مچھ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں نو حملہ آور ہلاک: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مچھ پر حملہ کرنے والے نو حملہ آور مارے گئے ہیں۔ جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار اور دو شہری بھی ہلاک ہوئے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    تازہ ترین خبروں کے لیے بی بی سی کے نئے لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. مچھ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں نو حملہ آور ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مچھ پر حملہ کرنے والے نو حملہ آور مارے گئے ہیں۔

    کوئٹہ اور مچھ کے درمیان کولپور کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا ۔ 29 اور30 جنوری کی درمیانی شب اس حملے کے باعث مچھ شہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں جبکہ اس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو کہ 30 جنوری کی شام تک جاری رہا تھا۔

    منگل کی شب اس حوالے سے آئی ایس پی آر کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا اس کے مطابق کئی ’دہشت گردوں‘ نے مچھ اور کولپور میں کپمپلیکسز پر حملہ کیا جن کا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موثر جواب دیا۔‘

    ’حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کو فوری طور پر متحرک کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں اب تک تین خود کش بمباروں سمیت نو شدت پسند سکورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہوئے ہیں‘۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے شدید فائرنگ کے تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار مارے گئے جبکہ دو شہری بھی ہلاک ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے سکیورٹی فورسز ملک میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

  3. بلوچستان: نگراں وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اعلٰی سطحی اجلاس، سکیورٹی اقدامات مزید بہتر بنانے کی ہدایت

    نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت اعلٰی سطحی اجلاس ہوا جس میں بلوچستان میں امن و امان اور مچھ صورتحال سے متعلق جائزہ لیا گیا۔

    نگراں وزیر اعلیٰ میر علی مردان خان ڈومکی کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے واقعات کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات ضروری ہے۔ الیکشن کے قریبی دنوں میں رونما ہونے والے واقعات کو انتخابی عمل سے عوام کو دور رکھنے کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے سکیورٹی پروفائلنگ پر ازسر نو نظر ثانی کرتے ہوئے اقدامات کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

    انھوں نے کہا کہ مچھ میں سکورٹی فورسز کے جوانوں نے محدود تعداد میں ہونے کے باوجود نہایت بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایک سپاہی کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی ایک افسر اور کسی بھی قبائلی نواب و سردار کی ہے۔ لیویز اور پوليس کے جوانوں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید خطوط پر مبنی پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے لیے موثر حکمت عملی پر فوری طور کام شروع کیا جائے۔‘

    نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان نے سبی میں بم دھماکے سے متعلق بھی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔

    اجلاس میں نگراں وزیر داخلہ و قبائلی امور میر زبیر خان جمالی،چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان،ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ زاہد سلیم،انسپکٹر جنرل پولیس عبدالخالق شیخ،و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

  4. توشہ خانہ کیس: جج محمد بشیر کی طبیعت ناساز، سماعت کل تک ملتوی

    MUHAMMAD HUSSAIN CHAUDHRY

    ،تصویر کا ذریعہMUHAMMAD HUSSAIN CHAUDHRY

    ،تصویر کا کیپشنجسٹس محمد بشیر اسلام آباد کی تینوں نیب عدالتوں میں انتظامی جج ہیں

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت اسلام اباد کے جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہو گئی اور انھیں جیل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    احتساب عدالت کے جج کے ہسپتال منتقل ہونے کے بعد ریفرنس کی سماعت کل صبح تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    سماعت کے دوران بانی چیئرمین پی ٹی ائی کی اہلیہ بشری بی بی کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلم بند کیا گیا۔ جبکہ اسبق وزیراعظم عمران خان کا بیان کل صبح قلم بند کیا جائے گا۔ کل ملزمان کی جانب سے گواہان صفائی کی لسٹ بھی عدالت پیش کی جائے گی۔

    عدالت کی جانب سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو 27، بشری بی بی کو 25 سوالات پر مشتمل سوالنامہ فراہم کیا گیا تھا ملزمان کی جانب سے حق جرح بحال کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردی۔

  5. بریکنگ, سبّی میں پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی ریلی پر حملہ، کم از کم چار افراد ہلاک

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع سبّی میں پاکستان تحریک انصاف کی ریلی میں ایک دھماکے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    سبّی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر عمران بلوچ نے دھماکے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دھماکے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان کی ریلی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئےسبّی کے ایس ایس پی عنایت اللہ بنگلزئی نے بتایا کہ دھماکہ شہر کے جناح روڈ پر اس وقت ہوا جب پاکستان تحریک انصاف کی ایک ریلی گزررہی تھی ۔

    عنایت اللہ بنگلزئی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ دھماکہ دیسی ساختہ بم کا تھا جو کہ کسی چیز میں نصب کیا گیا تھا ۔

    درایں اثناء کوئٹہ میں تحریک انصاف کے مقامی رہنما آصف ترین نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تحریک انصاف کے کارکن ہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ریلی میں شریک تھے جو کہ قومی اسمبلی کی نشست این اے-253 سے پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار صدام ترین کی قیادت میں نکالی گئی تھی ۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں پارٹی کی ریلی میں دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زخمیوں کی معیاری علاج و معالجے میں کسی قسم کی غفلت برادشت نہیں کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سبّی میں ہونے والے دھماکے اکا نوٹس لیا ہے اور چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

  6. عمران خان نے سائفر کیس میں سرکاری وکیلِ صفائی کی تقرری کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران خان نے سائفر کیس میں سرکاری وکیلِ صفائی کی تقرری اور اس کے بعد کی عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

    عمران خان نے اپنے وکیل حامد خان کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سائفر کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی جانب سے سرکاری وکیلِ صفائی کی تقرری کو چیلنج کیا اور استدعا کی کہ اس کے بعد کی عدالتی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    خیال رہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے منگل کو سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس، دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی وکلا کی عدم موجودگی کی بنا پر دونوں کے لیے سرکاری وکیل مقرر کیے تھے۔

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ انھیں گذشتہ ایک برس سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب عمران خان کی جانب سے احتساب عدالت میں زیرِ سماعت توشہ خانہ کیس میں کے حوالے سے بھِی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست جمع کروائی ہے۔

    اس درخواست میں عمران خان کے حقِ دفاع ختم کرنے کے احتساب عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ احساب عدالت کا 29 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور درخواست گزار کو اپنے وکیل کے ذریعے حقِ دفاع کا موقع دیا جائے۔

    اس درخواست کو فوری طور پر سماعت کے لیے منظور کرنے کی گزارش کی گئی تھی تاہم دفتری اعتراضات کے سبب درخواست پر نمبر نہیں لگ سکا۔

  7. پنجاب اور کے پی میں مزید بارشوں اور برفباری کا امکان

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 31 جنوری سے 4 فروری تک تیز بارش اور مری گلیات میں وقفے وقفے سے برفباری کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے تمام ضلعی انتظامیہ کو بروقت اقدامات کے لیے ہدایات جای کر دی ہیں۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    حکام نے حسّاس اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کو مقامی آبادی تک پیغامات مقامی زبانوں میں پہنچانے کا حکم دیا ہے۔

    کے پی میں بھی بارشوں اور برفباری کا سلسلہ 4 فروری تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

  8. عمران خان کی نیب کیسز میں جیل ٹرائل کے خلاف درخواستیں مسترد

    پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان کی نیب کیسز میں جیل ٹرائل کے خلاف درخواستیں مسترد ہو گئی ہیں۔

    پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل ٹرائل کے خلاف عمران خان کی درخواستیں خارج کردیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا جس کی تفصیلی وجوہات تحریری فیصلہ میں جاری کی جائیں گی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری بینچ میں شامل تھے۔

    خیال رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ کیس اور 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں جیل ٹرائل کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

  9. سائفر کیس: فیصلے کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں 900 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک ، صحافی

    stock exchange

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنفیصلے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے گھبراہٹ میں حصص بیچے گئے:سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہریار بٹ

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں کاروبار کے اختتام پر 931 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    منگل کے روز کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا تاہم سائفر کیس کے فیصلے کے آنے کے بعد سٹاک مارکیٹ فروخت کے دباؤ کا شکار نظر آئی اور انڈیکس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی۔

    کاروبار کے اختتام پر مارکیٹ 931 پوائنٹس کی کمی کے بعد 62000 پوائنٹس کی سطح سے کم ہو کر 61841 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوئی۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں منگل کے روز مندی کی وجہ سائفر کیس کا فیصلہ تھا جس کے آنے کے بعد مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بہت زیادہ فروخت دیکھنے میں آئی جس کے بعد انڈیکس نچلی سطح پر بند ہوا۔

    سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مارکیٹ میں کافی دنوں سے مندی کا رجحان دیکھا جارہا تھا جس کی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی ہے جس کے تحت وہ الیکشن کے بعد بننے والی حکومت اور اس کی آئی ایم ایف سے ڈیل کی پالیسی کا انتظار کررہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ فروخت کے دباؤ کا شکار تھی تاہم اس میں منگل کے روز اس وقت زیادہ شدت آئی جب سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس دس سال کی سزا سنائی گئی۔

    انھوں نے کہا فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے گھبراہٹ میں حصص بیچے گئے کیونکہ اس فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مارکیٹ سرمایہ کار اب بیرونی دنیا کی جانب سے اس فیصلے پر رائے کا انتظار کریں گے جو پاکستان میں مستقبل کی صورتحال کے لیے بہت اہم ہے۔

  10. ‎سائفر کیس: پی ٹی آئی کا سزا کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت سے سائفر کیس میں سنائی جانے والی سزا کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    خیال رہے کہ خصوصی عدالت نے منگل کی صبح سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس، دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ مقدمہ سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے پاس سے غائب ہو گئی تھیں۔

    عدالتی فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان میں اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے ’بانی چیئرمین عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے نہایت بے رحمی سے انصاف کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔‘

    ‎تحریک انصاف کے مطابق عمران خان اور تحریک انصاف کی بے پناہ مقبولیت سے خوفزدہ عناصر نے دستور اور بنیادی حقوق پر شب خون مارنے کے بعد ملک کا پورا نظامِ انصاف تباہی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

    پارٹی ترجمان رؤف حسن نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ان کی پارٹی اس فیصلے کے خلاف بھرپور جواب آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر دے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں ان کے پارٹی کے کارکن پرامن رہیں گے اور ہر ناانصافی کا بدلہ ووٹ سے لیں گے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان نے عوام کے نام پیغام میں کہا کہ وہ آٹھ فروری کو گھروں سے نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. سائفر ہوتا کیا ہے؟

    سائفر کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس سائفر کوڈڈ زبان میں لکھا جاتا ہے۔ سائفر کو کوڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں گریڈ 16 کے 100 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جنھیں ’سائفر اسسٹنٹ‘ کہا جاتا ہے۔

    یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

  12. عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمہ کیا ہے؟

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کو جس سائفر کیس میں دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے وہ مقدمہ سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے پاس سے غائب ہو گئی تھی۔

    عمران خان نے سنہ 2022 میں اپنی حکومت کے خاتمے سے چند ہفتے قبل اسلام آباد میں ایک عوامی جلسے میں امریکہ میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفر کو بنیاد بنا کر اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی مبینہ سازش میں ایک غیر ملک کا کردار ہے۔

    تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔

    اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکہ کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ اعظم خان پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیر اعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔

    اس کے بعد اس وقت کی اتحادی حکومت کی وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کی تھیں۔

    اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی ار میں شاہ محمود قریشی کو بھی نامزد کیا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات پانچ (معلومات کا غلط استعمال) اور نو کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق سات مارچ 2022 کو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ کو واشنگٹن سے سفارتی مراسلہ (سائفر) موصول ہوا، پانچ اکتوبر 2022 کو ایف آئی اے کے شعبہ انسداد دہشت گردی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر اور ان کے معاونین کو سائفر میں موجود معلومات کے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرکے قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے اور ذاتی مفاد کے حصول کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے نامزد کیا گیا تھا۔

    مقدمے میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے معاونین خفیہ کلاسیفائیڈ دستاویز کی معلومات غیر مجاز افراد کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

  13. سائفر کیس: ایک مقدمہ، تین اہم گواہ اور وکیل صفائی کا مؤقف ’عمران خان وزیراعظم تھے، کلرک نہیں‘

    سائفر کیس میں پراسیکوشن کے 25 گواہان کے بیانات خصوصی عدالت میں ریکارڈ کیے گئے۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 28 گواہان تھے جن میں سے تین گواہوں کو عدالت میں پراسکیوشن کی جانب سے پیش ہی نہیں کیا گیا۔

    اس کیس میں عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، سابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کے بیانات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

    سائفر کیس

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES/PTI TWITTER

  14. سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزاؤں کے خلاف کل ہی اپیل دائر کریں گے، بیرسٹر علی ظفر

    پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی سزاؤں کے خلاف کل ہی اپیل دائر کر دی جائے گی۔

    جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر فیصلے کی کاپی مل جاتی ہے تو کل ہی اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس کیس میں انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔

  15. سائفر کیس فیصلے پر عمران خان کا پیغام: ’آئینی تقاضوں اور قانونی ضابطوں کو روندتے ہوئے جھوٹے مقدمات کا ٹرائل مکمل کیا جارہا ہے‘

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس دس سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر عمران خان کا پیغام جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اس فیصلے کو قانونی ضابطوں اور آئینی تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. بریکنگ, سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس دس سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    منگل کو سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مقدمے کی سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا کا فیصلہ دیا ہے۔

    سزا سنائے جانے کے وقت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز خصوصی عدالت میں زیر سماعت سائفر کیس میں رات گئے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف 25 گواہان کے بیانات قلمبند کرلیے گئے تھے۔ سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کیس میں تمام 25 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کر لی گئی۔

    کمرۂ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب عدالت نے عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے روسٹرم پر بلایا تو ان سے کہا کہ اگر وہ عدالت کو کچھ بتانا چاہتے ہیں تو عدالت کو بتا دیں۔ جس پر عمران خان نے کہا کہ میں عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔

    عدالت نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا سائفر آپ کے پاس ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا اور وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری میری نہیں ہے بلکہ وہاں پر ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری بھی ہوتے ہیں۔

    صحافی رضوان قاضی کے مطابق جب عمران خان روسٹرم سے نیچے اترنے لگے جس کے بعد عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بھی روسٹرم پر بلا لیا اور دونوں کو روسٹرم پر ہی سزا سنا دی اور مزید جرح نہیں ہوئی۔

    جیل حکام کے مطابق خصوصی عدالت کے جج مختصر حکم نامہ سنا کر اٹھ کر چلے گئے اور فریقین کی طرف سے حتمی دلائل بھی نہیں دیے گئے

  17. بریکنگ, مچھ حملے کے بعد کوئٹہ سے دیگر شہروں کو جانے والے ٹرینیں منسوخ

    کوئٹہ ریلوے سٹیشن

    بلوچستان کے علاقے مچھ میں گذشتہ شب ہونے والے حملے کے باعث کوئٹہ شہر سے ملک کے دیگر شہروں کو جانے والی ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے ۔

    کوئٹہ میں محمکہ ریلویز کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئٹہ سے براستہ لاہور اور راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس کے علاوہ کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ کوئٹہ سے دیگر شہروں کو جانے والی ٹرینیں مچھ سمیت درہ بولان کے دیگر علاقوں سے گزرتی ہیں۔

    سکیورٹی خدشات کے باعث ٹرینوں کی منسوخی سے ان شہروں کی جانب سفر کرنے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    کوئٹہ ریلوے سٹیشن
  18. صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت: ’کوئی کاغذ تو دِکھائیں، کیس میں آگے کیسے بڑھیں‘، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ایف آئی کی جانب سے نوٹسز بھجوانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ہم توقع رکھتے تھے آج صحافی کوئی سی ایم اے فائل کرتے، ہمیں کوئی کاغذ تو دِکھائیں ہم اس کیس میں آگے کیسے بڑھیں۔

    منگل کے روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آئے تو پریس ایسوسی ایشن کے وکیل جہانگیر جدون نے گذشتہ روز کا حکمنامہ پڑھ کر سنایا۔

    جہانگیر جدون ایڈووکیٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ذمہ داری آپ پر بھی ہے، ہم پٹیشن اٹھاتے ہیں، صحافی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

    اس موقع پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا صحافیوں نے کوئی نئی درخواست دائر کی؟ جس پر صحافی عقیل افضل نے کہا کہ ہمیں ابھی تک فہرست ہی نہیں ملی کن صحافیوں کے خلاف کارروائی ہے۔

    اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل ہم نے محتاط رہتے ہوئے کوئی آرڈر پاس نہیں کیا، کوئی بندہ اپنا کام کرنے کو تیار نہیں، ہم پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو دیکھ رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ہم توقع رکھتے تھے آج صحافی کوئی سی ایم اے فائل کرتے، ہمیں کوئی کاغذ تو دِکھائیں ہم اس کیس میں آگے کیسے بڑھیں۔

    صحافیوں کی جانب سے متفرق درخواست دائر نہ ہونے پر چیف جسٹس نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب تک تحریری طور پر ہمارے سامنے کچھ نہیں آئے گا ہم آرڈر کیسے جاری کریں، اب سپریم کورٹ میں 3 رکنی کمیٹی ہے وہ طے کرتی ہے جو درخواست آنے کے بعد طے کرے گی۔

    اس موقع پر حیدر وحید ایڈووکیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ سٹیک ہولڈرز سے مل کر سوشل میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق بنائے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ایسا حکم جاری کر سکتی ہے؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں ہے، جو قانون ہے وہ صرف فوجداری کارروائی کے لیے ہے، یوٹیوب پر ہتک عزت قانون تو لاگو ہوتا ہے لیکن کوئی ریگولیٹری قانون نہیں ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عدالت قانون کی تشریح کر سکتی ہے، جب قانون ہی نہیں تو کیا کریں؟ عدالت صرف اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بیٹھنے کی درخواست کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈے کی تشہیر پر ایف آئی اے نے 47 صحافیوں اور یوٹیوبرز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا تھا۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور غلط معلومات کی تشہیر میں ملوث افراد کے خلاف اب تک 115 انکوائریاں رجسٹر کی جا چکی ہیں اور 65 نوٹسز بھی دیے جا چکے ہیں، ان ان نوٹسز کی سماعت29 اور 30 جنوری کو ہو گی۔

    جن 65 افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ان میں 47 صحافی اور یوٹیوبرز بھی ہیں جن میں چند نامور صحافی بھی شامل ہیں۔

  19. بریکنگ, مچھ حملے میں پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے: جان اچکزئی کا دعویٰ

    سیکورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے نگران صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ مچھ حملے کو ناکام بناتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

    انھوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم بلوچستان کے شہر مچھ میں دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے میں پاکستان آرمی اور ایف سی کی جانب سے کیے جانے والے تیز ترین اقدام کو سراہتے ہیں۔ ہمارے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے بی ایل اے کے پانچ دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے حملے میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنے میں ہماری سکیورٹی فورسز نے جس بہادری اور جذبے کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔

    واضح رہے پیر اور منگل کی درمیانی شب بلوچستان کے علاقے مچھ میں عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس کے بعد شہر گولیوں کی آوازوں اور دھماکوں سے گونج اٹھا تھا۔

    اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

  20. مچھ میں رات بھر سے سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری فائرنگ کا سلسلہ بند ہو گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے معروف درہ بولان میں واقع مچھ شہر میں عسکریت پسندوں کے تین حملوں کو ناکام بنانے کے بعد دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ منگل کی صبح بند ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب مچھ پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس کے بعد شہر دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھا تھا۔

    مچھ شہر سے تعلق رکھنے والے مزدور رہنما محمد اقبال یوسفزئی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ رات بھر جاری رہا جو کہ آج صبح بند ہوا ہے۔ جبکہ رابطہ کرنے پر مچھ کے اسسٹنٹ کمشنر حمزہ سجاد نے بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ صبح سات بجے کے قریب بند ہوا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ تاحال جانی اور مالی نقصانات کے بارے کچھ بتانا مشکل ہے۔

    مچھ شہر پر حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ رات کو پولیس کے ایس ایچ او سجاد سولنگی نے ریلوے پولیس کے ایک کانسٹیبل کے ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

    جبکہ محکمہ صحت کے ایک اعلامیہ کے مطابق کولپور کے علاقے سے ایک بچے کی لاش اور ایک زخمی شخص کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال مستونگ منتقل کیا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق مستونگ میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد زخمی شخص کو ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا۔

    محکمہ صحت کی جانب سے مچھ اور کوئٹہ سمیت مچھ کے دیگر علاقوں کے ہسپتالوں میں فائرنگ کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی ۔

    بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے گذشتہ شب ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ سیکورٹی فورسز نے مچھ شہر پر تین مربوط حملوں ناکام بنایا ہے۔