شمالی وزیرستان میں حملے کے بعد پی ٹی آئی کے حامیوں نے فوج مخالف مہم چلائی: عطا تارڑ کا دعویٰ

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا گروپ پر الزام عائد کیا کہ ایک پیروڈی اکاؤنٹ کے ذریعے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایک اور فضائی میزبان ٹورونٹو میں ’غائب‘: پی آئی اے کا عملہ کینیڈا پہنچ کر ہی کیوں ’غائب‘ ہوتا ہے؟

  2. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات سے متعلق مزید خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے لیے ہماری ویب سائٹ پر کلک کریں۔

  3. وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کوٹ لکھپت جیل کا دورہ: ’نواز شریف آج کنگ میکر ہیں، ظالم کہیں کے نہ رہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کا دورہ کیا اور اس سیل میں بھی گئیں جہاں نواز شریف قید رہے۔ انھوں نے اس دورے سے متعلق ایکس پر لکھا کہ یہ جذباتی لمحات ہیں جب میں نے تین بار کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے جیل سیل کو دیکھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    انھوں نے کہا میں بھی اس جیل میں رہی مگر مجھے کبھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مریم نواز نے لکھا کہ آج نواز شریف تو کنگ میکر ہیں مگر ظالم کہیں بھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے دورہ کوٹ لکھپت کے دوران تمام قیدیوں (سنگین جرائم کے علاوہ) کی سزا میں تین ماہ کمی اور 155 قیدیوں کو مخیر افراد کی مدد سے 15 کروڑ جرمانہ ادا کر کے رہائی کا اعلان بھی کیا ہے۔

  4. بلوچستان میں صوبائی کابینہ کی تشکیل ابھی تک ممکن نہ ہو سکی, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    سرفراز بگٹی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    عام انتخابات کے بعد پاکستان کے تین صوبوں میں وزرا اعلیٰ کے انتخاب کے بعد وہاں کابینہ فوری طور پر تشکیل پا گئیں لیکن بلوچستان میں دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود کابینہ کی تشکیل نہیں ہوسکی ہے۔

    یاد رہے کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے دو مارچ کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ بلوچستان اسمبلی میں حق دو تجریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کابینہ کی تشکیل سینیٹ کے انتخاب کے بعد ہو گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کو پتا ہے کہ ان کے اراکین مبینہ طور پر سینیٹ میں بِک جائیں گے اس لیے کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کتنی شرمندگی کی بات ہے کہ بلوچستان کو ایک منڈی بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کابینہ کی تشکیل توہو گئی لیکن یہاں انتظار کیا جا رہا ہے کہ سینیٹ کا انتخاب ہو تا کہ اراکین کہیں بک نہ جائیں۔ تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جہاں مخلوط حکومتیں ہوتی ہیں وہاں زیادہ سے زیادہ مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے اور مشاورت اس وقت ہوتی ہے جب آپ فارغ ہوتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی کے حلف کے بعد صدارتی انتخاب کا مرحلہ آیا، اس کے بعد ضمنی انتخاب ہوا جبکہ اب ایک اور انتخاب سر پر آگیا۔ انھوں نے کہا کہ تین سال بعد دوبارہ بھی سینیٹ کا انتخاب ہوگا اور اس وقت کابینہ موجود ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ اس طرح کی افواہیں پھیلانا انتہائی نامناسب بات ہے۔

  5. پاکستان چھوڑ کر انڈیا جانے والے ہندو خاندان اب وہاں کے متنازع شہری قانون سے نالاں کیوں؟

  6. ’ملک کی حفاظت پر مامور ایک ایک جوان پر پوری قوم کو فخر ہے‘: تحریک انصاف کی فوج مخالف سوشل میڈیا مہم سے متعلق الزامات کی تردید

    پاکستان تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر فوج مخالف مہم سے متعلق حکومتی وزرا کے الزامات کی تردید کی ہے۔

    پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا پاک فوج کے شہدا کو لے کر گمراہ کن پروپیگنڈہ انتہائی قابل افسوس ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی نے ہمیشہ پاکستانی سرحدات کی حفاظت کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ جوانوں کی شہادت کو اپنے سیاسی عزائم کے لیے استعمال کرنے والے قوم کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

    اسد قیصر نے کہا کہ ’ملک کی حفاظت پر مامور ایک ایک جوان پر پوری قوم کو فخر ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. ’دہشتگردی پاک افغان سرحد سے ہو رہی ہے، ہمارے ملک میں غیر قانونی لوگ مقیم ہیں‘: وزیر دفاع, احتشام شامی، صحافی

    Kh Asif

    پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ دہشتگردی پاک افغان سرحد سے ہو رہی ہے۔

    سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہان دہشتگردوں کے خلاف فوج کارروائی کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بھی گرفت میں لیا جا رہا ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ غیر قانونی مقیم تارکین وطن کا ملک میں رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق ’ہمارے ملک میں غیر قانونی لوگ مقیم ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر شہدا کے خلاف مہم چلانے والوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائے گی۔

    وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے گذشتہ روز شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک اکاؤنٹ کے ذریعے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔

  8. نو فلائی لسٹ: ’مریم نواز نے خود ضمانت دی کہ ملیکہ بخاری وطن واپس آ کر قانون کا سامنا کریں گی‘

  9. رانا مشہود کا اپنے حلقے کے نتائج الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کرنے کا اعلان

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود احمد نے اپنے حلقہ کے الیکشن نتائج الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے اپنے ایک میڈیا بیان میں الزام عائد کیا کہ جنرل الیکشن 2024 میں سب سے زیادہ دھاندلی پی ٹی آئی کے آزاد امیدواران نے کی ہے۔

    ان کا الزام ہے کہ ’ایک مثال پی پی 172 میں سرعام دھاندلی اور ڈِھٹائی کی صورت میں ملتی ہے۔ میاں اظہر نے اس حلقے میں آر او کے ساتھ مل کر اصل نتائج کو تبدیل کیا، آر آو نے ملی بھگت سے فارم 45 کی گنتی کی بجائے فارم 47 میں 2730 ووٹوں سے ہروا دیا، ری کاؤنٹنگ میں رانا مشہود احمد کے ووٹوں میں واضح برتری آنا شروع ہو گئی تو حماد اظہر نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا شروع کر دیا۔‘

    رانا مشہود احمد کا یہ بھی الزام ہے کہ آر او کی ملی بھگت سے ری کاؤنٹنگ بلاوجہ معطل کر دی گئی اور فارم 49 جاری کر دیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اپنے حق کے لیے آخری سطح تک جائیں گے۔

  10. پاکستانی فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنایا ہے: وزیر داخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شمالی وزیرستان میں دہشت گروں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج کے جری سپوتوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا ہے۔

    اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ `میر علی میں شہادت کا بلندرتبہ پانے والے لیفٹیننٹ کرنل کاشف علی، کیپٹن محمد احمد بدر سمیت 7 جوان پوری قوم کے ہیرو ہیں۔‘

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے اپنے قیمتی لہو سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تاریخ رقم کی ہے اور شہدا کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

  11. شمالی وزیرستان میں حملے کے بعد پی ٹی آئی کے حامیوں نے فوج مخالف مہم چلائی: عطا تارڑ کا دعویٰ

    E]H THRr

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

    ،تصویر کا کیپشنATA TARRAR

    وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے گذشتہ روز شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک اکاؤنٹ کے ذریعے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سکرین پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے کچھ اکاؤنٹس بھی دکھائے اور بتایا کہ متعلقہ اکاؤنٹس کو رپورٹ بھی کیا گیا ہے لیکن وہ ابھی تک چل رہے ہیں۔

    ان کا الزام تھا کہ فوج کے خلاف توہین آمیز ٹویٹس پی ٹی آئی کے حامی اکاؤنٹس اور کارکنان کر رہے ہیں۔

    تاحال پی ٹی آئی نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ ’ہم شہدا کی عزت و وقار اور ان کی ناموس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ جو ذمہ داران ہیں جو ایسے موقع پر بھی اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے ان کی شناخت کی جائے گی اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    گذشتہ روز بھی عطا تارڑ نے سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’9 مئی 2023 کو ریاستی اداروں، شہدا کی یادگاروں پر حملے ہوں یا 9 اگست 2022 کو سانحہ لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادتیں ہوں پی ٹی آئی نے شہدا کا ہمیشہ مذاق اڑایا۔‘

    عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’یہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے پاکستان کے دشمن اور دہشت گرد خوش ہوں، آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر مظاہرہ کرکے انھوں نے پاکستان کے معاشی محاذ پر حملہ کیا۔‘

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ان شر پسند عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، یہ نہ سیاسی جماعت ہے نہ ہی یہ سیاسی کارکن ہیں، یہ صرف فسادی اور لشکری ہیں۔‘

    خیال رہے کہ انٹر سروس پیروڈی کے نام سے موجود ایکس اکاؤنٹ پر میر علی حملے کے حوالے سے لگائی گئی پوسٹ اب ڈیلیٹ ہو چکی ہے۔

  12. اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ سیاسی نہیں نفسیاتی ہے: وسعت اللہ خان کا کالم

  13. سینیٹ کی 48 نشستوں کے لیے نئے چہروں سمیت 135 امیدوار

    پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی 48 خالی نشستوں کے لیے دو اپریل کو منعقد ہونے والے الیکشن میں کل 135 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

    خیال رہے کہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اب سینیٹ کی کل نشستوں میں سے چار نشستیں ختم ہو گئی ہیں۔

    پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبہ پنجاب سے 22، سندھ سے 35، خیبرپختونخوا سے 42 اور بلوچستان سے 36 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

    حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے ان انتخابات میں پارٹی کے سابق سینیئر رہنماؤں کے بجائے کچھ نئے چہروں کو بھی حمایت دی ہے۔

    خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ امیدواروں میں شامل نہیں تاہم سابق وفاقی وزیر پرویز رشید کا نام امیدواروں میں شامل ہے۔

    اسی طرح طلال چوہدری اور مصدق ملک نے بھی اپنے پیپرز جمع کروائے ہیں۔

    جو نئے چہرے میدان میں ہیں ان میں نگراں وزیر اعظم انوارلحق کاکڑ، سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی، سابق وزیر خزانہ اورنگزیب خان، سابق معاون وزیراعظم احد چیمہ اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے مصطفیٰ رمدے شامل ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے نمایاں ناموں میں حامد خان، مراد سعید، فیصل جاوید، ڈاکٹر یاسمین راشد شامل ہیں۔

    صوبہ سندھ میں 12 نشستوں کے لیے 35 امیدواوں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ ان ناموں میں فیصل واوڈا کا نام ایک سرپرائز دیا۔

    بلوچستان کی 11 نشستوں کے لیے کل 36 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں جان محمد بولیدی اور راحیلہ درنی اور دیگر شامل ہیں۔

    اسلام آباد کی دو نشستوں کے معاملے پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں سیٹ ایڈجسمنٹ کے حوالے سے مقامی میڈیا رپورٹس میں قیاس آرائی کی جا رہی ہیں۔

  14. انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت لے کر اگلے ہفتے سپریم کورٹ جائیں گے: عمران خان

    IMRAN KHAN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اٹک جیل میں سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

    سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں پی ٹی آئی نے گذشتہ روز اڈیالہ جیل میں عمران خان کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ اٹک جیل میں برے حالات تھے، بہت سختی کی گئی اور زمین پر سلایا گیا۔

    جماعت کے بانی چیئرمین نے صحافیوں سے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کی اور کہا کہ 25 نشستوں والوں کو کیسے حکومت دی جا سکتی ہے یہ کیسے پورے پاکستان کو لے کر چلیں گے۔

    عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برف تب پگھلے گی جب الیکشن کا آڈٹ کروایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم، شیرانی گروپ اورسنی اتحاد کونسل تینوں کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیے تھا۔

    عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا کہ میچ فکس تھا۔

    انھوں نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ہماری جماعت کی نشستیں کسی اور کو نہیں دی جا سکتیں۔

    عمران خان نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستیں نہیں دیں تو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت قوم الگ کھڑی ہے اور اسٹیبلشمنٹ اور چند جماعتیں الگ ہیں۔

    `مینڈیٹ چوری کر کے دشمنی اور غداری کی گئی اس پر آرٹیکل چھ لگتا ہے۔ انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت لے کر اگلے ہفتے سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ ‘

    عمران خان نے آئی ایم ایف سے ممکنہ معاہدے پر کہا کہ اگر قرضے نہیں واپس نہیں دے سکتے تو لیں بھی نہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا معاہدے سے پہلے ملک میں سیاسی اتحاد ہونا چاہیے۔

    دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اراکین اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ اٹھارہ مارچ کو دوپہرایک بجے ہائی کورٹ پہنچیں۔

    خیال رہے کہ عمران خان کو گرفتار ہوئے 224 روز گزر گئے ہیں۔

  15. ’عماد وسیم نے راہ سُجھا دی‘: سمیع چوہدری کا کالم

  16. مولانا فضل الرحمان کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد اے این پی کے ایمل ولی خان کا بلوچستان سے سینٹ کے انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان کے کاغذاتِ نامزدگی جنرل نشستوں پر پارٹی کے بلوچستان میں صدر اصغر اچکزئی نے الیکشن کمشنر بلوچستان کے دفتر میں جمع کرائے۔

    خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایمل ولی خان عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور نیشنل پارٹی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

    ان سے قبل جمیعت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی حالیہ عام انتخابات میں بلوچستان کے ضلع پشین سے قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی تھی۔

    سینٹ کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تین جماعتوں پیپلز پارٹی، نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے مشترکہ طور پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نیشنل پارٹی کے رہنما میر جان محمد بلیدی بھی تینوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہوں گے جبکہ پیپلز پارٹی سے میر چنگیز خان جمالی، سردار عمر گورگیج، بلال مندوخیل، عشرت بلوچ اور کرن بلوچ بھی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں۔

    میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے بتایا کہ ’پیپلزپارٹی کے ساتھ پرانے مراسم ہیں، پیپلز پارٹی نے 2008 کے بعد ملک کو بحرانی اور انتہائی مُشکل حالات سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’سینٹ کے الیکشن میں سیاسی جماعتوں کو ان کی نمائندگی مطابق نشستیں مل جائیں گی۔‘

    تاہم واضح رہے کہ بلوچستان سے سینٹ کے لیے مجموعی طور پر 36 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کراوائے گئے ہیں جن میں سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا نام بھی شامل ہے۔

  17. 190 ملین پاونڈ کیس کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی: ’یہ کیس صرف اس لیے چل رہا ہے کہ مجھے اگر ضمانت ملے تو اس میں پھنسا لیا جائے،‘ عمران خان, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو اسلام آباد

    سماعت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔

    سنیچر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے دو گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ وکلا صفائی نے ایک گواہ پر جرح مکمل کر لی جبکہ عدالت نے دوسرے گواہ کا بیان قلمبند کیا۔ عدالت میں پیش ہونے والے گواہان میں چیف فنانشل آفسیر القادر یونیورسٹی بھی شامل تھے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے اُن کے وکلا چودھری ظہیر عباس، عثمان گل عدالت میں پیش ہوئے۔

    سنیچر کے روز ہونے والی سماعت کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت 20 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے مزید گواہان کو بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔

    کمرہ عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو

    اس کیس کی سماعت کے اختتام پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے دفتر کے سامنے جو احتجاج ہوا وہ درست تھا مگر مجھے اس موقع پر فوج مخالف نعرے بازی کا علم نہیں ہے۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’علی امین گنڈاپور کو شہباز شریف کے ساتھ تصاویر نہیں بنوانی چاہییں تھیں، مجھے خدشہ ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کا فنڈ جاری نہیں کرے گی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’3 کروڑ ووٹ ہماری جماعت کو ملے اور 3 کروڑ ووٹ ہمارے مدمقابل 17 جماعتوں کو ملے۔‘

    اس غیر رسمی گفتگو کے دوران صحافی رضوان قاضی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات کا فوری طور پر آڈٹ کروایا جائے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری معیشت ڈوب رہی ہے، ملک میں سخت ریفارمز کی ضرورت ہے، یہ حکومت ایسے نہیں چل سکتی۔‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میرے گھر پر ڈاکہ مارا اور کہا کہ بھول جاؤ، یہ کیسا انصاف ہے؟‘

    انھوں نے پاکستان مُسلم لیگ ن کی قیادت کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ووٹ کو عزت دینے والوں نے بوٹ کو عزت دینا شروع کر دی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’شریف خاندان کا بوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’فلسطین کے مسئلے پر او آئی سی کو کھڑا ہونا چاہیے تھا لیکن ساؤتھ افریقہ نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پہل کی۔ فلسطین کے مسئلے پر ہم جنگ نہیں کر سکتے۔‘

    190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں خود کو بےگناہ قرار دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’چوری ہوئی نہیں تو کیس کیسے چل رہا ہے، پیسہ سپریم کورٹ سے حکومت کے پاس چلا، 190 ملین پاؤنڈ کیس صرف اس لیے چلایا جا رہا ہے کہ مجھے اگر ضمانت ملے تو اس میں سزا سنا کر پھنسا لیا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یوسف رضا گیلانی کا بیٹا سینٹ الیکشن میں پیسے دیتے ہوئے پکڑا گیا، مگر آج تک کیس نہیں چل سکا۔‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’اگر آج الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں ہوتیں تو دھاندلی کا معاملہ ایک گھنٹے میں حل ہو جاتا۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود جیل کے ایک اہلکار کے مطابق عمرانُ خان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف سے قرض لینے سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے، سیاسی استحکام تب ہی ہو گا جب عوام کو اس کا چوری ہونے والا مینڈیٹ واپس کیا جائے گا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’18 ماہ کے دوران ملک پر ریکارڈ قرضہ چڑھایا گیا۔ یہ سب ملے ہوئے تھے۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’الیکشن کمیشن، مسلم لیگ ن اور باقی ادارے ملے ہوئے تھے چنانچہ مجھے ان سب پر کوئی اعتماد نہیں۔ صاف شفاف انتخابات کروائیں جو بھی آئے مجھے منظور ہو گا۔‘

  18. سینیٹ انتخابات: تحریک انصاف نے صنم جاوید، یاسمین راشد، مراد سعید اور فیصل جاوید سمیت متعدد رہنماؤں کو نامزد کر دیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ@PTI

    پاکستان تحریک انصاف نے دو اپریل کو سینیٹ کی 48 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی جنرل نشستوں کے لیے مراد سعید، فیصل جاوید خان، مرزا آفریدی، عرفان سلیم اور خرم ذیشان کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی نشستوں کے لیے اعظم سواتی، ارشاد حسین، عائشہ بانو اور روبینہ ناز کے نام سامنے آئے ہیں۔

    اسی طرح پنجاب سے سینیٹ کی جنرل نشستوں کے لیے حامد خان، زلفی بخاری جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں کے لیے بالترتیب صنم جاوید اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ سینیٹ کی 48 خالی ہونے والی نشستوں پر انتخابات دو اپریل کو ہونا ہے اور فی الحال اس ضمن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری ہے۔

  19. وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹر کے لیے پنجاب اسمبلی میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    محسن نقوی

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA/MOHSIN NAQVI/FACEBOOK

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پنجاب اسمبلی پہنچ کر سینیٹ الیکشن کے لیے آزاد امیدوار کی حیثیت سے دو کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔ محسن نقوی اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔ قانون کے مطابق وہ پارلیمنٹ کے رکن بنے بغیر صرف چھ ماہ تک ہی وزیر رہ سکتے ہیں۔

    حکومتی اتحاد کی چاروں جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو سینٹ انتخابات کے لیے تجویز کیا اور ان کے نام کی تائید کی ہے۔ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ آزاد حیثیت سے سینیٹ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    محسن نقوی کو سینیٹ انتخابات کے لیے مسلم لیگ ق کے شافع حسین نے تجویز کیا اور مسلم لیگ ن کے خواجہ عمران نذیر نے ان کی تائید کی۔ محسن نقوی کو پیپلز پارٹی کے سید علی حیدر گیلانی نے تجویز کیا جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے غضنفر عباس چھینہ نے ان کی تائید کی۔

  20. ضمانت میں توسیع کے باوجود پی ٹی آئی رہنما گرفتار

    پی ٹی آئی کے رہنما اور صوبائی حلقہ پی پی 62 کے ٹکٹ ہولڈر رضوان مصفی سیان کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں پولیس نے حراست میں لے لیا۔

    صحافی احتشام شامی کے مطابق رضوان مصطفیٰ سیان پی ٹی آئی کے دیگر مقامی رہنماؤں کے ہمراہ انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت میں پیش ہونے کےلیے آئے تھے۔

    عدالت میں پیشی کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا اور گاڑی میں ڈال کر لے گئی۔

    بتایا گیا ہے کہ رضوان مصطفیٰ سیان کی گرفتاری کے موقع پر پولیس اور وکلا کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور وکلا نے انہیں چھڑانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ناکام رہے۔

    خیال رہے کہ رضوان مصطفی سیان کے خلاف 9 مئی کے واقعہ پر گوجرانوالہ کے تھانہ کینٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق وہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم ہیں۔

    سنیچر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں 9 مئی کے گوجرانوالہ میں درج ہونے والے مقدمات میں ملوث ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت میں 26 مارچ تک توسیع کر دی۔

    عدالت میں مقدمہ کے ملزمان ایم پی اے کلیم اللہ خان، ٹکٹ ہولڈرز لالہ اسد اللہ، ساجد اللہ، سابق ایم این اے میاں طارق محمود ، حسن یوسف سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے پی ٹی آئی راہنمائوں اور ٹکٹ ہولڈروں کی پیشی کے موقع پر انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے عدالت کے باہر وکلا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر زیادتی ہے کہ ضمانت میں توسیع ہونے کے باوجود پولیس نے رضوان مصطفیٰ سیان کو حراست میں لے لیا ہے۔