ٹرمپ کم ملاقات پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اختتام کو پہنچی
سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کم جونگ ان کی تاریخی ملاقات پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اب اختتام کو پہنچی۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس میں شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ذیشان حیدر، شجاع ملک، وقاص علی، سارہ حسن
سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کم جونگ ان کی تاریخی ملاقات پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اب اختتام کو پہنچی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ شمالی کوریا کو مذاکرات کے دوران دھمکایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا میں کسی بھی قسم کی شورش سے جنوبی کوریا میں ہزاروں افراد متاثر ہوں گے کیونکہ سیئول شمالی کوریا کی سرحد کے قریب ہے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ انھوں نے شمالی کوریا کو ’آتش اور غضب‘ کی دھمکی دی، انھوں نے جواب میں کہا کہ اُس وقت کے لحاظ سے یہ مناسب زبان تھی۔
ایک رپورٹر نے پوچھا کہ شمالی کوریا کیسے جوہری ہتھیار تلف کرے گا؟
ٹرمپ نے کہا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ جنوبی جوریا اور جاپان اُن کی مدد کے لیے تیار ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ پابندیوں کے خاتمے سے قبل انسان حقوق کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے اہم پیش رفت چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے کم جونگ ان سے ملاقات کی رضامندی کے علاوہ ’کچھ دیا نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایک شخص جو ٹرمپ کو ناپسند کرتا تھا وہ اب بڑا کام کرنے پر متفق ہے۔‘
اگرچہ تجزیہ کاروں کا کہنا کہ صدر ٹرمپ سے دو طرفہ ملاقات سے شمالی کوریا کے پراپیگنڈہ کی جیت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس کو نظرانداز کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ مشترکہ مشقیں جو امریکہ عموماً جنوبی کوریا کے ساتھ کرتا ہے وہ کتنی اہم ہیں۔ اب یہ ’اشتعال انگیزی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس پر امریکہ کی بھی کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پہلے سے طے کی گئی مشقیں مستقبل میں شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرت تک روک لی گئی ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنوبی کوریا سے بات کی گئی ہے کہ نہیں لیکن ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں اس پر بات کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پابندیاں اسی وقت ہٹائی جائیں گی جب ہمیں یقین ہو گا کہ جوہری ہتھیار اب ایک عنثصر نہیں رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پابندیاں ہٹانا چاہتے ہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب وہ ڈی نیوکلیئرئزیشن کے بارے میں پراعتماد ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کم جونگ ان سے ملاقات میں شمالی کوریا میں حقوقِ انسانی کی صورتحال پر بات ہوئی۔ ان کے مطابق یہ بات چیت مختصر تھی تاہم یہ موضوع زیرِ بحث آیا
ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ ان ’بہت قابل ہیں۔ وہ بہت کم عمری میں اقتدار میں آئے اور مشکل وقت میں ملک کو سنبھالا۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت آنے پر خود بھی شمالی کوریا جائیں گے اور چیئرمین کم کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم جنگ کی تباہیوں کو امن سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شمالی کوریا کی جانب سے ہتھیاروں کو تلف کرنے کے بعد انھیں جو حاصل ہو گا اس کی کوئی حد ہی نہیں ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ بافی دنیا بھی حقیقی معنی میں شمالی کوریا سے رابطہ رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کم جونگ کو اسے ’رہنما کے طور پر یاد کیا جائے گا جو اپنے عوام کے لیے خوشحالی کا نیا دور لایا ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک علاقے میں اپنی عسکری موجودگی کو کم نہیں کر رہا تاہم وہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی جنگی مشقوں کا سلسلہ روک دے گا۔ شمالی کوریا ان مشقوں پر اعتراض کرتا آیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ کم ’ایک بڑی میزائل سائٹ تباہ کر رہا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس کا اعلان مشترکہ اعلامیے میں اس لیے نہیں تھا کیونکہ دونوں رہنماؤں نے اس پر دستاویز کی تیاری کے بعد اتفاق کیا۔
اعلامیے پر دستخط کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔ چیئرمین کم سے میری ملاقات ایماندارانہ، کارآمد اور براہِ راست تھی۔ ہم نے شاندار 24 گھنٹے گزارے ہیں، دراصل شاندار تین ماہ۔ اس جگہ میں بہترین مقام بننے کا مادہ ہے۔‘
بہت سے تجزیہ کار امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی کر رہے ہیں کہ یہ اعلامیہ جامع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے ماضی میں اس سے کہیں زیادہ ٹھوس اعلامیوں پر دستخط کیے ہیں۔
سو شمالی کوریا نے ماضی میں کون سے معاہدے کیے جن سے وہ بعد میں پھر گیا
بی بی سی کی لارا بکر نے ٹرمپ کم اعلامیے سے چار اہم نکات نکالے ہیں جو کہ یہ ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس شمالی کوریا کے رہنما کے لیے اہم کامیابی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ماضی کے مقابلے میں تعلقات اب بہت مختلف ہیں اور ان کا کم کے ساتھ ہونا فخر کی بات ہے، یہ بہت بڑا کامیابی ہے۔‘
ٹرمپ نے غیر معمولی الفاظ کا استعمال ایک ایسے شخص کے لیے کیا جنھیں چند ماہ قبل وہ ’راکٹ مین‘ اور ایک ایسی ریاست کا حکمران، جس دنیا بھر میں برا کہا جائے قرار دیتے تھے۔
ڈی نیوکلیئریئزیشن یا جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ اس بارے میں بہت جلد کام شروع کریں گے۔‘ یہاں اس ویڈیو میں یہ اس مشکل اصطلاح کو جاننے کو کوشش کی جائے گی۔
کم جونگ ان کا قافلہ سینٹوسا سے روانہ ہو گیا ہے۔ خیال ہے کہ وہ جلد ہی سنگاپور سے بھی واپس اپنے وطن چلے جائیں گے۔ امریکی صدر اب بھی سینٹوسا میں موجود ہیں جہاں وہ جلد ہی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے ہیں جس میں اس دستاویز کی تفصیل دی جائے گی جس پر انھوں نے شمالی کوریائی رہنما کے ہمراہ دستحظ کیے ہیں