آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے معاملے پر عمران خان سپریم کورٹ کے سامنے ذاتی حیثیت میں طلب
کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزدگی کے خلاف جمع کروائی گئی درخواست پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل چیئرمین پی ٹی آئی لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ریلیف لینے کے لیے درخواست گزار کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوتا ہے۔‘
لائیو کوریج
کوئٹہ وکیل قتل کیس میں سپریم کورٹ نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے کوئٹہ وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 24 جولائی کو ذاتی حثیت میں طلب کر لیا ہے۔
جسٹس یحییٰ خان آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل چیئرمین پی ٹی آئی لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ریلیف لینے کیلئے درخواست گزار کو ذاتی حثیت میں پیش ہو کر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوتا ہے۔
جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کو کہیں کہ وہ خود عدالت میں پیش ہوں۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال کیا تو کیا چئیرمین پی ٹی آئی آج پیش ہو سکتے ہیں؟
وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ایک گھنٹے میں سپریم کورٹ آ جائیں گے جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کو آج آنے کا کہہ دیتے ہیں۔
تاہم جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیے کہ بہتر ہو گا پہلے حکومتی وکیل کا اس کیس میں جواب آجائے پھر چئیرمین پی ٹی آئی پیش ہوں۔
پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان نے جواب جمع کروانے کیلئے مہلت کی استدعا کی تو عدالت نے فریقین کو جواب جمع کروانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے چیرمین پی ٹی آئی کو کوئٹہ وکیل قتل کیس میں 24 جولائی کو صبح دس بجے ذاتی حثیت میں طلب کر لیا۔
سائفر کا معاملہ: شاہ محمود قریشی، اسد عمر کو ایف آئی اے کی مشترکہ انکوائری ٹیم نے 24 جولائی کو طلب کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی مشترکہ انکوائری ٹیم نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق تحریک انصاف رہنما اسد عمر کو سائفر ٹیلی گرام کے معاملے میں 24 جولائی کو طلب کیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو نوٹس بھجوایا گیا ہے جس کے مطابق وفاقی کابینہ کی ہدایت پر سائفر ٹیلی گرام کے غلط استعمال کے ذریعے قومی سلامتی اور ریاستی مفاد کو نقصان پہنچانے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا تھا کہ عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروایا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نے سیاسی مقاصد کے لیے سائفر کا ڈرامہ رچایا تھا۔
اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے عمران خان کو 25 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے ارسال ہونے والے نوٹس میں اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 24 جولائی کو سائفر ٹیلیگرام سے جڑی تمام معلومات اور دستیاب دستاویزات سمیت مشترکہ انکوائری ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سے سوال جواب کیے جا سکتے ہیں جبکہ نوٹس کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں دستیاب شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کوئٹہ وکیل قتل کیس میں نامزدگی کے خلاف عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزدگی کے خلاف جمع کروائی گئی درخواست سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔
عمران خان کی درخواست پر جمعرات کو سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سماعت کرے گا۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس یٰحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ میں شامل ہیں۔
نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ اور توشہ خانہ کیس: عمران خان کی عبوری ضمانت میں 26 جولائی تک توسیع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ اور توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں 26 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے انھیں اگلی پیشی پر ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی پیش ہوئے تو خواجہ حارث نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر دونوں کیسز پر دلائل دوں گا۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دلائل کیلئے ملزم عمران خان کا عدالت میں موجود ہونا ضروری ہے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 26 جولائی تک ملتوی کر دی۔
نو مئی کے دن فوجی تنصیبات کو 1.98 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا: اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ میں عام شہریوں کے ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نو مئی کے دن فوجی تنصیبات اور املاک پر حملوں میں 1.98 ارب روپے جبکہ مجموعی طور پر 2.5 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ نو مئی کے دن حساس فوجی تنصیبات پر حملہ تقریباً ایک ہی وقت پر ہوا۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ نو مئی کے واقعات میں مجموعی طور پر 2.5 بلین روپے کا نقصان ہوا جبکہ فوجی تنصیبات پر ہونے والے نقصان کا تخمینہ 1.98 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے مختلف تنصیبات پر حملوں کے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’فوج ہتھار چلانے میں مکمل تربیت یافتہ ہوتی ہے، نو مئی کو فوج نے لچک کا مظاہرہ کیا۔‘
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’فوجی افسران کی پولیس کی طرح مظاہرین سے نمٹنے کی تربیت نہیں ہوتی۔‘
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ فوجی صرف گولی چلانا جانتے ہیں؟‘ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’فوجی افسران کو اس طرح کے جتھوں کو منتشر کرنا نہیں سکھایا جاتا۔‘
اٹارنی جنرل نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے کچھ حقائق سامنے رکھے ہیں۔‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کہہ رہے ہیں کہ ایسا پہلی بار ہوا کہ عوام نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں نے جو نکات اٹھائے ان پر بھی بات کریں۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ سیکشن 7 کے تحت ملٹری کورٹس میں سزا کتنی ہے؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سیکشن 7 اور 9 کے تحت ملٹری عدالتوں میں سزا دو سال قید ہے۔
چیف جسٹس نے ریماریس دیے کہ ’کیا یہی سزا زیادہ سے زیادہ بنتی ہے‘ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’جی، یہی سزا بنتی ہے۔‘
چیف جٹس نے ریمارکس دیے کہ ’عام عدالتوں میں تو پھر سزا زیادہ بنتی ہے۔‘
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے جو ڈیٹا پیش کیا اس کے حقائق، الزامات کی نوعیت بہت سنگین ہے۔‘
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ’فیصلوں میں ملٹری کورٹس صرف اتنا ہی لکھتی ہیں کہ جرم ثابت ہوا یا نہیں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کیا فوجی عدالتوں میں تفصیلی وجوہات ہوں گی۔‘ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’اگر عدالت حکم تو وہ وجوہات بھی فوجی عدالتوں کے فیصلے میں شامل ہوں گی۔‘
عمران خان نے خاتون جج کو دھمکی دینے پر عدالت کے روبرو معافی مانگ لی
سابق وزیر اعظم عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت کے روبرو معافی مانگ لی ہے۔
اس کیس میں عمران خان آج جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
لاہور سے اسلام آباد پہنچنے کے بعد عدالت پیش ہو کر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر میرے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو اس پر معافی مانگتا ہوں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے، جوش خطابت میں قانونی کارروائی کرنے کا کہا۔‘ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’میں نے جو کہا اس پر ان سے معافی بھی مانگنے گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ سال سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں ایک ریلی کے دوران مبینہ طور پر پولیس اور عدلیہ کے خلاف تقریر کرنے پر انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کے تحت مارگلہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ ریلی عمران خان کے بغاوت کے مقدمے میں گرفتار چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری اور مبینہ تشدد کے خلاف نکالی گئی تھی، جہاں اپنی تقریر میں پی ٹی آئی چیئرمین نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران اور جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری کے خلاف بیانات دیے تھے۔
سماعت کے دوران ان کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خلاف جعلی کیسز بنائے گئے ہیں۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہم آپ کے سامنے ایف ایٹ کچہری پیش نہ ہوسکے۔
’آپ کی کورٹ میں دو اے سی اور نو پنکھے لگے ہیں جو کہ ٹھنڈی کورٹ ہے۔ میرے موکل نے کہا میں نے ٹھنڈی عدالتیں بنائیں مگر اب میرے ہی خلاف کیسز گرم ہیں۔‘
حاضری لگوا کر عمران خان کو جانے کی اجازت
اس سے قبل عمران خان آج اسلام آباد میں درج مختلف مقدمات میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں بھی پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر ان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ’نئی کچہری میں پہلا دن ہے، چیرمین پی ٹی آئی نے نئی کچہری کا افتتاح کیا۔‘
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ’نئی کچہری کا سب سے زیادہ فائدہ تو چیرمین پی ٹی آئی کو ہوا ہے۔‘
وکلا نے طبی بنیادوں پر بشریٰ بی بی کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری لگوا کر دیگر عدالتوں میں جانے کی اجازت دی جائے۔
جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ ’ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا ہے یا دلائل دینے ہیں؟‘
وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ شیر افضل مروت نے دلائل دینے ہیں، آج نئی کچہری کی سمجھ نہیں آ رہی۔‘
جج طاہرعباس سِپرا نے ریمارکس دیے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ اپ کو آخر کب تک سمجھ آئے گی۔‘
جج طاہرعباس سپرا نے حاضری لگوا کر عمران خان کو جانے کی اجازت دی۔
توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے عدالتی فیصلے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے عدالتی فیصلے کے خلاف عمران خان کی درخواست پر ابتدائی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ ٹرائل کورٹ نے آٹھ جولائی کو کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ سنایا مگر اس عدالت نے ٹرائل کورٹ کو سات دنوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس عدالت نے ٹرائل کورٹ کو آٹھ سوالات کے جوابات دینے کا بھی کہا تھا۔ ’عدالتی حکم کے مطابق ہمارے تمام سوالات کا جواب بھی نہیں دیا گیا، تمام سوالات اہمیت کے حامل ہیں جن کا جواب آنا ضروری تھا۔‘
’عدالت نے 8 جولائی کو فیصلہ محفوظ ہونے کے 15 منٹ بعد فیصلہ سنا دیا، الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل کے 15 منٹ بعد ہی فیصلہ سنا دیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے پہلے تین سوالات کے جواب دیے، ٹرائل کورٹ نے باقی سوالات کا جواب نہیں دیا۔‘
خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے سات دنوں میں فیصلہ کرنے کا وقت 12 جولائی کو مکمل ہونا تھا مگر آٹھ جولائی کو سماعت دس جولائی تک ملتوی کرنے کی استدعا کو منظور نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد میں گولڑہ موڑ کے قریب شدید بارش کے دوران دیوار گرنے سے 11 افراد ہلاک
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شدید بارش کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پشاور روڈ پر گولڑہ موڑ کے قریب ’سو فٹ اونچی‘ دیوار گرنے سے 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ قائد اعظم ہسپتال اور زیرِ تعمیر انڈر پاس کے قریب ہوا۔ اطلاعات کے مطابق مزدور خیمہ لگا کر سو رہے تھے جن پر بارش کے دوران دیوار گِر گئی۔ ہلاک شدگان میں مزدوروں کے علاوہ ایک 11 سال کی بچی بھی شامل ہے۔
ریسکیو 1122 کے حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے گیارہ لاشیں نکال لی ہیں اور مزید لاشوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو حکام نے ملبے سے پانچ زخمیوں کو زندہ نکالا ہے مگر مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دریں اثنا راولپنڈی میں طوفانی بارش کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی ہے اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستانی فوج کے دستے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کمشنر راولپنڈی کی ہدایت پر کٹاریاں اور گوالمنڈی سے شہریوں کا انخلا شروع کر دیا گیا ہے۔
کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ ’رین ایمرجنسی‘ کے پیش نظر پاکستانی فوج کے دستوں کو نالہ لئی پر تعینات کر دیا گیا ہے اور وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کے ہمراہ موجود رہیں گے۔
حکومت کوئی نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری نہیں کرے گی: آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات جاری
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا کشیدہ سیاسی ماحول اور پالیسی میں اتار چڑھاؤ پروگرام پر عمل درآمد کو متاثر کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں جن کے مطابق پاکستان نے ادارے کو ریونیو میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین نو ماہ کے لیے تین ارب ڈالر کا ’سٹینڈ بائی‘ معاہدے کی منظوری کے تقریباً ایک ہفتے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کشیدہ سیاسی ماحول قرض پروگرام کو ’کمزور‘ کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ’ملک کو بیرونی فنانسنگ کے خطرات غیرمعمولی طور پر زیادہ ہیں، پاکستان کو مہنگائی کم کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنا ہو گی۔‘
آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر اس معاہدے کی تفصیلات ایک 120 صفحات پر مبنی رپورٹ میں درج ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پرائمری سرپلس 401 ارب روپے رکھا جائے گا اور زراعت اور تعمیرات کے شعبوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس معاہدے کے تحت توانائی کے شعبے کی سبسڈی بتدریج کم کی جائے گی اور تنخواہوں اور پینشن کی مد میں اخراجات کو بھی کم کرے گا۔
معاہدے کی تفصیلات میں یہ بھی درج ہے کہ ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے کفالت پروگراموں کی فنڈنگ میں اضافہ کیا جائے گا اور مرکزی اور صوبائی حکومتیں بہبود کے شعبے میں فنڈز بڑھائیں گی۔
’درآمدات پر پابندیاں ختم کی جائیں گی اور کرنسی کی شرح تبادلہ کو مارکیٹ کے مطابق رکھا جائے گا۔‘
اس کے علاوہ حکومت معاہدے کے تحت نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری نہیں کرے گی اور ٹیکس چھوٹ یا ٹیکس مراعات بھی جاری نہیں کرے گی جبکہ سرکاری اداروں کی مانیٹرنگ رپورٹ بھی جاری کی جائے گی۔
آئی ایم معاہدے سے متعلق رپورٹ کے مطابق ’ڈالر کے اوپن اور انٹربینک ریٹ میں 1.25 فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہو گا۔
’سرکاری اداروں میں گورننس کی بہتری کے قانون کو فعال کیا جائے گا اور نیشنل اکاؤنٹس کی سہ ماہی رپورٹ جاری کی جائے گی۔‘
پاکستان میں آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری میں 48 کروڑ ڈالر کی کمی، چین اور امریکہ کی سرمایہ کاری پاکستان میں کم ہو گئی, تنویر ملک، صحافی
30 جون 2023 کو ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان میں آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری میں 48 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پورے مالی سال میں 1.456 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں ہوئی جو ایک سال قبل 1.936 ارب ڈالر رہی۔ پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 58 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ گیارہ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر رہی جب کہ گزشتہ سال جون میں اس سرمایہ کاری کا حجم 27 کروڑ ڈالر تھا۔
گذشتہ مالی سال میں امریکہ سے پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری میں 72 فیصد اور چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں 27 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور نیدرلینڈ کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ کی گیا۔
پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارے میں تقریباً 15 ارب ڈالر کی کمی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 30 جون 2023 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 14.9 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال میں 2.6 ارب ڈالر رہا جو ایک سال قبل 17.5 ارب ڈالر تھا۔ کرنٹ اکاونٹ خسارے میں یہ کمی 85 فیصد رہی۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون کے مہینے میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا جو 33 کروڑ چالیس لاکھ ڈالر رہا۔
جون 2022 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تھا جب یہ خسارہ دو ارب ڈالر سے زائد تھا۔ جون کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی وجہ درآمدات میں 55 فیصد کی کمی تھی تاہم اس مہینے کے دوران ملکی برآمدات میں بھی 29 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں بھی 22 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
واضح رہے کہ پاکستان کا جون کے مہینے سمیت گزشتہ چار مہینوں میں کرنٹ اکاونٹ سرپلس رہا۔
بریکنگ, حیات آباد میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب خودکش دھماکا، آٹھ افراد زخمی
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب خودکش دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔
ایس پی کینٹ وقاص رفیق نے خودکش دھماکے کی تصدیق کی ہے جو سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب ہوا ہے۔
زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا، اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا: مریم اورنگزیب
وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ’قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے تاریخ کا فیصلہ ہو گا۔
’قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔‘
ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے بہت ابہام پایا جاتا ہے۔
بریکنگ, پاکستان کے تجارتی خسارے میں 43 فیصد کی کمی، برآمدات و درآمدات میں نمایاں کمی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان کے تجارتی خسارے میں 30 جون 2023 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 43 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔
ملک کا تجارتی خسارہ گذشتہ مالی سال میں 27.5 ارب ڈالر رہا جو اس سے ایک سال قبل 48 ارب ڈالر پر تھا۔
وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال میں ملکی برآمدات میں 12.7 کی کمی ریکارڈ کی گئی اور ملک کی مجموعی برآمدات 27 ارب ڈالر رہیں جو اس سے ایک سال قبل 31.7 ارب ڈالر تھیں۔
ملکی درآمدات میں 31 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 55 ارب ڈالر تک رہیں جو ایک سال قبل 80 ارب ڈالر تھیں۔
برآمدات کے شعبے میں ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 14.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
درآمدی شعبے میں سب سے بڑے شعبے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں 27 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا ٹرائل: فل کورٹ کی تشکیل ناممکن ہے، چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کی جانب سے فل کورٹ کی تشکیل کی درخواست کو ناممکن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران عابد زبیری کی جانب سے دلائل دیے گئے جن میں انھوں نے کہا کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہوسکتا۔
عابد زبیری کے بعد اٹارنی جنرل منصور اعوان نے دلائل کا آغاز کیا تو چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’اس بات کی خوشی ہے کہ آرمی کے زیر حراست افراد کو خاندان سے ملنے دیا جا رہا ہے۔‘
اٹارنی جنرل کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ’اس وقت ججز دستیاب نہیں فل کورٹ تشکیل دینا ناممکن ہے۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت میں 30 جون کا جسٹس یحی آفریدی کا نوٹ پڑھا کہ ’جسٹس یحی آفریدی نے لکھا کہ مناسب ہوگا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے۔‘
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’وفاقی حکومت خود ایک جج پر اعتراض کر چکی ہے، وہ کیس نہیں سن سکتے، اب آپ بتائیں فل کورٹ کیسے بنائی جا سکتی ہے۔‘
جب اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’دستیاب ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے‘ تو جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’کیس شروع ہوا تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں تھا، بعد میں آپ نے ایک جج پر اعتراض کر دیا۔‘
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’اب آپ کہہ رہے ہیں کہ فل کورٹ بنا دیں آپ چاہتے کیا ہیں۔‘
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کہہ رہے ہیں کہ 17 جج اس کیس کے لیے دستیاب ہوں، یہ ممکن نہیں۔‘
بریکنگ, توشہ خانہ فوجداری کیس: عمران خان کی جانب سے کیس کی سماعت کرنے والے جج ہمایوں دلاور پر عدم اعتماد کی درخواست دائر
اسلام آباد کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے منگل کو توشہ خانہ کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل نے توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعتکرنے والے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور پر ان کی ہی عدالت میں عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔
سماعت کے موقع پر چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے آج حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
سماعت میں الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز اور چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل گوہر علی خان پیش ہوئے۔
بیرسٹر گوہر نے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے نام کا فیس بک اکاؤنٹ ہے جہاں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف پوسٹس لگیں ہیں۔ جس پر ایڈیشل سیشن جج ہمایوں دلاور نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک اکاؤنٹ میرا ہی ہے لیکن یہ پوسٹیں میری نہیں ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے اس سے متعلق تصویریں بھی عدالت کے سامنے پیش کر دیں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ تحقیقات کے لیے ان کو کسی فورم پر کیوں نہیں لے کر جاتے ؟
اس پر عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ نے تسلیم کر لیا فیس بک آپ کا ہے، اب پیج بند ہو چکا ہے۔
سماعت کے دوران بیرسٹر گوہر اور وکیل امجد پرویز کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیاسی جماعت کے ورکر نا بنیں وکیل جیسا رویہ اختیار کریں۔
اس پر بیرسٹر گوہر نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو چپ کرائیں۔ جس پر جج نے کہا کہ میں نے آپ کو کہہ دیا آپ اس کی فرانزک کروا سکتے ہیں، معاملے کی انکوائری چل رہی ہے۔
اس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوتی تب تک یہ کیس سننا مناسب نہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ سے متعلق سوشل میڈیا پر کیا کیا لکھا گیا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیئے کہ آج بیرسٹر گوہر نے بھی وہی کام کیا ہے جو سوشل میڈیا پر ہوا ، آپ نے یہ سارا مواد اوپن کورٹ میں سب کے سامنے دکھایا ہے۔ میری درخواست پر ہائیکورٹ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کر سکتی ہے۔
وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں کبھی ٹرولنگ نہیں کرتا، ہم نے کورٹ کو سکینڈلائز نہیں کیا، میں نے جو بھی دستاویزات دیں وہ بند فولڈر میں عدالت کو دیں۔
عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی کیس ٹرانسفر اورآج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کر لیا۔
فواد چوہدری کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل، الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے سابق رہنما فواد چوہدری کے ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری کو معطل کرتے ہوئے انھیں 20 جولائی کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
منگل کو فواد چوہدری کی الیکشن کمیشن کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی۔
مقدمے کی سماعت میں فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں فواد چوہدری کے خلاف توہین کمیشن کی کارروائی جاری ہے۔
جس پر عدالت عالیہ نے کہا کہ چیف جسٹس نے فیصلہ دیا کہ توہین کمیشن کی کارروائی جاری رہے گی۔ عدالت نے کہا کہ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کمیشن کو اس معاملے پر حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکا ہے۔
جسٹس طارق محمود نے ریمارکس دیے کہ جو بھی ہے وہ بھی عدالت ہے آپ کو نوٹس جاری ہوئے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ آپ وہاں ذاتی حیثیت میں پیش نہیں ہو رہے۔
جسٹس طارق محمود نے ریمارکس دیے کہ آپ نے تو ہائیکورٹ کے آرڈر کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔
جس پر فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ہم اُسی دن اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کونسا کراچی میں ہے، ہائیکورٹ سے وہاں چلے جاتے۔ آپ نے ہائیکورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی کی ہے، کمیشن میں پیش نہیں ہو رہے۔
اس پر فیصل چوہدری نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہیں۔
جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے سابق رہنما فواد چوہدری کے ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری کو معطل کرتے ہوئے انھیں 20 جولائی کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
بریکنگ, سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔
منگل کے روز پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔
چھ رکنی بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔
سماعت کے آغاز پردرخواست گزار صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کہ میں نے تحریری جواب جمع کرادیا ہے، میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نمائندگی کر رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں سابق چیف جسٹس اجمل میاں کے ایک فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، عابد زبیری نے کہا کہ عام شہریوں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک خصوصی آرڈیننس کے ذریعے فوجی عدالتوں قائم ہوئی تھیں۔
وفاقی حکومت نےگزشتہ روزسویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق اپنا جواب جمع کرا دیا تھا جس میںوفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔
بریکنگ, ڈالر کی قیمت 1.74 روپے اضافے کے بعد 281 روپے ہو گئی, تنویر ملک ، صحافی
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں 1.74 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 281 روپے کی سطح تک جا پہنچی ہے۔
گذشتہ روز بھی ڈالر کی قیمت میں 1.67 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ڈالر کی قیمت میں دو کاروباری دنوں میں تین روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
کرنسی مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کا قرضہ ملنے کے بعد کمی ہوئی تھی تاہم درآمدات پر سے پابندی کے خاتمے کے بعد ایل سیز کھولنے کے لیے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جو اس کی قیمت میں اضافے کا سبب بنا ہے۔