’کہتے ہیں بات ہو گئی ہے، دو تہائی اکثریت ہماری ہے مگر ہم عوام کے علاوہ کسی اور کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں‘: بلاول بھٹو

نوشہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ تمام مسائل سے نکلنے کے لیے صاف اور شفاف انتخابات کرانے ہوں گے ورنہ اربوں روپے خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت کے دعوے کیے جار ہے ہیں۔ ان کے مطابق ہم کسی کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں ہیں، ہم صرف پاکستان کے عوام کا فیصلہ مانیں گے۔

لائیو کوریج

  1. ’مرشد، امریکی سفارتخانہ جل رہا ہے۔۔۔‘ کعبہ کا محاصرہ اور جنرل ضیا کا سائیکل پر راولپنڈی کا دورہ

  2. افغان پناہ گزین: ’یہ بھی نہیں پتا کہ افغانستان میں ہمارا گھر کہاں ہے، پاکستان کو ہی اپنا گھر سمجھتے تھے‘

  3. انتخابات کی پچ تیار، کھلاڑی غائب!!! عاصمہ شیرازی کا کالم

  4. عمران خان کے جیل ٹرائل سے متعلق نوٹیفیکیشن کالعدم : ’جیل میں ٹرائل ہو سکتا ہے مگر قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں‘

  5. سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل تین بجے دوبارہ ہو گا

    Supreme Court

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا آج بند کمرا اجلاس ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے دو ججز۔۔ جسٹس طارق مسعود اور جسٹس مظاہر نقوی۔۔ کے خلاف شکایات پر غور کیا گیا۔

    کونسل کے اجلاس کے بعد کوئی تفیصلات جاری نہیں کی گئیں۔ کونسل کا دوبارہ اجلاس کل یعنی منگل کی سہہ پہر تین بجے ہوگا۔

  6. کرتارپور میں ڈانس پارٹی کی وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

  7. پاکستانی ٹیم کے لیے ’قربانی‘ نہ دینے پر تنقید: ’حارث رؤف کو بریک لینے کی اجازت ہونی چاہیے‘

  8. گرفتاری دے رہا ہوں، امید ہے انصاف ملے گا: تحریک انصاف کے رہنما امجد علی خان

    پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن اسمبلی امجد علی خـان نے پولیس کو گرفتاری دے دی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کا نو مئی کے واقعات سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انھوں نے ایکس پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے اپنے اوپر لگائے گئے جھوٹے الزامات و بے بنیاد مقدمات کے لیے اے ٹی سی سرگودھا میں انصاف کے حصول کے لیے سرنڈر کر رہے ہیں۔

    امجد علی خان کے مطابق ’تاریخ گواہ ہے کے میں نے ہمیشہ نظریے کی بنیاد پر سیاست کی ہے۔ میرا، میرے خاندان، میرے دوست احباب کا 9 مئی کے سانحہ سے نہ تو بالواسطہ نہ ہی بِلا واسطہ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اِس سے پہلے کبھی بھی کسی قسم کی شر انگیزی سے کوئی تعلق رہا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. 18ویں ترمیم میں تبدیلی سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں: ترجمان مسلم لیگ ن

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. اگر الیکشن سے پہلے رزلٹ طے کرنے ہیں تو پھر انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں: بلاول بھٹو

    BB

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے شہر نوشہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسائل سے نکلنے کے لیے ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کرانے ہوں گے۔

    انھوں نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات کا فائدہ ہو گا جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’اگر الیکشن سے پہلے رزلٹ طے کرنے ہیں تو پھر انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور ان انتخابات پر اربوں روپے خرچ کرنے کا کوئی فائدہ ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ایک صاحب وزیراعظم بنے گا تو دوسری جماعت دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے دھرنا دے گی، جس سے پاکستان کے عوام کا نقصان ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ 30 برس سے سیاست کرنے والے ایک الیکشن کی خاطر ملک کو داؤ پر نہ لگائیں۔

    ان کے مطابق ’معاشرے میں اتنی تقسیم اور اتنی نفرت پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں، آئینی اور جمہوری مسائل ہیں، مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔۔۔ان سب مسائل کا حل پاکستان پیپلز پارٹی ہی نکال سکتی ہے۔

    ’ہم کسی اور کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، عوام کا فیصلہ مانیں گے‘

    bilawal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم کسی اور کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم پاکستان کے عوام کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار ہیں۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ جو ہر کسی کو جیل بھیجنے کا شوق رکھتا تھا وہ بیچارہ اب خود جیل میں ہے، شاید ان کو کچھ سمجھ آ جائے۔

    انھوں نے کہا کہ جب یہ لوگ حکومت میں ہوتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ایوب خان سے بہتر لیڈر کوئی نہیں تھا، جب حکومت سے نکل آتے ہیں تو بھٹو بننے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اختلاف رائے کے باوجود سب کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق ہے کیونکہ ہم سب نے اسمبلی پہنچ کر عوام کی خدمت کرنی ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ایک جیل میں ہیں تو دوسرے وہ ہیں جو کہتے ہیں بات ہو گئی ہے، دو تہائی اکثریت ہماری ہے۔‘

    ان کے مطابق جب پنجاب میں 20 ضمنی انتخابات ہو رہے تھے تو وہ ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکے۔بلاول بھٹو نے نام لیے بغیر کہا کہ ’ان کے لیے ایک جلسہ لاہور میں کرایا گیا۔ اب وہ زور و شور سے کہہ رہے ہیں کہ دو تہائی لے کر آئیں گے اور اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کریں گے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’جو لوگ بلدیاتی انتخابات سے ڈر کے مارے بھاگتے تھے ان کو عوام ایسا جواب دیں گے کہ نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔‘

  11. ہم غزہ میں فلسطینی بچوں کا ہولوکاسٹ دیکھ رہے ہیں: نگراں وزیراعظم

    پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ’ہم غزہ میں فلسطینی بچوں کا ہولوکاسٹ دیکھ رہے ہیں۔‘

    اسلام آباد میں بچوں سے متعلق زارا الرٹ ایپ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل حضرت موسیٰ کے رستے کے بچے فرعون کی راہ پر چل پڑا ہے اور بچوں کا قتل عام شروع کر دیا ہے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی بچوں کا ہولوکاسٹ فوری طور پر روکا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت غزہ کے بچے میرے ذہن میں ہیں۔

    ان کے مطابق اسرائیلی ریاست سمجتھی ہے کہ اس کی فوج بہت طاقتور ہے۔ ان کے مطابق پیشہ ور فوجیں مدمقابل فوجوں سے لڑتی ہیں، نہتے بچوں کا قتل نہیں کرتیں۔

  12. جبری گمشدگیوں کا معاملہ: وزیرداخلہ کی سربراہی میں کمیٹی کے اجلاس میں وزیردفاع اور وزیر قانون کی بھی شرکت

    Missing Persons

    نگراں وزیرِ داخلہ سرفراز احمد بگٹی کی زیر صدارت جبری لاپتہ افراد کے کیسز سے متعلق قائم وزرا کی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر اور وزیر قانون احمد عرفان اسلم کی بھی شرکت کی ہے۔

    اجلاس میں اختر مینگل کمیشن کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیشن کی سفارشات پر بھی غور و خوض کیا گیا۔

    اس کمیٹی نے جبری گمشدگیوں پر پالیسی کی تشکیل کے حوالے سے بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

    وزیر داخلہ سرفراز بگٹی والی کمیٹی قابل قبول نہیں: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز

    Baloch

    واضح رہے کہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے نگراں وفاقی وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی کی سربراہی میں لاپتہ افراد کے بارے میں کمیٹی کے قیام کو مسترد کر دیا ہے۔

    سنیچر کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے میں مخلص نہیں ہے اوربین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کے لیے ہرحکومت ایک کمیشن بناتی ہے۔

    ان کے مطابق ’ہرحکومت آکرایک کمیشن یا کمیٹی بناتی ہے جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سنجیدہ ہیں-

    ان کے مطابق اسی طرح کی ایک کمیٹی نگراں حکومت نے بنائی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی۔

    نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیٹی ایک ایسے شخص کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جس نے ہمیشہ جبر کی بات کی ہے اور بلوچستان میں جو ظلم و جبر ہو رہا ہے انھوں نے اس کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

    ان کے مطابق یہ ایک ایسے متنازع شخص سے کیسے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کسی مثبت پیش رفت کی توقع رکھ سکتے ہیں-‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ 'نگراں حکومت کے آتے ہی نہ صرف جبری گمشدگی کے واقعات بلکہ ایسے لوگوں کو جعلی مقابلوں میں ہلاک کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

    نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی میں مخلص ہے تو وہ سنہ 2010 اور گذشتہ حکومت میں سردار اخترمینگل کی سربراہی میں بننے والے کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرائے-‘

    ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی تنظیم لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

  13. سائفر کیس میں عمران خان کے جیل ٹرائل پر سماعت کل تک ملتوی

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی انٹرا کورٹ اپیل منگل تک ملتوی کرتے ہوئے سائفر کیس پر حکم امتناع میں بھی کل تک توسیع کر دی ہے۔

    عمران خان نے اپنے جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے۔

    عدالت نے خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی اور سکیورٹی خدشات کا نوٹیفکیشن بھی طلب کر لیا ہے۔

  14. کیا امریکی صدر بائیڈن کو غزہ میں اسرائیلی مہم جوئی پر اندرونی اختلافات کا سامنا ہے؟

  15. شاہ محمود قریشی نے سائفر کیس میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سابق وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے سائفر کیس میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    شاہ محمود قریشی کی جانب سے دائر درخواست میں ضمانت بعد از گرفتاری کی استدعا کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا آٹھ نومبر کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

    درخواست کے متن کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور درخواست گزار کیے خلاف بے بنیاد اور سیاسی مقدمہ بنایا گیا ہے۔

    شاہ محمود کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

  16. افغان شہریوں کی وطن واپسی کے خلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کی درخواست پر چیمبر اپیل میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے اسے کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دے دیا۔

    فرحت اللہ بابر اور دیگر فریقین کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں دائر ان چیمبر اپیل پر جسٹس یحیی آفریدی نے سماعت کی۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے رجسٹرار آفس کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے افغان شہریوں کی وطن واپسی کے خلاف کیس کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی تھی، رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف چیمبر اپیل دائر کی گئی تھی۔

  17. 21 نومبر کو نواز شریف کی پیشی پر آئی جی پنجاب سکیورٹی انتظامات یقینی بنائیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا سرکولر

    ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلوں پر21 نومبر کو ہونے والی سماعت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پیشی کے موقع پر اسلام آباد ہائیکورٹ ک نے قواعد و ضوابط سے متعلق سرکلر جاری کردیا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب 21 نومبر کو اپیلوں پر سماعت کریں گے۔

    سرکلر میں آئی جی اسلام آباد کو نواز شریف کی پیشی کے موقع پر مناسب سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

    سرکلر کے مطابق کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلہ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری سکیورٹی پاسز سے مشروط ہوگا جبکہ قانونی ٹیم کے 15 وکلاء کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے 30 صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی۔

  18. لاہورہائی کورٹ نے سموگ کے باعث جنوری کے آخر تک سنیچر کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دے دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے سموگ کے باعث جنوری کے آخر تک سنیچر کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دے دیا۔

    ‏عدالت نے ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر کو سکول ،کالجز اور یونیورسٹیز بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

    ‏لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں کا تحریری حکم جاری کردیا۔

    حکم نامے کے تحت ‏پنجاب حکومت ہفتے کے دو روز ورک فورم ہوم کرنے کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے۔

    تحریری حکم ‏ کے مطابق نوٹیفکیشن میں جم بند کرنے کا لفظ معطل کیا جاتا ہے ۔سموگ کے خلاف کاروائیاں نہ کرنے والے محکمہ ماحولیات ایسے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کرے۔

  19. عمران خِان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت جاری

    چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خِان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل بنچ سماعت کر رہا ہے۔

    عدالت کی ہدایت پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد میں سینکڑوں ماتحت عدلیہ کے ججز موجود ہیں۔

    حکومت نے ایک مخصوص جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دے دیا جس پر جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کیا تھا، ہم نے دستاویزات دیکھی ہیں تعیناتی کے لیے کارروائی کا آغاز اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہوا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ہمیں تو وہ دستاویزات بھی نہیں دکھائے گئے۔‘

    جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’ہمارے ذہن میں بھی یہی سوال تھا لیکن دستاویزات دیکھنے کے بعد صورتحال واضح ہوئی۔ آپ پہلے اٹارنی جنرل کے اپیل ناقابلِ سماعت ہونے کے اعتراض کا جواب دیں۔‘

    سلمان اکرم راجا نے دلائل میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے ان کی عدم موجودگی میں ریمانڈ دیا گیا۔ شاہ محمود قریشی ریمانڈ کے وقت کمرہِ عدالت میں موجود تھے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ 29 اگست کو سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ میڈیا کو چیئرمین پی ٹی آئی کا نام لینے اور انھیں پبلک میں لانے سے روکنے کی ہدایت دی گئی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ آپکے یہ دلائل بعد کے ہیں پہلے اپیل قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیں۔ اٹارنی جنرل نے کچھ دستاویزات دکھائیں جس میں سپیشل رپورٹس بھی ہیں۔ سی سی پی او کا لیٹر بھی ان دستاویزات کا حصہ ہے۔ سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے اس خط کا تب پتہ چلا ہے جب اٹارنی جنرل نے دستاویزات جمع کرائی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں لائف تھریٹ کا ذکر بھی موجود نہیں نا ہی وزارت داخلہ کی اسپیشل رپورٹ کا ذکر ہے۔

    اٹارنی جنرل منصور اعوان نے دلائل میں کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہونے سے شروع ہوا، اٹارنی جنرل اس سے پہلے کی تمام عدالتی کارروائی پری ٹرائل پروسیڈنگ تھی۔

    اٹارنی جنرل کے مطابق ’یہ بات عمومی طور پر پبلک ڈومین میں تھی اور عدالت کو بھی اس کا علم تھا۔‘

    سلمان اکرم راجہ نے عدالت کے روبرو کہا کہ ’سنگل بینچ نے اتنے اہم کیس میں طویل عرصہ فیصلہ محفوظ رکھا۔ ہم فیصلے کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران مزید نوٹی فکیشنز جاری ہوئے۔ ہر سماعت پر تین گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ 15 نومبر تک ٹرائل کورٹ میں ہونے والی تمام عدالتی کارروائی غیر قانونی ہے۔ میری استدعا ہے کہ اگر جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج کو تبدیل کیا جائے۔‘

    جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیے کہ ’ہمیں ابھی تک نہیں پتہ کہ اس کیس میں چارج کیا ہے، ہم صرف جیل میں ٹرائل اور جج کی تعیناتی کے معاملے پر قانونی نکات دیکھ رہے ہیں۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نے نوٹ کیا ہے کہ وزارت قانون نے 25 ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن میں لفظ جیل نکال دیا ہے۔‘