آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

چلاس کے قریب سیاحوں کی وین کو حادثہ، پانچ افراد ہلاک، نو زخمی

گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر پولیس کی مطابق سیاحوں کی ایک ہائی روف وین کو چلاس کے علاقے تھلیچی میں حادثہ پیش آیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں دو خواتین سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ نو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں عام انتخابات کے لیے آٹھ فروری 2024 کی تاریخ کا اعلان

  2. ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال، گھروں اور ہسپتال میں پانی داخل

  3. ’میرا مندر میری مرضی‘: کراچی کے قدیم ہندو مندر پر تنازع کی مکمل کہانی

  4. اعظم خان کا سائفر پر’اقبالی‘ بیان: حکومت کا عمران خان کے خلاف سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کا اعلان

  5. بچوں کے ریپ کے پریشان کن اعدادوشمار

  6. ٹک ٹاک: عمران خان کا موازنہ جنت مرزا سے کیوں ہو رہا ہے؟

  7. کراچی کا مشہور ’پراٹھا رول‘ جس کا جنم ایک گاہک کی جلد بازی کے نتیجے میں ہوا

  8. ’اگر اسرافیل نا پہنچتا تو میں عزرائیل کے ساتھ کہیں جا چُکا ہوتا‘

  9. ’جوڑ توڑ کے ماہر‘ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کا ووٹ توڑ پائیں گے؟

  10. ڈیجیٹل کی بجائے پرانی مردم شماری کے تحت الیکشن کے انعقاد کا فیصلہ تکنیکی معاملہ ہے یا سیاسی مداخلت؟

  11. عاصمہ شیرازی کا کالم: سکوت کی صدا!

  12. شادی ہال میں میڈیا سے چھپ کر بننے والی سیاسی جماعت: ’تصویر بنانے پر بھی صحافی حراست میں‘

  13. نیپرا کی بجلی کی قیمت میں اضافے کی تجویز، کیا ’پیک آورز‘ بھی بڑھیں گے؟

  14. شمالی علاقہ جات کے رہائشی سیاحوں سے نالاں کیوں ہیں؟

  15. شمالی علاقوں کے رہائشی سیاحوں سے نالاں: ’مفت پھل دیں گے لیکن درختوں کو نقصان نہ پہنچائیں‘

  16. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

  17. وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ

  18. لورالائی: مسجد میں آتشزدگی، مظاہرین کا ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ

    بلوچستان کے شہرلورالائی میں ایک مسجد میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں قرآن مجید کے نسخے بھی جزوی طورپرجل گئے۔ اس واقعے کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔

    لورالائی پولیس کے ڈی ایس پی عبدالکریم مندوخیل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ صبح 7 بجے اطلاع ملی تھی کی سبزی منڈی میں واقع عارضی مسجدمیں آگ لگی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آگ سے مسجد کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا۔ لورالائی سے تعلق رکھنے والے سینئرصحافی پیرمحمد کاکڑ نے بتایا کہ اس واقعے کے خلاف شہر میں تجارتی مراکز بند رہے جبکہ لوگوں نے بطوراحتجاج لورالائی ڈیرہ غازی خان شاہراہ کو بھی بند کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ مظاہرین کا یہ مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سزا دی جائے۔’

    ڈی ایس پی پولیس نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے تحقیقات کا آغازکردیا گیا ہے۔

    ایک سوال پران کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد یہ بتایا جاسکے گا کہ مسجد میں آگ لگادی گئی ہے یا یہ کوئی حادثہ تھا۔

  19. پانچ روز کے دوران ژوب چھائونی پر دوسرا حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے شہر ژوب میں گذشتہ شب ایک مرتبہ پھر چھائونی پرحملہ ہوا ہے لیکن حملہ آور چھائونی میں داخل نہیں ہوسکے۔

    انتظامیہ کے سینئراہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ ایئرپورٹ روڈ کی جانب سے کیا گیا۔ اہلکار کا کہنا تھا رات گئے ہونے والے حملے کے باعث سکیورٹی فورسزاور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ علی الصبح تک جاری رہا۔

    انتظامیہ کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی بروقت کاروائی کی وجہ سے حملہ آور چھائونی کے اندرداخل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پانچ روز کے دوران ژوب چھائونی پریہ دوسرا حملہ تھا۔

    گذشتہ شب ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم گزشتہ بدھ کوہونے والے حملے کی ذمہ داری تحریک جہاد پاکستان نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔

    بدھ کو ہونے والے حملے میں 9 سکیورٹی اہلکارمارے گئے تھے جبکہ جوابی کاروائی میں پانچ حملہ آوربھی ہلاک ہوئے تھے۔ایک خاتون سمیت چار عام شہری بھی اس حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

    ژوب کہاں واقع ہے؟

    ژوب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے 320 کلومیٹر کے فاصلے پرشمال مشرق میں واقع ہے۔

    یہ ایک سرحدی ضلع ہے جس کی سرحدیں خیبرپشتونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاوہ افغانستان سے بھی لگتی ہیں۔

    اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پرمشتمل ہے۔ ژوب میں کینٹ پر ہونے والا یہ تیسراحملہ ہے۔

    ان دو حملوں سے قبل 2016ء میں ژوب کینٹ کے گیٹ کے قریب ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔ خود کش حملہ آور کو روکنے کی کوشش کے دوران چند سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

    رواں سال مئی کے مہینے میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسراج الحق کے قافلے پربھی ژوب شہر کے قریب ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس میں چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ نہ صرف ژوب میں ماضی میں بدامنی کے اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں بلکہ دو جولائی کو ژوب سے 50کلومیٹر دورضلع شیرانی کے علاقے دھانہ سر کے علاقے میں پولیس اور ایف سی کی چیک پوسٹوں پر بھی حملے ہوئے تھے۔

    ان حملوں میں ایف سی کا ایک اور پولیس کے تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔ جبکہ اس سے قبل مئی کے مہینے میں ژوب سے متصل بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں مسلم باغ کے علاقے میں فرنٹیئرکور کے کیمپ پر بھی حملہ ہوا تھا۔

    ماضی میں ژوب اور اس سے متصل دیگرعلاقوں میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

  20. پاکستان کا پہلا جوڈیشل پروٹیکشن یونٹ قائم

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر دارلحکومت اسلام آباد کے سکیورٹی ڈویژن کی تنظیم نو کردی گئی۔

    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے سکیورٹی ڈویژن کی تنظیم نو کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    پاکستان کا پہلا جوڈیشل پروٹیکشن یونٹ قائم کردیا گیا۔ جوڈیشل پروٹیکشن یونٹ ججز، عدالتوں، ججز کے دفاتر، رہائشگاہوں کا ذمہ دار یونٹ ہوگا۔ اس یونٹ کی نگرانی ایس ایسپی سکیورٹی کریں گے۔

    ترجمان کے مطابق تمام عدالتوں کی سکیورٹی کا معیاری ضابطہ کار ترتیب دیا گیا ہے۔ تمام عدالتوں میں 500 سے زائد سکیورٹی کیمرے نصب کیے جاچکے ہیں۔

    تمام کیمروں کی نگرانی سیف سٹی کے تربیت یافتہ ماہرین کریں گے۔

    اس یونٹ کے لیے 550 افراد کی نئی بھرتی کی درخواست بھی بھیجی جاچکی ہے۔ مالی وسائل کی فراہمی کے بعد اس یونٹ کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

    پولیس ترجمان نے بتایا کہ ججز کی رہائشگاہوں اور دفاتر کا سکیورٹی فریم ورک بھی ترتیب دیا گیا ہے۔