائرس کی شروعات اور ممکنہ علاج کے بارے میں واضح طور پر غلط معلومات موجود ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو صحیح اور حقیقت پر مبنی معلومات کا حق حاصل ہے۔
کورونا وائرس: ’انگلینڈ میں کورونا وائرس کے عروج کا وقت 8 اپریل کو گزر چکا ہے؟‘, نک ٹریگل، صحت کے نمائندے
پچھلے کچھ ہفتوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ شاید اموات کی تعداد کم ہورہی ہے لیکن ایک دن اموات کی کم تعداد اور اگلے ہی دن زیادہ ۔۔۔ ایسی بات کرنا مشکل نظر آتی ہے۔
ایک نئے تجزیے کے مطابق شاید برطانیہ میں عروج کا وقت دو ہفتے قبل گزر چکا ہے۔
حکومت کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر جاری کردہ اعداد و شمار اموات کی تعداد بتاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ یہ اموات کب ہوئیں۔
پیر کو کیے گئے اعلان کے مطابق 500 کم اموات ریکارڈ کی گئیں لیکن منگل کو یہ تعداد 800 سے زیادہ ہو گئی۔
لیکن ان میں سے کچھ اموات کا تعلق ہفتوں قبل ہونے والی ہلاکتوں سے ہے۔ این ایچ ایس انگلینڈ نے تاریخ کے حساب سے اموات کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا ہے۔
ایک واضح رجحان ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اور وہ یہ کہ شاید انگلینڈ میں کورونا وائرس کے عروج کا وقت 8 اپریل تھا۔
کورونا سے مقابلہ: اب برطانوی خفیہ ایجنسی کا کردار کیا ہے؟
بریکنگ, ہینکاک: برطانیہ میں جمعرات سے انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز
برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے ہم اسے ویکسین کی تیاری میں لگا دیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے ویکسین کی تلاش میں کسی بھی ملک سے زیادہ پیسہ لگایا ہے۔
انھوں نے آکسفورڈ اور ایمپیریل کال لندن میں ہونے والے ٹرائلز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پراجیکٹ سے امید ہے اور ان میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت آکسفورڈ کی ٹیم کو 2 کروڑ پاؤنڈ دے گی تاکہ وہ کلینکل ٹرائل کو فنڈ کر سکے۔ انھوں نے بتایا کہ آکسفورڈ کی ٹیم جمعرات کو لوگوں پر ویکسین کا ٹرائل کرے گی۔
چین سے 19 ٹن طبی سامان پر مشتمل فلائٹ کے جلد ہی برطانیہ میں لینڈ کرنے کی توقع
برطانیہ میں جہاں ترکی سے حفاظتی سامان لانے والی فلائٹ کا انتظار جاری ہے وہیں ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ جلد ہی ہیتھرو ایئرپورٹ پر چین کے شہر شنگھائی سے حفاظتی سازوسامان کی ایک اور کھیپ متوقع ہے۔
صرف جہاز کے عملے پر مشتمل ورجن اٹلانٹک بوئنگ 787-9 کی اس پرواز میں 19 ٹن طبی اور حفاظتی سامان کے علاوہ 28000 انفرادی استعمال کی دیگر اشیا شامل ہیں جن میں تقریباً 6000 حفاظتی گاؤن اور 20000 سے زیادہ وینٹیلیٹر ہیں۔
ایئر لائن کا کہنا ہے کہ وہ این ایچ ایس، محکمہ صحت اور سوشل کئیر کی شراکت میں اس مہینے صرف آٹھ کارگو پروازیں چلا رہی ہے ۔ 3 اپریل سے اب تک پانچ پروازیں برطانیہ آ چکی ہیں جن میں 80 ٹن سے زیادہ حفاظتی سامان شامل ہے۔ اس سامان میں انفرای نوعیت کی 35 لاکھ اشیا بھی موجود ہیں۔
ورجن اٹلانٹک کا کہنا ہے کہ اس سامان میں 50 وینٹیلیٹر، 18 لاکھ ماسک، 600000 چہرے کی حفاظتی ڈھالیں اور آنکھوں کی حفاظت والی شیلڈز، 10 لاکھ ڈسپوزایبل دستانے، آنکھوں کے تحفظ کے لیے 38000 اشیا اور 75000 حفاظتی گاؤن شامل ہیں۔
گذشتہ روز ورجن گروپ کے مالک سر رچرڈ برانسن کی جانب سے عملے کو لکھے گئے ایک خط میں ان کا کہنا تھا کہ ’ائر لائن کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے وہ برطانوی حکومت سے 500 ملین ڈالر کا تجارتی قرض مانگ رہے ہیں۔‘
طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان آج ترکی سے برطانیہ پہنچے گا, جاناتھن بیل، بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار
بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان آج ترکی سے برطانیہ پہنچے گا۔
سامان استنبول ایئرہورٹ پہنچ گیا ہے جہاں وہ کسٹم کے مرحلے میں ہے۔
برطانوی رائل ائیر فورس کا طیارہ اس سامان کو لینے پیر کو استنبول کے لیے روانہ ہوا تھا۔
عام طور پر طیارے پر لوڈ کیے جانے سے پہلے سامان کا کوالٹی چیک بھی کیا جاتا ہے۔
کسٹمز سے کلیئر اور چیک مکمل ہونے کے بعد اس سامان کو طیارے میں لوڈ کیا جائے گا اور وہ آج کسی وقت برطانیہ پہنچ جائے گا۔
وزارت دفاع نے اس طیارے کی آمد سے متعلق وقت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
بریکنگ, برطانیہ: اموات میں 828 کا اضافہ
برطانیہ کے ہسپتالوں میں ایک دن میں ہونے والی اموات میں 828 کا اضافہ ہوا ہے اور کل تعداد 17 ہزار 337 ہوگئی ہے۔
24 گھنٹوں میں مصدقہ کیسز میں 4301 کا اضافہ ہوا ہے اور کیسز کی کل تعداد ایک لاکھ 29 سے بڑھ گئی ہے۔
بریکنگ, دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 25 لاکھ 1156 ہو گئی ہے اور اموات ایک لاکھ 71 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔
سانس کے نظام کو متاثر کرنے والے اس وائرس کی تشخیص پہلی بار چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019 کے آخر میں ہوئی تھی۔
سب سے زیادہ مریض کس ملک میں ہیں:
امریکہ میں 7 لاکھ 88 ہزار سے زیادہ
سپین 2 لاکھ سے زیادہ
اٹلی ایک لکھ 81 ہزار سے زیادہ
فرانس ایک لاکھ 56 ہزار سے زیادہ
جرمنی ایک لاکھ 47 ہزار سے زیادہ
برطانیہ ایک لاکھ 29 ہزار سے زیادہ
برطانوی ممبر پارلیمان کی پارلیمان میں سماجی دوری کے ساتھ واپسی
برطانوی ممبر پارلیمان وبا کی وجہ سے ایسٹر کی معمول سے لمبی بریک کے بعد پارلیمان میں واپس آئے ہیں۔
لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ آپس میں جڑ کر بیٹھے نظر آنے والے ممبران کو اب سماجی دوری یعنی ایک دوسرے سے 2 میٹر کا فاصلہ رکھنا ہے اور اس مقصد کے لیے پارلیمان کے فرش پر ٹیپ سے اور سیٹوں پر بھی نشانات لگائے گئے ہیں۔
ان کی پہلی ذمہ داری اس قرارداد پر بحث کرنا ہے جس کے تحت بعض ممبر خود پارلیمان میں آکر اور بعض ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاسوں میں حصہ لے سکیں گے۔
ہاؤس آف لارڈز پہلے ہی نئے اقدامات کی منظوری دے چکا ہے اور ان کا پہلا ورچوئل اجلاس شروع ہو چکا ہے۔