پرویز خٹک کا عمران خان کو نو مئی کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے، تحریک انصاف

ترجمان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پرویز خٹک کے ایک حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان کو نو مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے۔

لائیو کوریج

  1. پرویز خٹک کا عمران خان کو نو مئی کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے، تحریک انصاف

    پرویز خٹک

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/PERVEZ KHATTAK OFFICIAL

    تحریک انصاف نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان کو نو مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد ہے۔

    ترجمان پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پرویز خٹک کے ایک حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’پرویز خٹک پارٹی کے عہدوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ان الزامات سے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ترجمان نے دعوی کیا کہ ’پرویز خٹک عمران خان کو 9 مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو سراسر جھوٹ، بے ہودہ اور بے بنیاد ہے۔‘

    پی ٹی آئی کے مطابق ’پرویز خٹک بطور صوبائی صدر پارٹی کے تمام فیصلوں میں مکمل طور پر شریک ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر پرویز خٹک کو پارٹی کے فیصلوں سے اختلاف تھا تو اسی وقت عہدے اور پارٹی رکنیت سے مستعفی کیوں نہ ہوئے‘ اور ’کیا وجہ ہے کہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے انھوں نے 9 مئی کا انتظار کیا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نو مئی کے ہنگاموں کے وقت عمران خان ریاست کی قید میں تھے اور ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔‘

    پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ’پرویز خٹک کو پارٹی رہنماؤں کو پارٹی چھوڑنے پر اکسانے کی وجہ سے شو کاز نوٹس جاری کیا گیا اور پرویز خٹک جھوٹے الزامات لگانے کے بجائے فیصلہ کریں کہ انھوں نے پارٹی میں رہنا ہے کہ نہیں۔‘

    ترجمان تحریک انصاف نے الزام عائد کیا کہ ’شاید پرویز خٹک اس قسم کے الزامات کے ذریعے نئی کنگز پارٹی میں اپنے لیے کسی مرکزی عہدے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. , شہزاد ملک/ بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد

    سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کا ممکنہ منصوبہ ناکام بناتے ہوئے آپریشنز کے دوران کالعدم تنظیموں کے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ترجمان سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابقو’سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں 32 خفیہ آپریشنز کیے۔‘

    بیان کے مطابق ’پوچھ گچھ کے دوران کالعدم تنظیم کے ایک دہشت گرد کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے اسلحہ‘ دھماکہ خیز و دیگر ممنوعہ مواد برآمد کیا۔‘ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والے(مبینہ) دہشت گرد کی شناخت محمد کمال کے نام سے ہوئی ہے جو تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد نے تخریب کاری کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور وہ اہم تنصیبات، دہشتگردانہ کارروائی اور مذہبی مقامات کو ٹارگٹ کرنا چاہتاتھا۔

    گرفتار مبینہ دہشت گرد کے خلاف ملتان میں ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کے لیے اس کو نامعلوم مقام پرمنتقل کر دیا گیا ہے۔

  3. بلوچستان کے ضلع شیرانی میں مسلح افراد کے حملے میں 4 سکیورٹی اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    سکیورٹی اہلکار پلاک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے خیبرپختونخوا سے متصل ضلع شیرانی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 4 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں تین پولیس اور ایک ایف سی اہلکار شامل ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

    سکیورٹی فورسز پر حملوں کے یہ واقعات ضلع شیرانی میں ژوب ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر واقع دھانہ سر کے علاقے میں پیش آئے۔

    کمشنرژوب ڈویژن سعید عمرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ آج علی الصبح ڈھائی بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں حملہ کیا۔

    کمشنر ژوب کے مطابق ’اس علاقے میں تین فورسز لیویز، پولیس اور ایف سی کے چیک پوسٹیں قریب قریب واقع ہیں۔ ان تینوں چیک پوسٹوں پر حملہ کیا گیا جن میں تین پولیس اہلکاروں کے علاوہ فرنٹیئرکور کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔‘

    کمشنر ژوب ڈویژن نے بتایا کہ ’جوابی کارروائی میں ایک مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔ حملہ آوروں کے خلاف علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔‘

    اس واقعے کے خلاف ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین اور علاقہ مکینوں نے بطور احتجاج ژوب ڈیرہ اسماعیل خان کو بطور احتجاج بند کیا۔

    شیرانی میں حملہ اور احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    وزیراعلیٰ بلوچستان اوروزیرداخلہ نے دھانہ سر کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پرراکٹ حملے اور فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے حملے میں 3 پولیس اور ایک ایف سی اہلکار کی ہلاکت پر دکھ اور افسو س کا اظہار کیا۔

    وزی اعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو اور وزیرداخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی کی کارروائی سے سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

    انھوں نے جوابی کاروائی میں ایک دہشت گرد کی ہلاکت پر پولیس اور ایف سی کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

    واضح رہے کہ شیرانی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ علاقہ انتظامی لحاظ سے ژوب ڈویژن کا حصہ ہے ۔

    اس ضلع کی سرحدیں شمال میں خیبرپشتونخوا کے جنوبی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع سے لگتی ہیں۔

    اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پرمشتمل ہے تاہم وہاں شیرانی قبیلے کا شمار بڑے اورنمایاں قبائل میں ہوتا ہے۔

    بلوچستان کو خیبر پختونخوا سے منسلک کرنے والی اہم ژوب ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ اس ضلع سے گزرتی ہے۔

    شیرانی سے متصل ضلع ژوب اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی شدت پسندی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن کی زیادہ تر ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان قبول کرتی رہی ہے ۔

  4. پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ

    جیل، قیدی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور انڈیا نے قونصلر رسائی کے معاہدے کے تحت اپنے اپنے جیلوں میں پڑوسی ملک کے قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے سنیچر کو بتایا کہ پاکستان نے ملک کی مختلف جیلوں میں قید 308 انڈین شہریوں کی ایک فہرست اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے حوالے کی ہے جن میں 42 سویلین اور 266 ماہی گیر شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے انڈین حکومت پر زور دیا کہ وہ ان تمام پاکستانی شہری قیدیوں اور ماہی گیروں کو رہا کرے اور وطن واپس بھیجے جو اپنی متعلقہ سزا پوری کر چکے ہیں اور ان کی شہریت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    ادھر انڈین حکومت نے بھی اپنے جیلوں میں قید 417 پاکستانیوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کی ہے جن میں 343 شہری اور 74 ماہی گیر شامل ہیں۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں جن کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ انڈین شہری ہیں۔

    انڈیا نے پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ ان 62 قیدیوں کی شہریت کی تصدیق کا عمل تیز کیا جائے جو وطن واپسی کے منتظر ہیں۔

    انڈین وزارت خارجہ کے مطابق 2014 سے اب تک حکومت کی کوششوں کی بدولت پاکستان میں قید 63 انڈین شہری اور 2559 ماہی گیر وطن واپس آچکے ہیں۔

    انڈین حکومت نے پاکستان کی تحویل میں ان قیدیوں کو رہا کرنے اور وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے جو ’شہری، لاپتہ دفاعی اہلکار اور ماہی گیر‘ ہیں۔ اس کے مطابق پاکستانی جیلوں میں 254 ماہی گیر اور چار سویلین اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے اپنے قیدیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔‘

    پاکستان اور انڈیا ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے کی حراست میں قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

    یہ تبادلہ قونصلر رسائی کے معاہدے کے تحت ہوتا ہے جس پر 21 مئی 2008 کو دستخط ہوئے تھے۔

  5. آئی ایم ایف شرط کے تحت ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے ملک میں ڈیزل پر پٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ رات کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کیا گیا ہے۔

    آئی ایف ایف کے ساتھ سٹاف لیول کے معاہدے کے بعد پٹرول کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا تاہم ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے سات روپے کا اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جاری کردہ اعدادوشمار میں ڈیزل کی قیمت کا بریک اپ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی قیمت میں پٹرولیم لیوی کی شرح پچاس روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 55 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف شرائط کے تحت پٹرولیم لیوی کی فی لیٹر شرح کو پچاس روپے سے ساٹھ روپے کرنا ہے۔ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سٹینڈ بائی پروگرام کے معاہدے کی گزشتہ روز منظوری دی گئی تھی۔

  6. خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشن کے دوران چھ دہشتگرد ہلاک: آئی ایس پی آر, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گذشتہ روز سکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع ٹانک اور شمالی وزیرستان میں آپریشنز کے نتیجے میں چھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    فوج کے مطابق 29 اور 30 جون کی رات ضلع ٹانک کے علاقے منزئی میں فوجیوں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس دوران فوج کے سپاہیوں نے مؤثر طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا پتا لگایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس کے نتیجے میں تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں بھی اس طرح کے ایک واقعے میں فوج نے مزید تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے یہ دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے قتل میں بھی سرگرم تھے۔۔

  7. بریکنگ, حکومت کا ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے سات روپے اضافے کا فیصلہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے سات روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم پیٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں۔

    اسحاق ڈار کی جانب سے اب سے کچھ دیر قبل جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی ڈیزل کی قیمتوں تین سے چار ڈالر اضافے کے باعث حکومت کو یہ قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہیں اور ان کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگلے 15 روز تک پیٹرول کی قیمتیں برقرار رہیں گی۔

  8. آئی ایم ایف معاہدے کے بعد بجلی کی قیمتیں بڑھنے کا امکان

    بجلی کی قیمتیں

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے اس کو درپیش چیلینجز پر قابو پانے کے لیے مستحکم پالیسی پر عمل درآمد چاہتا ہے اور خاص طور پر توانائی کے شعبے میں جس میں انھیں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ’وزیر خزانہ اسحق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ آئی ایم ایف بورڈ کے بیل آؤٹ کے جائزے سے پہلے ہو گا اور جولائی میں بجلی کی قیمت میں اضافے سے تین سے چار روپے فی یونٹ فرق پڑے گا۔‘

    وزیر توانائی خرم دستگیر نے رائٹرز کو بتایا کہ ’اصلاحات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹیرف میں لامتناہی اضافہ کیا جائے۔‘

    خرم دستگیر نے کہا کہ ’حکومت نے قابل تجدید توانائی کو بڑھانے کے درمیانی سے طویل مدتی منصوبہ تشکیل دیا ہے اور یہ صرف اس صورت میں ممکن تھا جب طویل مدتی معاونت درکار ہو۔‘

    واضح رہےکہ موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت رواں سال اگست میں پوری ہو جائے گی۔

    آئی ایم ایف پاکستان کے سربراہ نیتھن پورٹر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ نیا انتظام 2019 کے پروگرام پر مبنی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت کو حالیہ دنوں میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں تباہ کن سیلاب اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔

    نیتھن پورٹر نے کہا ’حکام کی جانب سے درآمدات اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، ذخائر بہت کم سطح پر آ گئے ہیں۔‘

    آئی ایم ایف حکام نے پاور سیکٹر کے بقایا جات اور بار بار بجلی کی بندش کی بھی نشاندہی کی۔

    واضح رہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات آئی ایم ایف کے مذاکرات کا سنگ بنیاد رہا ہے۔

  9. آئی ایم ایف معاہدے کے بعد پاکستان کے بیرون ملک جاری کیے گئے بانڈز کی قیمت میں اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدے کے بعد غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور بیرون ملک جاری کیے گئے پاکستانی بانڈذ کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    پاکستان میں ٹاپ لائن بروکریج ہاؤس کے مطابق سال 2024 میں ختم ہونے والے یورو بانڈز میں 16 سینٹ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ یورو بانڈز 71 سینٹ پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

    اسی طرح سال 2025 میں ختم ہونے والے بانڈز کی قیمت میں 13 سینٹ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ یورو بانڈز 55 سینٹ پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

    تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق ’پاکستان سے آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مثبت رسپانس دکھایا ہے۔‘

  10. ملک میں ایل پی جی کی قیمت میں 20 روپے فی کلو کی کمی: اوگرا, تنویر ملک، صحافی

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ملک میں ایل پی جی کی قیمت میں 20 روپے فی کلو کمی کر دی گئی ہے۔

    اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمتوں میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی فی کلو قیمت 177 روپے مقرر کی گئی ہے جو پہلے 197 روپے فی کلو تھی۔

    اوگرا کے مطابق ایل پی جی کے 11.8 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت میں 229 روپے کی کمی کی گئی ہے جو 2321 روپے سے 2092 روپے ہو گئی ہے۔

  11. ’مدت پوری ہونے پر ہم حکومت چھوڑ دیں گے‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’حکومت کی مدت پوری ہونے پر ہم حکومت چھوڑ دیں گے۔ الیکشن کی تاریخ دینا اور الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ آیا تحریک انصاف آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے سکے گی، جس پر ان کا جواب تھا کہ وہ تحریک انصاف کے ترجمان نہیں جو اس پر ردعمل دیں گے۔

  12. مالی سال 23-2022 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان غالب رہا, تنویر ملک، صحافی

    سٹاک ایکسچینج مندی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    30 جون 2023 کو ختم ہونے والے مالی سال میں معیشت کے دوسرے اشاریوں کی طرح پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کو رجحان غالب رہا اور پورے سال میں مارکیٹ میں تیزی کے بہت کم سیشن ریکارڈ کیے گئے۔

    آج ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 38136 پوائنٹس کی نچلی سطح پر پہنچا تو دوسری جانب یہ انڈیکس اوپر کی سطح پر 43888 پوائنٹس کی سطح تک گیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ ملک کی غیر یقینی معاشی اور سیاسی صورتحال رہی تاہم اب ملک کے لیے آئی ایم ایف کے نئے شارٹ ٹرم اسٹینڈ بائی معاہدے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا امکان ہے۔

    ٹاپ لائن بروکریج ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق انڈیکس 44 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد کو عبور کر سکتا ہے۔

  13. یہ معاہدہ الیکشن تک معیشت کو دیوالیہ ہونے سے روک سکتا ہے لیکن معاشی چیلنجز کم نہ ہوں گے: حماد اظہر

    رہنما پی ٹی آئی حماد اظہر نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے معاہدے کے حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کا سٹینڈ بائے معاہدہ کڑی شرائط کے ساتھ ہے۔ پی ڈی ایم سے 14 ماہ میں معاملات نہیں سنبھلے اب اس کی قیمت عوام مزید مہنگائی کی صورت میں ادا کرے گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    حماد اظہر نے دعویٰ کیا کہ ’یہ معاہدہ الیکشن تک پاکستان کی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے روک سکتا ہے لیکن معاشی چیلنجز کم نا ہوں گے۔‘

    حماد اظہر کے مطابق نئی منتخب حکومت کو آتے ساتھ آئی ایم کے ساتھ پھر بیٹھنا ہو گا۔

    رہنما پی ٹی آئی حماد اظہر کے مطابق ’اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ پی ڈی ایم کے ذریعے معیشت کو پہنچنے والے وسیع نقصان کے بعد آیا ہے۔

  14. بریکنگ, پیرس کی میٹنگ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا، 12 جولائی کو بورڈ میٹنگ کے بعد ہمیں قسطیں ملنا شروع ہو جائیں گی: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کے بعد پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پچھلے کئی ماہ پر محیط بات چیت انتہائی مثبت نتیجے پر پہنچی ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے ساتھ آج سٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے۔ 12 جولائی کو بورڈ میٹنگ ہو گی۔ جس کے بعد ہمیں آئی ایم ایف کی قسطیں ملنا شروع ہو جائیں گی۔‘

    ان کے مطابق ’تین ارب ڈالرکا پروگرام نو ماہ کا ہے۔ یہ سٹینڈ بائی معاہدہ ہوا ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’پیرس میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی میرے پاس آئیں اور کہا کہ اب وقت بہت کم رہ گیا ہے تاہم ہم نے ان کو بتایا کہ ہم نے تمام شرائط پوری کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے پھر انھوں نے دو تین چیزیں بتائیں اور اس میں ان کے مطابق اب بھی دو ارب کا فرق آ رہا ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے ایم ڈی نے بہت سنجیدگی سے مجھ سے باتیں کیں۔ پیرس کی میٹنگ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا کہ ہم بھی آگے بڑھ رہے ہیں آپ بھی آگے بڑھیں۔‘

    شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ ’2018 تک پاکستان دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں آگے بھاگ رہا تھا پھر بدترین دھاندلی کے ذریعے عمران نیازی کو اقتدار کے منصب پر بٹھایا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پھر پی ٹی آئی کے دور میں جب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہواتو سنگ دلی کے ساتھ اس کی دھجیاں اڑائی گئیں اور ہمارا ٹرسٹ آرمی اداروں سے اٹھنا شروع ہو گیا۔‘

    شہباز شریف کے مطابق ’جو چیز کووڈ کے دوران حاصل کی جا سکتی تھی اس سے بھی صرف نظر کی گئی اب ہم نے آذربائیجان کے ساتھ ایل این جی کا معاہدہ کر لیا ہے۔‘

    انھوں نے عمران خان کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’دوست نما دشمن نے گمراہ کرنے میں کوئی کسر نے چھوڑی۔‘

    شہباز شریف کے مطابق ’یہاں پر بیٹھے دوست نما دشمن نے پیغام دیا کہ پاکستان ڈیفالٹ ہونے جا رہا ہے اور سری لنکا بننے جا رہا ہے اور وہاں پیرس میں سری لنکا کے صدر نے ساتھ دیا۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’نو مئی اسی سازش کی کڑی تھی جس کا مقصد آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ روکنا تھا۔

    اس سے قبل شہباز شریف نے پریس کانفرنس کے آغاز پر کہا کہ ’میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سارا معاشی بوجھ جو عوام کے اوپر پڑا اور بے پناہ مشکلات آئیں، اس بارے میں جاننا ضروری ہے۔ یہ ایثار و قربانی کا جذبہ ہے جو قوموں کو مشکلات سے پار کرتا ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’ان مہینوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ کئی کئی گھنٹوں رابطے رہے۔ عوام دعا کریں کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہو۔ قرض ہمیں مجبوری میں لینا پڑ رہا ہے۔‘

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ’اس سارے عرصے میں چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا اور پانچ ارب ڈالر فراہم کئے۔ چین کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ اسی طرح مشکل وقت میں سعودی عرب ، یو اے ای اور اسلامی ترقیاتی بینک نے ساتھ دیا۔ ‘

  15. بریکنگ, نو مئی بھی سازش کی کڑی تھی جس کے تحت پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا گیا: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نو مئی کے حملے بھی اس سازش کی کڑی تھی جس کے تحت پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا جا رہا تھا۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ قرض پروگرام کی سٹاف لیول منظوری کے بعد نیوز کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ ’نو مئی بھی سازش کی کڑی ہے۔ اس دن پاکستان کو تباہ برباد کرنے کی گھناؤنی سازش کی گئی۔ اس میں اندر اور باہر سے دوست نما دشمن شامل تھے۔

    ’وہ چاہتے تھے آئی ایم ایف پروگرام نہ ہو تاکہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے۔ فتنہ پیدا کرنے والوں نے قوم اور فوج میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مکرو چہرے سامنے آگئے جنھوں نے پاکستان کو ہر لحاظ سے تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی۔‘

    شہباز شریف نے اس کامیابی پر آرمی چیف عاصم منیر، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی کوششوں کو سراہا۔ ’سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے مدد دلوانے میں سپہ سالار نے اہم کردار ادا کیا۔ دو ارب سعودی عرب اور ایک ارب متحدہ عرب امارات سے ملے ہیں۔‘

  16. آئی ایم ایف معاہدہ قوم کے لئے خوشخبری ہے: احسن اقبال, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدہ قوم کے لیے خوشخبری ہے۔

    اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ معاہدہ کے لیے وزیر اعظم کی سفارتکاری نے اہم کردار ادا کیا اور آئی ایم ایف معاہدہ ہمارے معاشی چیلنجز کی مرہم پٹی ہے۔ احسن اقبال نے کہا معیشت کو مستقل بیرونی امداد کے چنگل سے نکالنے کے لیے محنت کرنا ہو گی اور 5E فریم ورک میں ہمارے معاشی مسائل کا مستقل حل موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ برآمدات، ڈیجیٹل پاکستان، آبی و خوراک کی سکیورٹی، سستی توانائی اور مساویانہ و پائیدار ترقی قومی اہداف ہیں اور 2035 تک پاکستان ون ٹری لین ڈالر اکانومی بن سکتا ہے۔

    احسن اقبال نے مزید کہا کہ ’آئی ایم ایف معاہدے سے روپیہ مستحکم ہو گا، بیرونی سرمایہ کاری آئیگی اور مہنگائی قابو میں آئیگی۔‘

  17. وزیر اعظم اور وزیر خزانہ آئی ایم ایف معاہدے پر آج قوم کو اعتماد میں لیں گے: وزیراطلاعات

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف آج سہہ پہر چار بجے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ہمراہ لاہور میں آئی ایم ایف سے ہونے والے سٹاف لیول معاہدے سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے۔

    ان کے مطابق اس پریس کانفرنس کا مقصد قوم کو اعتماد میں لینا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. ’الحمدللہ‘ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا آئی ایم ایف معاہدے پر ردعمل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. آئی ایم ایف معاہدہ ملک کو معاشی استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے گا: وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’الحمدللہ، مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان نے نو ماہ کے لیے تین بلین امریکی ڈالر کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ پر آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف کی سطح کا معاہدہ کر لیا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’یہ انتظام پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے، پاکستان کو معاشی استحکام حاصل کرنے اور ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے گا، انشاء اللہ۔‘

    وزیراعظم نے اس معاہدے پر جہاں آئی ایم ایف کی سربراہ اور ان کی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا وہیں انھوں نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا بھی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام