برلن حملے کا ملزم پولیس کے ہاتھوں ہلاک

برلن میں 12 افراد کو ہلاک کرنے کے ملزم انیس عامری کو اطالوی پولیس نے اٹلی کے شہر میلان میں گولیوں کے تبادلے میں ہلاک کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پولیس اہلکاروں کی شناخت ظاہر کرنے پر تنقید

    بی بی سی کے جولیاں مگلیرینی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انیس عامری کی ہلاکت کے آپریشن کے لیے اٹلی کے وزیرِ داخلہ مینیتی کی تحسین کی جا رہی ہے، لیکن بعض لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ اس دوران پولیس اہلکاروں کی شناخت کیوں ظاہر کی گئی ہے۔

  2. برطانیہ میں سکیورٹی سخت کر دی گئی

    لندن میں بکنگھم پیلس میں محافظوں کی تبدیلی کے وقت سڑکیں بند کر دی جائیں گی، جب کہ نیو کاسل، ایس مڈ لینڈ اور دوسرے شہروں میں مسلح پولیس اہلکار گشت کریں گے۔

    UK security

    ،تصویر کا ذریعہNotts TV

  3. میلان پولیس کو عامری کے بارے میں ’مخبری نہیں ہوئی تھی‘

    میلان پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ شہر کی پولیس کو اس بات کی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ انیس عامری وہاں موجود ہیں۔ 

    اس سے قبل بعض اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ عامری شہر میں موجود ہیں جس کے بعد انھیں روکا گیا۔ تاہم اب انتونیو دے آیسو نے کہا ہے کہ جن پولیس اہلکاروں نے عامری کو روکا، وہ معمول کی گشت پر تھے۔

    انھوں نے کہا: ’ہمیں اس بات کی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ وہ میلان میں ہو سکتے ہیں۔ انھیں اس بات کا احساس نہیں تھا ورنہ وہ زیادہ احتیاط برتتے۔‘

  4. ٹرک ڈرائیور کے خاندان کے لیے 50 ہزار پاؤنڈ کا چندہ

    پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور لوکاچ اربان کے خاندان کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم نے اب تک 50 ہزار پاؤنڈ اکٹھے کر لیے ہیں۔ اربان پیر کے روز برلن حملے میں ہلاک مارے گئے تھے۔

    یہ آن لائن چندہ مہم اربان کے ساتھی ٹرک ڈرائیور ڈیو ڈنکن نے برطانوی شہر ویسٹ یارک شائر شروع کی تھی، اور اس میں اب تک 3700 افراد نے شرکت کی ہے۔

  5. کیا عامری کے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟

    جرمنی کے وفاقی استغاثہ افسر پیٹر فرینک نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا ہے کہ تفتیش کار اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا انیس عامری کے ساتھ کوئی اور بھی برلن میں حملے میں ملوث تھا یا نہیں۔

  6. ’یہ بہت تکلیف دہ ہے‘

    انیس عامری کی والدہ نے اپنے بیٹے کی ہلاکت پر یورپی حکام پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ تیونس میں اپنے گھر میں نور الہدیٰ حسنی نے جرمن اخبار ڈوئچے ولے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’اٹلی اور جرمنی میں سکیورٹی سے متعلقہ افراد بھی اس کے کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔

     ’وہ اسے دو یا تین بار پہلے گرفتار کر چکے تھے (برلن حملے سے پہلے)۔ انھوں نے اسے واپس تیونس کیوں نہیں بھیجا؟ اس کو سزا کیوں نہیں دی؟ اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟‘

     ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟‘

    عامری

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  7. اطالوی وزیراعظم کا خراج تحسین

    اطالوی وزیراعظم پاؤلو گنٹلونی نے پولیس مقابلے میں شامل دو پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ لا سٹمپا ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے کہا ’اٹلی کو اپنی سکیورٹی فورسز پر فخر ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس آزمائش میں خاص طور پر کرسچین موویو کے شکر گزار ہیں جو زخمی ہوئے، اور ان کے ساتھی لوکا سکاٹا کے۔ ان اہلکاروں نے انتہائی ہمت اور پیشہ ورانہ کام کا مظاہرہ کیا۔‘

    italy

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  8. انیس عامری کی ہلاکت، جائے وقوعہ کے مناظر

    اطالوی شہر میلان میں پولیس اور انیس عامری کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد جائے وقوعہ کے مناظر

    ،ویڈیو کیپشنبرلن حملے کے ملزم کی میلان میں ہلاکت
  9. زخمی ہونے والے اطالوی پولیس اہلکار

    اطالوی پولیس کی جانب سے جاری کردہ انیس عامری کی گولی سے زخمی ہونے والے پولیس اہکار کرسچین موویو کی تصویر

  10. فرانس سے میلان کا سفر

    اطالوی خبررساں ادارے اسنا کے مطابق انیس عامری سے ملنے والی ریلوے ٹکٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ فرانس کے جنوب مشرقی شہر چیمبری سے تورین اور پھر میلان گئے تھے۔

  11. وہ لمحہ جب ٹرک کرسمس مارکیٹ سے ٹکرایا

    برلن کی ایک کرسمس مارکیٹ میں ٹرک کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا۔ اب حملے کے وقت کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ ایک گاڑی کے ڈیش کیمرے سے بنائی گئی اس ویڈیو میں ٹرک کو دیکھا جا سکتا ہے۔

  12. اطالوی وزیرِ اعظم نے جرمن چانسلر کو فون کر کے مطلع کیا

    اطالوی وزیرِ اعظم پاؤلو جینتیلونی نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا ہے کہ انھوں نے جرمن چانسلر انگلیلا میرکل کو فون کر کے انیس عامری کی ہلاکت کے بارے میں بتایا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ اس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

    gentiloni

    ،تصویر کا ذریعہAPTN

  13. سکیورٹی اچھا کام کر رہی ہے: اطالوی وزیر

    اطالوی وزیرِ داخلہ مارکو منیتی نے پولیس اہلکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’جونھی یہ شخص ہمارے ملک میں داخل ہوا وہ یورپ کا سب سے مطلوب شخص تھا۔ ہم نے فوراً ہی اسے شناخت کر کے اسے ختم کر دیا۔ اس کا مطلب ہے ہماری سکیورٹی بہت اچھا کام کر رہی ہے۔‘

    milan

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  14. شوٹنگ کے بارے میں مزید تفصیلات

    اطالوی پولیس نے کہا ہے کہ جب عامری کو روکا گیا تو انھوں نے بیک پیک میں سے پستول نکال لیا، اور ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے گولی چلا دی جس سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔ ایک اور پولیس اہلکار نے عامری پر گولی چلا کر انھیں ہلاک کر ڈالا۔ اس اہلکار کو پولیس کی نوکری شروع کیے ابھی صرف نو ماہ ہوئے تھے۔ 

  15. اخباروں میں سرخیاں چھپ گئیں

    جرمن اخباروں نے انیس عامری کی ہلاکت کی خبر نمایاں طور پر شائع کی ہے۔ ٹیبلوئڈ بلڈ نے لکھا: ’معاملہ ختم! دہشت گردی کا ملزم انیس عامری میلان میں مارا گیا۔‘

    amri

    ،تصویر کا ذریعہBild

  16. میلان بھی برلن حملے کی تفتیش میں شامل ہو گیا

    میلان میں پولیس مقابلے کے مقام پر صحافی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ عامری 2015 میں جرمنی جانے سے قبل اٹلی میں مقیم تھے۔ انھوں نے جرمنی جا کر وہاں پناہ کی درخواست دی تھی۔

    milan

    ،تصویر کا ذریعہAP

  17. ’جب عامری کو روکا گیا تو وہ اکیلا تھا‘

    میلان میں موجود بی بی سی کے پروڈیوسر جولیان مگلیرینی نے کہا ہے کہ عامری فرانس سے اٹلی آنے کے بعد بظاہر اکیلے جا رہے تھے کہ انھیں پولیس نے شبے کی بنا پر ریلوے سٹیشن کے قریب روکا۔

  18. انگلیوں کے نشانات سے شناخت

    انیس عامری کو جمعے کو تین بجے کے قریب اٹلی کے شہر میلان میں پولیس نے روکا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق اس کی انگلیوں کے نشانات سے معلوم ہوا کہ وہ پیر کو برلن میں ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے کا ملزم تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس حملے کے بعد سے جرمنی میں ہائی الرٹ نافذ تھا۔

    اس سے قبل جرمن پولیس نے اوبرہاؤزن شہر میں دو افراد کو حملے کی منصوبہ بندی کے شبے میں گرفتار کیا تھا۔

    جرمن حکام نے تصدیق کی ہے کہ انیس عامری کی انگلیوں کے نشانات اس ٹرک کے اندر موجود تھے جس کو برلن میں 12 افراد کو ہلاک اور 49 کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

  19. خود کو پولیس کے حوالے کر دیں: اہلِ خانہ کی اپیل

    اس سے پہلے برلن ٹرک حملے میں مبینہ طور پر ملوث انیس عامری کے اہل خانہ نے ان سے اپیل کی تھی کہ وہ خود کو پولیس کے حوالے کر دیں۔

    انیس عامری کے بھائی عبدالقادر عامری نے کہا ہے کہ ان کو پورا یقین ہے کہ ان کا بھائی بےقصور ہے اور اگر نہیں ہے تو 'یہ خاندان والوں کے لیے بے عزتی کا باعث ہے۔'

    عبدالقادر نے تیونس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا 'اگر میرا بھائی مجھے سن رہا ہے تو میں اس سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دے۔ ہم خاندان والوں کو بھی چین ملے گا۔'

    انھوں نے مزید کہا 'اگر اس نے وہ کیا ہے جس کا الزام اس پر لگایا جا رہا ہے تو اس کو سزا ملے گی۔ مجھے یقین ہے کہ میرا بھائی بے قصور ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس نے گھر معاشی حالات کے باعث چھوڑا، کام کرنے کے لیے، خاندان کی مدد کرنے کے لیے اور وہ دہشت گردی کرنے کے لیے نہیں گیا تھا۔'

    عامری

    ،تصویر کا ذریعہBKA / HANDOUT