یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 30 اکتوبر کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیِے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیلیں بحال کر دی ہیں۔ دوسری طرف ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کو شفاف ٹرائل کا حق دینے کی ہدایت کے ساتھ سائفر کیس سے متعلق درخواست نمٹا دی ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 30 اکتوبر کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیِے۔
معروف عالم دین اور مبلغ مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی ہے۔
ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر سہیل چوہدری کے مطابق مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل نے جم میں دوران ورزش گارڈ سے پستول چھین کر خود کو گولی ماری۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی میں خودکشی کو واضح دیکھا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق عاصم جمیل نفسیاتی مسائل کا شکار تھے اور وہ کئی سالوں سے نفسیاتی ادویات کا استعمال کررہا تھا۔
132 افغان تارکین وطن کی پہلی فلائٹ پاکستان سے برطانیہ میں لینڈ کر گئی ہے۔
افغانستان پر طالبان حکومت آنے کے بعد وہاں پر برطانوی حکومت کے لیے کام کرنے والے ہزاروں افراد پاکستان میں برطانیہ جانے کا انتظار کر رہے تھے۔
ان افراد میں برطانوی افواج کے لیے مترجم کا کام کرنے والے اور برٹش کاؤنسل کے اساتذہ شامل ہیں۔
سول ایویشن اتھارٹی کے مطابق برطانوی حکومت نے ابھی سے دسمبر کے اختتام تک افغان باشندوں کو برطانیہ لانے کے لیے 12 فلائٹس چارٹر کی ہیں۔
ان افراد کو ویزا لگوانے کے لیے پاکستان جانے کو کہا گیا تھا لیکن فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے انتظار کر رہے ہیں اور بہت ساروں کے ویزا کی میعاد ختم ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس مہینے کے شروع میں پاکستانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ پہلی نومبر سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان تارکین وطن کو واپس افغانستان بھیجنا شروع کر دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
افغانستان آمد و رفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں احتجاج کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہوسکی۔
افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان آمد و رفت کے لیے پاسپورٹ کی مجوزہ شرط کے خلاف چمن میں چار روز سے دھرنا جاری ہے۔
دھرنے کے چوتھے روز چمن میں ایک بڑا احتجاج کیا گیا۔ دھرنے کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ چمن سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو پہلے کی طرح قومی شناخت کارڈ کے ذریعے آمد و رفت کی اجازت کو برقرار رکھا جائے۔
دھرنے کے شرکا نے چمن میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹینینٹ جنرل آصف غفور اور دیگر حکام سے مذاکرات کیے جو ناکام ہوئے۔
جب بی بی سی نے دھرنے کے کنوینر مولانا عبدالمنان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے ارکان نے سرکاری حکام سے بات کی اور ان کے سامنے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ پاسپورٹ کی شرط نہ رکھی جائے۔
ان کا کہنا تھا مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث دھرنا کمیٹی نے مطالبے کو تسلیم کرنے تک احتجاج کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کو شفاف ٹرائل کا حق دینے کی ہدایت کے ساتھ درخواست نمٹا دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور ضمانت سے متعلق سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔ اس سے قبل عدالت نے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات دور کیے تھے۔
وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ’مجھے دس دن لگے ضمانت میں دلائل دینے میں‘ جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’مجھے بھی اسی وجہ سے دس دن لگے۔ میں نے آپ کو کہا تھا اس قسم کا معاملہ پہلی دفعہ سامنے آیا ہے۔‘
’دونوں طرف سے اچھے طریقے سے دلائل دیے گئے تھے، اس لیے مجھے بھی وقت لگ رہا ہے۔‘
وکیل نے کہا کہ ’کاپیز تقسیم ہونے کے چھ دن بعد فرد جرم عائد کر دی گئی۔ سائفر نہ چالان نہ فائل کا حصہ ہے جس کا الزام ہے۔‘
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ’ضروری ہے کہ عدالت اب اس میں مداخلت کرے۔ الزام تھا سائفر کے الفاظ تبدیل کیے گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب نہ تو تبدیل شدہ نہ ہی اصل سائفر ہمیں فراہم کیا گیا۔ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ جس کا ذکر بار بار چالان میں موجود ہے، وہ دینا ضروری ہے۔‘
وکیل نے دلائل میں کہا کہ ’جلدی میں جج صاحب نے چارج فریم کر دیا۔ ہم نے آپ کو ہی بتانا ہے کہ جج صاحب پراسس کو تو فالو کر لیں۔ عمران خان نے چارج کے اوپر لکھا کہ مجھے کاپیز ہی فراہم نہیں کی گئیں۔‘
’ٹرائل کورٹ نے کہا جیسی بھی درخواست لائیں گے مسترد کریں گے۔‘ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ’کدھر لکھا ہے؟‘
وکیل سلمان صفدر نے 17 اکتوبر کا آرڈر عدالت کے سامنے پیش کیا اور سائفر کیس میں ٹرائل روکنے کی استدعا کی۔
انھوں نے موقف اختیار کیا کہ ’کل ٹرائل کورٹ کو گواہوں کا بیان ریکارڈ کرنے سے روکا جائے۔‘

اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل بحال کر دی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ اپیلیں عدم پیروی کی وجہ سے مسترد کی گئی تھیں اور عدالت نے کہا تھا کہ نواز شریف واپسی پر اپیلوں کی بحالی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
ایڈشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل کا کہنا ہے کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں پنجاب حکومت نواز شریف کی سزا پہلے ہی معطل کر چکی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلیں بحال کرنے کی نواز شریف کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
دوران سماعت جب چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب سے استفسار کیا کہ ’کیا آپ اپیل کنندہ نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟‘ تو پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب دیا کہ ’اس متعلق میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہمیں نواز شریف کی گرفتاری نہیں چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پٹیشنر نے جس لمحے سرینڈر کیا اس نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آپ سے بطور عدالتی معاون پوچھ رہے ہیں کہ اپیل بحال ہوئی تو ضمانت کا سٹیٹس کیا ہو گا؟‘
اس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ’اگر عدالت چاہے تو وہ اپیل کنندہ سے دوبارہ ضمانتی مچلکے لے سکتی ہے۔‘

احتساب کے قومی ادارے نیب نے ہائیکورٹ کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے سربراہ اور پراسیکیوٹر جنرل کو العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے پر ’کوئی اعتراض نہیں۔‘
سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نیب نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ نواز شریف کی دو اپیلیں زیرِ سماعت تھیں جنھیں عدم پیروی کی بنا پر خارج کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس عدالت نے آبزرو کیا تھا کہ جب اشتہاری سرینڈر کرے اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ اگر نواز شریف کی اپلیلں بحال کر دی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ نیب کو اس ریفرنس دائر کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات ہیں۔
’چیئرمین نیب اور میں پراسیکیوٹر جنرل اس بات پر متفق ہیں۔ ہمیں نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔‘
دوسری طرف نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ ’ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ بھی موجود ہے جس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بری کر دیا تھا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس سے بریت کے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا جے نیب کو بارہا مواقع دیے گئے مگر تین مرتبہ وکلا کو تبدیل کیا گیا۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نیب نواز شریف کا کردار بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے کہا کہ نیب اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت شروع ہوچکی ہے۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کر رہے ہیں۔ نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر بھی سماعت جاری ہے۔
خصوصی ڈویژن بینچ تمام درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کر رہا ہے۔ نواز شریف کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ اور اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب بھی پراسیکیوشن ٹیم کے ہمراہ روسٹرم پر موجود ہیں۔
ریفرنس واپس لینے کی گنجائش نہیں: نیب
نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے ابتدا میں دلائل دیے کہ ’ریفرنس واپس لینے کی گنجائش صرف اس صورت میں ہے جب فیصلہ نہ سنایا گیا ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے دونوں اپیلوں کے حقائق اور قانون کا مطالعہ کیا ہے۔ پہلے ایون فیلڈ کیس سے متعلق بتانا چاہتا ہوں، احتساب عدالت نے کیسز پر فیصلہ سنایا تو اس کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں۔ ریفرنسز واپس لینے کی گنجائش ٹرائل کے دوران موجود تھی، پاکستان کے قانون کے مطابق اگر فیصلے کے خلاف اپیل ایڈمٹ ہو جائے تو کیس واپس نہیں ہو سکتا۔‘
پراسیکیوٹر جنرل نیب نے مزید کہا کہ ’اگر اپیل دائر ہو جائے تو اس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ عدم پیروی پر بھی خارج نہیں ہو سکتی، اگر ان اپیلوں کو بحال کریں گے تو پھر انھیں میرٹس پر دلائل سن کر فیصلہ کرنا ہو گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایون فیلڈ ریفرنس سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں دائر کیا گیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئینی تھا یا غیر آئینی۔
پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی بھی قائم کی گئی تھی جبکہ چیئرمین نیب کی منظوری سے ریفرنسز دائر کیے گئے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بطور پراسکیوٹر جنرل میں قانون کے مطابق چیئرمین نیب کو ایڈوائس دینے کا پابند ہوں۔ پراسکیوٹرز نے ریاست کے مفاد کو دیکھنے کے ساتھ انصاف کی فراہمی بھی دیکھنی ہے۔ اعلی معیار کی پراسکیوشن کرنا پراسکیوٹر کی ڈیوٹی ہے، پراسکیوٹر کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی شواہد ملزم کے حق میں تو اسے بھی نہ چھپائے۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی وکلا اور فیملی سے ملاقات کی درخواست نمٹا دی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی۔
وکیل شیرافضل مروت نے دلائل دیے کہ سپریٹنڈنٹ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا نیا شیڈول بنایا ہے، نئے شیڈول میں تھوڑا ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کی مرضی سے ملاقات کے لیے کچھ لوگوں کے نام شامل اور نکالے گئے ہیں۔ ’دس وکلا کی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ ہم نے ہفتے میں چھ دن ملاقات کا کہا تھا لیکن دو دن وکلا اور ایک فیملی کو دیا گیا ہے۔ ہماری استدعا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ کو دو دن ملاقات کی اجازت دی جائے۔‘
وکیل نے کہا کہ عمران خان نے ’مجھ سے ملاقات میں ایک شکوہ کیا ہے، اہلیہ سے ملاقات میں کوئی پرائیویسی نہیں دی جاتی۔‘
جسٹس حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ’یہ طریقے پرانے دور کے ہیں، بےنظیر بھٹو اور دیگر کے ساتھ ایسا کیا جاتا تھا۔‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ ’ملاقات کا پھر غلط استعمال نہ کیا جائے۔‘ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’شوہر اور بیوی کا؟‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے جواب دیا کہ ’میں وکلا کی ملاقات سے متعلق کہہ رہا ہوں۔‘ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ’آپ پھر کہہ رہے ہیں کہ وکالت ناموں پر دستخط نہ کروا لیں؟‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’جیل میں ملاقات کو باہر آ کر سیاسی طور پر استعمال نہ کیا جائے۔‘
جسٹس حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ’ملاقات بامقصد اور بامعنی ہونی چاہئے جس میں لیگل ایڈوائس دی جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہScreen Grab
صدرِ پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز جیو نیوز کو دیے جانے والے ایک بیان کے جواب میں الیکشن کمشن آف پاکستان کی جانب سے تردید جاری کی گئی ہے۔
الیکشن کمشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدرِ مملکت کی جانب سے کل یعنی بدھ کے روز نجی ٹی وی چینل پر انٹرویو کے دوران الیکشن کے انعقاد کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا اُس کی وجہ سے یہ تاثر گیا ہے کہ شاید الیکشن ملتوی ہو جائیں گے۔‘
بیان میں مزد کہا گیا کہ ’الیکشن کمشن اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اسکی پرزور تردید کرتا ہے کہ الیکشن ملتوی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ گزشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں اپنے انٹرویو کے دوران صدر عارف علوی نے کہا تھا کہ ’سب لوگ لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کررہے ہیں، ملک کے مستقبل کیلئے ضروری ہے کہ الیکشن صاف اورشفاف ہونا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حج پر گیا ہوا تھا تو الیکشن ایکٹ کی ترمیم جاری ہوگئی، حج پر نہ گیا ہوتا تو الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم پر دستخط نہ کرتا، الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 57 ون میں ترمیم آئین کے خلاف ہے۔‘
نگران وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کے پروگرام کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، یکم نومبر تک یہ افراد رضاکارانہ طور پر واپس جاسکتے ہیں، صوبائی حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک 60 ہزار کے قریب غیر قانونی طور پر مقیم افراد تورخم کے راستے واپس جاچکے ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یکم نومبر کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئے گی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘
نگران وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ قانون و روایات کے مطابق عارضی قیام و طعام اور بوڑھوں، بچوں اور خواتین کا بھر پور خیال رکھے گی،‘ انھوں نے کہا کہ ’فی الوقت پشاور، ہری پور اور لنڈی کوتل میں عارضی مقامات کا تعین کیا گیا ہے، تاہم ان عارضی مقامات پر ڈاکٹرز کی عارضی تعیناتی کے ساتھ ساتھ ادویات اور صحت کی دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر رضاکارانہ طور پر واپس گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جس جس علاقے میں غیر ملکی تارکینِ وطن ہیں ان علاقوں کی جیوفینسنگ کی جا چُکی ہے۔
بلوچستان کے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ’یکم نومبر سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس حوالے سے منصوبے کو حتمی شکل دی جاچکی ہے۔‘
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ’واپسی کے عمل میں غیر ملکیوں کو با عزت طریقے سے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’صرف افغان تارکین وطن ہی نہیں بلکہ تمام غیر ملکی تارکین وطن کو یکم نومبر کے بعد واپس اُن کے آبائی مُمالک میں بھیجا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران دور حکومت میں الیکشن کمیشن کے حکم پر افسران تبادلوں سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔
اسلام آباد ہایی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سی ڈی اے میں تعینات ڈیپوٹیشن افسر ممبر پلاننگ وسیم حیات باجوہ کی تبادلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ ٹرانسفر سے متعلق اپنے نوٹیفکیشن پر بلا امتیاز عمل کرائیں،اگر آئندہ منگل تک الیکشن کمیشن کے حکم پر بلا امتیاز عمل نہ ہوا تو اس کیس میں آرڈر معطل کر دیں گے، عدالت نے استفسار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے نوٹیفکیشن میں پولیس کا خاص طور پر لکھا ہے بتائیں اب تک کتنے ٹرانسفر ہوئے؟
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ آپ کو ایک اور موقع دے رہے ہیں اپنے نوٹیفکیشن پر بلا امتیاز عمل کرائیں۔ عدالت کی جانب سے الیکشن کمیشن کونوٹیفکیشن پر بلا امتیاز عملدرآمد کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔

،تصویر کا ذریعہPID
نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم باشندوں خصوصاً افغان پناہ گزینوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور حکومت کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کریں گے لیکن یکم نومبر کے بعد غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حکومت پاکستان سے صرف افغانیوں کی واپسی چاہتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ کوئی ملک غیر قانونی طریقے سے آ کر رہنے والے کسی شہری کو قبول نہیں کرتا۔‘
ان کا کہنا تھا غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے والوں متعلق پلان کو حتمی شکل دے دی ہے اور مختلف شہروں میں سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں انھیں رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس سب کے ریکارڈ موجود ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ کون کہاں موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم نواز شریف آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے دوبارہ پیش ہوں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں آج تک توسیع کر رکھی ہے۔
عدالت نے نواز شریف کو آج تک گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔
خیال رہے کہ نیب نے نواز شریف کو حفاظتی ضمانت میں توسیع ملنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔
نواز شریف کی نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر بھی آج سماعت ہو گی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب درخواستوں پر سماعت کریں گے۔
عدالت نے گذشتہ سماعت کے حکم نامے میں نیب حکام سے کہا تھا کہ وہ جمعرات کو عدالت کو یہ بتائیں کہ کیا وہ نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کو جاری رکھنا چاہتے ہیں یا واپس لینا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی حکومت پاکستان میں رہنے والے ایسے افغان پناہ گزینوں کو برطانیہ منتقل کرنے کے لیے چارٹر فلائٹس چلائے گی جن سے برطانیہ کے ویزوں کا وعدہ کیا گیا تھا۔
یہ اہتمام آج یعنی جمعرات سے کیا جائے گا۔ ہزاروں ایسے افراد برطانیہ منتقل کے لیے پاکستان میں انتظار کر رہے ہیں جو برطانیہ حکومت کے ساتھ یا اس کے لیے افغانستان میں کام کر رہے تھے۔ انھیں سنہ 2021 میں طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے بعد پاکستان آنا پڑا تھا۔
رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ہو یکم نومبر تک ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کی بے ملک سے بے دخلی کا آغاز کر دے گا۔
ملک میں مقیم افغان پناہ گزینوں میں برطانوی فوج کے لیے کام کرنے والے سابقہ مترجم بھی شامل ہیں اور ایسے اساتذہ بھی جو برٹش کونسل کے ساتھ منسلک تھے۔ یہ تمام پناہ گزین پاکستان اس لیے آئے کیونکہ برطانوی حکومت نے ان سے یہاں آنے کے لیے کہا تھا تاکہ وہ اپنا ویزا سے متعلق مراحل یہاں طے کر سکیں۔
برطانوی حکام کے مطابق پاکستان میں موجود برطانیہ منتقل ہونے کے خواہش مند افغان پناہ گزین کو اب ’ملک سے بے دخلی کا خطرہ ہے۔‘
حالیہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 3250 کے قریب مرد اور خواتین برطانیہ منتقل ہونے کی سکیم کے تحت دارالحکومت اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلز میں رہ رہے ہیں۔
پاکستان میں ان کے پاس قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی ان خاندانوں کے بچے سکول جا سکتے ہیں۔
آغاز میں ان میں سے اکثر کا خیال تھا کہ وہ پاکستان میں صرف چند ہفتوں کے لیے موجود ہیں۔ تاہم عدالت میں جمع کروائے گئے دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر کو طویل انتظار کرنا پڑا ہے جس کی ایک وجہ برطانوی وزیرِ اعظم رشی سونک کی جانب سے دی جانے والی یہ ہدایات بھی ہیں کہ برطانیہ میں ہوٹلوں میں ایسے افراد کے ٹھہرنے پر پابندی ہو گی سوائے انتہائی ضروری کیسز میں اور اس کی بجائے آنے سے پہلے طویل مدتی انتظام کرنا پڑے گا۔