’صدر ٹرمپ کا دلیرانہ فیصلہ‘
اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے کہا ہے کہ ’ہم صدر ٹرمپ کے اس دلیرانہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کیا جائے گا۔ امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے کہا ہے کہ ’ہم صدر ٹرمپ کے اس دلیرانہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘
انتونیو گتریس نے اپنے بیان میں ڈھکے چھپے الفاظ میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یروشلم شہر کے تنازع کو ہر صورت اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے میں روز اوّل سے مسلسل کسی بھی ایسے یکطرفہ حل کے خلاف بات کرتا رہا ہوں جس سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کو زِک پہنچ سکتی ہے۔‘
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دو ریاستی حل کی امید کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
’صدر ٹرمپ نے دو ریاستی حل کو تباہ کر دیا ہے۔‘
امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مصر نے مسترد کر دیا۔
ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مزمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔‘
بی بی سی کے رچرڈ کولبورن نے ٹرمپ کے اس دعوے پر روشنی ڈالی ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے سے فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کے مذاکرات پر اثر نہیں پڑے گا۔
فرانسیسی صدر نے صدر ٹرمپ کے اعلان کے رد عمل پر کہا ہے کہ وہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔
’یہ فیصلہ افسوسناک ہے جس کو فرانس قبول نہیں کرتا اور یہ فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف جاتا ہے۔‘
اس وقت امریکہ میں ٹوئٹر پر ’اسرائیل اور فلسطین‘ اور ’یروشلم‘ کے ہیش ٹیگ سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ بہت سے ٹوئٹر صارفین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کا یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کا اعلان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بھڑکائے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں ہمارے لوگ یروشلم واپس آنے کے لیے بے تاب ہیں۔ اور آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے ہمارے لیے یہ ایک تاریخی دن بنا دیا ہے۔
یہ ایک تاریخی دن ہے۔ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت 70 سے ہے۔ یروشلم ہماری امیدوں، خوابوں اور دعاؤں کا مرکز رہا ہے۔ یروشلم یہودیوں کا تین ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں پر ہماری عبادگاہیں رہی ہیں، ہمارے بادشاہوں نے حکمرانی کی ہے اور ہمارے پیغمبروں نے تبلیغ کی ہے۔‘
یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ امن معاہدے کے دیرینہ عزم سے انحراف کر گیا ہے۔ ہم امن معاہدہ چاہتے ہیں جو اسرائیل کے لیے بہت ضروری ہے اور ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے لیے بھی۔‘
امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔ ‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اتحادی کو تسلیم کرنے کے لیے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ وہ کام ہے جو ہونا ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا میں امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے احکامات دیتا ہوں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا۔ امریکہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ اگر دونوں فریق اس بات پر راضی ہو جائیں۔ ہماری سب سے بڑی امید امن ہی ہے۔ ہم خطے میں امن اور سلامتی چاہتے ہیں۔ ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم اختلافات کے خاتمے کے بعد امن قائم کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنی سفاتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔