یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی دنیا بھر میں کورونا کے پھیلاؤ اور اس سے بچاؤ کے اقدامات کے بارے میں لائیو کوریج جاری ہے۔ تازہ ترین معلومات کے لیے یہاں کلک کریں
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 12 لاکھ 37 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار سے زائد ہے۔ اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 525 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والی اموات کی کم ترین سطح ہے۔
بی بی سی اردو کی دنیا بھر میں کورونا کے پھیلاؤ اور اس سے بچاؤ کے اقدامات کے بارے میں لائیو کوریج جاری ہے۔ تازہ ترین معلومات کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 48406 ہو چکی ہے۔
برطانیہ کے ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4934 ہے۔
انگلینڈ میں صحت حکام کے مطابق اتوار کے روز انگلینڈ میں 11 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
اٹلی میں صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور اتوار کے روز یہاں ایک روز میں ہونے والی ہلاکتوں کی شرح گذشتہ دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر تھی۔
اٹلی میں ذرائع ابلاغ نے ایک 104 سالہ بزرگ خاتون ادا ژنوثو پر رپورٹس نشر کی ہیں جو نے حال ہی میں کورونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہوئی ہیں۔
یہ بزرگ خاتون شمالی اٹلی کے شہر لیسونا کی رہائشی ہیں۔ بزرگ خاتون کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کارلا فرنو نے لا ریپبلیکا اخبار کو بتایا کہ اس بیماری کے دوران خاتون نے جسمانی اور اعصابی صحت متاثر نہیں ہوئی۔
’ان کی صحت یابی ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑی خوشی اور انعام ہے جو اِن مشکل دنوں میں اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔‘ دنیا بھر میں بزرگ افراد کے کورونا کے مرض سے صحت یاب ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔
عالمی وبا کے اس دور میں ان کی صحت یابی سب کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین شہریوں نے اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے اپنے اپنے گھروں کی برقی روشنیاں بند کر کے کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
تمام شہریوں نے نو منٹ تک لائٹس بند رکھیں۔ اس یکجہتی کا اظہار انڈّین وزیر اعظم نریندر مودی کی درخواست پر کیا گیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود نمائندہ بی بی سی دیویا آریا کے مطابق ’قومی یکجہتی کا یہ اظہار کورونا وائرس کے اندھیرے پر روشنی کی فتح کی علامت تھا۔‘
دیویا کے مطابق انڈیا کی حزب اختلاف نے اس اظہار یکجہتی کو ’تصویر بنوانے کا ایک موقع‘ کہہ کر مسترد کیا ہے۔ حزب اختلاف نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ طبی عملے کے لیے محفوظ سہولیات اور غریبوں کے لیے مالی اعانت جیسے معاملات کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انڈیا میں کورونا وائرس کے 3500 سے زائد مصدقہ متاثرین ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 83 ہے۔
کورونا وائرس کے باعث شدید متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں کووڈ 19 کے باعث اب تک سب دنیا میں سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
اتوار کو دی جانے والی بریفنگ میں ایک نسبتاً مثبت خبر سامنے آئی ہے ۔ شہری تحفظ کے محکمے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہاں آج 19 مارچ کے بعد سب سے کم ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 525 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت میں لائے جانے والے مریضوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
اٹلی میں اس وبا کے باعث اب تک 129000 افراد متاثر ہو چکے ہیں اور 15887 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ کی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران ہلاکتوں اور ایسے لوگوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے جنہیں علاج کے لیے ہسپتال لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم اپنی یومیہ بریفنگ میں انھوں نے خبردار کیا کہ ان اعداد و شمار کا کیا مطلب ہے اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
انھوں نے بتایا کہ نیو یارک میں اب تک کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 122031 ہو چکی ہے۔ اس تعداد میں 8327 نئے کیسز ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیویارک میں مزید 594 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 4159 ہو گئی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کے ہسپتال لائے جانے والے 75 فیصد مریضوں کو ہسپتالوں سے خارج کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیبیا کے سابق وزیر اعطم محمد جبریل کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد مصر کے ایک ہسپتال میں ہلاک ہو گئے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق جبرل کی سیاسی جماعت نیشنل فورسز الائنس کا کہنا ہے کہ ان میں 26 مارچ کو کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ سابق وزیر اعظم کے فیس بک صفحے پر بھی ان کی وقت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
محمد جبریل 1952 میں پیدا ہوئے انھوں نے مغرب سے تعلیم حاصل کی۔
وہ مصر میں سابق رہنما معمر قذافی کے خلاف 2011 کی بغاوت کے بعد نیشنل ٹرازیشنل کونسل کی جانب سے ملک کے وزیر اعظم بھی رہے۔
ان کی جماعت نیشنل فورسز الائنس نے دہائیوں بعد ملک میں ہونے والے سنہ 2012 کے انتخابات میں برتری حاصل کی تھی۔
برطانیہ میں تازہ اعداد و شمار کے مطابق کووڈ 19 کے باعث ہونے والی یومیہ ہلاکتوں کی تعداد میں قدرے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اتوار کے روز پورے برطانیہ میں 621 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ سنیچر کے روز یہی تعداد 708 تھی۔
پورے برطانیہ میں اس وقت وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 47806 ہے جو کہ گذشتہ روز سے 5903 زیادہ ہے۔ یہ تعداد گذشتہ روز کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے۔
سنیچر کو تازہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 3735 تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیا میں لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک میں لازمی قرار دیے گئے قرنطینہ کے دوران ان سے غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
کینیا میں 2000 ہزار سے زائد کینیا کے باشندوں اور غیر ملکیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں آنے کے بعد خود کو ہوٹلوں اور حکومت کی جانب سے قائم مراکز میں رکھیں۔
اب جن مراکز میں کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے وہاں قرنطینہ کا دورانیہ 14 دن سے بڑھا کر ایک ماہ کر دیا گیا ہے۔
ان مراکز میں رہنے والے بعض افراد کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ان کے الگ رہنے کے دورانیے کو بڑھایا کیوں گیا ہے؟
اس سے پہلے ان لوگوں نے شکایت کی تھی کہ انہیں وہاں صابن اور پانی جیسی بنیادی چیزیں تک مہیا نہیں ہیں۔
تاہم ملک کے وزیرِ صحت نے ان لوگوں پر الزام عائد کیا کہ یہ وہاں کے اصول توڑ رہے ہیں اور آئسولیشن کے دوروان پارٹیز کررہے ہیں۔
کینیا میں ابتک کورونا وائرس کے 126 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
انگلینڈ میں این ایچ ایس نے تصدیق کی ہے کہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4494 ہو گئی ہے۔ ان میں گذشتہ ایک روز کی 555 ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔
ان تازہ ہلاکتوں میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی عمریں 33 برس سے 103 برس تک تھیں۔
مرنے والوں میں 29 افراد کی عمریں 35 سی 95 برس کے درمیان تھیں اور انہیں پہلے سے کوئی طبی مسئلہ بھی نہیں تھا۔
پورے برطانیہ سے تازہ اعداد و شمار کچھ دیر تک متو قع ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحرین میں ایسے افراد جنہیں کورونا وائرس کی وجہ سے قرنطینہ یا پھر خود کو محدود کرنے کو کہا گیا ہے ان کی نگرانی کے لیے برقی ٹیگس استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ہر وہ شخص جس پر وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہوگا اس پر سفید رنگ کے یہ ٹیگ پہننا لازم ہوگا، یہ کلائی گھڑی جیسے ہیں اور انہیں ایک ایپ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
اگر مریض اپنے سمارٹ فون سے 15 میٹر سے زیادہ فاصلے پر جاتا ہے تو حکام کو ایک میسج چلا جائے گا۔ ایسا کرنے والے فرد کو تین ماہ تک کی قید ہو سکتی ہے۔ یا اس پر 26000 ہزار ڈالر تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
بحرین میں اس وقت 261 کورونا وائرس کے کیسز ہیں جبکہ چار افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگا پور میں کورونا وائرس کا شکار افراد کی تعداد میں اٰضافہ ہوا اب اس کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
سنگاپور میں حکومت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد غیر ملکی کارکن ہیں۔
سنگاپور کی حکومت نے دو رہائشگاہوں کو قرنطینہ کر دیا ہے جہاں کم از کم 20000 افراد مقیم ہیں۔ اور تمام کام کرنے والوں کو 14 دن تک گھروں سے نکلنے سے منع کر دیا ہے۔
ان تازہ 120 کیسز میں سے 116 مقامی طور پر منقتل ہوئے ہیں (یعنی یہ باہر سے سنگاپور آنے والوں کی وجہ سے نہیں ہوئے)۔ حکومت پر امید ہے کہ وہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
سنگاپور میں اس وقت تین لاکھ غیر ملکی کام کر رہے ہیں زیادہ تر لوگ تعمیراتی کام کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگارپور میں کورونا وائرس کا شکار افراد کی یومیہ تعداد میں بہت بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 120 افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
سنگاپور ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں چین کے بعد سب سے پہلے فروری میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی۔ تاہم وہاں حکومت کی جانب سے وائرس کے ٹیسٹ اور مریضوں کی تلاش کے کڑے اقدامات کی وجہ سے وہ وبا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں کامیاب رہے۔
تاہم مارچ کے آخر میں عالمی ادارہ صحت کے خبردار کیا کہ وبا کی دوسری لہر سے ایشیا کے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں خصوصاً ایسے لوگوں کی وجہ سے جو باہر کے ممالک سے یہ وائرس اپنے ملک میں لا رہے ہیں۔
آسٹریلیا کی پولیس اس واقعے میں مجرمانہ فعل کی تفتیش کر رہی ہے جس میں ایک کروز شپ سے مسافروں کو سڈنی کے ساحل پر اترنے کی اجازت دی گئی اگرچہ کئی مسافروں میں فلو جیسی علامات موجود تھیں۔
روبی پرنسز نامی اس کروز شپ کے 600 مسافروں میں کورونا کی تصدیق ہوئی اور ان میں سے 10 ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس بحری جہاز پر کورونا کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد پورے آسٹریلیا میں وائرس کا شکار ہونے والے افراد کا دسواں حصہ ہیں۔ آسٹریلیا میں اب تک 5548 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
یہ بحری جہاز اب بھی ساحل سے دور ہے اور اس پر سوار عملے کے 200 ارکان بھی بیمار ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں غور کر ہے ہیں کہ آیا ملک کے بائیو سکیروٹی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ملک میں 11 اپریل سے کم خطرے والی اقتصادی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی۔
تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کس قسم کی سرگمیاں اس میں شامل ہوں گی۔ تاہم ملک میں سکول، یونیورسٹیاں اور تمام تر سماجی اور مذہبی مقامات بند رہیں گے اور 18 اپریل تک شہروں کے درمیان سفر کرنے کی بھی ممانعت ہو گی۔
ملک کی وزراتِ صحت کے مطااق اتوار کو ملک میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3603 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 58226 ہو گئی ہے۔
ایران ان اولین ممالک میں سے تھا جہاں یہ وبا بڑے پیمانے پر پھیلی، ماہرین کا خیال ہے کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد بتائے گئے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’برطانیہ کورونا وائرس کو شکست دے سکتا ہے اگر لوگ گھروں میں رہیں اور حکومت کی ہدایات پر عمل کریں۔‘
برطانوی وزیر اعظم بورس جانس نے تسلیم کیا کہ یہ ’مشکل‘ ہے لیکن انھوں نے کہا کہ اگر لوگ مل کر کام کریں تو ملک اس وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے۔
ان کا یہ بیان اایسے وقت آیا ہے جب ملک کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ عوامی مقامات پر سن باتھنگ (یعنی دھوپ سینکنے) کی اجازت نہیں ہے اور برطانیہ شاید گھروں سے باہر ورزش کرنے پر بھی پابندی عائد کرے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShinsukeN
کشتی کا مقابلے ریسلیمینیا جو ڈبلیو ڈبلیو ای کا سب بڑا مقابلہ ہے کورونا وائرس کے خدشے کے باعث منسوخ کرنے کی بجائے تماشائیوں کے بغیر کروایا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں کھیلوں کے متعدد مقابلے معطل یا منسوخ کرائے جا چکے ہیں۔
یہ میچ امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے ریمنڈ جیمز سٹیڈیم میں ہونا تھا جہاں 65 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے تاہم کیونکہ اب یہ میچ تماشائیوں کے بغیر ہو رہا ہے اس لیے اس اورلینڈو کے چھوٹے ٹریننگ سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ ایونٹ دو راتوں پر محیط ہوتا ہے۔ پہلا راؤنڈ کل کھیلا گیا،جب کہ فیصلہ کن راؤنڈ آج کھیلا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں اب تک کووڈ 19 کے کل 3374 مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ 77 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
انڈیا میں جہاں ٹیسٹنگ بڑھانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں وہاں اب تک 266 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
سپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’انفیکشنز کی بلند ترین سطح پار کرنے کے بہت قریب ہے۔‘ انھوں نے یہ بات ایک ایسے موقعے پر کی جب سپین میں مسلسل دوسرے روز ہلاکتوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔
سپین میں آج ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 674 تھی جس کے بعد ملک میں اموات کی کل تعداد 124189 ہو گئی ہے۔
گذشتہ روز سپین میں ایک دن میں 809 افراد ہلاک ہوئے جو کہ گذشتہ ہفتے میں ایک دن میں ہلاکتوں کی کم ترین تعداد ہے۔
وزیراعظم نے ملک میں لاک ڈاؤن کو 25 اپریل تک توسیع دی ہے۔ ادھر لاک ڈاؤن کے بعد بھی شہریوں کو عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی تجویز دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں حکومتی اہلکار ان کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سپین میں ماسکس کی کمی اس قدر شدید ہوگئی تھی کہ حکومت کو موجودہ تجویز کے برعکس یہ کہنا پڑا تھا کہ ان کی ہسپتالوں کے علاوہ کوئی ضرورت نہیں۔