’ٹرمپ حکم نامے کے خلاف کل بل پیش کریں گے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کے خلاف دنیا بھر سے شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے جبکہ عالمی رہنماؤں نے بھی اس فیصلے کی پذیرائی نہیں کی۔

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ حکم نامے پر عالمی ردِ عمل کی لائیو کوریج کچھ دیر کے لیے روکی جا رہی ہے

    امریکہ میں صدر ٹرمپ کے امیگریشن سے متعلق حکم نامے پر عالمی ردِ عمل اور اس کے خلاف مظاہروں کی لائیو کوریج کچھ دیر کے لیے روکی جا رہی ہے۔ یہ کوریج چند گھنٹوں کے بعد دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ ہماری ویب سائٹ پر اس عنوان سے متعلق دیگر صفحات کو ضرور پڑھیں۔ شکریہ۔

  2. ’ٹرمپ حکم نامہ کے خلاف بل کل متعارف کروائیں گے‘

    کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹر ڈائین فائن سٹین نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روز صدر ٹرمپ کے امیگریشن سے متعلق حکم نامے کے خلاف دو بل متعارف کروائیں گی۔

    ایک قانون میں ان کے حکم نامہ کو منسوخ کیا جائے گا۔دوسرے قانون کے تحت صدر ٹرمپ کو تارکینِ وطن کی آمد پر پابندی لگانے سے روکا جائے گا۔

    تاہم یاد رہے کہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں صدر ٹرمپ کی پارٹی کی اکثریت ہے۔

  3. ’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خود لگائی ہوئی چوٹ‘

    ریپبلکن پارٹی کے سینیئر سینیٹرز جان مکین اور لینڈسی گریم کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اقدام دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خود کو لگائی ہوئی چوٹ بن سکتی ہے۔

    جان مکین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  4. اے سی ایل یو نے دو دن میں سالانہ اوسط سے پانچ گنا زیادہ عطیات جمع کر لیے

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے نامہ نگار ڈسٹن ولز نے بتایا ہے کہ امریکی شہری آزادی کی تنظیم اے سی ایل یو نے سنیچر سے اب تک (36 گھنٹوں میں) اپنی سالانہ اوسط سے پانچ گنا زیادہ عطیات جمع کیے ہیں۔ اے سی ایل یو ہی وہ تنظیم ہے جس نے ہوائی اڈوں پر پناہ گزینوں کو روکے جانے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

  5. گرین کارڈ ہولڈرز کو ملک میں داخلے کی اجازت دے دی گئی

    امریکہ میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر جان کیلی نے محکمے کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ گرین کارڈ رکھنے والے افراد کا ملک میں داخلہ ’فومی مفاد‘ میں ہے۔

  6. اتاترک ایئر پورٹ پر درجنوں افراد کو روک دیا گیا

    ترکی کے شہر استنبول کے اتاترک ائیر پورٹ کے حکام نے صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کے بعد درجنوں افراد کو استنبول سے امریکہ سفر کرنے سے روک دیا ہے۔

    اتاترک ایئر پورٹ حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھوں نے ’درجنوں‘ افراد کو اتوار کے روز پابندی کے باعث روک دیا۔ ایک آفیشل کا کہنا تھا کہ روکے جانے والے افراد کی تعداد کم از کم 80 ہے، تاہم انھوں نے مزید اطلاعات دینے سے انکار کردیا۔

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. ٹھریسا مے کا حکم

     برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے امریکی ہم منصبوں کو فون کر کے صدر ٹرمپ کی جانب سے سات ممالک پر لگائی جانے والی سفری پابندی کے حوالے سے بات کریں۔

    Theresa May

    ،تصویر کا ذریعہPA

  8. امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ کے حکمنامے کے خلاف مظاہرے جاری
  9. امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ کے حکمنامے کے خلاف مظاہرے جاری
  10. بریکنگ, ’عدالتی آرڈر کا اثر نہیں ہوگا‘

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اعلیٰ مشیر کا کہنا ہے وفاقی جج کی جانب سے تارکین وطن اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر عائد پابندی پر عارضی طور پر عمل درآمد رکوانے کے ہنگامی آرڈر کا ’کوئی اثر نہیں ہوگا۔‘

    کیلیئن کانووے نے ’فاکس نیوز سنڈے‘ پر کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کا آرڈر روکنے کا کہا نہ کہ حراست میں لینے کا، اور اس سے بہت ہی کم تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔‘ کانووے نے مزید کہا کہ ’امریکی عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ چھوٹی سے رقم ہے جو ادا کرنا ہوگی۔‘

    کانووے

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  11. امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنجے ایف کے ایئر پورٹ کے باہر پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے
  12. امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنجے ایف کے ایئر پورٹ کے باہر مظاہرین
  13. بریکنگ, آن لائن پٹیشن پر تین لاکھ سائن

    برطانیہ میں آن لائن پٹیشن جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر کی حیثیت سے برطانیہ میں داخل ہونے دیا جائے لیکن ان کو سرکاری دورہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کیونکہ وہ سرکاری دورہ کر کے ملکہ برطانیہ کی شرمندگی کا باعث بنیں گے۔

    اس آن لائن پٹیشن کو اب تک تین لاکھ لوگوں نے سائن کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس ایشو پر اب برطانوی پارلیمان میں بحث کی جائے گی۔ 

    آن لائن پٹیشن کی حمایت اگر ایک لاکھ افراد کر دیں تو برطانوی پارلیمان کو اس ایشو پر بحث کرنا لازم ہوتا ہے۔ 

    پٹیشن

    ،تصویر کا ذریعہpetition

  14. ایک ہفتے میں 17 ایگزیکٹو آرڈر

    پی بی ایس نامی ویب سائٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک ہفتے کے دوران 17 ایگزیکٹو آرڈز پر دستخط کیے۔ جن کے امریکہ کے اندر اور امریکہ سے باہر وسیع اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

     مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دستخط کے ساتھ ہیلتھ کیئر، امیگریشن، تیل نکالنے، اسقاط حمل، وفاقی بھرتیوں اور تجارت جیسے معاملات پر پالیسیاں تبدیل کی ہیں۔ 

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  15. ’ایک سو سے زیادہ افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے‘

    امیگریشن وکیل تالیا انلینڈر لاس اینجیلس ایئر پورٹ پر ان لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش میں ہیں جن کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا کہ جس طرح لوگوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے وہ غیر ضروری اور نا انصافی ہے۔

    ’ان لوگوں کو ایئر پورٹ میں نچلی منزلوں میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں پہلے معلوم چلا تھا کہ ایک سو افراد سے زیادہ افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے۔ جن چند افراد کو رہا کیا گیا ہے انھوں نے ہمیں بتایا ہے کہ ان کو سات سے آٹھ گھنٹوں کے لیے حراست میں رکھا۔ اور نہ کھانے اور نے پانی فراہم کیا گیا۔ جن حالات میں ان لوگوں کو رکھا جا رہا ہے وہ اچھی نہیں ہیں۔‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  16. امریکیوں پر جوابی سفری پابندی کا مطالبہ

    عراقی پارلیمان کی امور خارجہ سے متعلق کمیٹی نے اپنی حکومت سے امریکیوں پر جوابی سفری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کے نائب سربراہ حسن شواردی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا صاف صاف مطالبہ یہ ہے کہ عراقی حکومت امریکہ کے ساتھ ہر معاملے میں معکوسی رویہ اختیار کرے۔‘

  17. ایگزیکٹو آرڈر کیا ہے؟

    ہر امریکی صدر نے کام کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر کا استعمال کیا ہے بشمول براک اوباما کے۔ 1789 سے لے کر آج تک 13 ہزار ایگزیکٹو آرڈر جاری کیے جا چکے ہیں۔

    ایگزیکٹو آرڈر کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اس کی قانونی اہمیت ہوتی ہے۔

    زیادہ تر ایگزیکٹو آرڈر کا مقصد صدر کی جانب سے کانگریس میں نہ جانا ہوتا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کا مقصد انتخابی مہم میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد جلد سے جلد کرنا ہے۔ 

    trump

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  18. چیف آف سٹاف ریئنس پیریبس نے این بی سی کے پروگرام میں کہا کہ ’کوئی بدنظمی نہیں ہوئی ہے۔‘

     خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ریئنس پیریبس کا مزید کہنا تھا کہ سنیچر کو تین لاکھ 25 ہزار مسافر امریکہ میں داخل ہوئے جن میں سے 109 کو حراست میں لیا گیا۔

     انھوں نے کہا کہ ’ان میں سے زیادہ تر افراد کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہمارے پاس دو درجن کے قریب مزید افراد ہوں گے اور میرے خیال میں اگر وہ کوئی برے لوگ نہیں ہیں تو انھیں بھی آئندہ ایک آدھ دن میں جانے دیا جائے گا۔‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  19. ’ٹرمپ تو مجھے ایلیئن بنا دیتے‘

    برطانوی ایتھلیٹ اور اولمپک چیمپیئن مو فراح نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تارکین وطن اور دیگر امریکہ آنے والے افراد پر پابندی عائد کرنے کے حکم کی مذمت کی ہے۔

    صومالیہ میں پیدا ہونے والے برطانیہ کے سب سے کامیاب ٹریک ایتھلیٹ مو فراح نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ ’رواں سال یکم جنوری کو ملکہ نے مجھے نائٹ آف دا ریلم مقرر کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تو مجھے ایلیئن (دوسری دنیا کا فرد) ہی بنا دیتے۔‘

    مو فراح

    ،تصویر کا ذریعہThe Press Association

  20. امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر کے فیصلے کے خلاف امریکہ کے ہوائی اڈوں پر مظاہرین کی بڑی تعداد پناہ گزینوں کے حق میں نعروں پر مبنی پلے کارڈز لیے کھڑے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے