خبر
رساں ادارے روئٹرز کو امریکی اور یورپی سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کا خیال ہے
کہ ایرانیوں نے جان بوجھ کر ہلاکتوں کو کم کرنے اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے
سے گریز کیا ہے تاکہ بحران کو قابو سے باہر کرنے تحمل اور کشیدگی کو روکنے کے لیے ان
کے عزم کا اشارہ مل سکے۔
سی این این کے صحافی جیک ٹیپر نے پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے ’جان بوجھ کر ایسے اہداف کا انتخاب کیا جس کے نتیجے میں جانی نقصان نہ ہو۔‘
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ منگل کی سہ پہر تک جان چکے تھے کہ ایران عراق میں امریکی اہداف پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، حالانکہ یہ واضح نہیں تھا کہ کون سی تنصیبات پر حملہ ہو سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ، ابتدائی انتباہ انٹلیجنس ذرائع کے ساتھ ساتھ عراق سے ہونے والے مواصلاتی رابطے سے ملا تھا، جس میں ایران کی جانب سے حملہ کرنے کے ارادوں کے متعلق آگاہ کیا تھا۔
بی بی سی کے امریکی پارٹنر ادارے سی بی ایس کے لیے پینٹاگون کے نمائندے ڈیوڈ مارٹن نے کہا کہ ایک دفاعی عہدیدار نے انھیں بتایا کہ ایرانی حملے سے ’متعدد گھنٹوں‘ قبل امریکہ کو اس کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے امریکی فوجیوں کو بنکروں میں پناہ لینے کے لیے کافی وقت دیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ انتباہ مصنوعی سیارے اور مواصلاتی سگنلز اور رابطوں کو ٹریس کرنے کے امتزاج سے ملا تھا۔ یہ وہی نظام ہے جو شمالی کوریا کے میزائل تجربوں کا جائزہ لینے کی لیے استعمال ہوتا ہے۔
بی بی سی کے دفاعی نمائندے جوناتھن مارکس نے کہا کہ ’یہ ایسا ہی مرتب کیا گیا تھا یا صرف ان کے میزائلوں کی تیاری اورہدف کو نشانہ بنانے میں کوتاہیوں کی وجہ سے تھا۔ تاحال یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ تاہم امریکی اڈوں کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغنا ایک خطرناک طریقہ عمل ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ عراق کی الاسد فضائی اڈے پر ایرانی میزائلوں کے اثرات کی ابتدائی سیٹلائٹ تصویروں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے متعدد ڈھانچوں کو تباہ کردیا ہے، لہذا ہلاکتوں کی کمی حکمت عملی کی بجائے خوش قسمتی ہوسکتی ہے۔‘