میچ کی کوریج ختم لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی کوریج جاری!, یہ پیج اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا
بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج سے آج کے لیے بس اتنا ہی لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی کوریج جاری رہے گی۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 33ویں میچ میں انڈیا نے افغانستان کو 66 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ جیت لیا ہے۔ انڈیا کی جانب سے روہت شرما اپنے جارحانہ 74 رنز کے باعث پلیئر آف دا میچ قرار پائے۔
بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج سے آج کے لیے بس اتنا ہی لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی کوریج جاری رہے گی۔
نڈین کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مسلسل دو میچ ہارنے کے بعد آخر کار آج اپنا پہلا میچ باآسانی جیت لیا ہے، جس کے بعد انڈیا میں کرکٹ فینز پھولے نہیں سما رہے۔
ابوظہبی میں افغانستان کے خلاف کھیلے گئے اس میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے انڈیا کو بیٹنگ کی دعوت دی تو انڈیا نے مقررہ 20 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز بنائے۔
اس سے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے دونوں میچز میں شکست ہوئی تھی، جس کے بعد انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین نہ صرف اپنی ٹیم سے ناراض نظر آئے بلکہ ان کی پرفارمنس پر کھل کر تنقید بھی کی لیکن افغانستان کے خلاف انڈیا کی شاندار جیت نے شاید اب روٹھے شائقین کے زخموں پر کچھ مرہم رکھ دیا ہے۔
انڈیا کے سابق کرکٹر وسیم جعفر نے انڈین بلے بازوں کی متاثر کن کارکردگی پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’انڈین بلے بازوں کو ویلکم بیک۔‘
محمد نبی کا کہنا تھا کہ ہم نے اوس کی وجہ سے پہلے فیلڈنگ کرنے کے بارے میں سوچا تھا لیکن آخر میں اتنی اوس نہیں پڑی۔ یہ وکٹ بیٹنگ کے لیے بہت اچھی تھی اور انڈیا نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور ہمارے بولرز پر دباؤ بڑھایا۔
’ہم نے سٹرائک روٹیٹ نہیں کی، اور دباؤ میں آ کر وکٹیں گرتی رہیں۔‘
وراٹ کوہلی نے میچ کے آخر میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ پچ بہت بہتر تھی، اس سے پہلے دو میچوں میں اگر ہمیں صرف دو اوور بھی جارحانہ بلے بازی کے مل جاتے تو ہم حریفوں کو پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوجاتے۔
’ہمارے ٹاپ تین بلے باز وہی ہوتے، لیکن آج صورتحال مختلف تھی اس لیے پنت اور ہارڈک کو پروموٹ کیا گیا۔ پہلے دو میچوں میں ہمیں اپنے حریفوں کو بھی کریڈٹ دینا ہو گا کہ انھوں نے اتنی اچھی بولنگ کی کہ ہم زیادہ رنز نہیں بنا سکے۔ ہمارے ذہن میں نیٹ رن ریٹ تھا لیکن ہم نے ٹیم میٹنگ میں یہ بات کی تھی کہ ہمیں کوالیفائی کرنے کے امکان پر فوکس کرنا ہے اور مثبت رہنا ہے۔‘
’ایشون کی واپسی بہت مثبت رہی ہے۔ انھوں نے اپنی بولنگ پر بہت کام کیا ہے۔ انھوں نے آج وہی کنٹرول اور ردھم دکھایا ہے جو انھوں نے آئی پی ایل میں دکھایا تھا۔‘
انڈیا کو سیمی فائنل تک کوالفائی کرنے کے لیے اب بھی دوسروں کو سہارے کی ضرورت ہے۔
افغانستان اور نیوزی لینڈ کے میچ میں دلچسپی اب اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ اس پر انڈیا کا بھی انحصار ہے۔ اگر افغانستان یہ میچ جیت جاتا ہے تو انڈیا کو سکاٹ لینڈ اور نمیبیا کے خلاف میچ میں بڑے مارجن سے میچ جیتنے ہوں گے۔
روہت شرما نے پلیئر آف دا میچ کا ایوارڈ لیتے ہوئے کہا کہ ’ہم چاہتے تھے کہ ہم بیٹنگ میں اچھا آغاز دیں جو ہم پچھلے دو میچوں میں نہیں دے سکے تھے۔ ہمارا پلان یہ تھا کہ ہم آنے والے بلے بازوں کو بنیاد فراہم کریں تاکہ وہ جارحانہ انداز اپنا سکیں۔ میرے ساتھ راہول نے بھی بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یہی چاہ رہے تھے کہ ہم بھی یہاں پہلے فیلڈ کریں لیکن یہ پچ بیٹنگ کے لیے بہت اچھی تھی۔ ہمارے لیے ایک اچھا آغاز اور اچھا ٹوٹل ضروری تھا کیونکہ ہمارے ذہن میں نیٹ رن ریٹ بھی تھا اور ہم چاہتے تھے کہ ہم بڑے مارجن سے جیتیں اور اب ہم وہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
’ٹیم کو جو بھی درکار ہوتا ہے میں وہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ عام دنوں میں میں پہلے کچھ اوورز صورتحال کو بھانپنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن آج مجھے مختلف انداز اپنانا تھا۔‘
انڈیا کا نیٹ رن ریٹ مثبت ہو چکا ہے اور اس نے افغانستان کو 66 رنز سے شکست دے دی ہے۔
یہ انڈیا کی سپر 12 مرحلے میں پہلی فتح ہے۔
اس میچ سے قبل، محمد شامی کو خاصی تنقید کا سامنا تھا لیکن انھوں نے اپنے چار اوورز میں عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کی ہیں۔
32 گیندوں پر 35 رنز بنا کر محمد نبی محمد شامی کی گیند پر رویندرا جڈیجا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
محمد نبی نے پہلے شردل ٹھاکر کو سیدھا چھکا مارا ہے، اور تھرڈ مین باؤنڈری چوکا لگایا ہے۔ ایک مرتبہ پھر افغانستان کے بلے بازوں نے اوور میں 10 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ اس مرتبہ 18ویں اوور میں 16 رنز بنے ہیں۔
ایک مرتبہ پھپر افغان بلے باز اوور میں 10 رنز سے زیادہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس مرتبہ یہ بمراہ کا آخری اوور تھا جنھیں اوور میں 11 رنز پڑے ہیں۔
افغانستان کی بیٹنگ مشکلات کا شکار ضرور ہے لیکن اب بھی وقت کے ساتھ ساتھ ایک باؤنڈری ضرور لگائی جا رہی ہے۔ لیکن ہدف اس سے کہیں زیادہ ہے اور افغانستان کو اس کا تعافب کرنے کے لیے جارحانہ انداز اپنانا ہو گا۔
16ویں اوور میں 10 رنز بنے ہیں۔
روی ایشون کی ٹیم میں واپسی بہترین رہی ہے۔ انھوں نے اب تک دو وکٹیں حاصل کر لی ہیں اور یہ وکٹ انتہائی اہم اس لیے تھی کیونکہ یہ افغانستان کے مڈل آرڈر بلے باز نجیب اللہ کی تھی۔
ایشون نے اپنے چار اوورز میں صرف 14 رنز دیے اور دو وکٹیں بھی حاصل کیں۔
یہ روی ایشون کی اگست 2016 کے بعد سے پہلی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل وکٹ ہے۔
انھیں اس وکٹ کے لیے خاصا انتظار کرنا پڑا ہے، اور یہ وکٹ دونوں طرف سے دباؤ بڑھنے کا نتیجہ ہے۔
گلبدین نائب فاسٹ بولرز کو تو خاصی روانی سے کھیل رہے تھے، لیکن سپنرز کے سامنے بے بس نظر آئے۔ انھوں نے 20 گیندوں پر 18 رنز بنائے۔
ننجیب اللہ بائیں ہاتھ کے کھلاڑی ہیں، اور انھوں نے لانگ آن پر قدموں کا استعمال کرتے ہوئے جڈیجا کو عمدہ چھکا مارا ہے۔ تاہم ایک بار پھر مجموعی طور پر اس اوور میں صرف سات رنز بنے ہیں۔