ورلڈ کپ میں پاکستان کا مایوس کن آغاز، مگر عامر کی واپسی ایک نیک شگون

،تصویر کا ذریعہg
پاکستان نے 1992، 2007 اور 2015 کے ورلڈ کپ کی طرح یہ ٹورنامنٹ بھی ویسٹ انڈیز سے شکست کے ساتھ شروع کیا ہے۔پاکستان کی بیٹنگ جو کہ اس بار ٹورنامنٹ سے پہلے کافی فارم میں تھی، ویسٹ انڈیز کی فاسٹ بولرز کی شارٹ پچ گیندوں کی حکمت عملی کا قطعی سامنا نہ کر سکی اور پوری ٹیم صرف 22 اوورز میں 105 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستانی ٹیم کے لیے صرف امید کی کرن محمد عامر کی بولنگ تھی جنھوں نے قلیل سکور کا اچھا دفاع کرنے کی کوشش کی اور تین وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔ اب پاکستان کا اگلا میچ اسی میدان میں تین جون کو میزبان انگلینڈ کے خلاف ہوگا۔ یہ وہی میدان ہے جہاں انگلینڈ نے چند ہفتے قبل پاکستان کے خلاف 340 رنز کا ہدف باآسانی پورا کر لیا تھا۔ کیا ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم بہتر مزاحمت پیش کر سکے گی، تین جون کو اس کا جواب ملے گا۔















