آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

آصف علی کی ناقابل یقین بیٹنگ، پاکستان کی دلچسپ مقابلے کے بعد پانچ وکٹ سے فتح

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ میں جمعے کے دوسرے میچ میں گروپ ٹو کی دونوں ناقابل شکست ٹیمیں، پاکستان اور افغانستان کا ٹاکرا ہوا جہاں پاکستان نے ایک نہایت دلچسپ مقابلے کے بعد میچ پانچ وکٹوں سے جیت لیا۔ پاکستان کی جانب سے آصف علی نے 19ویں اوور میں چار چھکوں کی مدد سے 148 کا ہدف پورا کر لیا۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا

    آج کے دن کے دونوں میچوں کی کوریج مکمل ہونے کے بعد اب یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے بی بی سی اردو کی مزید کوریج، مضامین اور تجزیہ پڑھنے کے لیے قارئین ہمارے خصوصی سیکشن پر کلک کریں۔

  2. ہفتے کے روز بھی دو میچز کھیلے جائیں گے

    ہفتہ 30 اکتوبر کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سلسلے میں دو میچز کھیلے جائیں گے۔

    دن کا پہلا میچ شارجہ میں جنوبی افریقہ کا سری لنکا سے ہوگا۔ یہ میچ دونوں ٹیموں کا تیسرا میچ ہوگا اور دونوں کے اس وقت دو پوائنٹس ہیں۔

    دن کا دوسرا میچ پاکستان وقت کے مطابق شام سات بجے روایتی حریف انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان دبئی میں کھیلا جائے گا۔

    دونوں ٹیموں نے اپنے دونوں میچوں میں فتوحات حاصل کی ہوئی ہیں اور ان کے چار پوائنٹس ہیں لیکن انگلینڈ بہتر نیٹ رن ریٹ کی مدد سے گروپ میں پہلی پوزیشن پر ہے۔

  3. ’وزیرِ اعظم آصف علی‘

  4. پاکستان گروپ ٹو میں سرفہرست، آج کے میچوں کے بعد پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جمعہ 29 اکتوبر کو دو میچز کھیلے گئے اور دونوں ہی نہایت دلچسپ رہے۔

    دن کے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنے 143 رنز پر مشتمل قلیل مجموعے کا دفاع کرنے میں کامیاب ہو گئے اور تین رنز سے میچ جیت لیا۔

    اس جیت میں ان کے لیے سب سے اہم کردار فاسٹ بولر اور آل راؤنڈر آندرے رسل نے ادا کیا جنھوں نے آخری اوور13 رنز کا کامیابی سے دفاع کر لیا۔

    یہ ویسٹ انڈیز کی ٹورنامنٹ میں پہلی جیت تھی اور اب ان کا نیٹ رن ریٹ منفی 1.59 ہے۔ ویسٹ انڈیز کا اگلا میچ چار نومبر کو سری لنکا کے خلاف ہوگا۔

    بنگلہ دیش کی ٹیم کی یہ مسلسل تیسری شکست تھی اور اب وہ ممکنہ طور پر سیمی فائنل کی ریس سے باہر ہو چکی ہے۔ ان کا اگلا میچ اب نو نومبر کو جنوبی افریقہ کے خلاف ہے۔

    آج کے میچ سے پہلے پاکستان اور افغانستان اپنے گروپ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر تھے اور پاکستان کی جیت کے بعد بھی صورتحال ویسی ہی ہے، ماسوائے ان کے پوائنٹس کی تعداد اور نیٹ رن ریٹ میں تبدیلی کے۔

    پاکستان اب تینوں میچوں میں جیت حاصل کر کے چھ پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے اور ان کا نیٹ رن ریٹ مثبت 0.638 ہے۔ پاکستان کا اگلا میچ اب دو نومبر کو ہوگا جہاں ان کا سامنا نمیبیا سے ہوگا۔

    افغانستان کی ٹیم اب 31 اکتوبر کو نمیبیا کے سامنے میدان میں اترے گی اور اس میچ میں شکست کے بعد ان کا نیٹ رن ریٹ کم ہو کر مثبت 3.092 ہو چکا ہے۔

  5. پاکستان کی تینوں جیت کا ایک ہی فارمولا!

    پاکستان نے ٹورنامنٹ میں اب تک تین میچ کھیلے اور تینوں میں اسے کامیابی نصیب ہوئی ہے۔

    تینوں بار پاکستان نے ہدف کا تعاقب کر کے میچ جیتا، جن میں سے دو بار پاکستان نے خود ٹاس جیت کر فیلڈنگ کی تھی جبکہ آج کے میچ میں افغانستان نے خود پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    پاکستان کی بولنگ نے ایک بار پھر شاندار مظاہرہ پیش کیا اور حسن علی اور حارث رؤف کے ایک ایک مہنگے اوورز کے علاوہ باقی 18 اوورز بہت اچھے کرائے گئے تھے۔

    اس بنا پر پاکستان کو بڑا سکور کا ہدف نہ ملا اور نتیجتاً پاکستان نے اپنی اسی حکمت عملی کو اپنایا جس نے اب تک ٹورنامنٹ میں اسے تینوں میچ جتوا دیے ہیں۔

    آج کا میچ بہت حد تک اسی طرح گیا جیسا نیوزی لینڈ کا میچ تھا اور اسی طرح آخری دو سے تین اوورز میں پاکستانی بلے بازوں نے جارحانہ انداز اپنایا اور پھر آصف علی نے لگاتار دوسری بار میچ کو اپنے بلے سے ختم کر دیا۔

  6. افغانستان کی شاندار پرفارمنس لیکن بدقسمتی سے جیت ان کی نہ ہوئی

    افغانستان کی جانب سے ان کے بولرز نے پوری اننگز میں بڑی عمدہ بولنگ کی اور پاکستان کو کبھی بھی بہت آگے نکلنے نہیں دیا۔

    اس میں بڑا ہاتھ ان کے دو اہم ترین سپنرز ، راشد خان اور مجیب الرحمان کا تھا جنھوں نے اپنے چار چار اوورز میں بالترتیب 26 اور 14 رنز دیے۔ راشد خان نے دو کٹیں لیں جبکہ مجیب نے رضوان کو آؤٹ کیا۔

    ان کے علاوہ محمد نبی نے بھی بہت عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی دکھائی اور میچ جیتنے کی صورت میں بہت ممکن تھا کہ ان کے 35 رنز اور ایک وکٹ ان کو مین آف دا میچ بنوا دیتی۔

    لیکن بدقسمتی سے یہ دب ان کا ثابت نہ ہوا۔

  7. ’آصف علی، نام یاد رکھیں!‘

    پاکستان کی جیت کا سہرا آصف علی کے سر جاتا ہے جنھوں نے اس وقت ایسی دھواں دار بیٹنگ کی جب پاکستان کے لیے میچ مشکل ہوتا جا رہا تھا اور انھیں 12 گیندوں پر 24 رنز کی ضرورت تھی۔

    لیکن انھوں نے 18ویں اوور کی آخری گیند پر شاداب خان کی جانب سے سنگل لینے سے انکار کیا اور اس کی وجہ الگے اوور میں واضح ہو گئی جب انھوں نے انتہائی پر اطمینان طریقے سے اوور کی چھ میں سے چار گیندوں پر بلند و بالا چھکے مارے اور میچ ختم کر دیا۔

    آصف علی جو کہ پی ایس ایل میں فنشر کی حثییت سے جانے جاتے ہیں، ان کی ہٹنگ اتنی متاثر کن تھی کہ انگلینڈ کے آل راؤنڈر بین سٹوکس بھی ٹویٹ کرنے پر مجبور ہو گئے: ’آصف علی، نام یاد رکھیں‘یاد رہے کہ 2016 کے ٹی ٹوئنٹی فائنل میں ویسٹ انڈیز کے کارلوس براتھویٹ نے بین سٹوکس کو لگاتار چار گیندوں پر چار چھکے مار کر ٹورنامنٹ ختم کر دیا تھا۔

  8. بریکنگ, آصف علی کی ناقابل یقین بیٹنگ! پاکستان کی پانچ وکٹوں سے جیت, پاکستان کا سکور: 148/5، 19 اوور مکمل

    پاکستان کی جانب سے آصف علی میچ کے ہیرو کے طور پر دوبارہ ابھرے جب انھوں نے ایک بار پھر اپنی شاندار کارکردگی سے ٹیم کو جیت سے ہمکنار کر دیا۔

    کریم جنت کی جانب سے پھینکے گئے 19ویں اوور میں انھوں نے چار چھکے رسید کر کے 148 کا ہدف پورا کر لیا اور اسی کارکردگی کے باعث انھیں مین آف دا میچ کا اعزاز بھی ملا۔

  9. بریکنگ, آصف علی کی دھواں دار بیٹنگ!

  10. بریکنگ, شعیب ملک بھی نوین کی گیند پر آؤٹ!

    نوین الحق نے اپنی تیسرے اوور میں نہایت شاندار بولنگ کی اور صرف دو رنز دیے اور ساتھ میں شعیب ملک کی قیمی وکٹ بھی حاصل کر لی۔

    اب پاکستان کو 12 گیندوں پر 24 رنز درکار ہیں۔

  11. راشد خان کے آبائی شہر جلال آباد میں لوگوں کا جوش و جذبہ

    راشد خان کی بولنگ کی ایک دنیا معترف ہے اور آج تو وہ ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے چوتھے کھلاڑی بن چکے ہیں۔

    دیکھیں کہ اُن کے آبائی علاقے میں لوگ کس طرح اُن کی پرفارمنس دیکھنے کے لیے موجود ہیں۔

  12. اور شعیب ملک سر پر ’سیاہ کفن‘ باندھ کر میدان میں

    ہم سبھی نے نیوزی لینڈ کے خلاف اُن کی شاندار بیٹنگ دیکھی جس میں وہ بغیر ہیلمٹ انتہائی جارحانہ شاٹس کھیلتے رہے۔

    معلوم ہوتا ہے کہ جب پاکستان مشکل میں ہو تو شعیب ملک ابھی نہیں تو کبھی نہیں کے موڈ میں آ جاتے ہیں۔

    اب بھی وہ کریز پر بغیر ہیلمٹ موجود ہیں۔ اُنھوں نے کریز پر آتے ہی انتہائی بڑا چھکا مارا اور اچانک سے پاکستان میچ میں واپس آتا دکھائی دیا۔

    مگر یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی اور کپتان بابر اعظم 51 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔

  13. بریکنگ, راشد خان کی آخری گیند پر بابر اعظم بولڈ!, پاکستان کا سکور: 1224/4، 17 اوور مکمل

    جہاں شعیب ملک کے چھکے کی مدد سے پاکستان کو امید ہو چلی تھی کہ اب جیت کا راہ پر وہ گامزن ہو گئے ہیں، راشد خان نے اپنے سپیل کی آخری گیند پر بابر اعظم کو گوگلی کی مدد سے بولڈ کر دیا جنھوں نے 47 گیندوں پو 51 رنز بنائے۔

  14. بریکنگ, شعیب ملک کا راشد خان کو ان کے آخری اوور میں بلند و بالا چھکا!

  15. بریکنگ, بابر اعظم کی ٹورنامنٹ میں دوسری نصف سنچری!, پاکستان کا سکور: 110/3، 16 اوور مکمل

    پاکستانی کپتان بابر اعظم نے اننگز کے 16ویں اوور میں اپنی نصف سنچری مکمل کر لی جس کے لیے انھیں 45 گیندوں کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے چار چوکے لگائے۔

    اسی اوور میں شعیب ملک نے کریم جنت کو پوائنٹ کے پاس سے کٹ مار کر چار رنز حاصل کیے اور اوور میں پاکستان کو نو رنز ملے۔

  16. اور محمد حفیظ 10 گیندوں پر 10 رنز بنا کر آؤٹ

    پروفیسر صاحب سے اُن کے شاگردوں، ہمارا مطلب ہے کرکٹ شائقین کو بہت اُمیدیں تھیں کہ وہ اپنے تجربے کا استعمال کرتے ہوئے ٹیم کو اچھے مارکس دیں گے۔

    لیکن یہ ہو نہ سکا اور وہ صرف 10 رنز کا اضافہ کر کے واپس اپنے سٹاف روم چلے گئے ہیں۔

    اس پر پاکستانی کرکٹ شائقین کچھ ناراض سے ہیں۔

    ایک صارف نے لکھا کہ پروفیسر یہ کیا رویہ ہے؟

    ایک اور صارف نے لکھا کہ حفیظ کو یہ شاٹ کھیلنے کی ضرورت نہیں تھی۔

  17. بریکنگ, راشد خان کی پہلی کامیابی! محمد حفیظ آؤٹ!, پاکستان کا سکور: 101/3، 15 اوور مکمل

    راشد خان اپنا تیسرا اوور کرانے آئے تو انھوں نے اپنی پہلی گیند پر فلائٹ دی اور محمد حفیظ اس کے جھانسے میں آ گئے اور لانگ آن پر کیچ دے بیٹھے۔ وہ صرف دس رنز بنا سکے۔

    راشد خان کے اسی اوور میں پاکستان نے اپنی اننگز کی سو مکمل کر لی اور اب انھیں آخری پانچ اوورز میں 47 رنز کی ضرورت ہے۔

  18. افغان کپتان محمد نبی کا سپیل پورا ہوا!, پاکستان کا سکور: 97/2، 14 اوور مکمل

    پاکستان کی جانب سے خطروں کو مول لیے بغیر بیٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ محمد نبی کے آخری اوور میں بھی پاکستان نے سنگل اور ڈبل کی مدد سے آٹھ رنز حاصل کر لیے۔

  19. راشد خان اور بابر کے مابین کانٹے کا مقابلہ جاری, پاکستان کا سکور: 89/2، 13 اوور مکمل

    افغانستان کے لیگ سپنر راشد خان کو پاکستانی بلے باز بہت محتاط انداز میں کھیل رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو وکٹ نہ دیں۔

    راشد کے دوسرے اوور میں پاکستان نے چار گیندوں پر چار رنز لیے جبکہ پانچویں گیند پر بابر اعظم کے بلے کا باہری کنارہ لیتے ہوئے گیند باؤنڈری کراس کر گئی۔

  20. پاکستان کی تینوں میچز میں یکسانیت؟

    صحافی مظہر ارشد توجہ دلاتے ہیں کہ تینوں میچز میں پاکستان ہدف کے تعاقب میں تقریباً یکساں رہا ہے،

    انڈیا کے خلاف آخری 12 اوورز میں 100، نیوزی لینڈ کے خلاف 96 اور آج کے میچ میں 99 مطلوب تھے۔

    مگر۔

    ابھی آخری 12 اوورز میں سے چار اوورز راشد خان کے بھی ہیں جو پاکستانی بلے بازوں کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔