یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
نئے لائیو پیج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
لاہور کے ماسٹر پلان میں بے ضابطگیوں کے مقدمے میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو رہائی ملنے کے بعد دوبارہ انسداد دہشتگردی کے ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔
نئے لائیو پیج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے وکیل عبدالرازق نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے شیخ رشید اور ان کے دو بھتیجوں کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے حراست میں لیا ہے۔
تاہم اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی اپریشنز جمیل ملک کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے شیخ رشید کو گرفتار نہیں کیا۔
ادھر تحریک انصاف نے پلیٹ فارم ایکس پر اسے سیاسی انتقام اور ’فاشزم‘ قرار دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
لاہور کے ماسٹر پلان میں بے ضابطگیوں کا مقدمے میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن حکام نے تحقیقات کے لیے پرویز الٰہی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
پرویز الٰہی کی جانب سے وکیل صدر لاہور بار رانا انتظار عدالت میں پیش ہوئے۔
ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ نے وکیل پرویز الٰہی اور صدر لاہوربار رانا انتظار کے دلائل سننے کے بعد اینٹی کرپشن کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پرویز الہٰی کو مقدمہ سے ڈسچارج کرتے ہوے رہائی کا حکم دے دیا۔ تاہم پرویز الٰہی کو پھر بھی رہائی نہ مل سکی اور انھیں دہشتگردی کے ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہLHC
چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سیشن جج جزیلہ اسلم کو تین برس کے لیے سپریم کورٹ کا رجسٹرار مقرر کیا ہے۔
اس حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جزیلہ اسلم اوکاڑہ میں سیشن جج کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے ہی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے معاملے پر فل کورٹ کی تشکیل کر دی ہے جو اس مقدمے کی سوموار کو سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ بار ایوسی ایشن نے درخواست دائر کر رکھی تھی جس پر سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم امتناع جاری کیا اور اس بارے میں حکومت کو نوٹس بھی نہیں دیا گیا۔
اس قانون میں چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اختیارات سمیت مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دینے کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی بنانے کا کہا گیا تھا۔
فل کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ جو ججز شامل ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ سردار طارق مسعود، اعجازالحسن، سید منصور علی شاہ، منیب اختر، یحیٰ آفریدی، امین الدین خان، سید مظہر علی اکبر نقوی، جمال خان مندوخیل، محمد علی مظہر، عائشہ اے ملک، اطہر من اللہ، سید حسن اظہر رضوی، شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی فل کورٹ کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب جسٹس قاضی فائز عیسی ایوان صدر میں بطور چیف جسٹس حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ آئے اور مختلف امور کا جائزہ لیا۔

،تصویر کا ذریعہSCP

،تصویر کا ذریعہPMO
پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے سنیچر کو کہا ہے کہ امن و امان اور سرحدی صورتِ حال کے باعث عام انتخابات التوا کا شکار نہیں ہوں گے۔
امریکی میڈیا وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نگراں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اگرچہ مغربی اور مشرقی محاذ پر خطرات کا سامنا ضرور ہے لیکن یقین ہے کہ بیک وقت سرحدی خطرات پر بھی قابو پائیں گے اور انتخابی عمل بھی بلا رکاوٹ مکمل کرائیں گے۔
نگراں وزیرِ اعظم نے کہا کہ انتخابی عمل الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے اور نگراں حکومت انتخابات میں التوا کے لیے کوئی جواز سامنے نہیں لائے گی۔ البتہ حکومت کا کام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے جس کے لیے مکمل تیار ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم نے اس تاثر کی تردید کی کہ نگراں حکومت انتخابات کی تیاری کے عمل میں اقدامات نہیں لے رہی ہے۔ ان کے مطابق ’انتخابات سے متعلق قیاس آرائیوں کو ختم کرنا نگراں حکومت کا کام نہیں کیوں کہ انتخابات کا انعقاد آئینی طور پر الیکشن کمیشن کا کام ہے‘۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو قانونی مقدمات کے ذریعے سیاست سے باہر کیا جا رہا ہے۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ انھیں یہ امید ہے کہ عمران خان پر عائد مقدمات میں عدالتی عمل شفاف ہوگا تاکہ ان کے چاہنے والوں اور مبصرین سب کو نظر آئے کہ یہ سیاست سے دور کرنے کا عمل نہیں بلکہ ملک کا قانون اپنی راہ لینا چاہتا ہے۔
’دفاع کے لیے جہاں ضروری سمجھا ایکشن لیں گے‘
نگراں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پر سیکیورٹی کے خطرات کا سامنا ہے اور دوحہ امن معاہدے میں طالبان نے دنیا کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حق دفاع حاصل ہے اور اپنے لوگوں اور سرزمین کے دفاع کے لیے جہاں سمجھیں گے ضرور ایکشن لیں گے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت باقاعدگی سے جاری ہے البتہ غیر قانونی ٹرانزٹ ٹریڈ اور سمگلنگ کے خلاف کارروائی ضرور کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں بہتری آئی ہے اور افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک تجارت میں بھی بہتری آنے جا رہی ہے۔
انوار الحق کاکڑ کہتے ہیں کہ پاکستان کے مشرق وسطی کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات ماضی کی طرح استوار ہیں اور وہ اس تاثر کے قائل نہیں کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے سائفر کیس میں ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواست پر ڈائری نمبر لگا دیا ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے دائر درخواست میں ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی تھی جبکہ خصوصی عدالت نے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔
اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بدنیتی سے اس من گھڑت مقدمے میں نامزد کیا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔
ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت کو 1354/2023 نمبر الاٹ کردیا ہے۔ ڈائری نمبر لگنے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پیر کے لیے مقرر کردی گئی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوپدری پرویز الٰہی کو ایک بار پھر ایک اور مقدمے میں اڈیالہ جیل سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس بار اینٹی کرپشن پنجاب نے انھیں اپنی حراست میں لے کر ریمانڈ کے لیے متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کر کے ایک دن کا راہداری ریمانڈ حاصل کیا۔
خیال رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی جوڈیشل کمپلکس توڑ پھوڑ کیس میں گذشتہ روز ضمانت منظور ہوئی تھی۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض پرویز الٰہی کی ضمانت منظور کی تھی۔
پرویز الٰہی کی لیگل ٹیم کی جانب سے ضمانتی مچلکے جمع نہ کروائے جا سکے۔ ضمانتی مچلکے داخل نہ ہونے پر چوہدری پرویز الٰہی کی ضمانت پر رہائی کی روبکار بھی تاحال جاری نہ ہو سکی۔
حکام اینٹی کرپشن کے مطابق پرویز الٰہی اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا ہوئے تھے جہاں سے انھیں حراست میں لیا گیا اور پرویز الٰہی کو راہداری ریمانڈ کے لیے جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا، جہاں عدالت نے صدر پی ٹی آئی کا ایک روز کا راہداری ریمانڈ منظور کر لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کو آج شام تک اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹرز لاہور منتقل کر دیا جائے گا۔
اینٹی کرپشن پنجاب کے مطابق صدر پی ٹی آئی پرویز الٰہی کے خلاف اینٹی کرپشن میں چار مقدمات ہیں۔
اس حوالے سے پرویز الٰہی کے وکیل سردار عبدالرازق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی کے خلاف پنجاب میں اینٹی کرپشن کا کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
وکیل کے مطابق پرویز الٰہی کے ضمانتی مچلکے داخل نہیں ہوئے تھے، ابھی ایک کیس میں رہائی نہیں ملی تھی کہ دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا گیا، پرویز الٰہی کو جیل سے ہی ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPTI
پرویز الٰہی کو کب کس مقدمے میں گرفتار کیا گیا؟
نو مئی کے واقعات پیش آنے کے بعد پرویز الٰہی کو پہلی بار یکم جون کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے انسدادِ بدعنوانی کے حکام نے مبینہ طور پر ترقیاتی منصوبوں میں مالی فائدہ حاصل کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔
تاہم گرفتاری کے اگلے ہی روز یعنی دو جون کو لاہور کی مقامی عدالت نے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تاہم رہائی کے فوراً بعد انھیں گوجرانوالہ کے علاقے میں درج ایک اور انسداد بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔
تین جون کو گوجرانوالہ کی مقامی عدالت نے انھیں کرپشن کے متعلق ان دونوں مقدمات میں بری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔ اس کے بعد پنجاب اسمبلی میں غیرقانونی بھرتیوں کے کیس میں وہ دوبارہ حراست میں آئے جبکہ اسی دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں ترقیاتی منصوبوں میں غبن میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر پرویز الٰہی کے خلاف ایک اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔
12 جون کو سیشن کورٹ نے غبن کے مقدمے میں پرویز الٰہی کی بریت کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس کے اگلے ہی روز انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ 20 جون کو پرویز الٰہی نے بالآخر لاہور کی انسداد بدعنوانی کی عدالت سے ریلیف ملا لیکن ان کی رہائی اس وجہ سے ممکن نہ ہو سکی کیونکہ اُن کی رہائی کے احکامات جیل انتظامیہ کو نہیں پہنچائے گئے تھے۔
اسی روز وفاقی تحقیقاتی ادارے نے منی لانڈرنگ کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا اور انھیں جیل سے ہی دوبارہ تحویل میں لے کر دوبارہ 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
جون کے مہینے میں ہی ان کی عدالت سے رہائی اور پھر کسی نہ کسی مقدمے کی کارروائی جاری رہی۔ رواں ماہ یکم ستمبر کو جب لاہور ہائی کورٹ نے بدعنوانی کے مقدمے میں ان کی رہائی کا حکم دیا تو اسلام آباد پولیس نے رہائی کے فوراً بعد انھیں نقض امن کے خطرے کے تحت حراست میں لیا۔
پانچ ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نظربندی کے احکامات معطل کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ تاہم پانچ ستمبر کو رہائی کے فوراً بعد انھیں جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا۔
8 سمتبر کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں چوہدری پرویز الہٰی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
گذشتہ روز یعنی 15 سمتبر کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جوڈیشل کمپلکس توڑ پھوڑ کیس میں چوہدری پرویز الہٰی کی ضمانت منظور کر لی مگر پھر انھیں آج یعنی 16 ستمبر کو اڈیالہ جیل سے ہی بدعنوانی کے ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہMinistry of Finance
پاکستان کی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باعث ملک میں پیٹرول کی قیمت 26 روپے کے اضافے کے ساتھ 331.38 فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس کا مزید کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں 17.34 روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 329.18 فی لیٹر ہوگی۔
وزارت خزانہ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج یعنی 16 ستمبر سے ہوگا۔
خیال رہے کہ یکم ستمبر کو حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 14.91 اور 18.44 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا اور 15 روز کے لیے پٹرول کی فی لیٹر قیمت 305.36 روپے جبکہ ایک لیٹر ڈیزل 311.84 روپے مقرر کی گئی تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاویز کر چکی ہیں جس سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ جمعے کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں قریب 26 فیصد اضافے کے ساتھ 10 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کی گئی ہے جبکہ چین کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSupreme Court
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خـان کی درخواست پر اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ’سوال پارلیمانی جمہوریت کی اہمیت اور آئین کے تین ستونوں کے بیچ اختیارات کی تقسیم کا ہے۔‘
انھوں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، پارلیمنٹ ہی اپنے بنائے ہوئے قوانین میں ترمیم یا تبدیلی کر سکتی ہے۔ کیس میں سوال غیر قانونی ترامیم کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا تھا۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے دو ایک کے فیصلے سے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جبکہ جسٹس منصور نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ’اکثریتی ججز کا فیصلہ مجھے گذشتہ رات ملا۔ مودبانہ انداز میں کہتا ہوں کہ اس فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’وقت کی کمی کی وجہ سے اپنا تفصیلی مؤقف بعد میں جاری کروں گا۔ میں یہ بتائوں گا کہ میں کیوں اس فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔‘
اختلافی نوٹ کے مطابق ’میری عاجزانہ رائے ہے کہ اس کیس میں بنیادی سوال متعارف کرائی گئی یک طرفہ ترامیم نہیں ہیں، سپریم کورٹ کے سامنے سوال نیب قوانین میں غلط ترامیم کا نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی کا ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ ’سوال پارلیمانی جمہوریت کی اہمیت اور آئین کے تین ستونوں کے بیچ اختیارات کی تقسیم کا ہے، سوال اُن غیر منتخب ججوں پر مشتمل عدالت کے اختیارات کا ہے، جو پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کے مقاصد اور پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہتے ہیں اور آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو جواز بنا رہے ہیں، جس کا شکوک سے بالاتر کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا‘۔
ان کے مطابق اکثریتی فیصلے نے آئین کے اُس واضح حکم کو بھی نظر انداز کیا، جس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ریاست اپنا اختیار منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی اور اکثریتی فیصلے نے آئین کے تین ستونوں (پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ) کے بیچ اختیارات کی تقسیم جیسے پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی اصول کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔
اکثریتی ججز حضرات نے خود کو ایک سیاستدان کے ایسے غیر آئینی جال میں پھنسا لیا ہے جس کے تحت پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کے مقصد اور پالیسی پر ہونے والی سیاسی بحث کو کمرہ عدالت میں گھسیٹ لایا گیا۔‘
انھوں لکھا کہ ’یہ طے کیے بغیر کہ پارلیمنٹیرینز کے احتساب کو انسانی حقوق کے نفاذ کے ساتھ کیسے جوڑا جا سکتا ہے، اکثریتی فیصلہ ادھر اُدھر سے تصوراتی دنیا میں دور کی کوڑی لا کر انسانی حقوق کی خود ساختہ خلاف ورزی کے امکان کے خدشے کا اظہار کرتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق ’اکثریتی فیصلہ اس بات کو بھی سمجھنے میں ناکام ہے کہ پارلیمنٹ جو قانون بنا سکتی ہے تو اُس کو ختم بھی کر سکتی ہے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کا اختیار لامحدود ہے، اگر پارلیمنٹ نیب کا قانون بنا سکتی ہے تو اس کو مکمل طور پر ختم بھی کر سکتی ہے۔
لاہور میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ لیکشن کمیشن اپنی تاریخ اور شیڈول کا اعلان کرے۔
واضح رہے کہ بلاول ہاؤس لاہور میں چیئرمین بلاول بھٹو اور آصف زرداری کی مشترکہ صدارت میں ہوا۔ بلاول بھٹو کے مطابق اس اجلاس میں ملک کے معاشی اور سیاسی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی آئینی مدت کے اندر انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔
آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک سوال پر کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی میں یہ آئینی مؤقف ہے کہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ملک میں ایک کنفیوژن پیدا کی گئی ہے اور عدم استحکام کی فضا بننے کا خطرہ ہے، اس کو دور کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی تاریخ اور شیڈول کا اعلان کرے، اس حوالے سے ہم الیکشن کمیشن سے درخواست کرتے رہیں گے۔
سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ کس طرح جنرل پاشا، چیف جسٹس افتخار چوہدری نے مل کر آر او الیکشنز کروا کر سنہ 2013 میں پی پی پی کو غیرجمہوری طریقے سے اس صوبے سے نکالا گیا اور تب اس بات کا جشن منا رہے تھے اب اس کا نقصان بھگت رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سنہ 2018 کے انتخابات میں جنرل فیض، (سابق) چیف جسٹس ثاقب نثار اور ایک سیاسی جماعت کا گٹھ جوڑ تھا اور پی پی پی کے ساتھ جو کچھ کیا گیا سب کے سامنے ہے۔
سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ متوقع تھا اور ان کی جماعت کے لیے نیب کوئی نئی چیز نہیں ہے۔
پریس کانفنرس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے فیصلے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پی پی پی کے لیے نیب کوئی نئی چیز نہیں ہے، ہمارا ایک پرانا مؤقف ہے اور نیب کے حوالے سے دو واضح پوزیشنز ہیں، ایک یہ کہ نیب آمر کا بنایا ہوا ادارہ ہے، اس سے بند ہونا چاہیے۔
نیب پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ احتساب بلاامتیاز ہونا چاہیے اور جو فیصلہ آیا ہے، اس کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ یہ متوقع تھا اور پی پی پی پہلے بھی چاہے گیلانی ہو یا دیگر سب نے مقدمات دیکھے ہیں اور آج بھی سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں چاہے پرانے قانون کے تحت ہوں یا نئے قانون کے تحت ہوں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سابق وزیرخارجہ کے مطابق چیف جسٹس عمر عطابندیال کا دور چوہدری افتخار کے بعد آنے والے اکثر چیف جسٹسز کی طرح تھا۔ ان کے مطابق عمر عطابندیال آخری جج تھے جو بحالی کے حکم کے تحت بحال ہوئے تھے اور اب تاریخ ان کی کارکردگی پر فیصلہ دے گی۔
تحریک انصاف سے مذاکرات
بلاول بھٹو نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ 9 مئی سے قبل ان کی اور ان کی جماعت کی یہ کوشش تھی کہ سیاسی طور پر الیکشن کی تاریخ کا کوئی حل نکالیں تاکہ صوبائی اور قومی اسبملی کے لیے ایک تاریخ پر انتخابات ہو سکیں۔
ان کے مطابق یہ کوششیں اس وقت رائیگاں چلی گئیں جب تحریک انصاف کے کچھ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ انھوں نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملہ کرنا ہے اور جی ایچ کیو پر حملہ کرنا ہے۔
ان کے مطابق تحریک انصاف کے ان لوگوں کے ساتھ بات ہو سکتی ہے جو نو مئی کے واقعات میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کے مطابق تمام ہی سیاسی جماعتوں کے پرامن دھڑوں کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بجلی چوری، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے چاروں صوبوں میں بہترین کام ہورہا ہے، جہاں ضرورت ہوگی فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔ ان کے مطابق بجلی چوری کی روک تھام کے لیے اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ کچھ روز سے ذخیرہ اندوزی ، مہنگائی،شرح مبادلہ اور بجلی چوری کے حوالے سے جو اقدامات کئے جارہے ہیں انھیں مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’متعلقہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔‘
نگراں وزیراعظم کے مطابق بیورو کریسی، پولیس اورمتعلقہ ادارے مل کرکام کریں گے اور گورننس کے لیے جہاں ضرورت ہوگی فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی جو کہ ایک بہترین اورمنظم ادارہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سول اداروں کی کارکردگی کو بہتربنایاجائے گا جو وقت کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق سول اداروں کی استعداد کارمیں اضافے سے ان کی کارکردگی اور کردار میں بہتری آتی جائے گی۔
گورننس میں بہتری کےلیے سول اداروں کی کارکردگی کو بتدریج بہتر بنایا جا رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعے کو بجلی چوری، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نگران حکومت گورننس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے۔ ان کے مطابق ذخیرہ اندوزی، مہنگائی اورسمگلنگ کے حوالے سے صوبوں اورمتعلقہ اداروں کے ساتھ مل کرحکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ نگراں وزیراعظم کے مطابق لوگوں میں یہ تاثر تھا کہ یہ ایک ہفتے یا چند دن کی مہم ہے لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ہفتے دو ہفتے کی بات نہیں ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی اقتصادی صحت کے حوالے سے اقدامات جاری رہیں گے۔