عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    ملک سے سیاسی و معاشی صورتحال سے متعلق بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔ تاہم اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 21 مارچ کی خبروں کی تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. عمران خان کی بول نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف صدیق جان کی گرفتاری کی مذمت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حکومت میں شامل جماعتوں کے چھ گھنٹے طویل اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں 22 مارچ کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کی منظوری دی گئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس نے ان تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا جو سوشل میڈیا پر اداروں اور آرمی چیف کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پولیس اور رینجرز پر زمان پارک اور جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے مبینہ حملے کی مذمت کی گئی اور مبینہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

  4. عمران خان کا چیف جسٹس کو خط: ’میری جان کو خطرہ ہے، اس کی تحقیقات کا حکم دیں‘

    عمران خان خط

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ ’خود پر 90 سے زائد مقدمات کے باعث مسلسل ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی پیروی کی درخواست کر رہا ہوں۔‘

    ’مجھے کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، وزیر آباد میں مجھے قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’20 کے قریب نامعلوم افراد جوڈیشل کمپلیکس کے اندر تھے۔ یہ واضح طور پر مجھے قتل کرنے کے لیے کیا گیا لیکن اللہ نے مجھے دوبارہ قتل کی کوشش سے بچا لیا۔‘

    انھوں نے استدعا کی کہ ’جان کو خطرے اور گھر پر حملے کے پیش نظر میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ ان واقعات کی تحقیقات کا حکم دیں۔‘

  5. ’عمران خان کا ایجنڈا ملک میں انتشار پھیلانا ہے‘

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ’تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے کہ جس طرح عمران خان نے جتھوں کی شکل میں حملے کیے ہیں، ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے اور ریاست کی رٹ قائم کی جانی چاہیے۔‘

    جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے حمایتی پوچھ رہے ہیں کہ آپ عمران خان کو ابھی تک پکڑ کیوں نہیں۔‘

    ’عمران خان کا ایجنڈا یہی ہے کہ وہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔‘

    ادھر وزیر اعظم کے مشیر قمر زمان کاہرہ نے کہا کہ دو صوبوں میں الیکشن سے استحکام نہیں آئے گا۔

    ’سیاسی فریقین کو اس بات پر اکٹھا ہونا پڑے گا کہ الیکشن ایک وقت پر ہو، اس پر عدالت کو اعتراض نہیں ہوگا۔‘

  6. تحصیل ناظم حویلیاں عاطف خان ساتھیوں سمیت حملے میں ہلاک

    عاطف خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پولیس کے مطابق لنگرا میں تحصیل ناظم حویلیاں اور پی ٹی آئی رہنما عاطف خان ایک حملے میں اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ڈی پی او ایبٹ آباد عمر طفیل کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔ ڈی ایس پی حویلیاں سجاد خان کے مطابق عاطف خان کے قتل کی تفتیش جاری ہےg

    سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ان کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. ’آئی ایم ایف کا قرض پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے مشروط‘ ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں کیسے شروع ہوئیں؟

  8. پی ٹی آئی کی ’الیکشن کی تاریخ نہ دینے پر‘ گورنر کے پی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

    خیبر پختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں گورنر کے پی کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر گورنر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    یہ درخواست سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، تیمور سلیم جھگڑا اور مشتاق غنی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

  9. ’تحریک انصاف ملک میں انتشار نہیں الیکشن چاہتی ہے‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    عمران خان مزید کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے پشتون کارکنان کو ’دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے‘ جو کہ درست نہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’یہ جوڈیشل کمپلیکس میں انتشار پھیلا کر مجھے قتل کروانا چاہتے تھے‘ اور ’چیف جسٹس سے کہنا چاہتا ہوں مجھ پر ایک کیس بھی صحیح نہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی ’جیسے لوگ مجھے ختم کرنے آئے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور گھر پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ بدھ کے لیے مینار پاکستان جلسے کی اجازت دی گئی مگر اب معاملہ عدالت میں ہے۔ ’ہمیں صرف پاکستان کی عدلیہ سے امید ہے۔ ہم تمام شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ جس طرح کا تشدد کیا ہے لوگوں پر، ہم یورپی یونین اور تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کو ثبوت بھجوا رہے ہیں۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’30 اپریل کو الیکشن ہے مگر الیکشن کی فضا نہیں بننے دے رہے۔‘

    ’تحریک انصاف ملک میں انتشار نہیں الیکشن چاہتی ہے۔‘

  10. بریکنگ, جوڈیشل کمپلیکس میں نامعلوم افراد مجھے قتل کرنا چاہتے تھے: عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ جوڈیشل کمپلیکس میں ان کی پیشی کے موقع پر نامعلوم افراد موجود تھے جو انھیں قتل کرنا چاہتے تھے۔

    ’جوڈیشل کمپلیکس میں بچھائے گئے ڈیتھ ٹریپ‘ کے عنوان سے اس پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’سنیچر کو گھر سے نکلتے ہوئے بشریٰ بی بی کو خدا حافظ کہہ کر نکلا تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ یا مجھے گرفتار کر دیں گے یا قتل کر دیں گے۔ جس طرح اس فاشسٹ اور امپورٹڈ حکومت نے میرے ساتھ کیا وہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد کے ٹول پلازہ سے سارا موٹروے بند کر دیا۔ ساری گاڑیوں کو پیچھے روکا گیا۔۔۔ ساڑھے چار گھنٹے لگے ٹول پلازہ سے جوڈیشل کمپلیکس تک پہنچنے تک۔ ایک دن ٹیئر گیس کی شیلنگ شروع ہوگئی۔ لوگ پتا نہیں کدھر سے آئے۔ ہمارے کارکن کم تھے۔ لوگ ساتھ چلنا شروع ہوگئے۔‘

    ’ہم نے معجزہ دیکھا کہ شیل پولیس کی طرف ہوا سے گِرے۔ انتشار پیدا کیا گیا۔ جوڈیشل کمپلیکس کے دروازے پر 40 منٹ گھڑا رہا۔ اوپر سے پتھراؤ اور شیلنگ ہوئی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں دروازے کے اندر گیا تو میں نے دیکھا پولیس، رینجرز اندر تھے۔ شلوار قمیضوں میں نامعلوم افراد بھی موجود تھے۔ میرے ساتھی نے اشارہ کیا باہر نکلو، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ ٹریپ (جال) تھا۔ اس نے کہا یہ آپ کو قتل کرنے لگے ہیں۔‘

    ’انھوں نے ویڈیو دکھاتے ہوئے کہا ہمارے وکلا پر بھی پولیس نے ڈنڈے برسائے۔ چیف جسٹس اسے غور سے دیکھیں۔‘

    سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’عمران خان کو راستے سے ہٹانے کے لیے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ میری زندگی خطرے میں ہے، مجھ سے کیوں پیشیاں کروا رہے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’جوڈیشل کمپلیکس میں جانا تھا تو انھوں نے دروازے بند کر دینے تھے۔ پولیس اور نامعلوم افراد کی نفری نے میرے کارکنان کو ہٹا کر مجھے اکیلے کر دینا تھا۔‘

    ان کا الزام ہے کہ ’ان پیشیوں اور مجھے باہر نکلوانے کا مقصد مجھے مارنا ہے۔‘

    ’جب آپ تحقیقات کریں گے کہ نامعلوم افراد کون تھے تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ اس سازش کے پیچھے کون تھا۔

  11. مریم نواز سے متعلق آڈیو لیک قابل مذمت ہے: وزیر اعظم شہباز

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اس آڈیو کلپ کی مذمت کی ہے جس میں مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور وکیل خواجہ طارق گفتگو کر رہے ہیں۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں انھوں نے کہا ہے کہ ’سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ طارق رحیم کی آڈیو لیک میں بیٹی مریم نواز کے بارے میں گھٹیا گفتگو انتہائی قابل مذمت ہے۔

    ’خواتین کے بارے میں اس لب و لہجے اور گھٹیا سوچ کی معاشرے بالخصوص خواتین کو پر زور مذمت کرنی چاہیے۔ اجتماعی مذمت ہی معاشرے میں یہ منفی سوچ روک سکتی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. ’غریب کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے تک کمی ہو گی‘

    مصدق ملک

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ ’جس طرح گیس کے ٹیرف امیر و غریب کے لیے علیحدہ بنے تھے تو اب گذشتہ روز وزیر اعظم نے یہ سکیم پیش کی ہے کہ غریب کے لیے پیٹرول 100 روپے تک کم قیمت پر دستیاب ہو گا۔‘

    ان کے مطابق ’اس سکیم کے تحت تمام موٹر سائیکل سوار افراد کے لیے پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے لیے ہمیں چھ ہفتے کا وقت دیا گیا ہے اور اس سکیم پر چھ ہفتے میں عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔‘

    مصدق ملک کا دعوی تھا کہ ’اس سکیم کے تحت سبسڈی کے بجائے امیر سے پیسے لے کر غریب کے حوالے کر دیے جائیں گے۔‘

    مصدق ملک کے مطابق بڑی گاڑیوں والے پیٹرول کی زیادہ قیمت دیں گے تاکہ غریب کی پیٹرول کی قیمت میں کمی ہو۔ اس میں اب 50 کے بجائے تقریبا 100 روپے کا فرق وزیر اعظم کے حکم پر کیا جائے گا۔‘

    ان کے مطابق گیس کی قیمت میں کمی کے فیصلے پر پہلی جنوری سے عمل درآمد ہو چکا ہے۔

    ’وزیر اعظم کی ہدایت پر ہم نے پہلے گیس کے ٹیرف علیحدہ کیے تھے تاکہ غریب آدمی گیس کی چوتھائی قیمت ادا کرے گا اور اس کے برعکس چار گنا قیمت وہ امیر افراد ادا کریں گے جن کے ہر کمرے میں ہیٹر ہیں۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں کم آمدن والے طبقے کے لیے پیٹرول پر 50 روپے فی لیٹر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

  13. جوڈیشل کمپلیکس میں میرے قتل کی سازش کی گئی جسے بے نقاب کرنے جا رہا ہوں: عمران خان کا دعوی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جوڈیشل کمپلیکس میں میرے قتل کی سازش کی گئی جس سے اللہ نے محفوظ رکھا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان نے کہا کہ وہ تھوڑی دیر تک اس سازش کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے جا رہے ہیں۔

  14. تحریک انصاف موجودہ آرمی چیف کی لیے نیک خواہشات رکھتی ہے: فواد چوہدری کا وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تحریک انصاف کی فوج مخالف مہم کے الزامات پر رہنما فواد چوہدری نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’وزیر اعظم کے اس بیان کا مقصد صرف عوام اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کرنا ہے، تا کہ عوام اور فوج متحارب ہوں اور پی ڈی ایم اس آڑ میں لوٹ مار جاری رکھ سکے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    فواد چوہدری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’تحریک انصاف موجودہ آرمی چیف کے لیے نیک خواہشات رکھتی ہے اور ہم چاہتے ہیں آرمی چیف الیکشن کروانے میں الیکشن کمیشن کی مدد کریں تاکہ پاکستان کا ماحول بہتر ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ آرمی چیف کے خلاف مہم سے پی ٹی آئی کا کوئی لینا دینا نہیں اور وہ پُرامن و شفاف الیکشن کے لیے پاکستانی سیاست میں ان کے کردار کی توقع کرتے ہیں۔

  15. بریکنگ, عمران خان کی ایما پر تحریک انصاف کی جانب سے آرمی چیف کے خلاف چلائی جانے والی مہم قابل مذمت ہے: شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف عمران خان کی ایما پر تحریک انصاف کی جانب سے چلائی جانے والی مہم قابل مذمت ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان طاقت کے حصول کے لیے اس حد تک گر رہے ہیں کہ وہ پاکستان، اس کے حکمرانوں اور مسلح افواج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی آخری حدوں تک جا رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نےکہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے ذریعے زہریلی سیاست کو پھیلایا جا رہا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’بیرون ملک پاکستانی اس سازش کا حصہ نہ بنیں۔ عمران خان اداروں اور ان کے سربراہوں کو اپنی گندی سیاست میں گھسیٹ کر آئین شکنی کر رہے ہیں۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’وزیر داخلہ ملک کے اندر اداروں کے خلاف غلیظ مہم چلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔ پاکستان میں افراتفری، فساد اور بغاوت کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

    ’میرٹ پر تعینات ہونے والے آرمی چیف کے خلاف مہم ملک دشمنوں کا ایجنڈا ہی ہو سکتا ہے۔ قوم اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، شرپسندوں کے خلاف متحد ہے۔‘

  16. سپر سانک سپیڈ کے ساتھ تمام مقدمات میں ضمانتیں لی جا رہی ہیں: احسن اقبال

    وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ’پاکستان میں عدالتوں میں ہم نے کبھی ایسے مناظر نہیں دیکھے جو اب نظر آ رہے ہیں۔ یہاں عدالتوں کے دروازے توڑے اور دنگا فساد ہوتا ہے اس کا کوئی نوٹس لینے والانہیں۔‘

    احسن اقبال نے تحریک انصاف ر سحت تنقید کرتے ہوئے کہا ’سپر سانک سپیڈ کے ساتھ تمام مقدمات میں ضمانتیں لی جا رہی ہیں جبکہ ہمیں اپنی ضمانتوں کے لیے ہفتوں مہینوں انتظار کرنا تھا مگر ان لاڈلے صاحب سے کویئ سوال نہیں پوچھ سکتا۔ ان کے لیے رات تک جج بیٹھتے ہیں۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دیگر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔

  17. بریکنگ, عمران خان نے اسلام آباد میں درج دو مزید مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

    عمران خان نے اسلام آباد میں درج دو مزید مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

    حفاظتی ضمانت کے لیے دو رکنی بنچ آج ہی سماعت کرے گا۔

    سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کی صورت میں عمران خان عدالت پیش ہوں گے۔

  18. بریکنگ, تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے گورنر کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    تحریک انصاف کے رہنماوں نے انتخابات کی تاریخ کے اعلان نہ کیے جانے پر خیبر پختونخوا کے گورنر کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’گورنر کے حلاف درخواست میں ہم نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں فوری انتخابات کروائے جائیں۔‘

    اسد قیصر کے مطابق ’گورنر کے پاس اختیار نہیں کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کریں۔ 62 دن بعد بھی گورنر ٹس سے مس نہیں ہوئے۔‘

  19. رہنما پی ٹی آئی اسدعمر، راجہ خرم، علی نواز، مرادسعید، شہزادوسیم اور زلفی بخاری کی عبوری ضمانتیں منظور

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں عمران خان کی پیشی کے موقع پرجیوڈیشل کمپلیکس میں توڑپھوڑ کے کیس کی سماعت ہوئی۔

    پی ٹی آئی رہنما اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد کی عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت نے اسدعمر، راجہ خرم، علی نواز، مراد سعید، شہزاد وسیم اور زلفی بخاری کی عبوری ضمانتیں منظور کر لیں۔ جج راجہ جواد نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ ’دو ہفتوں تک کی عبوری ضمانتیں اس لیے دے رہے ہیں تاکہ شیلنگ سے بچا جائے اور روزے سکون سے رکھے جائیں۔‘

    جج نے پی ٹی آئی رہنماوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے جس پر تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ نئے مقدمات کی نئی ضمانتیں دائر کر رہے ہیں۔

    عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کر دی۔

    تحریک انصاف کے ان رہنماوں کی عبوری ضمانتیں تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمے میں منظور ہوئی ہیں جبکہ زلفی بخاری کی تھانہ گولڑہ میں درج مقدمات میں عبوری ضمانت منظور ہوئی ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز وہیل چئیر پر انسداد دہشت گردی عدالت میں راجہ جواد عباس کی عدالت میں پیش ہوئے۔ واضح رہے کہ شبلی فراز کے خلاف بھی دہشت گردی کا مقدمہ درج ہے۔ پولیس گزشتہ روز انھیں گرفتار کرنے ان کے گھر گئی تھی۔

  20. حسان نیازی کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

    تحریک انصاف کے فوکل پرسن حسان نیازی کے پولیس کی جانب سے ’مبینہ اغوا‘ کیے جانے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے درخواست جمع کروا دی ہے۔

    درخواست میں موقفف اختیار کیا گیا ہے کہ ’پولیس نے حسان نیازی کو جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے سے اغوا کیا، حسان نیازی عدالت سے ضمانت لے کر نکلے تو انھیں پولیس نے اٹھا لیا، وکیل کو دن کے اجالے میں غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا، درخواست میں سٹیٹ، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایچ او تھانہ رمنا فریق بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پیر کی صبح تحریک انصاف نے عمران خان کے فوکل پرسن حسان خان نیازی کو عدالت کے باہر سے پولیس کی جانب سے ’اغوا‘ کیے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔

    پی ٹی ائی کے رہنما فرخ حبیب نے حسان نیازی کے اٹھائے جانے کے حوالے سے ٹویٹ میں کہا ہے کہ بیرسٹرحسان نیازی کی تمام مقدمات میں ضمانت ہو گئی تھی تھی تاہم ایس پی نوشیرواں نے ان کو دہشت گردی کی عدالت کے باہر سے اغوا کر لیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    دوسری جانب عمران خان کے وکیل وکیل نعیم حیدرپنجوتہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حسان نیازی عدالت سے میرے ساتھ نکلے اور بتا یا کہ ان کی ضمانت ہو گئی ہے، لیکن ایس پی نوشروان نے زبردستی پولیس کے ساتھ مل کے انھیں اٹھا کے گاڑی میں بیٹھایا اور رمنا تھانہ لے گئے۔

    ان کے مطابق ایس پی نوشروان نے انھیں کالے ڈالے میں بٹھایا ہوا ہے۔