یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اب تین، دو کی برتری حاصل ہے اور چھٹا میچ 30 ستمبر کو جمعے کے روز کھیلا جائے گا۔
اس فیصلہ کن میچ کے لیے آپ اس دن ہماری نئی لائیو کوریج کا حصہ بن سکتے ہیں۔۔۔
انگلینڈ کے خلاف لاہور میں سیریز کے پانچویں ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے چھ رنز سے فتح حاصل کی۔ انگلینڈ کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 146 رنز کا معمولی ہدف دیا مگر اچھی بولنگ کی بدولت اس کا کامیابی سے دفاع کیا گیا۔
عمیر سلیمی
پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اب تین، دو کی برتری حاصل ہے اور چھٹا میچ 30 ستمبر کو جمعے کے روز کھیلا جائے گا۔
اس فیصلہ کن میچ کے لیے آپ اس دن ہماری نئی لائیو کوریج کا حصہ بن سکتے ہیں۔۔۔
سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے لکھا ہے کہ ’ہدف کا بہت اچھا دفاع کیا گیا۔ ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی نے اچھا آخری اوور کرایا۔
’مگر مڈل آرڈر پر اب بھی توجہ درکار ہے۔ یہ مسلسل فکر کی بات ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
محمد حفیظ کہتے ہیں کہ پاکستان نے مسلسل دو میچوں میں کم ہدف کا دفاع کامیابی سے کیا ہے۔ انھوں نے عامر جمال کو مشورہ دیا کہ ’انٹرنیشل لیول پر اعتماد سب سے اہم ہے۔‘
ثنا میر نے لکھا کہ ’عامر جمال نے ٹی ٹوئنٹی میں سب سے خطرناک بلے بازوں میں سے ایک کے خلاف 15 رنز کا دفاع کیا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سوشل میڈیا پر بھی عامر جمال کے چرچے جاری ہیں۔
عاطف نواز نے ٹوئٹر پر کہا کہ پاکستان کے لیے آج ’ایک ستارہ پیدا ہوا ہے۔۔۔ انھوں نے ڈیبیو پر بہترین حوصلہ دکھایا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ریحان نامی صارف نے لکھا کہ ’عامر جمال سوچ رہے ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ اتنی کوئی مشکل تو نہیں۔ مگر ایک میچ نہ کسی کھلاڑی کو عظیم بناتا ہے نہ فراڈ۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’امید ہے آگے ان کا بہترین کیریئر ہو۔‘
سمیعہ نے طنزیہ انداز سے لکھا کہ ’عامر جمال نے ثابت کیا سب عامر ایک جیسے نہیں ہوتے۔‘
شکیل احمد نے کہا کہ ’عامر جمال نے کمال کر دیا۔ ڈیبیو میچ میں پاکستان کو جیت دلا دی شدید پریشر میں بھی اعصاب پر قابو رکھ کر بہترین باؤلنگ کی، ویلڈن۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پوسٹ میچ کانفرنس کے دوران معین علی کا کہنا تھا کہ: ’آج بیٹنگ مایوس کن رہی۔ ہم جارحانہ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں مگر صورتحال اور کنڈیشنز کو دیکھنا بھی اہم ہے۔ آج 60 سے 70 رنز کی شراکت قائم ہوتی تو ہم میچ جیت جاتے۔
’رضوان اچھے کھلاڑی ہیں اور انھیں روکنا مشکل ہوتا ہے۔ وہ عجیب جگہوں پر چوکے چھکے لگاتے ہیں۔ ہم ان سے بہت سیکھ سکتے ہیں۔ آج انھوں نے کنڈیشنز کا جائزہ لیا اور سوچے سمجھے رسک لیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مجھے امید تھی کہ وہ (عامر جمال) وائیڈ یارکر کرانے میں ناکام ہوں گے اور میں چھکا لگا سکوں گا۔۔۔ یہ اچھا آخری اوور تھا اور اس سے زیادہ رنز حاصل نہ کرسکے۔‘
بابر کی وکٹ پر معین علی نے کہا کہ ’ہم اتنی کرکٹ کھیلتے ہیں اور ہر کوئی کبھی نہ کبھی شارٹ گیندوں پر آؤٹ ہوتا ہے۔۔۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اسے کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایک چھکے سے کچھ ہی دور تھا۔ مارک ووڈ جیسے بولر اچھی شارٹ گیندیں کراتے ہیں۔
’جوس بٹلر اچھا صحتیاب ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ کل کھیلنے کے لیے تیار ہوجائیں مگر میں ان جیسے کھلاڑی کے ساتھ رسک نہیں لے سکتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اب (سیریز میں) کوارٹر فائنل یا سیمی فائنل جیسا ماحول ہے۔۔۔ ہمیں پاکستان جیسی ٹیم کے خلاف اب اچھا کھیلنا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ ان پر اکثر تنقید ہوتی رہتی ہے مگر وہ ایک اچھی ٹیم ہے۔‘
نائب کپتان شاداب خان نے پوسٹ میچ کانفرنس کے دوران کہا کہ: یہ ٹیم گیم ہے۔۔۔ جب ایک بندہ اچھا نہیں کھیلتا تو دوسرا اس کی جگہ لیتا ہے۔۔۔ عامر جمال پرفارم کر کے آئے ہیں۔ انھیں خود پر اعتماد ہے اور ہمیں بھی ان پر اعتماد ہے۔۔۔ اگر ان کے آخری اوور میں رنز ہوجاتے تب بھی ہم انھیں بیک کرتے۔ ان میں وہ ٹیلنٹ ہے جو ہمیں بہت فائدہ دے سکتا ہے۔
’ہم سیریز جیتنا چاہتے ہیں مگر اصل مقصد ورلڈ کپ ہے۔ کھلاڑیوں کو اعتماد دینا چاہتے ہیں۔ بلے بازوں نے ہمیں ماضی میں میچز جتائے ہیں۔۔۔ کوشش کرتے ہیں کہ باتیں (تنقید) ان کے کانوں میں نہ جائے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں پتا چلا اگر گیند بلے پر نہیں آ رہا تھا۔۔۔ ڈیو فیکٹر بہت زیادہ تھا۔ سکور ہونا چاہیے تھا۔ بیٹنگ کے لیے اچھا پچ تھا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
حارث رؤف نے کہا ہے کہ: ’پاکستان میں وکٹوں پر بولنگ کرنا بہتر ہوتا ہے۔۔۔ بلے باز کو جگہ ملے تو گیپ میں شاٹ لگ سکتی ہے۔ کوشش کرتا ہوں کہ وکٹوں میں ہی گیند کروں تاکہ رنز نہ لگیں۔‘
’میں پلان کر رہا تھا کہ 19واں اوور کیسے کرنا ہے۔ جب بولنگ کرنے آیا تو یہی پلان فالو کیا۔ مجھے معلوم تھا کہ رفتار کے ساتھ بولنگ کروں گا تو وکٹ ملے گی۔‘
’اوور کے لیے بھاگا تو پروانہ گلے میں پھنس گیا۔ پتا نہیں اندر چلا گیا یہ باہر نکل گیا۔‘
سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ حارث رؤف گھبراتے نہیں ہیں۔ ’جس وقت بھی یہ بولنگ کرتے ہیں تب بولرز کو ہمیشہ مار پڑتی ہے۔ حارث اس وقت ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بہترین بولرز میں سے ایک ہیں۔‘
حارث رؤف نے تسلیم کیا کہ آسٹریلیا کی پچز فاسٹ بولرز کے لیے اچھی ہیں اور بلے بازوں کو وہاں مشکل ہوتا ہے۔ ’ہر بلے باز آپ کو ریڈ کر کے آتا ہے اور ہر بار آپ کو کچھ نیا کرنا ہوتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل وہ انڈیا سے پہلے میچ کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
بابر اعظم نے اس جیت پر کہا کہ: مڈل اوورز میں ہمیں بریک تھرو (وکٹیں) ملے۔ شاداب ٹیم نے ٹیم کو اضافی مضبوطی دی۔ بولرز نے لو ٹوٹل کا دفاع کیا۔
انھوں نے ڈیبیو کرنے والے عامر جمال اور رضوان کو داد دی۔
معین کا کہنا ہے کہ: ’مڈل اوورز میں ہم (پاکستانی) سپنرز کی وجہ سے رُک گئے۔ مایوسی ہے کہ ان اوورز میں ہم تعاقب نہ کرسکے۔ ہم اس سے بہتر ٹیم ہیں۔
ڈیو کے باعث بولرز کے لیے گیند کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے تو ہمیں میچ کو آخر تک لے جانا تھا۔
ووڈ اچھی وکٹیں حاصل کر رہے ہیں اور بلے بازوں کو غلطی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ انھوں نے ہماری لیے اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بشکریہ: PCB
رضوان نے اس موقع پر کہا: اس پچ کے لیے یہ اچھا سکور تھا۔ ہم یہ سکور 160 تک لے جاسکتے تھے۔۔۔ ہماری بولنگ مشہور ہے اس کام کے لیے۔ افتخار اور شاداب نے اچھی بولنگ کی۔ پچ مشکل تھا مگر بولنگ اچھی جگہوں پر کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہPCB
عامر جمال نے آخری اوور میں صرف نو رنز دیے اور پاکستان کو جیت دلائی
ڈیوڈ ویلی نے فُل گیند پر لانگ آن کی جانب کھیلا مگر گیند زیادہ دور جا کر نہ گِری۔
تصحیح: ہمارا خیال تھا کہ انگلش بلے بازوں نے اس پر ایک رن لیا ہوگا مگر ایسا نہ ہوا۔ لہذا پاکستان کی پانچ نہیں بلکہ چھ رنز سے فتح ہوئی۔
آٹھ رنز درکار، دو گیندیں باقی
لانگ آف پر کھیلنے کے بعد انھوں نے رن نہ لیا
اس کے بعد ایک وائیڈ کرائی گئی