کیمیائی حملے کا ’جواب‘، شامی اڈے پر امریکی میزائل حملے

امریکہ نے گذشتہ ہفتے شام میں عام شہریوں پر کیمیائی مادے کے حملے کے بعد جمعرات کی شب شام کے ایک فوجی اڈے پر انسٹھ ٹوماہاک کروز میزائل داغے ہیں۔ اس صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, امریکی حملہ بین الاقوامی مسلح تصادم ہے‘

    icrc

    انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی ترجمان نے کہا ہے ’ایک ملک کی طرف سے بغیر دوسرے ملک کی رضا مندی کے فوجی کارروائی انٹرنیشنل آرمڈ کانفلکٹ یعنی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتی ہے۔

    ’معلومات کے مطابق امریکہ نے شامی فوجی تنصیب پر حملہ کیا اور یہ بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتا ہے۔‘

  2. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا نے ٹویٹ میں کہا ہے: ’جن حالات میں ہم رہ رہے ہیں ان میں مشکل فیصلے لینے ضرورت ہے۔ میں اپنے والد پر فخر کرتی ہوں کہ انھوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔‘

  3. missile
  4. بریکنگ, ’شام کے بحران کا حل صرف سیاسی طور پر نکالا جا سکتا ہے‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعلمال اور امریکی حملے نے ان کے اس یقین کی تعید کی ہے کہ شام کے بحران کا حل صرف سیاسی طور پر نکالا جا سکتا ہے۔

  5. لیبر پارٹی میں اختلافات

    برطانیہ کی لیبر پارٹی میں امریکہ کا شام پر حملے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

    لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربین نے امریکہ پر تنقید کی ہے جبکہ جماعت کے نائب ٹام واٹسن کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا یہ براہ راست اور متناسب جواب ہے۔‘

    شیڈو وزیر خارجہ ایمیلی تھورنبری نے کوربین کے موقف کی حمایت کی ہے۔ تاہم لیبر جماعت کے جان وڈ کاک کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کو امریکی کارروائی کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

    labour

    ،تصویر کا ذریعہPA

  6. Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
    Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    Instagram پوسٹ کا اختتام

  7. Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
    Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    Instagram پوسٹ کا اختتام

  8. روسی صحافی ایلکس پشن نے شام کے فضائی اڈے سے تصاویر انسٹاگرام پر ڈالی ہیں۔

    Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
    Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    Instagram پوسٹ کا اختتام

  9. روسی صحافی ایلکس پشن نے شام کے فضائی اڈے سے تصاویر انسٹاگرام پر ڈالی ہیں۔

    Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
    Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    Instagram پوسٹ کا اختتام

  10. بریکنگ, ’کانگریس پر یہ ذمہ داری ہے کہ جنگ کا اعلان کرے‘

    congress

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ڈیموکریٹ جماعت کی نینسی پلوسی نے ایوان نمائندگان کے سپیکر پال رائن کو ایک خط میں کہا ہے کہ وہ کانگریس کا اجلاس طلب کریں۔

    واضح رہے کہ جمعہ سے کانگریس میں دو ہفتے کی تعطیل ہو گی۔

    انھوں نے لکھا ہے ’شام کے صدر بشار الاسد کے اقدامات نے ان کو انسانی رویے کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ آئین کے تحت کانگریس پر یہ ذمہ داری ہے کہ جنگ کا اعلان کرے۔ کانگریس کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ایک خود مختار ملک کے خلاف فوجی ایکشن کی منظوری پر بحث کرنی ہو گی۔‘

    انھوں نے مزید لکھا ’اسد کی جانب سے اپنی ہی عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اندوہناک ہے اور شامی بحران ایک رات کی فضائی کارروائی سے حل نہیں ہو گا۔ لوگوں کا قتل اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک تشدد کو روکنے کے لیے جامع سیاسی حل نہیں نکالا جاتا۔‘

  11. بریکنگ, ’شام پر حملہ ملکی سیاست کا نتیجہ‘

    براک اوباما کے دور حکومت میں دفتر خارجہ کے مشیر جیریمی شپیرو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شام میں فضائی حملے اس لیے کیے ہیں کیونکہ وہ امریکہ میں ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ شام پر حملہ ’ملکی سیاست‘ کے باعث کیا گیا ہے جس کے باعث دور دراز ایک ملک میں لوگوں کی زندگیاں بہتر نہیں ہوں گے۔

  12. کانگریس کے رکن جسٹن اماش: ’فضائی حملہ اعلان جنگ ہے۔ شام میں ہونے والا تشدد اس بات کو اجازت نہیں دیتا کہ آئین کے خلاف جایا جائے اور آئین کے مطابق آغازِ جنگ کی منظوری کانگریس دیتی ہے۔‘

  13. سینیٹر رینڈ پال: آئین کے مطابق امریکی صدر کو فوجی کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری لینی ضروری ہے۔‘

  14. سینیٹر رینڈ پال: ’ہم شام میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہیں لیکن امریکہ پر حملہ نہیں کیا گیا۔‘

  15. کانگریس سیتھ مولٹن: ’امریکی صدر کو شامی عوام کی اتنی فکر ہے کہ 50 ٹوم ہاکس میزائل داغے جا سکتے ہیں لیکن اتنی فکر نہیں کہ اسد کے ہاتھوں متاثر ہونے والے افراد کو پناہ اور آزادی دی جائے۔‘

  16. بریکنگ, اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس

    UN

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شام کی صورتحال پر بحث کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس ساڑھے تین بچے جی ایم ٹی (ساڑھے آٹھ بجے پاکستان معیاری وقت کے مطابق) ہو گا۔

  17. ’روس اور امریکہ کے تعلقات خراب ہونے پر افسوس‘

    شام کے فضائی اڈے پر امریکی حملے کے تناظر میں روسی صدر پوتن نے روسی سکیورٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی جس میں شامی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

    روسی خبر رساں ادارے انٹر فیکس نے صدارتی ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ’شام کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ واشنگٹن کا اقدامات ایک بار پھر جارحیت کے زمرے میں آتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔‘

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق اجلاس میں امریکی حملے کے باعث روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے خراب ہونے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

    اجلاس میں روسی ایرو سپیس فورسز کی شامی سکیورٹی فورسز کے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد کرتے رہنے پر بھی بات چیت ہوئی۔

  18. بریکنگ, صدر ٹرمپ کے فضائی حملے حماقت ہیں: شامی صدر بشار الاسد

    asad

    ،تصویر کا ذریعہSANA

    شام کے صدر بشار الاسد کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے شامی فضائی اڈے پر حملے احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔‘

    ’ میزائل حملے کا فیصلہ امریکہ کی حماقت اور غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے اور اس سے ان کی سیاسی اور عسکری بصارت میں کمی کا احساس ہوتا ہے کہ انھیں زمینی حقائق کا علم نہیں ہے۔‘

  19. بریکنگ, امریکی حملہ قابلِ فہم ہے: میرکل

    میرکل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں حملہ ’ جنگی جرائم، معصوم عوام کی مشکلات اور سلامتی کونسل میں رکاوٹوں کے تناظر میں قابلِ فہم‘ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ساتھ ہی ساتھ میں آج پہلے سے کہیں زیادہ زور دیتی ہوں کہ یہ درست اور اہم ہے کہ توجہ سلامتی کونسل اور جینیوا میں ہونے والی بات چیت پر مرکوز رکھی جائے تاکہ شام کے مسئلے کا سیاسی حل نکل سکے۔‘

  20. بریکنگ, شام میں فضائی تحفظ کا معاہدہ معطل: روس

    روسی نے امریکہ کے ساتھ شام میں فضائی تحفظ کے معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کیا گیا تھا تاکہ دونوں ملکوں کی فضائیہ شام کی حدود میں ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنائیں۔