یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
سمندری طوفان بپر جوائے سے متعلق بی بی سی اردو کی اس لائیو کوریج کو یہاں ختم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کے مطابق سمندری طوفان بپرجوائے سے ملک کے ساحلی علاقوں میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ ادھر انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کی شدت میں ایک درجہ کمی آئی ہے اور شام تک مزید کمزور ہونے کا امکان ہے۔
سمندری طوفان بپر جوائے سے متعلق بی بی سی اردو کی اس لائیو کوریج کو یہاں ختم کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ سے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جو سمندری لہروں سے ساحل پر نمودار ہوئیں۔
پسنی کے اسسٹنٹ کمشنر محمد جان بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں افراد کی لاشیں پنجک کے علاقے میں ایک ٹینک میں تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ یہ ٹینک عموماً ماہی گیروں کی کشتیوں میں ہوتے ہیں۔
اے سی پسنی نے کہا کہ مقامی پولیس نے شناخت اور پوسٹ مارٹم کے لیے دونوں افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک لاش کی جیب سے عبدالحکیم کے نام سے ایک ایرانی اے ٹی ایم کارڈ برآمد ہوا ہے جبکہ دوسری لاش سے کوئی دستاویز برآمد نہیں ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ دونوں افراد کی لاشیں چار، پانچ روز پرانی لگتی ہیں لیکن تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دونوں نے سمندری طوفان سے بچنے کے لیے کشتی کے ٹینک میں پناہ لی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سمندری طوفان کے حوالے سے اورماڑہ اور پسنی میں جمعے کے روز صورتحال معمول کے مطابق رہی۔
سندھ اور بلوچستان میں گیس سپلائی کرنے والے وفاقی ادارے سوئی سدرن گیس کمپنی نے بپر جوائے طوفان کے گزرنے کے بعد صنعتوں کو گیس کی سپلائی بحال کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایات پر صنعتوں، کھاد بنانے اور سی این جی شعبوں کو گیس کی سپلائی معطل کر دی تھی تاکہ بجلی کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ گیس سپلائی فراہم کر کے اس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمپنی کے اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر لیا گیا تھا۔ کمپنی کے مطابق صنعتوں اور دوسرے شعبوں کو نوٹس کے ذریعے گیس سپلائی معطلی کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا تاکہ اس گیس زیادہ سے زیادہ گیس بجلی کے شعبے کو دی جا سکے سوئی سدرن کے مطابق بپر جوائے کے رخ بدلنے کے بعد موسم میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور سپلائی بحال کر دی گئی ہے جو ہفتے کی صبح سے نافذ العمل ہو گی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے سمندری طوفان بپر جوائے کے تناظر میں پائلٹس کے لیے ایک نوٹم جاری کیا ہے تاکہ ہوائی سفر کو محفوظ بنایا جاسکے۔
اِس نوٹم کے مطابق ہوا کی رفتار 30 ناٹس سے زیادہ ہونے کی صورت میں بعض ہوائی اڈوں پر تمام پروازیں معطل کر دی جائیں گی۔
سی اے اے حکام کے مطابق یہ فیصلہ سائیکلون بپر جوئے کی وجہ سے تیز ہواؤں کی متوقع موجودگی کے سبب کیا گیا ہے۔ ہدایات کا اطلاق خاص طور پر کراچی، سکھر، موہنجو داڑو اور نواب شاہ کے ہوائی اڈوں پر ہوتا ہے۔
ادارے کے مطابق ان ہوائی اڈوں پر ہوا کی رفتار 30 ناٹ تک پہنچنے یا اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں، کسی بھی لینڈنگ یا ٹیک آف کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ نوٹم جمعہ کی رات 12 بجے تک نافذ العمل رہے گا۔
بدین اور کیٹی بندر سے سمندری طوفان بپر جوائے کی وجہ سے کراچی پہنچائے جانے والے متاثرین کے لیے قائم عارضی ریلیف کیمپوں میں پانی اور راشن کی عدم دستیابی کی شکایت کی جا رہی ہے۔
کراچی میں ماہی گیروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے ادارے فشرفوک کے چیئرمین مہران علی شاہ کے مطابق ’طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر بدین اور کیٹی بندر سے کراچی آنے والے متاثرین کو کیمپوں میں راشن اور پانی دستیاب نہیں ہے۔‘
’متاثرین بھوکے بیٹھے ہیں اور واپسی کی راہ لے رہے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ کراچی کی ساحلی پٹی ابراہیم حیدری، چشمہ گوٹھ، ریڑھی اور لٹھ بستی سمیت چند سکولوں میں شیلٹر لگائے گئے تھے۔
ان کے مطابق متاثرین کا کہنا ہےکہ ’وہ دستاویزات سمیت اپنی تمام اشیاء جوں کی توں چھوڑ آئے ہیں۔ اُنھیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کے کرایہ دیا گیا کہ آپ جہاں جانا چاہتے ہیں جائیں۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر سندھ مراد علی شاہ نے تین روز پہلے علاقے کا دورہ کیا تھا لیکن ابھی تک لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا جبکہ گورنر سندھ کامران ٹسوری ایک روز پہلے آئے تھے اور ’کھانے کے کچھ پیکٹ تقسیم کئے اور اعلان کیا تھا کہ ایک لاکھ لوگوں کا راشن تقسیم کریں گے جس کا علم نہیں کہ کب آئےگا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ابراہیم حیدری کے ماہی گیر حکومت کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے ہیں اور ’انھوں نے اپنی کشتیاں کھڑی کر دی ہیں۔ وہ بڑے سمندر میں جا نہیں سکتے لیکن کریک سے کچھ تھوڑی بہت مچھلی پکڑ رہے ہیں تاکہ گزر بسر ہوسکے۔‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے بگھان میں قائم ریلیف کیمپ کو ایک نجی ادارے کے زیر انتظام سکول میں قائم کیا گیا تھا۔
یہاں کیٹی بندر سے منتقل کیے جانے والے خاندانوں کو رکھا گیا ہے۔
مجموعی طور پر اس علاقے میں قائم چھ ریلیف کیمپوں میں کیٹی بندر سے منتقل کیے گئے خاندانوں کو رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ ان افراد کو 13 جون کو اس کیمپ میں لائی تھی اور انھیں سمندری طوفان کے کمزور ہونے کے بعد دوبارہ اپنے علاقوں میں واپس بھیجا جائے گا۔
اس کیمپ میں 260 افراد اور 73 ماہی گیر خاندان اس کیمپ میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔
انتظامیہ کے اہلکار حبیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ممکنہ طور پر انھیں اگلے 24 گھنٹوں تک کیمپ میں رکھا جائے گا لیکن متاثرین کی واپسی کا حتمی فیصلہ حکومتی اداروں کی ہدایت کے بعد ہی ہو گا۔
وہاں موجود خواتین نے بتایا کہ ان کا گزر بسر صرف مچھلی کے شکار سے ہوتا ہے اور گذشتہ تین چار روز سے وہ شکار نہ کر پانے کی وجہ سے وہ مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
انھوں نے حکومت سے مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ گھروں میں راشن لے کر جا سکیں۔ بگھان کے علاقے میں اس وقت بارش نہیں ہو رہی ہے تاہم گذشتہ روز ہونے والی بارش سے علاقے میں کیچڑ اور پانی موجود ہے۔
کیمپ میں موجود تین خواتین حاملہ بھی ہیں۔ حکومت سندھ کے 75 کیمپوں میں سے 61 میں متاثرین کو رکھا گیا ہے اور ان کی مجموعی تعداد 81 ہزار ہے۔
انڈیا کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقے دوارکا میں سمندری طوفان بپرجوائے کے باعث جمعرات کی صبح سے تیز بارش اور آندھی چلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوارکا کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ طوفان سے علاقے میں 750 بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 78 درخت جڑ سے اکھڑ گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ طوفان سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو دوارکا میں 147 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
دوارکا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی وائی ایس پی) سمیر کھڑکا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس نے اوولپارہ گاؤں میں نشیبی علاقوں سے لوگوں کو بچایا ہے۔ بارش کے باعث علاقہ زیر آب آ گیا۔ سبھی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘
دوارکا کا مشہور مندر اب بھی عقیدت مندوں کے لیے بند ہے۔ طوفان کی وجہ سے پورے دوارکا شہر کی بجلی منقطع ہے۔ آندھی و طوفان سے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے 5500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ 138 حاملہ خواتین کے لیے پیشگی انتظام کیا گیا، جن کی اس ہفتے ڈیلیوری کی تاریخ تھی۔
بی بی سی کے نامہ نگار تیجس نے بتایا ہے کہ وہ جس ہوٹل میں ٹھہرے ہیں وہاں بھی شیشوں کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا ہے، ہوٹل لابی میں پانی کھڑا ہو گیا ہے جبکہ عملہ نے ہوٹل کے مرکزی دروازے سے پانی روکنے کے لیے پلاسٹک شیٹ اور بوریاں کو استعمال کیا ہے۔ دوارکا میں گذشتہ 24 گھنٹوں سے مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ غلام فاروق سومرو کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں رہنے والے افراد کو شاید کل سے واپس اُن کے گھروں کو بھیجنے کا عمل شروع کیا جائےگا مگر حتمی فیصلہ کور کمانڈر اور کمشنر کے ساتھ اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ٹھٹھہ کے ساحلی علاقوں سے 24000 کے قریب لوگوں کو نکالا گیا تھا۔ اِن میں سے 5000 کو ریلیف کیمپس میں رکھا گیا ہے جبکہ باقی لوگ کراچی اور بدین کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوئے اور اُنھیں حکومت کی طرف سے ٹرانسپورٹ فراہم کی گئی۔
مقامی میڈیا میں اطلاعات ہیں کہ طوفان کا خطرہ ٹل جانے کے بعد کیٹی بندر کے رہائشی اپنے علاقوں کا رُخ کررہے ہیں۔ لیکن ڈی سی ٹھٹھہ غلام فاروق سومرو نے کہاکہ جب تک حکومت فیصلہ نہیں کرلیتی تب تک لوگوں کو ساحلی علاقوں میں واپسی کی اجازت نہیں ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحیرۂ عرب میں بننے والے طوفان بپرجوائے کو انڈیا کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے 12 گھنٹے گزر چکے ہیں مگر طوفان کی اثرات کے باعث ان علاقوں کی صورتحال اب تک خراب ہے۔
ان علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ مسلسل گذشتہ 12 گھنٹوں سے بارش ہو رہی ہے بہت سے نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے اور وہاں کے رہائشی افراد رات بھر سو نہیں سکے ہیں۔
ضلع کچھ کے ساحلی علاقے مانڈوی میں کچے مکانات کو سمندری طوفان سے کافی نقصان پہنچا ہے۔
مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ تیز ہوا اور موسلادھار بارش کی وجہ سے ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے کچھ کے نشیبی علاقوں اور جزیروں سے کچھ لوگوں کو بحفاظت نکالا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق علاقے میں متعدد درخت گر گئے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر کھمبے بھی تیز ہوا سے اکھڑ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بارش تھمنے کے بعد نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
ریاست حکومت اور ریسکیو ٹیمیں صورتحال معمول پر آنے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ ریسکیو آپریشن شروع کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہPAVAN JAISHWAL
بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان بپرجوائے جمعرات کی شام 6.30 بجے گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانا شروع ہوا اور یہ سلسلہ تقریباً نصف شب تک جاری رہا۔

،تصویر کا ذریعہBIPIN TANKARIA
انڈیا کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کا ٹکراؤ ریاست گجرات کے علاقے مانڈوی کے درمیان واقع جاکھو نامی مقام سے شروع ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوراکا، جاکھو مانڈوی اور کچھ کے علاقے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
متعدد علاقوں میں درخت گر گئے ہیں جبکہ تیز ہواؤں کی وجہ سے بجلی کے کھمبے بھی اکھڑ گئے ہیں جس کے باعث کئی گھنٹوں سے بجلی منقطع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہروں میں موسلا دھار بارش سے کئی کئی فٹ پانی جمع ہو گیا ہے اور نظام زندگی متاثر ہوا ہے۔

بحیرۂ عرب میں بننے والے سمندری طوفان بپر جوائے گذشتہ شب انڈین ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں جاکھو اور سوراشٹرا سے ٹکرانے کے بعد سندھ کے ساحلی علاقوں میں بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق ٹھٹہ اور بدین کے علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور گذشتہ روز ٹھٹہ کے علاقے بوھارا میں تیز ہوائیں اور موسلا دھار بارش ہوئی ہے جس کے باعث سڑکوں پر پانی کھڑا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ نے بتایا ہے کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے بدین اور ٹھٹہ کے علاقوں سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے مگر اب بھی کچھ لوگ ان علاقوں میں موجود ہیں جنھوں نے اپنے گھروں اور زمینوں کی حفاظت کے پیش نظر نقل مکانی نہیں کی ہے۔

بحیرۂ عرب میں بننے والے سمندری طوفان بپرجوائے کے انڈیا کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد اس کے اثرات پاکستان کے صوبہ سندھ کے ساحلی اضلاع پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
ٹھٹہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں بارش جاری ہے جبکہ کچھ مقامات پر سڑکوں بشمول مرکزی شاہراہوں پر پانی کھڑا ہو گیا ہے۔
پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق بپرجوائے کے انڈین ریاست گجرات سے ٹکرانے کے بعد سندھ کے ساحلی علاقوں میں بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ تاہم ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کی شدت میں ایک درجہ کمی آئی ہے اور جمعے (آج) شام تک یہ مزید کمزور ہو جائے گا۔
انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان بپرجوائے کی شدت میں ایک درجہ کمی ہوئی ہے اور وہ ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سوراشٹرا اور کچھ سے ٹکرانے کے بعد ’شدید سمندری طوفان‘ سے ’سمندری طوفان‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ بپرجوائے کی شدت میں آج شام تک مزید کمی آنے کا امکان ہے۔
تاہم پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق بپرجوائے کے اثرات سے پاکستان کے ساحلی علاقوں ٹھٹہ، بدین، سجاول، تھرپارکر میں تیز ہوائیں اور موسلادھار بارش کی پیش گوئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کی وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان بپر جوائے نے انڈین گجرات کے ساحلی علاقوں میں ٹکرانے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ پاکستان اس کے اثرات کے لیے مکمل طور پر تیار تھا لیکن وہ اس کی شدت سے محفوظ رہا ہے۔
شیری رحمان نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بپرجوائے کے انڈین گجرات کے علاقوں سے ٹکرانے کے بعد پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری لہریں اونچی ہوں گی لیکن وہاں سے زیادہ تر آبادی کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔ میں لوگوں کی زندگیاں بچانے اور الرٹ رہنے پر تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔
تاہم پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بپرجوائے نے تاحال کیٹی بندر کا رخ نہیں کیا ہے اور وہ اس وقت کیٹی بندر سے 125 کلومیٹر دور ہے۔ اس کی شدت میں کمی آئی ہے تاہم انڈیا کی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد اس کے اثرات میں سجاول، ٹھٹہ، بدین، تھرپارکر اور میرپور خاص میں شدید بارشوں کا امکان ہے اس لیے ان علاقوں میں اس حوالے سے وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

بحیرہ عرب میں بننے والے سمندری طوفان بپرجوائے نے انڈین گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ ضلع کچھ کے علاقوں جاکھو اور مانڈوی میں تیز ہواؤں اور شدید بارش سے مختلف درخت جڑ سے اکھڑ گئے ہیں اور مختلف علاقوں میں بجلی کے کھمبے گرنے سے طویل دورانیے سے بجلی منقطع ہے۔ طوفان کے باعث ریاست گجرات کے ساحلی اضلاع میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 23 مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار عامر پیرزادہ کے مطابق مانڈوی کے علاقے میں اس وقت بھی تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق ریلوے نے 70 ٹرینوں کو منسوخ یا ان کا روٹ تبدیل کر دیا ہے۔

سائیکلون بپر جوائے انڈیا کے ساحلی علاقوں سے ٹکرچکا ہے۔
جبکہ پاکستان میں سمندری طوفان کے ممکنہ اثرات کے زیرِ اثر آنے والے ساحلی علاقوں ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، میرپورخاص اور عمرکوٹ کے اضلاع میں 17 جون تک تیز ہواؤں کیساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادرے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے ہائی الرٹ ہیں اور مختلف موسمیاتی ماڈلز کے ذریعے طوفان کی پیشرفت پر مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادرے این ڈی ایم اے کے مطابق بپرجوائے نے تاحال کیٹی بندر کا رخ نہیں کیا تاہم متعلقہ ادارے ہائی الرٹ ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق این ای او سی میں مختلف موسمیاتی ماڈلز کے ذریعے طوفان کی پیشرفت پر مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔
این ای او سی کے مطابق بپرجوائے نے انڈین گجرات کے ساحل پر لینڈ فال کا عمل شروع کر دیا ہے، جو کیٹی بندر سے 150 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے، تاہم طوفان تاحال کیٹی بندر تک نہیں پہنچا لہٰذا پاکستان کی ساحلی پٹی پر اس کے اثرات طوفان کی مزید پیشرفت سے واضح ہوں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
حب میں پی ڈی ایم اے بلوچستان کے چیف ریسکیو آفیسر ڈاکٹر اکرم بگٹی نے کہا کہ طوفان کے رُخ میں تبدیلی کے باعث دباؤ میں کافی کمی آئی ہے۔
انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ کل شام تک دباؤ میں زیادہ کمی آجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کافی آگے آیا ہے لیکن گڈانی اور وندر میں آبادی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ادھر این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ طوفان تاحال سندھ کے ساحلی مقام کیٹی بندر تک نہیں پہنچا لہذا پاکستان کی ساحلی پٹی پر اس کے اثرات طوفان کی مزید پیشرفت سے واضح ہوں گے۔
بلوچستان کے ضلع گوادر میں پسنی کے علاقے کلمت میں بھی طوفان کے باعث بعض گھروں میں سمندری پانی داخل ہوا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے فون پر بتایا کہ کلمت میں سمندری لہروں میں تیزی کے باعث پانی گھروں کے قریب آیا تھا لیکن زیادہ تر گھر اس سے محفوظ رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کلمت میں چار کے قریب گھروں میں پانی داخل ہوا لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
انھوں نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم علاقے میں پہنچی اور لوگوں کو ریلیف کیمپوں میں منتقلی کی درخواست کی لیکن علاقہ مکین اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق کلمت میں آبادی کے گرد و نواح میں پہلے چار انچ پانی کھڑا ہوا تھا لیکن اب وہ کئی سو فٹ آبادی سے دور چلا گیا ہے۔
ادھر کراچی سے متصل بلوچستان کے ساحلی ضلع حب کے علاقے گڈانی میں حکام کے مطابق صورتحال معمول پر ہے۔
انڈیا کے میٹرولاجیکل ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ سائیکلون بپر جوائے کا سوراشٹر اور کچھ کے ساحلوں سے ٹکرانے کا عمل شام ساڑھے چھ بجے شروع ہوا تھا اور یہ آدھی رات تک جاری رہے گا۔
اس کا کہنا ہے کہ طوفان گجرات کی جاکھو بندرگاہ سے قریب 30 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔
انڈین حکام نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ اس دوران ساحلی علاقوں میں تیز بارش اور آندھی جاری رہے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام