جنرل باجوہ کے کہنے پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی: مولانا فضل الرحمان
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ میجر جنرل فیض حمید نے ایک ملاقات میں تمام سیاسی جماعتوں کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس کی تردید کی ہے اور ایسی کسی ملاقات سے اپنی لاعلمی ظاہر کی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان باقاعدہ رابطے شروع ہوگئے ہیں۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی اردو کی نئی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
پاکستان بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس تک رسائی محدود، چیف جسٹس کی کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی تردید
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
فنانس ڈویژن کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد 16 فروری سے نئی قیمتوں کے اطلاق کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2.73 جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.37 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت 275.62 جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 287.33 فی لیٹر ہوگی۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’یہ الیکشن دھاندلی زدہ ہے، صاف و شفاف نہیں‘ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان اتفاق

،تصویر کا ذریعہJUIF
جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر اسد قیصر کی قیادت میں پی ٹی آئی کا ایک وفد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آیا تھا جسے خوش آمدید کہا گیا اور یہ موجودہ صورتحال میں خوش آئند ہے۔
انھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے بیچ یہ بات ہوئی کہ ’آٹھ فروری کے الیکشن میں جو مدعہ تحریک انصاف کی طرف سے رکھا گیا یہ وہی تھا جو مولانا نے رکھا کہ ہم اس الیکشن کو مسترد کرتے ہیں، یہ دھاندلی زدہ، جعلی ہے اور عوامی مینڈیٹ نہیں۔‘
دونوں پارٹیوں کا اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ’آٹھ فروری کا الیکشن صاف شفاف نہیں، لہذا ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ یہ غیر جانبدار الیکشن نہیں اور اس سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام نہیں آئے گا۔ اس پر دونوں کا اتفاق ہے، آگے کیا ہوگا اسے آگے پر چھوڑتے ہیں۔‘
تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’عمران خان کی ہدایت پر یہ وفد مولانا سے ملاقات کے لیے آیا تھا۔
’ہم نے ان سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ عمران خان کی ہدایت ہے کہ تمام پارٹیاں سے الیکشن کے انعقاد اور دھاندلی پر بات کریں اور مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کرے گی۔ جمیعت نے بھی انتخابات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔‘
دونوں جماعتیں متفق ہیں کہ ’الیکشن دھاندلی زدہ ہے۔ پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کی امانت کے ساتھ بددیانتی کی گئی۔ اسے قوم اور سیاسی پارٹیاں قبول نہیں کرتیں۔ آئندہ اسی سوچ کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کریں گے۔ اس وقت تک تحریک چلائیں گے جب تک عوام کو ان کا حق نہیں ملتا۔‘
بریکنگ, ’جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے کہنے پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی‘ مولانا فضل الرحمان

،تصویر کا ذریعہJUIF
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے کہنے پر تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے ایک وفد نے مولانا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے اور یوں پی ٹی آئی اور جے یو آئی ف کے درمیان باقاعدہ رابطے شروع ہوگئے ہیں۔
انھوں نے سما ٹی وی کے اینکر ندیم ملک کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ ’اس وقت اگر میں انکار کرتا تو کہا جاتا فضل الرحمان نے عمران خان کو بچا لیا۔ یہ وہ چیزیں تھیں۔۔۔ تاریخ کے حقائق کسی وقت تو سامنے آئیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تحریک عدم اعتماد کے دوران آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض ’ان سے رابطے میں تھے؟‘
ان کا جواب تھا کہ ’وہ بالکل رابطے میں تھے۔ ان کی موجودگی میں سب کو بلایا گیا اور سب کے سامنے کہا گیا کہ آپ نے اس طرح کرنا ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ ’سب‘ کون تھے تو انھوں نے کہا ’سب پارٹیاں، آپ ایک کا نام نہ لیں۔‘
’باجوہ صاحب اور فیض حمید صاحب دونوں تھے۔ یہی کہا کہ آپ لوگوں نے کیا کرنا ہے، کس طرح چلنا ہے۔‘
مولانا نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اس منصوبے پر ’مہر لگا دی۔‘
ادھر ماضی میں پی ڈی ایم حکومت کی ترجمان اور مسلم لیگ ن کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’میرے سامنے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ (کہا جا رہا ہے کہ) مولانا صاحب پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی اتحاد کرنے جا رہے ہیں (مگر) مجھے یہ اتحاد ہوتا نظر نہیں رہا۔‘
انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ جنرل فیض اور جنرل باجوہ سے ایسی کوئی ملاقات ان کے علم میں نہیں اور نہ ہی ان کے سامنے ایسا کچھ ہوا۔
’میں نے عدم اعتماد کی تحریک کے دوران فعال کردار ادا کیا، میں نے یہ کارروائی خود دیکھی۔ میں ایسی کسی ملاقات میں موجود نہیں تھیں، نہ مجھے اس کا کوئی علم ہے۔‘
خیال رہے کہ اتحادی جماعتوں کی حکومت میں وزیر خارجہ رہنے والے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کئی بار اس معاملے کی وضاحت کر چکے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو ایک آئینی طریقے سے ختم کیا گیا۔
دریں اثنا مولانا نے یہ بھی کہا کہ ’معاشی مشکلات کے دوران بطور دلیل یہی کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت ڈیڑھ سال میں کچھ نہیں کر سکی۔۔۔ لیکن میرا مقدمہ ہے کہ اس کا اثر تو پنجاب، سندھ میں ہونا چاہیے تھا۔ ہمارے اوپر کے پی میں یہ بم کیوں چھوڑا گیا؟‘
انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کی وجہ سے ’ہمارے امیدوار گھروں سے نہیں نکل سکے۔‘
مولانا کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے شہباز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنے کی دعوت دی تھی مگر وہ ملاقات کے دوران ’اُٹھ کر چلے گئے۔‘
پی پی 89 بھکر سے کامیاب آزاد امیدوار امیر محمد خان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی
پی پی 89 بھکر سے کامیاب آزاد امیدوار امیر محمد خان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
زرداری ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور سے ملاقات کے بعد امیر محمد خان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

،تصویر کا ذریعہPPP
بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 44 کے ریٹرننگ افسر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
الیکشن کمیشن نے کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 44 کے ریٹرننگ افسر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
ریٹرننگ افسر نے اس نشست سے پیپلز پارٹی کے امیدوار عبید اللہ گورگیج کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کو فارم 49 جاری نہ کرنے کا حکم دیا تھا تاہم درخواست گزار نیشنل پارٹی کے امیدوار عطا محمد بنگلزئی کے وکیل کے مطابق کمیشن کے اس حکم کے باوجود ریٹرننگ افسر نے پرانی تاریخ میں فارم 49 جاری کیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے کمیشن کے سامنے یہ موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ افسر کا یہ اقدام توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے جمعرات کو ریٹرننگ افسر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا لیکن وہ کمیشن کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔
ریٹرننگ افسر کے پیش نہ ہونے پر کمیشن نے انھیں توہین عدالت کا نوٹس اور ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔
کمیشن نے ضلع کوئٹہ کے پولیس سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ریٹرننگ افسر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدر آمد کرے اور 19 فروری کو انھیں کمیشن کے روبرو پیش کیا جائے۔
پی ٹی آئی وزیرِ اعظم کا الیکشن جیتے گی: عمران خان کے نامزد کردہ امیدوار عمر ایوب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد کردہ وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار عمر ایوب نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں انتخاب جیت کر ملک کے وزیرِ اعظم بنیں گے۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں عمر ایوب کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان، پی ٹی آئی کے اراکین اور پاکستان کے عوام کی توقعات پر پورا اُترنے کی کوشش کریں گے۔'
انھوں نے مزید لکھا کہ 'پی ٹی آئی وزارتِ اعظمیٰ کا انتخاب لڑے گی اور جیتے گی کیونکہ ہم نے 2024 کے عام انتخابات میں 180 نشستیں جیتی ہیں۔'
خیال رہے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین قومی اسمبلی کی 93 نشستیں جیتے ہیں۔ تاہم جماعت کا دعویٰ ہے کہ ان کی نشستوں کی کُل تعداد 180 ہے اور مبینہ دھاندلی کے ذریعے ان کی نشستیں کم کی گئی ہیں۔
عمر ایوب نے 'ایکس' پر جاری بیان میں مزید لکھا کہ 'بحیثیت گروپ ہماری پہلی ترجیح (سابق) وزیرِ اعظم عمران خان، نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی، صدر پرویز الٰہی اور اپنے مرد اور خواتین قیدیوں کو جیلوں سے رہائی دلوانا ہوگی۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم اپنا مینڈیٹ چوری کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔'
خیال رہے جمعرات کو بیرسٹر گوہر علی خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت کے بانی چیئرمین عمران خان نے عمر ایوب کو وزارتِ اعظمیٰ کا امیدوار نامزد کردیا ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق وزیرِ اعظم بننے کی صورت میں عمر ایوب عمران خان کی رہائی تک وزارتِ اعظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔
سیاسی رہنما کا وائرل جملہ تشہیر کے لیے استعمال کرنے پر کریم پر تنقید: ’ایسی زبان استعمال کر کے آپ مزید تقسیم کا حصہ بن رہے ہیں‘
پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کراچی جیل سے رہا

،تصویر کا ذریعہTwitter/PTI
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کو تقریباً 171 روز بعد کراچی سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما کو 9 مئی کے پرُتشدد مظاہروں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
پارٹی ترجمان کے مطابق حلیم عادل شیخ کو ضمانت ہونے کے بعد سینٹرل جیل سے رہا کیا گیا ہے۔
ان کی رہائی کے موقع پر پی ٹی آئی کے کارکنان ان کے استقبال کے لیے جیل کے باہر موجود تھے۔
مبینہ انتخابی دھاندلی: بلوچستان میں مظاہرے جاری، احتجاج کا دائرہ پاکستان بھر میں پھیلنے لگا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع میں جمعرات کو ساتویں روز بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں پشتونخواملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر اہتمام ریلیاں نکالی گئیں۔
ریلیوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ مظاہرین نے شہر کے مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور اس کے بعد ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ پہنچے جہاں ان پارٹی کے رہنماؤں نے خطاب کیا ۔
قوم پرست جماعتوں پر مشتمل اس چار جماعتی اتحاد کے رہنماؤں نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعتوں کے جیتنے والوں امیدواروں کی کامیابی کےنوٹیفیکیشن کے اجراء تک نہ صرف احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا بلکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اس میں شدت بھی لائی جائے گی۔
بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے علاوہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ اور بلوچستان کے شمالی علاقوں میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان کے دیگر صوبوں میںبھی احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف سنیچر کو ملک بھر میں 'پُرامن' احتجاج کرے گی۔ پارٹی کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق احتجاج کی منظوری سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے دی ہے۔
سندھ میں قوم پرست جماعتوں،مسلم لیگ فنکشنل اور دیگر پارٹیوں پر مشتمل اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جمعے سے سندھ میں احتجاجی مظاہرے شروع کر رہے ہیں۔
یہ جماعتیں جمعے کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔
سیاسی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ لاڑکانہ، خیرپور، سانگھڑ، نوابشاہ، دادو، حیدرآْباد اور ٹنڈو محمد خان میں الیکشن کے روز دھاندلی کی گئی ہے۔
اس احتجاج میں شرکت کے لیے پیر پگارہ کی حُر جماعت کے کئی مریدین سانگھڑ اور خیرپور سے جتھوں کی صورت میں پیدل بھی روانہ ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب جمعیت علما اسلام کی جانب سے بھی کل جمعے کو کموں شہید کے مقام پر سندھ اور پنجاب بارڈر کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کشمور اور سکھر موٹر وے پر بھی غیر اعلانیہ مدت تک دہرنا دیا جائے گا۔
کیا پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں کسی جماعت سے اتحاد کیے بغیر حکومت بنا سکتی ہے؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار صوبائی اسمبلی کی اکثریتی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی پارٹی کو صوبے میں حکومت بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پی ٹی آئی کو حکومت سازی اور مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے کسی دوسری سیاسی جماعت کے سہارے کی ضرورت ہے۔
عام انتخابات میں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی 83 نشستوں پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین کامیاب ہوئے ہیں۔
ان کے علاوہ صوبائی اسمبلی میں جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے اراکین کی تعداد سات جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد پانچ ہے۔
خیبر پختونخوا میں پاکستان مسلم لیگ ن صوبائی اسمبلی کی چار، پرویز خٹک کی جماعت پی ٹی آئی پارلیمینٹیرین دو اور عوامی نیشنل پارٹی ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر سیف نے سابق سپیکر اسد قیصر کے ہمراہ آج اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اگر خیبرپختونخوا کی سطح پر انھیں کسی دوسری سیاسی جماعت کا اتحاد میسر نہیں آتا تو پھر ان کی جماعت صوبے میں آزاد حیثیت سے ہی حکومت قائم کرے گی۔
بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت سازی اور اتحاد کے لیے اب تک کسی بھی جماعت سے باقاعدہ رابطہ نہیں ہوا ہے۔ تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق اگر خیبر پختونخوا میں کسی بھی جماعت سے اتحاد نہ ہو سکا تو ان کے اراکین اسمبلی میں آزاد حیثیت سے ہی بیٹھیں گے، پھر چاہے انھیں مخصوص نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔
پرویز خٹک کی جماعت پی ٹی آئی پی سے بات چیت کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں سے متعلق بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ اب تک ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی ایسی کوئی بات ہوئی ہے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی سے اتحاد کا بھی اعلان کیا تھا لیکن بیرسٹر سیف کے مطابق 'یہ باب اب بند ہو چکا ہے۔'
خیبر پختونخوا اسمبلی میں جماعت اسلامی کے دو ارکان کامیاب ہوئےتھے لیکن دوبارہ گنتی کے نیتجے میں دونوں امیدوار ہار گئے۔ اب خیبر پختونخوا اسمبلی میں جماعت اسلامی کا کوئی رُکن نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراھیم نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی سے اتحاد کا باب اب بند ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا رویہ اس کی بڑی وجہ تھی، تاہم اب صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی بھی نہیں ہے۔
اگر پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرتے یا اتحاد نہیں کرتے تو اس صورت میں جماعت کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
آئینی امور کے ماہر اور پارلیمانی معاملات پر عبور رکھنے والے وکیل بابر خان یوسفزئی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں کسی جماعت کے ساتھ اتحاد یا کسی جماعت میں شمولیت اختیار کیے بغیر حکومت تو قائم کر سکتی ہے لیکن اس صورت میں انھیں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں نہیں مل سکیں گی۔
تاہم جماعت کے قائدین کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں پرویز خٹک کی جماعت پی ٹی آئی پی کے دو اراکین ہیں اور اگر دونوں جماعتوں کے قائدین اتحاد کا فیصلہ کریں تو مخصوص نشستوں کا معاملہ حل ہو سکتا ہے۔
تاہم اس صورت میں مخصوص نشستوں کے لیے پی ٹی آئی پی کی مجوزہ فہرست ترجیح ہوگی اور اگر کچھ نشستیں بچ جاتی ہیں تو اس پر پی ٹی آئی کے تجویز کردہ نام شامل کیے جائیں گے۔
بابر یوسفزئی نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین کی تعداد اتنی ہے کہ وہ آسانی سے خیبر پختونخوا میں آزاد حکومت قائم کر سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے لیے سابق سپیکر اسد قیصر متحرک ہیں اور انھوں نے آج جمعرات کے روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی ہے جس کے بعد انھوں نے کہا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں سپیکر کے لیے ان کے بھائی عاقب اللہ کو نامزد کیا ہے۔
اس سے پہلے عمران خان نے وزارت اعلیٰ کے لیے علی امین گنڈہ پور کے نام کی منظوری بھی دی تھی۔
عمران خان نے عمر ایوب کو وزارتِ اعظمیٰ کا امیدوار نامزد کردیا: بیرسٹر گوہر

،تصویر کا ذریعہGOHAR ALI KHAN/FACEBOOK
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارٹی کی طرف سے عمر ایوب خان کو وزارتِ اعظمیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔
جمعرات کو اڈیالہ جیل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ عمر ایوب کو پاکستان کا وزیرِ اعظم بنوائیں۔
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ عمر ایوب وزیرِ اعظم 'اس وقت تک رہیں گے جب تک خان صاحب (جیل سے) باہر نہیں آ جاتے۔'
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کے لیے عمران خان نے میاں اسلم اقبال کے نام کی منظوری دی ہے جبکہ بلوچستان میں سالار صاحب پی ٹی آئی کے وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں سپیکر کے لیے عاقب اللہ کے نام کی منظوری دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پاور شیئرنگ کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے مذاکرات نہیں کرے گی۔
'پیپلز پارٹی کے ساتھ نہ ہمارے مذاکرات ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے۔'
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ وہ 'پاور شیئرنگ' کے بجائے اپویشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔
'ہم مضبوط اپوزیشن کریں گے، اس وقت تک جب تک ہمارا مکمل مینڈیٹ ہمارے پاس نہیں آ جاتا۔'
پی ٹی آئی کا مبینہ دھاندلی کے خلاف 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نےسنیچر کو ملک بھر میں 'پُر امن احتجاج' کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کو اڈیالہ جیل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملاقات میں ان کی پارٹی سربراہ نے ملک بھر میں پُرامن احتجاج کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا نے دعویٰ کیا کہ 8 فروری کو عام انتخابات میں ان کی جماعت قومی اسمبلی کی 180 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی، تاہم مبینہ دھاندلی کے ذریعے ان کہ مینڈیٹ پر 'ڈاکہ' ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کو مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔
'ہماری سب سے درخواست ہے کہ اس میں شرکت کریں اور یہ آپ کی آزادی کا سوال ہے۔'
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ پُر امن احتجاج کے دوران گرفتاریاں نہیں ہونی چاہییں کیونکہ 'یہ عوام کا قانونی اور آئینی حق ہے۔'
جے یو آئی کی پارلیمانی سیاست سے ممکنہ دستبرداری کی دھمکی: مولانا فضل الرحمان کے ’غصے‘ کی وجہ کیا؟
این اے 128: الیکشن کمیشن نے عون چودھری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا

،تصویر کا ذریعہAwn Chaudhry/Facebook
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے لاہور کے حلقے این اے 128 سے کامیاب ہونے والے استحکامِ پاکستان پارٹی کے امیدوار عون چودھری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔
خیال رہے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار سلمان اکرم راجہ نے عون چودھری پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا اور عدالت میں ان کی جیت کو چیلنج کیا تھا۔
تاہم عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو اپنی شکایت الیکشن کمیشن کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر سماعت کر کے فیصلہ کرے گا۔
پی ٹی آئی نے پنجاب میں کارکنان کو احتجاج کی تیاریاں کرنے کی ہدایت کردی
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان تحریکِ انصاف کےرہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت جلد ہی پنجاب بھر میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی جلوس منعقد کرے گی۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر حماد اظہر کا ایک پوسٹ میں کہنا تھا کہ 'پنجاب کے تمام امیدواران اور کارکنان پرُامن احتجاج کی ہنگامی بُنیادوں پر تیاری شروع کریں۔'
ان کے مطابق احتجاجی جلوس پنجاب میں ہر یونین کونسل سے نکالے جائیں گے۔
تاہم حماد اظہر کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'عوام خود کو اپنے چوری ہوئے مینڈیٹ کے لیے عمران خان کی کال پر نکلنے کے لیے تیار رکھیں۔'
عمر ایوب کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے عمر ایوب خان کو تحریک انصاف کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔
عمر ایوب کا تعلق پاکستان کے ضلع ہری پور سے ہے اور وہ سابق فوجی آمر ایوب خان کے پوتے ہیں۔ عمر ایوب الیکشن 2024 میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 18 سے کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ اس سے قبل تین مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز عمر ایوب سنہ 2002 میں پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں وہ سنہ 2004 سے 2007 تک وزیرِ مملکت برائے خزانہ کے عہدے پر تعینات رہے تھے۔
عمر ایوب سنہ 2013 میں ہری پور سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے اور انھیں پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی لیکن دھاندلی کے الزامات کے بعد اس حلقے کے سات پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ ووٹنگ ہوئی تھی۔ سات پولنگ سٹیشنوں میں ری پولنگ کے بعد عمر ایوب کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔
تاہم 2015 میں سپریم کورٹ نے اُن کے مخالف امیدوار کی پیٹیشن پر انتخاب کا عمل کالعدم قرار دے کر پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔ عمر ایوب نے سنہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی اور پارٹی کے ٹکٹ پر تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے تھے۔
وہ پی ٹی آئی حکومت میں بطور وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئرز بھی کام کر چکے ہیں۔
نو مئی کے واقعات کے تناظر میں ان پر مقدمات درج ہیں اور فی الحال وہ عوامی نظروں سے اوجھل اور روپوش ہیں۔
عمر ایوب خان پی ٹی آئی کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے، اسد قیصر کا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیراعظم کے امیدوار عمر ایوب خان ہوں گے جبکہ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کے امیدوار عاقب خان ہوں گے۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پارٹی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر رہے ہیں، امید ہے قومی اسمبلی میں ہمارا وزیراعظم آئے گا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمر ایوب کی نامزدگی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے کی گئی ہے۔
جبکہ پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس نامزدگی کی تصدیق نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں ان کے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے اسمبلی میں بیٹھ کر قانونی جنگ لڑیں گے، ہر کوئی جانتا ہے کہ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ مجھے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ الیکشن میں ہمارے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بدترین الیکشن ہوا، آج کی ملاقات میں تمام سیاسی صورتحال بانی پی ٹی آئی کے سامنے رکھی۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم جے یو آئی، جماعت اسلامی، اے این پی اور قومی وطن پارٹی سے رابطے کریں گے اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج پر مشاورت کریں گے۔‘
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مجھے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
اس موقع پر بیرسٹر سیف نے ان کے ہمراہ میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ آج عمران خان کی ملاقات کے دوران انھوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے لیے رکن صوبائی اسمبلی عاقب اللہ خان کو سپیکر کے پی اسمبلی کے لیے نامزد کیا ہے۔
بیرسٹر سیف اور اسد قیصر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان میں انتخابی دھاندلی پر آواز اٹھائے۔
