فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج

    اس صفحے کو اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

  2. ’موڈرنا ویکسین کورونا وائرس کی تمام اقسام کے خلاف کام کرتی ہے‘

  3. کورونا سے بھی مہلک وائرس جو ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے

  4. کورونا وائرس کی نئی قسم کے مہلک ہونے سے متعلق دعوے قبل از وقت ہیں: سائنسدان

  5. انڈیا میں تیار ہونے والی کورونا ویکسین کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

  6. کیا کورونا وائرس سے متاثرہ انڈین معیشت اب ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہے؟

  7. ویکسین لگوانے کے بعد کیا لوگوں میں اس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں؟

  8. عالمی وبا کے ابتدائی مرکز ووہان میں ایک سال بعد زندگی کیسی ہے؟

  9. کیا پاکستان کورونا ویکسین کی خریداری کا معاہدہ کرنے میں تاخیر کا مرتکب ہو رہا ہے؟

  10. کورونا وائرس: چین نے پاکستان اور دیگر ملکوں سے پروازوں کو معطل کر دیا

  11. ویکسین کی سب سے بڑی مہم: انڈیا میں پہلے کسے ٹیکے لگائے جائیں گے؟

  12. انڈین کرکٹ ٹیم کا ڈریسنگ روم مِنی ہسپتال کس طرح بن گیا؟

  13. بعض جنوبی ایشیائی مریض ویکسین لینے پر قائل کیوں نہیں ہو رہے؟

  14. سکول کھلیں گے امتحان بھی ہوگا: ’شفقت محمود اب بچوں کے وزیراعظم نہیں رہے‘

  15. تاریخ کا سبق: کورونا کے بعد ’فضول خرچی اور جنسی بے راہ روی کا دور آ سکتا ہے‘

  16. کورونا سے متاثرہ کشمیری صحافی کی کہانی ان کی تصاویر کی زبانی

  17. اسرائیل کورونا کی ویکسین لگانے میں دنیا بھر میں سب سے آگے کیسے؟

  18. برطانیہ نے دیگر ممالک کو کورونا ویکسین کی فراہمی کے لیے ایک ارب ڈالر کی امداد جمع کر لی

    Vaccine

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ نے کورونا وائرس کے ممکنہ خطرے سے دوچار ممالک کو ویکسین کی فراہمی کے لیے عالمی امداد دہندگان سے ایک ارب ڈالر کا انتظام کر لیا ہے۔

    برطانوی حکام کے مطابق اس سے بیماری کی روک تھام عالمی سطح پر ممکن ہو سکے گی۔

    یہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی 75 ویں سالگرہ پر برطانیہ کے 'ورچوئل' دورے کے آغاز پر کیا گیا ہے۔

    ویسٹ منسٹر سنٹرل ہال میں 1946 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے اجلاس کی یاد میں ویسٹ منسٹر میں براڈ سینکچوئری گرین کو باضابطہ طور پر ’یونائیٹڈ نیشنز گرین‘ کا نیا نام دے دیا گیا ہے۔

    کورونا وائرس کوواکس ایڈوانس مارکیٹ کمٹمنٹ کے لیے دیگر عطیہ دہندگان کی مدد سے ایک ارب ڈالر کی رقم کا انتظام کیا ہے۔

    سابقہ 548 ملین اسٹرلنگ پونڈ کی برطانوی امداد کے علاوہ یہ رقم مجموعی طور پر رواں سال کے دوران 92 ترقی یافتہ ممالک میں کورونا وائرس کی حفاظتی ویکسین کی ایک ارب خوراکوں کی تقسیم میں استعمال کی جائے گی۔

    یہ اہم سرمایہ کاری بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور مستقبل کے حملوں سے بچاؤ میں استعمال ہوگی جس سے عالمی سطح پر کورونا وائرس سے محفوظ ایک بہتر زندگی گزارنا ممکن ہو سکے گا۔

    UN

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا اعلان

    برطانیہ ہمارے امدادی بجٹ، سائنسی مہارت اور سفارتی تعلقات کا بہترین استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر صحت کو مستحکم کرنے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔

    آج کا یہ اعلان اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے برطانیہ میں منعقدہ یادگاری تقریب کے ایک حصے کے طور پر، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل ، انتونیو گوتیریس کے تین روزہ ورچوئل دورہ لندن کے موقع پر کیا ہے۔

    ان کے مطابق برطانیہ نے اقوام متحدہ کی حمایت میں پچھلے 75 سالوں کے دوران قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔

    ’ہم کورونا وائرس سے لے کر موسمیاتی تبدیلی تک آج دنیا کو درپیش تمام بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

    برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر برطانیہ اور ہمارے اتحادیوں کا خطرے سے دوچار ممالک کو کورونا وائرس کی حفاظتی ویکسین کی ایک ارب خوراک کی دستیابی کے لیے کی جانے والی مشترکہ کوششیں بہت مناسب طرزِ عمل ہے۔

    ’ہم اس وائرس سے صرف اس صورت میں محفوظ رہیں گے، جب دنیا بھر میں سب محفوظ ہوں- اسی وجہ سے ہماری کوششیں ساری دنیا کو درپیش اس مسئلے کے عالمی بنیادوں پر حل پر مرکوز ہیں۔

  19. وبا سے نمٹنے کے لیے بنے سماجی دوری کے 432 سال پرانے قوانین

  20. فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تازہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیواین ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔

    اس تحقیق کو خوش آئند تو قرار دیا جا رہا ہے لیکن ابھی اسے حتمی سائنسی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ویکسین واقعی ہی وائرس کی تبدیل شدہ اقسام کے خلاف کارگر اور مؤثر ثابت ہو گی۔

    کوروانا وائرس کی نئی اقسام برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی ہیں۔ دونوں نئی اقسام کے جراثیم کے پھیلنے کی رفتار خوفناک حد تک زیادہ ہے اور اس ہی وجہ سے ان خدشات نے جنم لیا کہ اب تک بنائی جانے والی ویکسین کس حد تک کارگر یا موثر ہو سکتی ہیں۔

    زیادہ تر ماہرین کا یہ ہی خیال ہے کہ ویکسین کام کرے گی لیکن تحقیق کار ابھی اس بارے میں حتمی ثبوت کی تلاش میں ہیں۔

    امریکی یونیورسٹی ٹیکساس میں ایک تحقیق این وائے فائیو زیرو ’میوٹیشن‘ یا تبدیلی پر ہو رہی ہے جو کہ دونوں نئی اقسام میں پائی گئی ہے۔

    اس کہ بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ بہت اہم اس لیے ہے کیونکہ یہ جراثین کے اس حصے میں پائی گئی ہے جو ہمارے جسم کے خلیوں پر سب سے پہلے اثر انداز ہوتا ہے اور اس ہی تبدیلی کی وجہ سے اس وائرس کا کسی شخص کو اپنی لپیٹ میں لینا انتہائی آسان ہو جاتا ہے اور جس سے ’انفیکشن‘ شروع ہو جاتی ہے۔

    تحقیق کاروں نے دو قسم کے وائرس بنائے ہیں: ایک جو کہ تبدیل شدہ تھا اور دوسرا بغیر تبدیل شدہ اور دونوں کو 20 افراد سے لیے گئے خون کے نمونوں میں ڈالا گیا جن کو ویکسین دی جا چکی تھی۔

    اس تجربے سے ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ ویکسین تبدیل شدہ وائرس کے خلاف بھی کام کر رہی تھی لیکن ایسا وائرس جس میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہو چکی ہوں وہ اپنی تبدیل شدہ ہیت کی وجہ سے انسان کے معدافعاتی نظام سے بچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

    برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر روی گپتا نے کہا کہ جس میوٹیشن کا انتخاب کیا گیا وہ برطانیہ میں پائے گئے آٹھ مختلف جراثیم میں سے ایک تھا اور توقع یہ ہی تھی کہ یہ اکیلا اتنا زیادہ مہلک نہیں ہے۔

    لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ اگر نتائج اس کے برعکس آتے تو وہ صورت زیادہ باعث تشویش ہونی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بے شک یہ ایک اچھی خبر ہے لیکن اس سے ہمیں یہ اطمینان حاصل نہیں ہوتا کہ فائزر ویکسین ہمیں مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے۔‘